کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: ابراہیم علیہ السلام کا اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام اور ان کی ماں سیدہ ہاجر رحمتہ اللہ علیہ کے ساتھ مکہ مکرمہ کے¤علاقے کے فاران کے پہاڑوں کی طرف ہجرت کرنا اور اس کے سبب سے زمزم کا وجود میں آنا¤اور بیت ِ عتیق کا تعمیر ہونا
حدیث نمبر: 10343
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ وَكَثِيرِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَى الْآخَرِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَوَّلُ مَا اتَّخَذَتِ النِّسَاءُ الْمِنْطَقَ مِنْ قَبْلُ أُمُّ إِسْمَاعِيلَ اتَّخَذَتْ مِنْطَقًا لِتُعْفِيَ أَثَرَهَا عَلَى سَارَةَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَحِمَ اللَّهُ أُمَّ إِسْمَاعِيلَ لَوْ تَرَكَتْ زَمْزَمَ أَوْ قَالَ لَوْ لَمْ تَغْرِفْ مِنَ الْمَاءِ لَكَانَتْ زَمْزَمُ عَيْنًا مَعِينًا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَلْفَى ذَلِكَ أُمَّ إِسْمَاعِيلَ وَهِيَ تُحِبُّ الْأُنْسَ فَنَزَلُوا وَأَرْسَلُوا إِلَى أَهْلِيهِمْ فَنَزَلُوا مَعَهُمْ وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ فَهَبَطَتْ مِنَ الصَّفَا حَتَّى إِذَا بَلَغَتِ الْوَادِيَ رَفَعَتْ طَرَفَ دِرْعِهَا ثُمَّ سَعَتْ سَعْيَ الْإِنْسَانِ الْمَجْهُودِ حَتَّى جَاوَزَتِ الْوَادِيَ ثُمَّ أَتَتِ الْمَرْوَةَ فَقَامَتْ عَلَيْهَا وَنَظَرَتْ هَلْ تَرَى أَحَدًا فَلَمْ تَرَ أَحَدًا فَفَعَلَتْ ذَلِكَ سَبْعَ مَرَّاتٍ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلِذَلِكَ سَعَى النَّاسُ بَيْنَهُمَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: سب سے پہلے جس خاتون نے کمر پر باندھی جانے والی پیٹی استعمال کی، وہ ام اسماعیل تھیں، انھوں نے سیدہ سارہ رحمۃ اللہ علیہ پر اس کے نشان کو چھپانے کے لیے پیٹی کا اہتمام کیا، پھر انھوں نے بقیہ حدیث ذکر کی اور کہا: اللہ تعالیٰ ام اسماعیل پر رحم کرتے، اگر انھوں نے زمزم کو چھوڑ دیا ہوتا ، ایک روایت میں ہے: اگر وہ زمزم سے چلو نہ بھرتیں تو وہ ایک جاری چشمہ ہوتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس چیز نے ام اسماعیل کو پا لیا کہ وہ مانوسیت کو پسند کرتی تھیں، پس وہ وہاں اتر پڑے اور انھوں نے اپنے اہل کی طرف بھیپیغام بھیجا، سو وہ بھی وہاں آ کر ٹھہر گئے، … … ، پس سیدہ ہاجر رحمۃ اللہ علیہ صفا سے اتریں،یہاں تک کہ وادی میں پہنچیں اور اپنی قمیص کا کنارہ اٹھایا، پھر مشقت میں پڑے ہوئے انسان کی طرح دوڑیں،یہاں تک کہ وادی کو عبور کر لیا، پھر وہ مروہ پر آئیں اور اس پر کھڑے ہو کر دیکھا، تاکہ ان کو کوئی آدمی نظر آجائے، لیکن وہ کسی کو نہ دیکھ سکیں، پس انھوں نے سات دفعہ ایسے ہی کیا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسی وجہ سے لوگ صفا مروہ کی سعی کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 10344
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ إِبْرَاهِيمَ جَاءَ بِإِسْمَاعِيلَ عَلَيْهِمَا الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ وَهَاجَرَ فَوَضَعَهَا بِمَكَّةَ فِي مَوْضِعِ زَمْزَمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ثُمَّ جَاءَتْ مِنَ الْمَرْوَةِ إِلَى إِسْمَاعِيلَ وَقَدْ نَبَعَتِ الْعَيْنُ فَجَعَلَتْ تَفْحَصُ الْعَيْنَ بِيَدِهَا هَكَذَا حَتَّى اجْتَمَعَ الْمَاءُ مِنْ شَقَّةٍ ثُمَّ تَأْخُذُ بِقَدَحِهَا فِي سِقَائِهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَوْ تَرَكَتْهَا لَكَانَتْ عَيْنًا سَائِحَةً تَجْرِي إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابراہیم علیہ السلام ، اسماعیل علیہ السلام اور ہاجر رحمۃ اللہ علیہ کو لے کر آئے اور ان کو مکہ میں زمزم کے مقام پر ٹھہرایا، … … ، پھر جب وہ ہاجرہ مروہ سے اسماعیل کے پاس گئیں، تو چشمہ ابل رہا تھا، وہ اپنے ہاتھ سے اس طرح کر کے چشمہ کی جگہ پر زمین کھودنے لگ گئیں،یہاں تک کہ اس گڑھے میںپانی جمع ہو گیا اور وہ پیالے کی مدد سے اپنے مشکیزے میں ڈالنے لگ گئیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ اس کو چھوڑ دیتیں تو وہ قیامت تک بہنے والا چشمہ ہوتا۔
حدیث نمبر: 10345
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ثَنَا أَيُّوبُ قَالَ أُنْبِئْتُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَجَاءَ الْمَلَكُ بِهَا حَتَّى انْتَهَى إِلَى مَوْضِعِ زَمْزَمَ فَضَرَبَ بِعَقِبِهِ فَفَارَتْ عَيْنًا فَعَجِلَتِ الْإِنْسَانَةُ فَجَعَلَتْ تَقْدَحُ فِي شَنَّتِهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَحِمَ اللَّهُ أُمَّ إِسْمَاعِيلَ لَوْ لَا أَنَّهَا عَجِلَتْ لَكَانَتْ زَمْزَمُ عَيْنًا مَعِينًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: پھر فرشتہ سیدہ ہاجرہ رحمۃ اللہ علیہ کو لے کر آیا،یہاں تک کہ جب زمزم والی جگہ پر پہنچا تو وہاں اپنی ایڑھی ماری، پس اس جگہ سے چشمہ ابل پڑا، اب اس خاتون نے پیالے کی مدد سے پانی کو اپنے مشکیزے میں ڈالنا شروع کر دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ام اسماعیل پر رحم کرے، اگر انھوں نے جلدی نہ کی ہوتی تو زمزم جاری چشمہ ہوتا۔
وضاحت:
فوائد: … زمزم جاری چشمہ ہوتا، یعنی روئے زمین پر بہنے والا واضح اور ظاہری چشمہ ہوتا، ابن جوزی نے کہا: زمزم کا ظہور محض اللہ تعالیٰ کی نعمت تھی، اس میں کسی عامل کے عمل کا کوئی دخل نہیں تھا، جب سیدہ ہاجرہ رحمتہ اللہ علیہ نے اس کو پابند کرنا چاہا تو بیچ میں بشر کی محنت آ گھسی، سو وہ پابند ہو گیا۔ (فتح الباری: ۶/ ۴۰۲)
حدیث نمبر: 10346
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلَمْ تَرَيْ إِلَى قَوْمِكِ حِينَ بَنَوُا الْكَعْبَةَ اقْتَصَرُوا عَنْ قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا تَرُدُّهَا عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا حِدْثَانُ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَوَاللَّهِ لَئِنْ كَانَتْ عَائِشَةُ سَمِعَتْ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا أُرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَرَكَ اسْتِلَامَ الرُّكْنَيْنِ اللَّذَيْنِ يَلِيَانِ الْحِجْرَ إِلَّا أَنَّ الْبَيْتَ لَمْ يُتَمَّمْ عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِرَادَةَ أَنْ يَسْتَوْعِبَ النَّاسُ الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ كُلِّهِ مِنْ وَرَاءِ قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: کیا تم اپنی قوم کی طرف نہیں دیکھتی، جب انھوں نے کعبہ کی تعمیر کی تو اس کو ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں سے کم کر دیا؟ سیدہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! تو کیا آپ اس کو ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر تعمیر نہیں کر دیتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تیری قوم نے کفر کو نیا نیا نہ چھوڑا ہوتا (تو میں اس طرح کر دیتا)۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہمانے کہا: اگر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے تو میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حطیم کی طرف والے کعبہ کے دو کونوں کا استلام اس بنا پر نہیں کیا کہ اس طرف سے کعبہ ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر نہیں تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارادہ یہ تھا کہ لوگ بیت اللہ کا پوری طرح طواف کریں اور ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں کے پیچھے سے چکر کاٹیں۔
وضاحت:
فوائد: … جب قریشیوں نے کعبہ کی تعمیر کی تو وہ بیت اللہ کی شمالی جانب قواعد ِ ابراہیم کا لحاظ نہ کر سکے اور ایک جزو کو خالی چھوڑ دیا، اسی کو حِجْرکہتے ہیں۔ ویسے حِجْرکے معنی ہیں وہ جگہ جس کے ارد گرد دیوار بنائی گئی ہو، اس جگہ کو حطیم بھی کہتے ہیں، حطیم کے معنی ہیں: جدا کیا گیا، کیونکہ اس حصے کو بیت اللہ سے جدا کیا گیا، بیت اللہ کی دیوار سے پانچ یا چھ یا سات ہاتھ تک بیت اللہ کا حصہ ہے، سارا حطیم بیت اللہ کا حصہ نہیں ہے، کیونکہ دیوار بناتے وقت کچھ بیرونی جگہ بھی شامل کر دی گئی، جو آدمی پانچ چھ ہاتھ کے احاطے کے اندر اندر نماز پڑھے، وہ یوں سمجھے کہ اس نے بیت اللہ کے اندر نماز پڑھی، اسی طرح طواف کرنے والے کا چکر حطیم کے باہر سے ہونا چاہیے۔
حدیث نمبر: 10347
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ مَسْجِدٍ وُضِعَ فِي الْأَرْضِ أَوَّلُ قَالَ الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ قَالَ قُلْتُ ثُمَّ أَيٌّ قَالَ الْمَسْجِدُ الْأَقْصَى قَالَ قُلْتُ كَمْ بَيْنَهُمَا قَالَ أَرْبَعُونَ سَنَةً ثُمَّ قَالَ أَيْنَمَا أَدْرَكَتْكَ الصَّلَاةُ فَصَلِّ فَهُوَ مَسْجِدٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سی مسجد سب سے پہلے تعمیر کی گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسجد ِ حرام۔ میں نے کہا: پھر کون سی بنائی گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسجد اقصی۔ میں نے کہا: ان دو کے درمیان کتنا فاصلہ تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چالیس برس۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہاں بھی نماز تجھے پا لے تو وہیں نماز ادا کر لے، پس وہی مسجد ہو گی۔
وضاحت:
فوائد: … معروف یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مسجد ِ حرام اور حضرت سلیمان علیہ السلام نے مسجد اقصی تعمیر کی ہے، لیکن ان دو نبیوں کے درمیان ایک ہزار سال سے زیادہ فاصلہ ہے، جبکہ اس حدیث میں چالیس برس فاصلہ بیان کیا گیا ہے؟
حافظ ابن حجر نے مختلف اقوال پیش کر کے اس اعتراض کا جواب دیا ہے، ہم تلخیص کے ساتھ اس جواب کا ذکر کرتے ہیں: نہ ابراہیم علیہ السلام وہ پہلے شخص ہیں، جنھوں نے کعبہ کی تعمیر کی اور نہ سلیمان علیہ السلام وہ پہلے شخص ہیں، جنہوں نے مسجد اقصی کی تعمیر کی، ہمیں ایک ایسی روایت ملی ہے، جس کے مطابق آدم علیہ السلام نے سب سے پہلے کعبہ کی تعمیر کی، پھر ان کی اولاد زمین میں پھیل گئی اور ممکن ہے کہ کسی نے بیت المقدس تعمیر کیا ہو، جبکہ بعض کا خیال ہے کہ ممکن ہے کہ داود علیہ السلام سے پہلے کسی اللہ کے ولی نے مسجد اقصی کی تعمیر کی ہو، پھر داود علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام نے اس میں توسیع کی ہو اور بعض کی رائے یہ ہے کہ آدم علیہ السلام یا فرشتوں یا سام بن نوح یایعقوب علیہ السلام نے مسجد اقصی کی بنیاد رکھی اور سلیمان علیہ السلام نے اس کی تکمیل کی، ابن ہشام کی روایت کے مطابق آدم علیہ السلام نے دونوں مسجدوں کی بنیاد رکھی، پھر نوح علیہ السلام کے طوفان میں بیت اللہ کو اٹھا لیا گیا اور ابراہیم علیہ السلام نے دوبارہ اس کی تعمیر کی۔ (فتح الباری: ۶/ ۴۰۸، ۴۰۹) اس کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ ابراہیم علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام سے پہلے مسجد حرام اور مسجد اقصی کی تعمیر کی گئی، بوجوہ ان کے آثار کمزور پڑ گئے، پھر ان دو نبیوں نے ان کی تعمیرِ نو کی اور ان ہی کی طرف یہ مسجدیں منسوب ہونے لگیں۔
حافظ ابن حجر نے مختلف اقوال پیش کر کے اس اعتراض کا جواب دیا ہے، ہم تلخیص کے ساتھ اس جواب کا ذکر کرتے ہیں: نہ ابراہیم علیہ السلام وہ پہلے شخص ہیں، جنھوں نے کعبہ کی تعمیر کی اور نہ سلیمان علیہ السلام وہ پہلے شخص ہیں، جنہوں نے مسجد اقصی کی تعمیر کی، ہمیں ایک ایسی روایت ملی ہے، جس کے مطابق آدم علیہ السلام نے سب سے پہلے کعبہ کی تعمیر کی، پھر ان کی اولاد زمین میں پھیل گئی اور ممکن ہے کہ کسی نے بیت المقدس تعمیر کیا ہو، جبکہ بعض کا خیال ہے کہ ممکن ہے کہ داود علیہ السلام سے پہلے کسی اللہ کے ولی نے مسجد اقصی کی تعمیر کی ہو، پھر داود علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام نے اس میں توسیع کی ہو اور بعض کی رائے یہ ہے کہ آدم علیہ السلام یا فرشتوں یا سام بن نوح یایعقوب علیہ السلام نے مسجد اقصی کی بنیاد رکھی اور سلیمان علیہ السلام نے اس کی تکمیل کی، ابن ہشام کی روایت کے مطابق آدم علیہ السلام نے دونوں مسجدوں کی بنیاد رکھی، پھر نوح علیہ السلام کے طوفان میں بیت اللہ کو اٹھا لیا گیا اور ابراہیم علیہ السلام نے دوبارہ اس کی تعمیر کی۔ (فتح الباری: ۶/ ۴۰۸، ۴۰۹) اس کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ ابراہیم علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام سے پہلے مسجد حرام اور مسجد اقصی کی تعمیر کی گئی، بوجوہ ان کے آثار کمزور پڑ گئے، پھر ان دو نبیوں نے ان کی تعمیرِ نو کی اور ان ہی کی طرف یہ مسجدیں منسوب ہونے لگیں۔
حدیث نمبر: 10348
عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ أُمِّ مَنْصُورٍ قَالَتْ أَخْبَرَتْنِي امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ وَلَدَتْ عَامَّةَ أَهْلِ دَارِنَا أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ طَلْحَةَ وَقَالَ مَرَّةً يَعْنِي الرَّاوِيَ عَنْ صَفِيَّةَ أَنَّهَا سَأَلَتْ عُثْمَانَ بْنَ طَلْحَةَ لِمَ دَعَاكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ لِي كُنْتُ رَأَيْتُ قَرْنَيِ الْكَبْشِ حِينَ دَخَلْتُ الْبَيْتَ فَنَسِيتُ أَنْ آمُرَكَ تُخَمِّرُهُمَا فَخَمِّرْهُمَا فَإِنَّهُ لَا يَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ فِي الْبَيْتِ شَيْءٌ يَشْغَلُ الْمُصَلِّي قَالَ سُفْيَانُ لَمْ تَزَلْ قَرْنَا الْكَبْشِ فِي الْبَيْتِ حَتَّى احْتَرَقَ الْبَيْتُ فَاحْتَرَقَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ام منصور کہتی ہیں: بنو سلیم کی ایک خاتون، ہمارے گھر کی عام اولاد اسی سے تھی، سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا، ایک روایت میں ہے: انھوں نے سیدنا عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو کیوں بلایا تھا؟ انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: میں نے بیت اللہ کے اندر دنبے کے سینگ دیکھے اور تجھے یہ حکم دینا بھول گیا کہ تو ان کو ڈھانپ دے، پس اب ان کو ڈھانپ دے، کیونکہ مناسب نہیں ہے کہ بیت اللہ میں ایسی چیز ہو، جو نمازی کو مشغول کر دے۔ امام سفیان نے کہا: دنبے کے وہ دونوں سینگ بیت اللہ میں موجود رہے، یہاں تک کہ جب بیت اللہ کو آگ لگ گئی تھی تو وہ بھی جل گئے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … اسماعیل علیہ السلام کے فدیے میں جو مینڈھا لایا گیا تھا، یہ اس کے دو سینگ تھے، جو کعبہ کے اندر محفوظ تھے۔