کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: جنوں کے ایک گروہ کے اسلام لانے، ان کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آنے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قرآن سننے کا بیان
حدیث نمبر: 10286
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَنَا دَاوُدُ وَابْنُ أَبِي زَائِدَةَ الْمَعْنَى قَالَا ثَنَا دَاوُدُ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ هَلْ صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ مِنْكُمْ أَحَدٌ فَقَالَ مَا صَحِبَهُ مِنَّا أَحَدٌ وَلَكِنْ قَدْ فَقَدْنَاهُ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقُلْنَا اغْتِيلَ اسْتُطِيرَ مَا فَعَلَ قَالَ فَبِتْنَا بِشَرِّ لَيْلَةٍ بَاتَ بِهَا قَوْمٌ فَلَمَّا كَانَ فِي وَجْهِ الصُّبْحِ أَوْ قَالَ فِي السَّحَرِ إِذَا نَحْنُ بِهِ يَجِيءُ مِنْ قِبَلِ حِرَاءَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَذَكَرُوا الَّذِي كَانُوا فِيهِ فَقَالَ إِنَّهُ أَتَانِي دَاعِي الْجِنِّ فَأَتَيْتُهُمْ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِمْ قَالَ فَانْطَلَقَ بِنَا فَأَرَانَا آثَارَهُمْ وَآثَارَ نِيرَانِهِمْ قَالَ وَقَالَ الشَّعْبِيُّ سَأَلُوهُ الزَّادَ قَالَ ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ قَالَ عَامِرٌ فَسَأَلُوهُ لَيْلَتَئِذٍ الزَّادَ وَكَانُوا مِنْ جِنِّ الْجَزِيرَةِ فَقَالَ كُلُّ عَظْمٍ ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ يَقَعُ فِي أَيْدِيكُمْ أَوْفَرَ مَا كَانَ عَلَيْهِ لَحْمًا وَكُلُّ بَعْرَةٍ أَوْ رَوْثَةٍ عَلَفٌ لِدَوَابِّكُمْ فَلَا تَسْتَنْجُوا بِهِمَا فَإِنَّهُمَا زَادُ إِخْوَانِكُمْ مِنَ الْجِنِّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ علقمہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا جنّوں والی رات کو تم میں سے کوئی آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا؟ انھوں نے کہا: ہم میں سے کوئی بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نہیں تھا، ہوا یوں کہ ہم نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گم پایا، ہم نے کہا: کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مخفی انداز میں قتل کر دیا گیا ہے؟ کیاآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کہیں لے جایا گیا ہے؟ آخر ہوا کیا ہے؟ ہم نے انتہائی بدترین رات گزاری، جب صبح سے پہلے کا یا سحری کا وقت تھا تو ہم نے اچانک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غارِ حراء کی طرف سے آتے ہوئے دیکھا، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! پھر ہم نے ساری بات بتلائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنّوں کا داعی میرے پاس آیا، اس لیے میں ان کے پاس چلا گیا اور ان پرقرآن مجید کی تلاوت کی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں لے کر گئے اور ان کے اور ان کی آگ کے نشانات دکھائے۔ وہ جزیرۂ عرب کے جنّوں میں سے تھے اور انھوں نے اس رات کو اپنے زاد کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر خوب گوشت دار ہڈی، جس پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا گیا ہو، تمہارے ہاتھ لگے (وہ تمہارا زاد ہے) اور ہر مینگنی اور لید تمہارے چوپائیوں کا چارہ ہے، پس تم لوگ ان دو چیزوں سے استنجا نہ کیا کرو، کیونکہ یہ چیزیں تمہارے جن بھائیوں کا زاد ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … ہر خوب گوشت دار ہڈی، اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پھر اس ہڈی پر گوشت پیدا کر دیتا ہے، جو جنات کھاتے ہیں، باقی مینگنی اور لید کو مطلق طور پر جنوں کے چوپائیوں کی خوراک قرار دیا گیا۔
صحیح بخاری میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی روایت میں ہے، وہ کہتے ہیں: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قضائے حاجت سے فارغ ہوئے تو میں نے کہا: ہڈی اور لید سے استنجا نہ کرنے کی کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((ھُمَا مِنْ طَعَامِ الْجِنِّ وَاَنَّہٗقَدْاَتَانِیْ وَفْدُ جِنِّ نَصِیْبَیْن، وَنِعْمَ الْجِنُّ، فَسَاَلُوْنِیَ الزَّادَ، فَدَعَوْتُ اللّٰہَ لَھُمْ اَنْ لَّا یَمُرُّوْا بِعَظْمٍ وَلَا بِرَوْثَۃٍ اِلَّا وَجَدُوْا عَلَیْھَا طَعَامًا۔)) … یہ دو چیزیں جنوں کے کھانے سے ہیں، میرے پاس نصیبین کے جنوں کا وفد آیا تھا، یہ بہترین جن تھے، اور انھوں نے مجھ سے زاد کے بارے میں سوال کیا، پس میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ یہ جس ہڈی اور لید کے پاس سے گزریں، اس پر کھانا پائیں۔
ان روایات سے معلوم ہوا کہ ہڈی، لید اور مینگنی،یہ چیزیں جنوں اور ان کے چوپائیوں کی خوراک نہیں ہیں، بلکہ ان کے اوپر ان کی خوراک پڑی ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ اس خوراک کی کیا شکل ہوتی ہے اور وہ اِن چیزوں سے کیسے مستفید ہوتے ہیں، ایک عالم کہا کرتے تھے کہ جن لطیف مخلوق ہیں، وہ ان چیزوں کو سونگ کر ان سے خوراک حاصل کرتے ہیں۔ واللہ اعلم۔
صحیح بخاری میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی روایت میں ہے، وہ کہتے ہیں: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قضائے حاجت سے فارغ ہوئے تو میں نے کہا: ہڈی اور لید سے استنجا نہ کرنے کی کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((ھُمَا مِنْ طَعَامِ الْجِنِّ وَاَنَّہٗقَدْاَتَانِیْ وَفْدُ جِنِّ نَصِیْبَیْن، وَنِعْمَ الْجِنُّ، فَسَاَلُوْنِیَ الزَّادَ، فَدَعَوْتُ اللّٰہَ لَھُمْ اَنْ لَّا یَمُرُّوْا بِعَظْمٍ وَلَا بِرَوْثَۃٍ اِلَّا وَجَدُوْا عَلَیْھَا طَعَامًا۔)) … یہ دو چیزیں جنوں کے کھانے سے ہیں، میرے پاس نصیبین کے جنوں کا وفد آیا تھا، یہ بہترین جن تھے، اور انھوں نے مجھ سے زاد کے بارے میں سوال کیا، پس میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ یہ جس ہڈی اور لید کے پاس سے گزریں، اس پر کھانا پائیں۔
ان روایات سے معلوم ہوا کہ ہڈی، لید اور مینگنی،یہ چیزیں جنوں اور ان کے چوپائیوں کی خوراک نہیں ہیں، بلکہ ان کے اوپر ان کی خوراک پڑی ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ اس خوراک کی کیا شکل ہوتی ہے اور وہ اِن چیزوں سے کیسے مستفید ہوتے ہیں، ایک عالم کہا کرتے تھے کہ جن لطیف مخلوق ہیں، وہ ان چیزوں کو سونگ کر ان سے خوراک حاصل کرتے ہیں۔ واللہ اعلم۔
حدیث نمبر: 10287
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ وَفْدِ الْجِنِّ فَلَمَّا انْصَرَفَ تَنَفَّسَ فَقُلْتُ مَا شَأْنُكَ فَقَالَ نُعِيَتْ إِلَيَّ نَفْسِي يَا ابْنَ مَسْعُودٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،وہ کہتے ہیں: میں جنوں کے وفد والی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس پلٹے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لمبا سانس لیا، میں نے کہا: آپ کوکیا ہو گیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابن مسعود! میرے نفس کو موت کی اطلاع دی جا رہی ہے۔
حدیث نمبر: 10288
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ خَطَّ حَوْلَهُ يَعْنِي حَوْلَ ابْنِ مَسْعُودٍ فَكَانَ يَجِيءُ أَحَدُهُمْ مِثْلُ سَوَادِ النَّخْلِ وَقَالَ لِي لَا تَبْرَحْ مَكَانَكَ فَأَقْرَأَهُمْ كِتَابَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَلَمَّا رَأَى الزُّطَّ قَالَ كَأَنَّهُمْ هَؤُلَاءِ وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَعَكَ مَاءٌ قُلْتُ لَا قَالَ أَمَعَكَ نَبِيذٌ قُلْتُ نَعَمْ فَتَوَضَّأَ بِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبدا للہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنوں والی رات اس کے ارد گرد خط لگایا، جن کھجور کے سائے کی طرح اس کے پاس آتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے سے فرمایا: تم نے اپنی جگہ پر رہنا ہے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اللہ تعالیٰ کی کتاب پڑھائی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زُط نسل دیکھی تو فرمایا: گویا کہ یہ وہی ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: تمہارے پاس پانی ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے پاس نبیذ ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نبیذ سے وضو کیا۔
وضاحت:
فوائد: … سوڈان اور ہند کی ایک جنس کانام زُط ہے۔نبیذ سے وضو کرنا صحیح نہیں ہے، کیونکہیہ مائے مطلق نہیں ہے۔ یہ روایت ضعیف ہے۔
حدیث نمبر: 10289
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ بِتُّ اللَّيْلَةَ أَقْرَأُ عَلَى الْجِنِّ رُفَقَاءَ بِالْحَجُونِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اس طرح رات گزاری کہ حجون میں جنوں کی جماعت پر قرآن مجید کی تلاوت کی۔
حدیث نمبر: 10290
حَدَّثَنَا عَارِمٌ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ قَالَ قَالَ أَبِي حَدَّثَنِي أَبُو تَمِيمَةَ عَنْ عَمْرٍو لَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ قَدْ قَالَ الْبِكَالِيُّ يُحَدِّثُهُ عَمْرٌو عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ عَمْرٌو إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ قَالَ اسْتَبْعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْتُ مَكَانَ كَذَا وَكَذَا فَخَطَّ لِي خِطَّةً فَقَالَ لِي كُنْ بَيْنَ ظَهْرَيْ هَذِهِ لَا تَخْرُجْ مِنْهَا فَإِنَّكَ إِنْ خَرَجْتَ هَلَكْتَ قَالَ فَكُنْتُ فِيهَا قَالَ فَمَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَذَفَةً أَوْ أَبْعَدَ شَيْئًا أَوْ كَمَا قَالَ ثُمَّ إِنَّهُ ذَكَرَ هَنِينًا كَأَنَّهُمُ الزُّطُّ قَالَ عَفَّانُ أَوْ كَمَا قَالَ عَفَّانُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَيْسَ عَلَيْهِمْ ثِيَابٌ وَلَا أَرَى سَوْآتِهِمْ طِوَالًا قَلِيلٌ لَحْمُهُمْ قَالَ فَأَتَوْا فَجَعَلُوا يَرْكَبُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَجَعَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ عَلَيْهِمْ قَالَ وَجَعَلُوا يَأْتُونَنِي فَيُخَيِّلُونَ حَوْلِي وَيَعْتَرِضُونَ لِي قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَأُرْعِبْتُ مِنْهُمْ رُعْبًا شَدِيدًا قَالَ فَجَلَسْتُ أَوْ كَمَا قَالَ قَالَ فَلَمَّا انْشَقَّ عَمُودُ الصُّبْحِ جَعَلُوا يَذْهَبُونَ أَوْ كَمَا قَالَ قَالَ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَاءَ ثَقِيلًا وَجِعًا أَوْ يَكَادُ أَنْ يَكُونَ وَجِعًا مِمَّا رَكِبُوهُ قَالَ إِنِّي لَأَجِدُنِي ثَقِيلًا أَوْ كَمَا قَالَ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ فِي حِجْرِي أَوْ كَمَا قَالَ ثُمَّ إِنَّ هُنَيًّا أَتَوْا عَلَيْهِمْ ثِيَابٌ بِيضٌ طِوَالٌ أَوْ كَمَا قَالَ وَقَدْ أَغْفَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَأُرْعِبْتُ أَشَدَّ مِمَّا أُرْعِبْتُ الْمَرَّةَ الْأُولَى قَالَ عَارِمٌ فِي حَدِيثِهِ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ لَقَدْ أُعْطِيَ هَذَا الْعَبْدُ خَيْرًا أَوْ كَمَا قَالُوا إِنَّ عَيْنَيْهِ نَائِمَتَانِ أَوْ قَالَ عَيْنُهُ أَوْ كَمَا قَالُوا وَقَلْبُهُ يَقْظَانُ ثُمَّ قَالَ قَالَ عَارِمٌ وَعَفَّانُ قَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ هَلُمَّ فَلْنَضْرِبْ بِهِ مَثَلًا أَوْ كَمَا قَالُوا قَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ اضْرِبُوا لَهُ مَثَلًا وَنُؤَوِّلُ نَحْنُ أَوْ نَضْرِبُ نَحْنُ وَتُؤَوِّلُونَ أَنْتُمْ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ مَثَلُهُ كَمَثَلِ سَيِّدٍ ابْتَنَى بُنْيَانًا حَصِينًا ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى النَّاسِ بِطَعَامٍ أَوْ كَمَا قَالَ فَمَنْ لَمْ يَأْتِ طَعَامَهُ أَوْ قَالَ لَمْ يَتْبَعْهُ عَذَّبَهُ عَذَابًا شَدِيدًا أَوْ كَمَا قَالُوا قَالَ الْآخَرُونَ أَمَّا السَّيِّدُ فَهُوَ رَبُّ الْعَالَمِينَ وَأَمَّا الْبُنْيَانُ فَهُوَ الْإِسْلَامُ وَالطَّعَامُ الْجَنَّةُ وَهُوَ الدَّاعِي فَمَنِ اتَّبَعَهُ كَانَ فِي الْجَنَّةِ قَالَ عَارِمٌ فِي حَدِيثِهِ أَوْ كَمَا قَالُوا وَمَنْ لَمْ يَتْبَعْهُ عُذِّبَ أَوْ كَمَا قَالَ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اسْتَيْقَظَ فَقَالَ مَا رَأَيْتَ يَا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ رَأَيْتُ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا خَفِيَ عَلَيَّ مِمَّا قَالُوا شَيْءٌ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هُمْ نَفَرٌ مِنَ الْمَلَائِكَةِ أَوْ قَالَ هُمْ مِنَ الْمَلَائِكَةِ أَوْ كَمَا شَاءَ اللَّهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے بھی ساتھ چلنے کاتقاضا کیا، پس ہم چل پڑے، جب میں فلاں مقام پر پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے لیے لکیر لگائی اور مجھے فرمایا: تو اس کے درمیان بیٹھ جا، تو نے اس سے باہر نہیں نکلنا، وگرنہ ہلاک ہو جائے گا۔پس میں اسی میں بیٹھا رہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک کنکری کی پھینک پر یا اس سے کچھ زیادہ آگے چلے گئے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان جنوں کا ذکر کیا تو ایسے لگ رہا تھا کہ وہ زُط ہیں، ایک راوی کہتا ہے: اگر اللہ نے چاہا تو (ان کے بارے میں میرایہ بیان درست ہو گا کہ) ان پر کپڑے نہیں تھے، لیکن ان کی شرمگاہیں بھی نظر نہ آئیں، وہ دراز قد اور کم گوشت تھے، پس وہ آپ پر سوار ہونا شروع ہوگئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان پر قرآن مجید کی تلاوت کرتے رہے، وہ جن میرے پاس بھی آتے، دل میںمختلف خیال ڈالتے اور میرے سامنے پیش آتے، میں ان سے بڑا خوفزدہ ہو گیا، پس میں بیٹھ گیا، جب صبح کی روشنی پھوٹنے لگی تو وہ چلے جانے لگے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے، آپ بہت تھکے ہوئے اور تکلیف میں تھے، یایوں کہیے کہ قریب تھا کہ آپ کوتکلیف شروع ہو جاتی،یہ سارا کچھ ان کے سوار ہونے کی وجہ سے تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اپنے آپ کو تھکا ہوا پاتا ہوں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر مبارک میری گودی میں رکھا، پھر کچھ افراد آ گئے، انھوں نے سفید کپڑے زیب ِ تن کیے ہوئے تھے اور دراز قد تھے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سو گئے تھے، میں پہلے کی بہ نسبت زیادہ گھبرا گیا تھا، ان میں سے بعض نے بعض سے کہا: اس بندے یعنیآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خیر عطا کی گئی ہے، اس کی آنکھیں سوتی ہیں اور دل بیدار رہتا ہے، آؤ اس کی ایک مثال بیان کرتے ہیں اور پھر اس کی تاویل کرتے ہیں،یا ان میں سے بعض نے کہا: ہم مثال بیان کرتے ہیں اور تم اس کی تاویل کرو گے، پھر بعض نے بعض سے کہا: اس کی مثال اس سردار کی مثال کی طرح ہے،جس نے قلعہ تعمیر کیا اور پھر لوگوں کو کھانے کے لیے بلا بھیجا، جو کھانے کے لیے نہ آیا،یا اس کی بات نہ مانی، اس نے اس کو سخت سزا دی، دوسروں نے تاویل کرتے ہوئے کہا: سردار سے مراد ربّ العالمین، قلعہ سے مراد اسلام اور کھانے سے مراد جنت ہے اور داعی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود ہیں، جس نے آپ کی پیروی کی، وہ جنت میں ہو گا اور جس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت نہ کی،اس کو عذاب دیا جائے گا۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہو گئے اور پوچھا: اے ابن ام عبد تو نے کیا کچھ دیکھا ہے؟ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے یہ کچھ دیکھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کچھ انھوں نے کہا، اس میں سے کوئی چیز مجھ پر مخفی نہیں ہے، یہ فرشتوں کا ایک گروہ تھا۔
حدیث نمبر: 10291
عَنْ صَفْوَانَ بْنِ الْمُعَطَّلِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجْنَا حُجَّاجًا فَلَمَّا كُنَّا بِالْعَرْجِ إِذَا نَحْنُ بِحَيَّةٍ تَضْطَرِبُ فَلَمْ تَلْبَثْ أَنْ مَاتَتْ فَأَخْرَجَ لَهَا رَجُلٌ خَرْقَةً مِنْ عَيْبَتِهِ فَلَفَّهَا فِيهَا وَدَفَنَهَا وَخَدَّ لَهَا فِي الْأَرْضِ فَلَمَّا أَتَيْنَا مَكَّةَ فَإِنَّا لَبِالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِذَا وَقَفَ عَلَيْنَا شَخْصٌ فَقَالَ أَيُّكُمْ صَاحِبُ عَمْرِو بْنِ جَابِرٍ قُلْنَا مَا نَعْرِفُهُ قَالَ أَيُّكُمْ صَاحِبُ الْجَانِّ قَالُوا هَذَا قَالَ إِمَّا أَنَّهُ جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا إِمَّا أَنَّهُ قَدْ كَانَ مِنْ آخِرِ التِّسْعَةِ مَوْتًا الَّذِينَ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْتَمِعُونَ الْقُرْآنَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ صفوان بن معطل سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ادائیگی ٔ حج کے لیے روانہ ہوئے، جب ہم عرج مقام پر تھے تو ہم نے دیکھا کہ ایک سانپ کپکپا رہا تھا اور پھر جلد ہی وہ مر گیا، ایک آدمی نے اپنے تھیلے سے ایک چیتھڑا نکالا، سانپ کواس میں لپیٹا اور زمین میں گڑا کھود کر اس کو دفن کر دیا، جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے اور مسجد حرام میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی ہمارے پاس کھڑا ہوا اور اس نے کہا: تم میں عمرو بن جابر کا ساتھی کون ہے؟ ہم نے کہا: جی ہم تو اس کو نہیں جانتے، اس نے کہا: تم میں جنّوں والا کون ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ ہے، اس نے کہا: اللہ تعالیٰ تجھے جزائے خیر دے، یہ جن ان نو جنوں میں سب سے آخر میں مرا ہے، جو قرآن مجید سننے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے تھے۔