کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اللہ کے نبی اسماعیل علیہ السلام اور ان کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 10353
عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَوْمٍ مِنْ أَسْلَمَ وَهُمْ يَتَنَاضَلُونَ فِي السُّوقِ فَقَالَ ارْمُوا يَا بَنِي إِسْمَاعِيلَ فَإِنَّ أَبَاكُمْ كَانَ رَامِيًا ارْمُوا وَأَنَا مَعَ بَنِي فُلَانٍ لِأَحَدِ الْفَرِيقَيْنِ فَأَمْسَكُوا أَيْدِيَهُمْ فَقَالَ ارْمُوا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ نَرْمِي وَأَنْتَ مَعَ بَنِي فُلَانٍ قَالَ ارْمُوا وَأَنَا مَعَكُمْ كُلِّكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنو اسلم کے کچھ لوگوں کے پاس گئے اور وہ بازار میں تیراندازی کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اولادِ اسماعیل! تم تیر اندازی کرو، کیونکہ تمہارا باپ بھی تیر انداز تھا اور میں بنوفلاں کے ساتھ ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد ایک فریق تھا، یہ سن کر دوسرے فریق نے اپنے ہاتھ روک لیے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم تیر اندازی کرو (کیوں رک گئے ہو؟) انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کیسے تیر اندازی کریں، جبکہ آپ بنو فلاں کے ساتھ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چلو تیر اندازی کرو، میں تم سب کے ساتھ ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … اسماعیل علیہ السلام، ابراہیم علیہ السلام کے بڑے بیٹے تھے اور یہی ذبیح تھے، تفصیل کے لیے دیکھیں حدیث نمبر (۸۷۳۴)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام / حدیث: 10353
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2899، 3507 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16528 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16643»