حدیث نمبر: 10272
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خُلِقَتِ الْمَلَائِكَةُ مِنْ نُورٍ وَخُلِقَتِ الْجَانُّ مِنْ مَارِجٍ مِنْ نَارٍ وَخُلِقَ آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ مِمَّا وُصِفَ لَكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فرشتوں کو نور سے اور جنوں کو آگ کے دہکتے ہوئے شعلے سے پیدا کیا اور آدم علیہ السلام کو اس چیز سے پیدا کیا، جس کو تمہارے لیے واضح کیا جا چکا ہے (یعنی مٹی سے پیدا کیا گیا)۔
حدیث نمبر: 10273
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ إِبْلِيسَ يَضَعُ عَرْشَهُ عَلَى الْمَاءِ (وَفِي رِوَايَةٍ فِي الْبَحْرِ) ثُمَّ يَبْعَثُ سَرَايَاهُ فَأَدْنَاهُمْ مِنْهُ مَنْزِلَةً أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً يَجِيءُ أَحَدُهُمْ فَيَقُولُ فَعَلْتُ كَذَا وَكَذَا فَيَقُولُ مَا صَنَعْتَ شَيْئًا قَالَ وَيَجِيءُ أَحَدُهُمْ فَيَقُولُ مَا تَرَكْتُهُ حَتَّى فَرَّقْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَهْلِهِ قَالَ فَيُدْنِيهِ مِنْهُ (أَوْ قَالَ فَيَلْتَزِمُهُ) وَيَقُولُ نِعْمَ أَنْتَ قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ مَرَّةً فَيُدْنِيهِ مِنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک ابلیس اپنا تخت پانییا سمندر پر رکھتا ہے اور پھر اپنے لشکروں کو بھیجتا ہے، ان میں مرتبے کے اعتبار سے اس کا سب سے زیادہ قریبی وہ ہوتا ہے،جو سب سے بڑا فتنہ برپا کرتا ہے، ایک آ کر کہتا ہے: میں نے یہیہ کاروائی کی ہے، لیکن ابلیس کہتا ہے: تو نے تو کچھ نہیں کیا، ایک آکر کہتا ہے: میں نے اس کو اس وقت تک نہیں چھوڑا، جب تک اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی نہیں ڈال دی، پس ابلیس اس کو اپنے قریب کرتا ہے اور اس کو گلے لگا لیتا ہے اور کہتا ہے: کیا خوب ہے تو (تو نے تو کمال کر دیا ہے)۔
وضاحت:
فوائد: … ابلیس کی فکر یہ ہے کہ زمین میں شرّ و معصیت عام ہو جائے، وہ اس مقصد کے لیے ہر وقت کوشاں ہے۔
حدیث نمبر: 10274
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِابْنِ صَائِدٍ مَا تَرَى قَالَ أَرَى عَرْشًا عَلَى الْبَحْرِ حَوْلَهُ الْحَيَّاتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَرَى عَرْشَ إِبْلِيسَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابن صائد سے فرمایا: تو کیا کچھ دیکھتا ہے؟اس نے کہا: میں سمندر پر ایک تخت دیکھتا ہوں، اس کے ارد گرد سانپ ہوتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تو ابلیس کا تخت دیکھتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس موضوع کی درج ذیل روایت صحیح ہے: سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: لَقِیَہُ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وَأَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ فِی بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِینَۃِ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((أَتَشْہَدُ أَنِّی رَسُولُ اللّٰہِ؟)) فَقَالَ ہُوَ: أَتَشْہَدُ أَنِّی رَسُولُ اللّٰہِ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((آمَنْتُ بِاللّٰہِ وَمَلَائِکَتِہِ وَکُتُبِہٖ،مَاتَرَی؟)) قَالَ: أَرَی عَرْشًا عَلَی الْمَائِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((تَرٰی عَرْشَ إِبْلِیسَ عَلَی الْبَحْرِ، وَمَا تَرٰی؟)) قَالَ: أَرٰی صَادِقَیْنِ وَکَاذِبًا أَوْ کَاذِبَیْنِ وَصَادِقًا فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((لُبِسَ عَلَیْہِ دَعُوہُ۔)) … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما مدینہ منورہ کے کسی راستے میں ابن صیاد کو ملے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ اس نے آگے سے کہا: کیا آپ یہ شہادت دیتے ہیں کہ میں (ابن صیاد) اللہ کا رسول ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تو اللہ تعالی، اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوںپر ایمان لایا ہوں، اچھایہ بتلا کہ تو کیا دیکھتا ہے؟ اس نے کہا: میں پانی پر عرش دیکھتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو تو سمندر پر ابلیس کا عرش دیکھتا ہے، اچھا مزید کیا دیکھتا ہے؟ اس نے کہا: میں دو سچوں اور ایک جھوٹے یا دو جھوٹے اور ایک سچا دیکھتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس پر معاملہ خلط ملط ہو گیا ہے، اس کو چھوڑ دو۔ (صحیح مسلم: ۲۹۲۵)
حدیث نمبر: 10275
عَنْ سَبْرَةَ بْنِ أَبِي فَاكِهٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الشَّيْطَانَ قَعَدَ لِابْنِ آدَمَ بِأَطْرُقِهِ فَقَعَدَ لَهُ بِطَرِيقِ الْإِسْلَامِ فَقَالَ لَهُ أَتُسْلِمُ وَتَذَرُ دِينَكَ وَدِينَ آبَائِكَ وَآبَاءِ أَبِيكَ قَالَ فَعَصَاهُ فَأَسْلَمَ ثُمَّ قَعَدَ لَهُ بِطَرِيقِ الْهِجْرَةِ فَقَالَ أَتُهَاجِرُ وَتَذَرُ أَرْضَكَ وَسَمَاءَكَ وَإِنَّمَا مَثَلُ الْمُهَاجِرِ كَمَثَلِ الْفَرَسِ فِي الطِّوَلِ قَالَ فَعَصَاهُ فَهَاجَرَ قَالَ ثُمَّ قَعَدَ لَهُ بِطَرِيقِ الْجِهَادِ فَقَالَ لَهُ هُوَ جَهْدُ النَّفْسِ وَالْمَالِ فَتُقَاتِلُ فَتُقْتَلُ فَتُنْكَحُ الْمَرْأَةُ وَيُقَسَّمُ الْمَالُ قَالَ فَعَصَاهُ فَجَاهَدَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ مِنْهُمْ فَمَاتَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ قُتِلَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ وَإِنْ غَرِقَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ وَقَصَتْهُ دَابَّتُهُ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سبرہ بن ابی فاکہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک شیطان ابن آدم کے راستوں پر بیٹھ جاتا ہے، پس وہ اسلام کے راستے پر بیٹھتا ہے اور اس کو کہتا ہے: کیا تو مسلمان ہو جائے گا اور اپنا اور اپنے آباء و اجداد کا دین چھوڑ دے گا؟ لیکن وہ اس کی نافرمانی کرکے اسلام قبول کرلیتا ہے، پھر وہ ہجرت کی راہ پر بیٹھ جاتا ہے اور اس کو کہتا ہے: کیا تو ہجرت کر جائے گا اور اپنے آسمان و زمینیعنی اپنے علاقے کو چھوڑ دے گا؟ اور مہاجر کی مثال تو رسی کے ساتھ بندھے ہوئے گھوڑے کی سی ہے، لیکن وہ اس کی نافرمانی کرکے ہجرت کر جاتا ہے، پھر وہ اس کے لیے جہاد کے راستے میں بیٹھ کر اس سے کہتا ہے: اس راہ میںنفس کی مشقت بھی ہے اور مال بھی خرچ ہو جاتا ہے، کیا تو اب قتال کر نے لگا ہے، تجھے تو قتل کر دیا جائے گا اور تیری بیوی سے نکاح کر لیا جائے گا اور تیرے مال کو تقسیم کر دیا جائے گا؟ لیکن وہ اس کی رائے کو ٹھکرا کر جہاد کرتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ اس عمل کے لیے نکل پڑا اور پھر وہ فوت ہو گیا تو اللہ تعالیٰ پر حق ہو گا کہ وہ اس کو جنت میں داخل کرے، یا وہ شہید ہو گیا تو پھر بھی اللہ تعالیٰ پر حق ہو گا کہ وہ اس کو جنت میں داخل کرے، یا وہ پانی میں ڈوب ہو گیا تو پھر اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ وہ اس کو جنت میں داخل کرے، یا جانور نے اس کی گردن توڑ دی تو پھر بھی اللہ تعالیٰ پر حق ہو گا کہ وہ اس کو جنت میں داخل کرے۔
وضاحت:
فوائد: … جب بھی اطاعت کا کام کرتے ہوئے یا برائی کو ترک کرتے ہوئے مسلمان میں اس قسم کا وسوسہ پیدا ہو تو وہ اس کو شیطان کی کوشش کا نتیجہ سمجھے اور اللہ تعالیٰ کی منشا پوری کرے۔
حدیث نمبر: 10276
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ أَيِسَ أَنْ يُعْبَدَ بِأَرْضِكُمْ هَذِهِ وَلَكِنَّهُ قَدْ رَضِيَ مِنْكُمْ بِمَا تَحْقِرُونَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شیطان اس بات سے ناامید ہو چکا ہے کہ تمھاری (جزیزۂ عرب کی) سرزمین میں اس کی عبادت کی جائے، لیکن وہ تم سے ایسے (گناہ کروا کے) راضی ہو جائے گا، جنھیں تم حقیر سمجھتے ہو ۔
حدیث نمبر: 10277
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي حَدِيثِهِ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ أَيِسَ أَنْ يَعْبُدَهُ الْمُصَلُّونَ وَلَكِنْ فِي التَّحْرِيشِ بَيْنَهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک شیطان اس بات سے نا امید ہو چکا ہے کہ جزیرۂ عرب میں نمازی(یعنی مسلمان) اس کی عبادت کریں، لیکن وہ انھیں (لڑائی، جھگڑے اور جنگ و جدل کے) فساد پر آمادہ کرتا رہے گا۔
وضاحت:
فوائد: … بعض شارحین نے کہا: حدیث ِ مبارکہ کا معنی و مفہوم یہ ہے کہ شیطان اس بات سے ناامید ہو چکا ہے کہ جزیرۂ عرب میں کوئی مؤمن مرتد ہو کر بتوں کی پوجا پاٹ کرنا شروع کر دے اور اپنے شرک کی طرف پلٹ جائے۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ مسیلمہ کے اصحاب اور مانعینِزکوۃ وغیرہ مرتد ہو گئے تھے، تو اس کا جواب یہ دیا جائے گا کہ انھوں نے کسی بت کی عبادت نہیں کی تھی۔ لیکن ملا علی قاری نے کہا: اس حدیث سے تو یہ پتہ چلتا ہے کہ شیطان کی دعوت عام ہے، جو کفر کی تمام انواع پر مشتمل ہے اور صرف بتوں کی عبادت کے ساتھ خاص نہیں ہے، زیادہ بہتر یہ ہے کہ اس حدیث کو اس مفہوم پر محمول کیا جائے کہ نمازی لوگ نماز کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ شیطان کی عبادت نہیں کریں گے، جیسا کہ یہودیوں اور عیسائیوں نے کیا تھا۔ (دیکھیں: تحفۃ الاحوذی: ۳/ ۱۲۷)
اس حدیث کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد سے پہلے شیطان جزیرۂ عرب میں غالب تھا اور شرک و بدعت عام تھے، دوبارہ وہ اس طرح کا غلبہ نہیں پا سکے گا۔
اس حدیث کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد سے پہلے شیطان جزیرۂ عرب میں غالب تھا اور شرک و بدعت عام تھے، دوبارہ وہ اس طرح کا غلبہ نہیں پا سکے گا۔
حدیث نمبر: 10278
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تُرْسِلُوا فَوَاشِيَكُمْ وَصِبْيَانَكُمْ إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ حَتَّى تَذْهَبَ فَحْمَةُ الْعِشَاءِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يُبْعَثُ إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ حَتَّى تَذْهَبَ فَحْمَةُ الْعِشَاءِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب سورج غروب ہو جائے تو اپنے مویشیوں اور بچوں کو باہر نہ بھیجا کرو، یہاں تک کہ رات کاابتدائی اندھیرا ختم ہو جائے، کیونکہ غروب آفتاب کے بعد شیطانوں کو بھیجا جاتا ہے، یہاں تک کہ رات کا ابتدائی اندھیرا ختم ہو جاتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس میں بچوں کی روحانی حفاظت کی تلقین کی گئی ہے، جو والدین کی سب سے اہم ذمہ داری ہے، لیکن آج کل ہر باپ کا ہدف عصری تعلیم کا حصول ہے، والدین اور خاندانوں کے سربراہان بچوں کی روحانی تربیت سے غافل ہیں۔ نماز، تلاوت ِ قرآن، ذکر اذکار، سونے اور بیدار ہونے کی دعائیں، کھانے پینے کے آداب اور حسن اخلاق کے سلسلے میں ان کی کوئی نگرانی نہیں کی جاتی۔ ایسے والدین تو عنقا بن چکے ہیں جو کہیں کہ بیٹا! پانی پینے سے پہلے بسم اللہ پڑھو، بیٹھ کر پیو، دائیں ہاتھ سے پیو، تین سانس لو اور برتن کے اندر سانس نہ لو، کیونکہیہ ہمارے پیارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پاکیزہ تعلیمات ہیں۔ بس ہر ایک باپ کییہی تمنا ہے کہ اس کا بچہ تہذیب ِ نو اور جدّت پرستی میں ڈھلا ہوا ہو، جدید علوم و معارف سے آراستہ ہو، اعلی عہدے پر فائز ہو، کم سنی میں ہی انگریزی زبان پر مکمل عبور رکھتا ہو۔ وغیرہ وغیرہ۔
قارئین کرام! آپ کی تمناؤں میں کوئی قباحت نہیں، لیکن اگر یہی خواہشات بچوں کا مقصودِ زندگی بنا دی جائیں تو کسی پہلو میں خیر نہیں رہتی۔
نیزاس حدیث کا اہم تقاضا یہ ہے کہ غروب ِ آفتاب کے وقت بچوں کو گھر میں بحفاظت رکھا جائے، تاکہ وہ شیطانوں کے شرّ سے محفوظ رہ سکیں اور ان کی روح متأثر نہ ہو، لیکن آج کل دیکھایہ گیا ہے کہ اس وقت بچے گلیوں، سڑکوں اور میدانوں میں کھیل رہے ہوتے ہیں، ممکن ہے کہ اس دور کے بچوں میں خیر و بھلائی کے معدوم ہونے کییہی وجہ ہو۔
قارئین کرام! آپ کی تمناؤں میں کوئی قباحت نہیں، لیکن اگر یہی خواہشات بچوں کا مقصودِ زندگی بنا دی جائیں تو کسی پہلو میں خیر نہیں رہتی۔
نیزاس حدیث کا اہم تقاضا یہ ہے کہ غروب ِ آفتاب کے وقت بچوں کو گھر میں بحفاظت رکھا جائے، تاکہ وہ شیطانوں کے شرّ سے محفوظ رہ سکیں اور ان کی روح متأثر نہ ہو، لیکن آج کل دیکھایہ گیا ہے کہ اس وقت بچے گلیوں، سڑکوں اور میدانوں میں کھیل رہے ہوتے ہیں، ممکن ہے کہ اس دور کے بچوں میں خیر و بھلائی کے معدوم ہونے کییہی وجہ ہو۔
حدیث نمبر: 10279
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَتْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِهَا لَيْلًا قَالَتْ فَغِرْتُ عَلَيْهِ قَالَتْ فَجَاءَ فَرَأَى مَا أَصْنَعُ فَقَالَ مَا لَكِ يَا عَائِشَةُ أَغِرْتِ قَالَتْ وَمَا لِي أَنْ لَا يَغَارَ مِثْلِي عَلَى مِثْلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَفَأَخَذَكِ شَيْطَانُكِ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَمَعِيَ شَيْطَانٌ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ وَمَعَ كُلِّ إِنْسَانٍ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ وَمَعَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ وَلَكِنَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَعَانَنِي عَلَيْهِ حَتَّى أَسْلَمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک رات کو اس کے پاس سے نکل گئے، مجھے بڑی غیرت آئی (کہ باری میری ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی کسی بیوی کے پاس چلے گئے ہیں)، اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس تشریف لے آئے اور اس کودیکھا، جو کچھ میں نے کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ!تجھے کیا ہو گیا ہے؟ کیا غیرت آ گئی ہے؟ میں نے کہا: بھلا مجھ جیسی خاتون آپ جیسی شخصیت پر غیرت کیوں نہ کرے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تیرا شیطان تجھ پر مسلط ہو گیا ہے؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میرے ساتھ بھی شیطان ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ میں نے کہا: کیا ہر انسان کے ساتھ شیطان ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول!کیا آپ کے ساتھ بھی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی بالکل، لیکن اللہ تعالیٰ نے میری معاونت کی،یہاں تک کہ وہ مطیع ہو گیا۔
حدیث نمبر: 10280
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ وُكِّلَ بِهِ قَرِينُهُ مِنَ الشَّيْطَانِ قَالُوا وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر آدمی کے ساتھ شیطان سے اس کاساتھی مقرر کیا گیا ہے۔لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اور آپ کے ساتھ بھی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، لیکن اللہ تعالیٰ نے میری مدد کی ہے اور وہ مطیعہو گیا ہے۔
حدیث نمبر: 10281
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ وَفِيهِ وَلَكِنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَلَا يَأْمُرُنِي إِلَّا بِحَقٍّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، پھر اسی طرح کی روایت بیان کی، البتہ اس میں ہے: اور لیکن اللہ تعالیٰ نے میری مدد کی، پس وہ مجھے صرف حق کا حکم دیتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خاصہ تھا۔
حدیث نمبر: 10282
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَلِجُوا عَلَى الْمُغِيبَاتِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنْ أَحَدِكُمْ مَجْرَى الدَّمِ قُلْنَا وَمِنْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَمِنِّي وَلَكِنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ان عورتوں کے پاس نہ جایا کرو، جن کے خاوند موجود نہ ہوں، کیونکہ شیطان تم میں خون کی طرح گردش کرتا ہے۔ ہم لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ شیطان آپ میں بھی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھ میں بھی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ اس کے خلاف میری مدد کی ہے، پس وہ مطیع ہو گیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … شیطان کا خون کی طرح گردش کرنا، اس کو حقیقت پر محمول کیا جائے گا کہ شیطان کو اللہ تعالیٰ نے اتنی طاقت دی ہے کہ وہ انسان کے بدن کے اندر اس طرح گردش کر سکتا ہے، یا ا س سے مراد یہ ہے کہ وہ بہت زیادہ وسوسے ڈالتا ہے اور گمراہ کرنے کے لیے کئی اسباب اور طریقے استعمال کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 10283
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَيَّ الشَّيْطَانُ فَأَخَذْتُهُ فَخَنَقْتُهُ حَتَّى لَأَجِدُ بَرْدَ لِسَانِهِ فِي يَدَيَّ فَقَالَ أَوْجَعْتَنِي أَوْجَعْتَنِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شیطان میرے پاس سے گزرا، میں نے اس کو پکڑ لیا اور اس کا گلا دبایا،یہاں تک کہ مجھے اپنے ہاتھ پر اس کی زبان کی ٹھنڈک محسوس ہوئی، اس نے مجھے کہا: آپ نے مجھے تکلیف دی ہے، آپ نے مجھے تکلیف دی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … لیکن اس مضمون کی درج ذیل روایت پر غور کریں: سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: أنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَامَ فَصَلّٰی صَلَاۃَ الصُّبْحِ وَھُوَ خَلْفَہُ، فَقَرَأ، فَالْتَبَسَتْ عَلَیْہِ الْقِرَائَ ۃُ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِہِ قَالَ: ((لَوْ رَأیْتُمُوْنِیْ وَإبْلِیْسَ فَأھْوَیْتُ بِیَدِیْ، فَمَازِلْتُ أَخْنُقُہُ حَتّٰی وَجَدْتُّ بَرْدَ لُعَابِہِ بَیْنَ إصْبَعَیَّ ھَاتَیْنِ: الإبْھَامَ وَالَّتِیْ تَلِیْھَا، وَلَوْلَا دَعْوَۃُ أخِی سُلَیْمَانَ، لأَصْبَحَ مَرْبُوْطًا بِسَارِیَۃٍ مِنْ سَوَارِی الْمَسْجِدِ یَتَلَاعَبُ بِہِ صِبْیَانُ الْمَدِیْنَۃِ، فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْکُمْ أنْ لَایَحُوْلَ بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْقِبْلَۃِ أحَدٌ فَلْیَفْعَلْ۔)) … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور نماز فجر ادا کی اوروہ (ابو سعید) آپ کے پیچھے تھے، آپ نے قرأت فرمائی توآپ پرقرأت خلط ملط ہونے لگی۔جب آپ نمازسے فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا: کاش کہ تم مجھے اورابلیس کودیکھتے، میں نے اپناہاتھ بڑھایا اور اُس کا گلا گھونٹتا رہا، حتی کہ مجھے انگوٹھے اور اس کے ساتھ والی انگلی کے درمیان اس کے لعاب کی
ٹھنڈک محسوس ہوئی۔ اگر میرے بھائی سلیمان (علیہ السلام) کی دعا نہ ہوتی تو وہ اس حال میں صبح کرتا کہ مسجد کے ستونوں میں سے کسی ستون کے ساتھ بندھا ہوتا اور مدینے کے بچے اُس کے ساتھ کھیل رہے ہوتے۔ تم میں سے جس میں یہ استطاعت ہو کہ (دورانِ نماز) اس کے اور اس کے قبلہ کے مابین کوئی چیز حائل نہ ہو تو وہ ایسا ہی کرے۔ (أحمد: ۳/۸۲، ورواہ ابوداود: ۶۹۹ مختصرا، صحیحۃ:۳۲۵۱)
اگرچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شیطانی حملوں سے مکمل محفوظ تھے، لیکن ابلیس اپنے خبث ِ باطن کا اظہار کرتا رہتا تھا اور نتیجتاً ناکام و نامراد ہو کر واپس لوٹتاتھا۔
سلیمان علیہ السلام نے یہ دعا کی تھی: {وَھَبْ لِیْ مُلْکًا لَایَنْبَغِیْ لِاَحَدٍ مِنْ بَعْدِیْ} (سورۂ ص: ۳۵) … اور (اے اللہ!) مجھے ایسی بادشاہت عطا فرما، جو میرے بعد کسی کے لیے لائق نہ ہو۔
حافظ ابن حجرؒنےکہا: اسحدیث سے اشارہ ملتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلیمان علیہ السلام کی رعایت کرتے ہوئے ابلیس کو چھوڑ دیا تھا، لیکنیہ بھی احتمال ہے سلیمان علیہ السلام کی خصوصیتیہ ہو کہ وہ جو کام چاہتے جنوں سے کروا لیتے تھے۔ (فتح الباری)
ٹھنڈک محسوس ہوئی۔ اگر میرے بھائی سلیمان (علیہ السلام) کی دعا نہ ہوتی تو وہ اس حال میں صبح کرتا کہ مسجد کے ستونوں میں سے کسی ستون کے ساتھ بندھا ہوتا اور مدینے کے بچے اُس کے ساتھ کھیل رہے ہوتے۔ تم میں سے جس میں یہ استطاعت ہو کہ (دورانِ نماز) اس کے اور اس کے قبلہ کے مابین کوئی چیز حائل نہ ہو تو وہ ایسا ہی کرے۔ (أحمد: ۳/۸۲، ورواہ ابوداود: ۶۹۹ مختصرا، صحیحۃ:۳۲۵۱)
اگرچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شیطانی حملوں سے مکمل محفوظ تھے، لیکن ابلیس اپنے خبث ِ باطن کا اظہار کرتا رہتا تھا اور نتیجتاً ناکام و نامراد ہو کر واپس لوٹتاتھا۔
سلیمان علیہ السلام نے یہ دعا کی تھی: {وَھَبْ لِیْ مُلْکًا لَایَنْبَغِیْ لِاَحَدٍ مِنْ بَعْدِیْ} (سورۂ ص: ۳۵) … اور (اے اللہ!) مجھے ایسی بادشاہت عطا فرما، جو میرے بعد کسی کے لیے لائق نہ ہو۔
حافظ ابن حجرؒنےکہا: اسحدیث سے اشارہ ملتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلیمان علیہ السلام کی رعایت کرتے ہوئے ابلیس کو چھوڑ دیا تھا، لیکنیہ بھی احتمال ہے سلیمان علیہ السلام کی خصوصیتیہ ہو کہ وہ جو کام چاہتے جنوں سے کروا لیتے تھے۔ (فتح الباری)
حدیث نمبر: 10284
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي حَدِيثِ الْإِسْرَاءِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَلَمَّا نَزَلْتُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا نَظَرْتُ أَسْفَلَ مِنِّي فَإِذَا بِرَهْجٍ وَدُخَانٍ وَأَصْوَاتٍ فَقُلْتُ مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ قَالَ هَذِهِ الشَّيَاطِينُ تَحُومُ عَلَى أَعْيُنِ بَنِي آدَمَ أَنْ لَا يَتَفَكَّرُوا فِي مَلَكُوتِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَوْلَا ذَلِكَ لَرَأَوُا الْعَجَائِبَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اسراء والی حدیث بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب میں آسمان دنیا کی طرف اترا تو دیکھا کہ میری نچلی طرف غبار، دھواں اور آوازیں تھیں، میں نے کہا: اے جبریل! یہ کیا ہے؟ اس نے کہا: یہ شیطان ہیں، جو بنو آدم کی آنکھوں کے سامنے منڈلا رہے ہیں، تاکہ وہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہیوں میں غور و فکر نہ کر سکیں، اگر یہ نہ ہوتے تو وہ عجیب عجیب چیزیں دیکھتے۔
حدیث نمبر: 10285
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ عِفْرِيتًا مِنَ الْجِنِّ تَفَلَّتَ عَلَيَّ الْبَارِحَةَ لِيَقْطَعَ عَلَيَّ الصَّلَاةَ فَأَمْكَنَنِيَ اللَّهُ مِنْهُ فَدَعَتُّهُ وَأَرَدْتُ أَنْ أَرْبِطَهُ إِلَى جَنْبِ سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حَتَّى تُصْبِحُوا فَتَنْظُرُوا إِلَيْهِ كُلُّكُمْ أَجْمَعُونَ قَالَ فَذَكَرْتُ دَعْوَةَ أَخِي سُلَيْمَانَ {رَبِّ هَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي} [ص: 35] قَالَ فَرَدَّهُ خَاسِئًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک ایک سرکش جن گزشتہ رات میری نماز کو کاٹنے کے لیے اچانک میرے سامنے آیا، لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے قدرت عطا کی اور میں نے اس کودھکا دیا اور میں نے ارادہ کیا کہ اس کو مسجد کے ستون کے ساتھ باندھ دوں، تاکہ جب صبح ہو تو تم سارے افراد اس کو دیکھ سکو، لیکن پھر مجھے اپنے بھائی سلیمان علیہ السلام کی یہ دعا یاد آگئی: اے میرے رب! مجھے ایسی بادشاہت عطا کر کہ میرے بعد وہ کسی کے لیے لائق نہ ہو۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کولوٹا دیا، اس حال میں کہ وہ ناکام تھا۔
وضاحت:
فوائد: … ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۱۰۲۸۳)