کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: ہود علیہ السلام کا بیان
حدیث نمبر: 10327
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا لَمَّا مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِوَادِي عُسْفَانَ حِينَ حَجَّ قَالَ يَا أَبَا بَكْرٍ أَيُّ وَادٍ هَذَا قَالَ وَادِي عُسْفَانَ قَالَ لَقَدْ مَرَّ بِهِ هُودٌ وَصَالِحٌ عَلَى بَكَرَاتٍ حُمْرٍ خُطُمُهَا اللِّيفُ أُزُرُهُمُ الْعَبَاءُ وَأَرْدِيَتُهُمُ النِّمَارُ يُلَبُّونَ يَحُجُّونَ الْبَيْتَ الْعَتِيقَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفرِ حج میں وادیٔ عسفان کے پاس سے گزرے تو فرمایا: اے ابو بکر! یہ وادی کون سی ہے؟ انھوں نے کہا: وادیٔ عسفان ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہود علیہ السلام اور صالح علیہ السلام اس وادی کے پاس سے گزرے، وہ سرخ اونٹوں پر سوار تھے، ان کی لگامیں کھجور کے پتوں کی تھیں، ان کے ازار اوڑھنے والی چادر کے تھے، ان کی چادریں دھاری دار تھیں اور وہ اس پرانے گھر کا حج کرنے کے لیے تلبیہ پکارتے ہوئے جا رہے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام / حدیث: 10327
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف زمعة، وسلمةُ بن وھرام مختلف فيه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2067 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2067»
حدیث نمبر: 10328
عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ الْبَكْرِيِّ قَالَ خَرَجْتُ أَشْكُو الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَرَرْتُ بِالرَّبَذَةِ فَإِذَا عَجُوزٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ مُنْقَطِعٌ بِهَا فَقَالَتْ لِي يَا عَبْدَ اللَّهِ إِنَّ لِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَاجَةً فَهَلْ أَنْتَ مُبَلِّغِي إِلَيْهِ قَالَ فَحَمَلْتُهَا فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَإِذَا الْمَسْجِدُ غَاصٌّ بِأَهْلِهِ وَإِذَا رَايَةٌ سَوْدَاءُ تَخْفِقُ وَبِلَالٌ مُتَقَلِّدُ السَّيْفِ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ مَا شَأْنُ النَّاسِ قَالُوا يُرِيدُ أَنْ يَبْعَثَ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ وَجْهًا قَالَ فَجَلَسْتُ قَالَ فَدَخَلَ مَنْزِلَهُ أَوْ قَالَ رَحْلَهُ فَاسْتَأْذَنْتُ عَلَيْهِ فَأَذِنَ لِي فَدَخَلْتُ فَسَلَّمْتُ فَقَالَ هَلْ كَانَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ بَنِي تَمِيمٍ شَيْءٌ قَالَ فَقُلْتُ نَعَمْ قَالَ وَكَانَتْ لَنَا الدَّبَرَةُ عَلَيْهِمْ وَمَرَرْتُ بِعَجُوزَةٍ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ مُنْقَطِعٍ بِهَا فَسَأَلَتْنِي أَنْ أَحْمِلَهَا إِلَيْكَ وَهَا هِيَ بِالْبَابِ فَأَذِنَ لَهَا فَدَخَلَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ رَأَيْتَ أَنْ تَجْعَلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ بَنِي تَمِيمٍ حَاجِزًا فَاجْعَلِ الدَّهْنَاءَ فَحَمِيَتِ الْعَجُوزُ وَاسْتَوْفَزَتْ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِلَى أَيْنَ تَضْطَرُّ مُضَرَكَ قَالَ قُلْتُ إِنَّمَا مَثَلِي مَا قَالَ الْأَوَّلُ مِعْزَاءُ حَمَلَتْ حَتْفَهَا حَمَلْتُ هَذِهِ وَلَا أَشْعُرُ أَنَّهَا كَانَتْ لِي خَصْمًا أَعُوذُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ أَنْ أَكُونَ كَوَافِدِ عَادٍ قَالَ هِيهْ وَمَا وَافِدُ عَادٍ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْحَدِيثِ مِنْهُ وَلَكِنْ يَسْتَطْعِمُهُ قُلْتُ إِنَّ عَادًا قَحَطُوا فَبَعَثُوا وَافِدًا لَهُمْ يُقَالُ لَهُ قَيْلٌ فَمَرَّ بِمُعَاوِيَةَ بْنِ بَكْرٍ فَأَقَامَ عِنْدَهُ شَهْرًا يَسْقِيهِ الْخَمْرَ وَتُغَنِّيهِ جَارِيَتَانِ يُقَالُ لَهُمَا الْجَرَادَتَانِ فَلَمَّا مَضَى الشَّهْرُ خَرَجَ إِلَى جِبَالِ تَهَامَةَ فَنَادَى اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنِّي لَمْ آتِ إِلَى مَرِيضٍ فَأُدَاوِيَهُ وَلَا إِلَى أَسِيرٍ فَأُفَادِيَهُ اللَّهُمَّ اسْقِ عَادًا مَا كُنْتَ تَسْقِيهِ فَمَرَّتْ بِهِ سَحَابَاتٌ سُودٌ فَنُودِيَ مِنْهَا اخْتَرْ فَأَوْمَأَ إِلَى سَحَابَةٍ مِنْهَا سَوْدَاءَ فَنُودِيَ مِنْهَا خُذْهَا رَمَادًا رِمْدَدًا لَا تُبْقِ مِنْ عَادٍ أَحَدًا قَالَ فَمَا بَلَغَنِي أَنَّهُ بُعِثَ عَلَيْهِمْ مِنَ الرِّيحِ إِلَّا قَدْرُ مَا يَجْرِي فِي خَاتِمِي هَذَا حَتَّى هَلَكُوا قَالَ أَبُو وَائِلٍ وَصَدَقَ قَالَ فَكَانَتِ الْمَرْأَةُ وَالرَّجُلُ إِذَا بَعَثُوا وَافِدًا لَهُمْ قَالُوا لَا تَكُنْ كَوَافِدِ عَادٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ حارث بن یزید بکری سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں علاء بن حضرمی کی شکایت کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف روانہ ہوا، جب میں ربذہ مقام سے گزرا تو دیکھا کہ وہاں بنوتمیم کی ایک بڑھیا خاتون تھی، اس کے لیے سفر کے اسباب منقطع ہو چکے تھے، اس نے مجھ سے کہا: اے اللہ کے بندے! میرا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی تقاضا ہے، کیا تو مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچا سکتا ہے؟ پس میں نے اس کو اپنے ساتھ اٹھا لیا اور مدینہ منورہ پہنچ گئے، وہاں دیکھا کہ مسجد لوگوں سے بھری ہوئی تھی، سیاہ رنگ کا جھنڈا لہرا رہا تھا اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ تلوار لٹکا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کھڑے تھے، میں نے کہا: لوگوں کا کیا مسئلہ ہے ؟ انھوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو کسی غزوے میں بھیجنا چاہتے ہیں، پس میں بیٹھ گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھر میں داخل ہوگئے، پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت طلب کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اجازت دی، پس میں داخل ہوا اور سلام کہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا تمہارے اور بنو تمیم کے درمیان کوئی مسئلہ ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، پھر میں (حارث) نے کہا: ہمارا ان پر غلبہ تھا اور میں بنوتمیم کی ایک بڑھیاں خاتون کے پاس سے گزرا، اس کے سفر کے اسباب منقطع ہو چکے تھے، اس نے مجھ سے مطالبہ کیا کہ میں اس کو آپ تک پہنچاؤں، اب وہ درروازے پر موجود ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اجازت دی اور وہ اندر آ گئی، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ ہمارے اور بنو تمیم کے درمیان کوئی حد مقرر کرنا چاہتے ہیں تو دہناء مقام کا تعین کر دیں۔ یہ بات سن کر اس بڑھیا کو غیرت آ گئی تو اس نے اتنی باتیں کیں کہ اپنا پورا حق وصول کر لیا، پھر اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اپنے مضر کو کہاں تک مجبور کریں گے؟ اس کی باتیں سن کر میں نے کہا: میری مثال تو وہ ہے، جس کے بارے میں پہلے کسی نے کہا: معزاء نے اپنی موت کو اٹھا رکھا ہے، میں اس بڑھیا کو اٹھا کر لایا، جبکہ مجھے شعور بھی نہیں تھا کہ مجھ سے جھگڑنے لگے گی، میں اس بات سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی پناہ چاہتا ہوں کہ میں عادیوں کے قاصد کی طرح ہو جاؤں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں، ذرا بیان کرو، عادیوں کا قاصد کون تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود اس بات کو زیادہ جانتے تھے، لیکن اب اس سے سننا چاہتے تھے، میں نے کہا: عاد قوم قحط میں مبتلا ہو گئی، انھوں نے قَیل نامی قاصد کو بھیجا، وہ معاویہ بن بکر کے پاس سے گزرا اور ایک ماہ تک اس کے ہاں ٹھہرا، وہ اس کو شراب پلاتا اور اس کے لیے دو لونڈیاں گانے گاتی تھیں، ان لونڈیوں کو جرادتان کہتے تھے، جب ایک ماہ گزر گیا تو وہ آدمی تہامہ کے پہاڑوں کی طرف نکلا اور اس نے یہ آواز دی: اے اللہ! بیشک تو جانتا ہے کہ میں نہ کسی مریض کا دوا دارو کرنے کے لیے آیا ہوں اور نہ کسی قیدی کو چھڑانے آیا ہوں، اے اللہ! تو عادیوں پر وہی بارش نازل فرما، جو تو پہلے نازل کرتا تھا، پس اس کے پاس سے کالے کالے بادل گزرے اور اس سے کہا: ان میں سے ایک بادل کو منتخب کر، اس نے ایک سیاہ رنگ کی بدلی کی طرف اشارہ کیا، پس اس کو آواز دی گئی: اب لے اس کو، یہ تو آگ کے ساتھ ہونے والی ہلاکت ہے، یہ قومِ عاد میں سے کسی کو نہیں چھوڑے گی، پھر انھوں نے کہا: مجھے یہ بات موصول ہوئی ہے کہ ان پر اتنی ہوا بھیجی گئی، جو میری اس انگوٹھی سے گزر سکتی تھی، لیکن اس سے بھی وہ ہلاک ہو گئے۔ ابو وائل کہتے ہیں: حارث نے سچ کہا، اسی وجہ سے جب کوئی عورت یا مرد اپنا قاصد بھیجتے تھے تو وہ کہتے تھے: قومِ عاد کے قاصد کی طرح نہ ہو جانا۔
وضاحت:
فوائد: … مِعْزَائُ حَمَلَتْ حَتْفَھَا (معزاء نے اپنی موت کو خود اٹھا رکھا ہے) یہ ایک ضرب المثل ہے، اس کا مصداق وہ شخص ہے جو ایسے امر کا خود سبب بنتاہے، جس میں اس کی اپنی ہلاکت ہوتی ہے، جبکہ اسے شعور تک نہیں ہوتا۔
درج ذیل آیات میں قوم عاد کی اسی ہلاکت کا بیان ہے: {وَاَمَّا عَاد’‘ فَاُھْلِکُوْا بِرِیْحٍ صَرْصَرٍ عَاتِیَۃٍ۔ سَخَّرَھَا عَلَیْہِمْ سَبْعَ لَیَالٍ وَّثَمٰنِیَۃَ اَیَّامٍ حُسُوْمًا فَتَرَی الْقَوْمَ فِیْھَا صَرْعٰی کَاَنَّہُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِیَۃٍ۔ فَھَلْ تَرٰی لَھُمْ مِّنْ بَاقِیَۃٍ۔} … اور جو عاد تھے وہ سخت ٹھنڈی، تند آندھی کے ساتھ ہلاک کر دیے گئے، جو قابو سے باہر ہونے والی تھی۔ اس نے اسے ان پر سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلائے رکھا۔ سو تو ان لوگوں کو اس میں اس طرح (زمین پر) گرے ہوئے دیکھے گا جیسے وہ کھجوروں کے گرے ہوئے تنے ہوں۔تو کیا تو ان کا کوئی بھی باقی رہنے والا دیکھتا ہے؟ (سورۂ حاقہ: ۶ تا ۸)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام / حدیث: 10328
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه مطولا و مختصرا جدا الترمذي: 3273، 3274 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15954 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16050»