کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: مچھلی والے یعنی یونس علیہ السلام کی دعا اور ان کے حج کا ذکر
حدیث نمبر: 10363
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنِي وَالِدِي مُحَمَّدٌ عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ قَالَ مَرَرْتُ بِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الْمَسْجِدِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَمَلَأَ عَيْنَيْهِ مِنِّي ثُمَّ لَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ السَّلَامَ فَأَتَيْتُ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقُلْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ هَلْ حَدَثَ فِي الْإِسْلَامِ شَيْءٌ مَرَّتَيْنِ قَالَ لَا وَمَا ذَاكَ قُلْتُ لَا إِلَّا أَنِّي مَرَرْتُ بِعُثْمَانَ آنِفًا فِي الْمَسْجِدِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَمَلَأَ عَيْنَيْهِ مِنِّي ثُمَّ لَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ السَّلَامَ قَالَ فَأَرْسَلَ عُمَرُ إِلَى عُثْمَانَ فَدَعَاهُ فَقَالَ مَا مَنَعَكَ أَنْ لَا تَكُونَ رَدَدْتَ عَلَى أَخِيكَ السَّلَامَ قَالَ عُثْمَانُ مَا فَعَلْتُ قَالَ سَعْدٌ قُلْتُ بَلَى قَالَ حَتَّى حَلَفَ وَحَلَفْتُ ثُمَّ إِنَّ عُثْمَانَ ذَكَرَ فَقَالَ بَلَى وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ إِنَّكَ مَرَرْتَ بِي آنِفًا وَأَنَا أُحَدِّثُ نَفْسِي بِكَلِمَةٍ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا وَاللَّهِ مَا ذَكَرْتُهَا قَطُّ إِلَّا تَغَشَّى بَصَرِي وَقَلْبِي غِشَاوَةٌ قَالَ سَعْدٌ فَأَنَا أُنَبِّئُكَ بِهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ لَنَا أَوَّلَ دَعْوَةٍ ثُمَّ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَشَغَلَهُ حَتَّى قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَتْبَعْتُهُ فَلَمَّا أَشْفَقْتُ أَنْ يَسْبِقَنِي إِلَى مَنْزِلِهِ ضَرَبْتُ بِقَدَمِي الْأَرْضَ فَالْتَفَتَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ((مَنْ هَذَا أَبُو إِسْحَاقَ)) قُلْتُ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ((فَمَهْ)) قُلْتُ لَا وَاللَّهِ إِلَّا أَنَّكَ ذَكَرْتَ لَنَا أَوَّلَ دَعْوَةٍ ثُمَّ جَاءَ هَذَا الْأَعْرَابِيُّ فَشَغَلَكَ قَالَ ((نَعَمْ دَعْوَةُ ذِي النُّونِ إِذْ هُوَ فِي بَطْنِ الْحُوتِ {لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ} فَإِنَّهُ لَمْ يَدْعُ بِهَا مُسْلِمٌ رَبَّهُ فِي شَيْءٍ إِلَّا اسْتَجَابَ لَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا، جبکہ وہ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے، اور میں نے ان کو سلام کہا، لیکن انھوں نے آنکھ بھر کر مجھے دیکھا اور میرے سلام کا جواب نہیں دیا، پس میں امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور کہا: اے امیر المؤمنین! کیا اسلام میں کوئی چیز نئی ظاہر ہو گئی ہے؟ دو ددفعہ کہا، انھوں نے کہا: جی نہیں، بھلا بات کون سی ہے؟ میں نے کہا: جی کوئی بات نہیں، بس اتنا ضرور ہوا ہے کہ میں ابھی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا، ان کو سلام کہا، انھوں نے آنکھ بھر کر مجھے دیکھا، لیکن میرے سلام کا کوئی جواب نہیں دیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ان سے کہا: کس چیز نے تم کو اپنے بھائی کے سلام کا جواب دینے سے روک دیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی میں نے تو ایسا کوئی کام نہیں کیا، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: کیوں نہیں، ایسے ہوا ہے، یہاں تک کہ انھوں نے بھی قسم اٹھا دی اور میں نے بھی قسم کھا لی، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: جی کیوں نہیں، اور میں اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور اس کی طرف توبہ کرتا ہوں، ابھی تم میرے پاس سے گزرے تھے اور میں اپنے دل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہوئی ایکحدیثیاد کر رہا تھا، نہیں، اللہ کی قسم، میں جب بھی اس حدیث کو یاد کرتا ہوں تو میری آنکھوں اور دل پر ایک پردہ چڑھ جاتا ہے، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میں بھی تم کو ایک بات بتلاتا ہوں، ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں یہ بات بتلانا چاہی کہ پہلی دعا، پھر ایک بدّو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آگیا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مصروف کر دیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے تو میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے ہو لیا، جب مجھے یہ شبہ ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھر کی طرف مجھ سے آگے نکل جائیں گے، تو میں نے اپنا پاؤں زمین پر مارا، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری طرف توجہ کی اور فرمایا: یہ کون ہے؟ ابو اسحاق ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا ہے؟ میں نے کہا: اللہ کی قسم! کوئی بات نہیں، بس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ذکر کیا تھا کہ پہلی دعا، پھر یہ بدّو آ گیا اور اس نے آپ کو مصروف کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، وہ مچھلی والے کیدعا ہے، جب وہ مچھلی کے پیٹ میں تھے تو انھوں نے یہ دعا کی تھی: {لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ} (نہیں ہے کوئی معبودِ برحق، مگر تو ہی، تو پاک ہے، بیشک میں ظالموں میں سے ہوں)۔ جو مسلمان جس چیز کے لیے ان الفاظ کے ساتھ اپنے ربّ کو پکارے گا، اللہ تعالیٰ اس کی پکار قبول کرے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام / حدیث: 10363
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه مختصرا الترمذي: 3505 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1462 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1462»
حدیث نمبر: 10364
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا مَرَّ بِثَنِيَّةِ هَرْشَاءَ حِينَ حَجَّ قَالَ ((أَيُّ ثَنِيَّةٍ هَذِهِ)) قَالُوا ثَنِيَّةُ هَرْشَاءَ قَالَ ((كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى يُونُسَ بْنِ مَتَّى عَلَيْهِ السَّلَامُ عَلَى نَاقَةٍ حَمْرَاءَ جَعْدَةٍ عَلَيْهِ جُبَّةٌ مِنْ صُوفٍ خِطَامُ نَاقَتِهِ خُلْبَةٌ)) قَالَ يَعْنِي لِيفًا ((وَهُوَ يُلَبِّي))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سفرِ حج کے دوران ہرشاء گھاٹی کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: یہ کون سی گھاٹی ہے۔ لوگوں نے کہا: یہ ہرشاء کی گھاٹی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گویا میںیونس بن متی کو دیکھ رہا ہوں، وہ سرخ اور پر گوشت اونٹنی پر سوار ہیں، انھوں نے اون کا جبہ پہنا ہوا ہے، ان کی اونٹنی کی لگام کھجور کے پتوں کی ہے اور وہ تلبیہ کہہ رہے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … یونس علیہ السلام کو مذکورہ ہیئت میں کیسے بیان کیا گیا؟ دو صورتیں ممکن ہیں: (۱)جس طرح وہ دنیوی زندگی میں عبادت کرتے، حج کرتے اور تلبیہ کہتے تھے، تمثیلی طور پر ان کو اسی شکل میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیایا (۲) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اپنے خواب میں اسی طرح دیکھا تھا۔ واللہ اعلم
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام / حدیث: 10364
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 166 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1854 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1854»