کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: اللہ کے نبی موسی علیہ السلام کی فضیلت اور بیچ میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 10365
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اسْتَبَّ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَرَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ فَقَالَ الْمُسْلِمُ وَالَّذِي اصْطَفَى مُحَمَّدًا عَلَى الْعَالَمِينَ وَقَالَ الْيَهُودِيُّ وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ عَلَى الْعَالَمِينَ فَغَضِبَ الْمُسْلِمُ فَلَطَمَ عَيْنَ الْيَهُودِيِّ فَأَتَى الْيَهُودِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَ بِذَلِكَ فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ فَاعْتَرَفَ بِذَلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((لَا تُخَيِّرُونِي عَلَى مُوسَى فَإِنَّ النَّاسَ يَصْعَقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يَفِيقُ فَأَجِدُ مُوسَى مُمْسِكًا بِجَانِبِ الْعَرْشِ فَمَا أَدْرِي أَكَانَ فِيمَنْ صَعِقَ فَأَفَاقَ قَبْلِي أَمْ كَانَ مِمَّنِ اسْتَثْنَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مسلمان اور ایکیہودی نے ایک دوسرے کو برا بھلا کہا، مسلمان نے کہا: اس ذات کی قسم! جس نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جہانوں پر منتخب کیا،یہودی نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ علیہ السلام کو جہانوں پرمنتخب کیا،یہ بات سن کر مسلمان کو غصہ آیا اور اس نے یہودی کی آنکھ پر تھپڑ دے مارا، یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس جھگڑے کی تفصیل بتائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس مسلمان سے پوچھا، اس نے اعتراف کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے موسی پر ترجیح نہ دو، پس بیشک لوگ قیامت کے دن بیہوش ہوں گے، سب سے پہلے مجھے افاقہ ہو گا، پس میں موسی علیہ السلام کو اس حال میں پاؤں گا کہ وہ عرش کے پہلو کے ساتھ کھڑے ہوں گے، پس میں نہیں جانتا کہ کیا وہ بھی بیہوش ہوئے تھے اور مجھ سے پہلے ان کو افاقہ ہو گیایا اللہ تعالیٰ نے ان کو مستثنی رکھا۔
وضاحت:
فوائد: … صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((فَـلَا اَدْرِیْ اَحُوْسِبَ بِصَعْقَۃِیَوْمِ الطُّوْرِ اَوْ أَفَاقَ قَبْلِیْ)) … پس میں یہ نہیں جانتا کہ کیا موسی علیہ السلام کی طور والے دن بیہوشی کو کافی سمجھ لیا گیایا وہ بیہوش تو ہوئے، لیکن ان کو مجھ سے پہلے افاقہ ہو گیا۔
حدیث نمبر: 10366
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((لَا تُخَيِّرُوا بَيْنَ الْأَنْبِيَاءِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم انبیائے کرام کے ما بین ترجیح نہ دیا کرو۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود یہ ہے کہ تمام انبیاء و رسل کا ادب کیا جائے اور اس انداز میں بعض کی برتری بیان نہ کی جائے کہ جس سے دوسرے کی تنقیص اور سوئے ادب والا معاملہ لازم آ رہا ہو، لیکن اس حدیث مبارکہ کا یہ مطلب نہیں کہ بعض انبیائ، بعض سے افضل نہیں ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلٰی بَعْضٍ} … یہ رسول ہیں، ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ (سورۂ بقرہ: ۲۵۳)
حدیث نمبر: 10367
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ قِسْمًا فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ إِنَّ هَذِهِ لَقِسْمَةٌ مَا أُرِيدَ بِهَا وَجْهُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ فَقُلْتُ يَا عَدُوَّ اللَّهِ أَمَا لَأُخْبِرَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمَا قُلْتَ قَالَ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاحْمَرَّ وَجْهُهُ ثُمَّ قَالَ ((رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَدْ أُوذِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن مال تقسیم کیا، ایک انصاری نے کہا: اس تقسیم سے مقصود اللہ تعالیٰ کی رضامندی نہیں ہے، میںنے کہا: اے اللہ کے دشمن! میں ضرور ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات کی خبر دوں گا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات بتلائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ سرخ ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: موسی علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو، ان کو اس سے زیادہ تکلیف دی گئی تھی، لیکن انھوں نے پھر بھی صبر کیا۔
وضاحت:
فوائد: … ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {ٰٓیاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ اٰذَوْا مُوْسٰی فَبَرَّاَہُ اللّٰہُ مِمَّا قَالُوْا وَکَانَ عِنْدَ اللّٰہِ وَجِیْھًا۔} … اے لوگو جوایمان لائے ہو! ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جنھوں نے موسیٰ کو تکلیف پہنچائی تو اللہ نے اسے اس سے پاک ثابت کر دیا جو انھوں نے کہا تھا اور وہ اللہ کے ہاں بہت مرتبے والا تھا۔
(سورۂ احزاب: ۶۹)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اپنی قوم کی اذیتوں پر بڑا صبر کیا۔
(سورۂ احزاب: ۶۹)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اپنی قوم کی اذیتوں پر بڑا صبر کیا۔
حدیث نمبر: 10368
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ الْإِسْرَاءِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ السَّادِسَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ فَقِيلَ مَنْ أَنْتَ قَالَ جِبْرِيلُ قِيلَ وَمَنْ مَعَكَ قَالَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقِيلَ وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ قَالَ قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ فَفَتَحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِمُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ فَرَحَّبَ وَدَعَا بِخَيْرٍ)) وَفِيهِ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((فَأَوْحَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيَّ مَا أَوْحَى وَفَرَضَ عَلَيَّ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ خَمْسِينَ صَلَاةً فَنَزَلْتُ حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى مُوسَى فَقَالَ مَا فَرَضَ رَبُّكَ عَلَى أُمَّتِكَ قُلْتُ خَمْسِينَ صَلَاةً فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ قَالَ ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ التَّخْفِيفَ فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذَلِكَ فَإِنِّي قَدْ بَلَوْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَخَبَرْتُهُمْ فَرَجَعْتُ إِلَى رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَقُلْتُ أَيْ رَبِّ خَفِّفْ عَنْ أُمَّتِي فَحَطَّ عَنِّي خَمْسًا فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَقَالَ مَا فَعَلْتَ قُلْتُ حَطَّ عَنِّي خَمْسًا قَالَ إِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذَلِكَ فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ التَّخْفِيفَ فَلَمْ أَزَلْ أَرْجِعُ بَيْنَ رَبِّي وَبَيْنَ مُوسَى وَيَحُطَّ عَنِّي خَمْسًا حَتَّى قَالَ يَا مُحَمَّدُ هِيَ خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ بِكُلِّ صَلَاةٍ عَشْرٌ فَتِلْكَ خَمْسُونَ صَلَاةً وَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَفْعَلْهَا كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةٌ فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ عَشْرًا وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا لَمْ تُكْتَبْ شَيْئًا فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ سَيِّئَةً وَاحِدَةً فَنَزَلْتُ حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى مُوسَى فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ التَّخْفِيفَ لِأُمَّتِكَ فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذَلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ رَجَعْتُ إِلَى رَبِّي حَتَّى لَقَدِ اسْتَحْيَيْتُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ اسراء والی حدیث بیان کرتے ہوئے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر مجھے چھٹے آسمان کی طرف چڑھایا گیا، جبریل علیہ السلام نے کھولنے کا مطالبہ کیا، پس کہا گیا: تم کون ہو؟ انھوں نے کہا: جبریل ہوں، پھر پوچھا گیا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ انھوں نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، پھر کہا گیا: کیا ان کی طرف پیغام بھیجا جا چکا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ان کی طرف طرف پیغام بھیجا گیا ہے، پس اس نے ہمارے لیے دروازہ کھول دیا، اچانک میں نے حضرت موسی علیہ السلام کو دیکھا، انھوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لیے خیر و بھلائی کی دعا کی، … … ، پس اللہ تعالیٰ نے میری طرف جو وحی کرنی تھی، وہ اس نے کی اور مجھ پر ایک دن میں پچاس نمازیں فرض کیں، واپسی پر جب میں حضرت موسی علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو انھوں نے مجھے کہا: آپ اپنے ربّ کی طرف لوٹ جائیں اور تخفیف کا سوال کریں، آپ کی امت اتنینمازیں ادا نہیں کر سکتی، جبکہ میں بنو اسرائیل کو آزما چکا ہو، پس میں اپنے ربّ کی طرف لوٹا اور کہا: اے میرے ربّ! میری امت پر تخفیف کیجئے، پس اللہ تعالیٰ نے پانچ نمازیں کم کر دیں، لیکن پھر جب میں موسی علیہ السلام کے پاس واپس آیا تو انھوں نے پوچھا: کیا کر کے آئے ہیں؟ میں نے کہا: جی پانچ نمازیں کم کر دی ہیں، انھوں نے کہا: آپ کی امت (۴۵) نمازوں کے عمل کی طاقت نہیں رکھتی، لہٰذا لوٹ جائیں اور اپنے رب سے امت کے لیے تخفیف کا سوال کریں، پس میں اپنے ربّ اور موسی علیہ السلام کے درمیان آتا جاتا رہا اور اللہ تعالیٰ پانچ پانچ نمازیں کم کرتے رہے، یہاں تک کہ اس نے کہا: اے محمد! ایک دن رات میں پانچ نمازیں ہیں، ہر نماز کا ثواب دس گنا ملے گا، اس لیے گویایہ پچاس نمازیں ہیں، کیونکہ جس نے نیکی کا ارادہ کیا اور اس کو عملاً سر انجام نہیں دیا تو یہ بھی اس کے لیے نیکی ہے، اور جس نے برائی کا ارادہ کیا، لیکن عملاً اس کا ارتکاب نہیں کیا تو اس کے لیے کوئی برائی نہیں لکھی جائے گی، اور جس نے اس کا ارتکاب کر لیا تو اس کے لیے ایک برائی لکھی جائے گی، پس میں نیچے اترا اور موسی علیہ السلام کے پاس پہنچا اور ان کو ساری تفصیل بتائی، انھوں نے کہا: آپ اپنے ربّ کی طرف پھر لوٹ جائیں اور اپنی امت کے لیے تخفیف کا سوال کریں، کیونکہ تیری امت اس عمل کی بھی طاقت نہیں رکھتی، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اتنی بار اپنے ربّ کے پاس جا چکا ہوں کہ اب مجھے شرم آتی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … موسی علیہ السلام لوگوں کا عملی تجربہ کر چکے تھے، اس لیے انھوں نے نمازیں کم کروانے کا مشورہ دیا۔
حدیث نمبر: 10369
عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأُمَمُ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ وَمَعَهُ الرَّهْطُ وَالنَّبِيَّ وَمَعَهُ الرَّجُلُ وَالرَّجُلَيْنِ وَالنَّبِيَّ لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ إِذْ رُفِعَ لِي سَوَادٌ عَظِيمٌ فَقُلْتُ هَذِهِ أُمَّتِي فَقِيلَ هَذَا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ وَقَوْمُهُ وَلَكِنِ انْظُرْ إِلَى الْأُفُقِ فَإِذَا سَوَادٌ عَظِيمٌ ثُمَّ قِيلَ انْظُرْ إِلَى هَذَا الْجَانِبِ الْآخَرِ فَإِذَا سَوَادٌ عَظِيمٌ فَقِيلَ هَذِهِ أُمَّتُكَ وَمَعَهُمْ سَبْعُونَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ)) فَقَالَ بَعْضُهُمْ لَعَلَّهُمُ الَّذِينَ صَحِبُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ بَعْضُهُمْ لَعَلَّهُمُ الَّذِينَ وُلِدُوا فِي الْإِسْلَامِ وَلَمْ يُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا قَطُّ وَذَكَرُوا أَشْيَاءَ فَخَرَجَ إِلَيْهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ((مَا هَذَا الَّذِي كُنْتُمْ تَخُوضُونَ فِيهِ)) فَأَخْبَرُوهُ بِمَقَالَتِهِمْ فَقَالَ ((هُمُ الَّذِينَ لَا يَكْتَوُونَ وَلَا يَسْتَرْقُونَ وَلَا يَتَطَيَّرُونَ وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ)) فَقَامَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ الْأَسْعَرِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ أَنَا مِنْهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ ((أَنْتَ مِنْهُمْ)) ثُمَّ قَامَ الْآخَرُ فَقَالَ أَنَا مِنْهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر امتیں پیش کی گئیں، پس میں نے کسی نبی کے ساتھ ایک جماعت، کسی کے ساتھ ایک فرد، کسی کے ساتھ دو افراد اور کسی کے ساتھ کوئی آدمی نہیں دیکھا، اچانک مجھے ایک بڑا لشکر دکھایا گیا، میں نے کہا: یہمیری امت ہے؟ جواب دیا گیا: یہ موسی علیہ السلام اور ان کی قوم ہے، اب آپ افق کی طرف دیکھیں، اُدھر ایک بڑا لشکر موجود تھا، پھر مجھ سے کہا گیا: اب آپ اس طرف دیکھیں، اُدھر بھی بڑا لشکر موجود تھا، پھر مجھے کہا گیا: یہ آپ کی امت ہے اور اس کے ساتھ ستر ہزار افراد ایسے ہیں، جو بغیر حساب و کتاب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ صحابہ نے آپس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا: ممکن ہے کہ یہ وہ لوگ ہوں، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رہے، کسی نے کہا: ایسے لگتا ہے کہ یہ وہ لوگ ہوں گے، جو اسلام میں پیدا ہوئے اور انھوں نے کبھی بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہیں کیا، دوسرے صحابہ نے مزید آراء کا ذکر بھی کیا، اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس تشریف لے آئے اور فرمایا: تم کس چیز کے بارے میں غور و خوض کر رہے تھے؟ انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی باتوں کی خبر دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بغیر حساب و کتاب کے جنت میں داخل ہونے والے لوگ وہ ہیں جو نہ داغ لگواتے ہیں، نہ دم کرواتے ہیں، نہ برا شگون لیتے ہیں اور وہ صرف اپنے ربّ پر توکل کرتے ہیں۔ سیدنا عکاشہ بن محصن اشعری رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں ان میں سے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو ان میں سے ہے۔ پھر ایک دوسرا آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں بھی ان میں سے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عکاشہ تجھ سے سبقت لے گیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … توکل کا مطلب ہے جائز اسباب و وسائل استعمال کر کے اپنے مقصود تک پہنچنے کی کوشش کی جائے اور اصل بھروسہ اللہ تعالیٰ کی ذات پرکیا جائے، کیونکہ جب تک اللہ تعالیٰ کی مشیت شامل حال نہیں ہو گی، اسباب و وسائل بھی کچھ نہیں کر سکتے۔
لیکن توکل کی انتہائی شکل یہ ہے کہ اسباب بھی استعمال نہ کیے جائیں اور معاملے کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیئے جائے، بغیر حساب و کتاب کے جنت میں داخل ہونے والوں کا توکل اسی قسم کا ہو گا، زخم اور بیماری کے بارے میں ان کا نظریہیہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰیہ بیماریاں لگائی ہیں اور وہی شفا دے گا، وہ بیچ میں دوا کا سبب استعمال نہیں کریں گے، توکل کییہ قسم مشکل ہے۔
لیکن توکل کی انتہائی شکل یہ ہے کہ اسباب بھی استعمال نہ کیے جائیں اور معاملے کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیئے جائے، بغیر حساب و کتاب کے جنت میں داخل ہونے والوں کا توکل اسی قسم کا ہو گا، زخم اور بیماری کے بارے میں ان کا نظریہیہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰیہ بیماریاں لگائی ہیں اور وہی شفا دے گا، وہ بیچ میں دوا کا سبب استعمال نہیں کریں گے، توکل کییہ قسم مشکل ہے۔