کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: فرشتوں کی تخلیق کا بیان
حدیث نمبر: 10257
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خُلِقَتِ الْمَلَائِكَةُ مِنْ نُورٍ وَخُلِقَتِ الْجَانُّ مِنْ مَارِجٍ مِنْ نَارٍ وَخُلِقَ آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ مِمَّا وُصِفَ لَكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فرشتوں کو نور سے اور جنوں کو آگ کے دہکتے ہوئے شعلے سے پیدا کیا اور آدم علیہ السلام کو اس چیز سے پیدا کیا، جس کو تمہارے لیے واضح کیا جا چکا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یعنی آدم علیہ السلام کو مٹی سے پیدا کیا۔ شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: اس حدیث میں درج ذیل حدیث کے باطل ہونے کا اشارہ دیا گیا، جو لوگوں کے ہاں بڑی مشہور ہے: ((اَوَّلُ مَا خَلَقَ اللّٰہُ نُوْرُ نَبِیِّکَیَا جََابِرُ۔)) … اے جابر! اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے تیرے نبی کا نور پیدا کیا۔
کیونکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف فرشتوں کو نور سے پیدا کیا گیا ہے، نہ کہ آدم علیہ السلام اور ان کی اولاد کو۔ آپ متنبہ رہیں اور غافلوں میں سے نہ ہو جائیں۔ (صحیحہ: ۴۵۸)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب خلق العالم / حدیث: 10257
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2904 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8511 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25709»
حدیث نمبر: 10258
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أَرَى مَا لَا تَرَوْنَ وَأَسْمَعُ مَا لَا تَسْمَعُونَ أَطَّتِ السَّمَاءُ وَحَقَّ لَهَا أَنْ تَئِطَّ مَا فِيهَا مَوْضِعُ أَرْبَعِ أَصَابِعَ إِلَّا عَلَيْهِ مَلَكٌ سَاجِدٌ لَوْ عَلِمْتُمْ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا وَلَا تَلَذَّذْتُمْ بِالنِّسَاءِ عَلَى الْفُرُشَاتِ وَلَخَرَجْتُمْ إِلَى الصُّعُدَاتِ تَجْأَرُونَ إِلَى اللَّهِ قَالَ أَبُو ذَرٍّ وَاللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي شَجَرَةٌ تُعْضَدُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک جو میں دیکھتا ہوں وہ تم نہیں دیکھ سکتے اور جو میں سنتا ہوں وہ تم نہیں سن سکتے۔ (سنو!) آسمان چرچراتا ہے اور اسے چرچرانا ہی زیب دیتا ہے، کیونکہ وہاں چار انگلیوں کے بقدر بھی جگہ خالی نہیں ہے، ہر جگہ فرشتے سجدہ ریز ہیں۔ اللہ کی قسم! اگر تمھیں اس کا علم ہو جائے جو میں جانتا ہوں تو تم ہنسنا کم کر دو، رونا زیادہ کر دو، بچھونوں پر اپنی بیویوں سے لذتیں اٹھانا ترک کر دو اور (اللہ کی طرف) گڑگڑاتے ہوئے گھاٹیوں کی طرف نکل جاؤ۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں چاہتا ہوں کہ میں درخت ہوتا، جسے کاٹ دیا جاتا۔
وضاحت:
فوائد: … اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزات کا ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ کی عظمت، نافرمانوں پر انتقامی کاروائیوں اور موت کے وقت کے اور قبر و قیامت کے ہولناک مناظر اور سخت مناقشوں کا جو علم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تھا، کسی امتی کو اس کا اندازہ بھی نہیں ہو سکتا۔ اگر ان حالات و واقعات کو مدنظر رکھا جائے تو مسلمان پر لرزہ طاری ہو جائے اور وہ اپنے حسنِ خاتمہ کے بارے میں سسکیاں بھرنا شروع کر دے۔ شریعت ِ اسلامیہ میں رہبانیت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کی جائے، کثرت سے اس کی عبادت کی جائے۔ اور گناہوں سے اجتناب کیا جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب خلق العالم / حدیث: 10258
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، أخرجه ابن ماجه: 4190 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21516 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21848»
حدیث نمبر: 10259
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ عُرِضَ عَلَيَّ الْأَنْبِيَاءُ فَإِذَا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ رَجُلٌ ضَرْبٌ مِنَ الرِّجَالِ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ فَرَأَيْتُ عِيسَى بْنَ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ وَرَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا صَاحِبُكُمْ يَعْنِي نَفْسَهُ وَرَأَيْتُ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا دِحْيَةُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر انبیاء پیش کیے گئے، موسی علیہ السلام معتدل وجود کے آدمی تھے، وہ شنوء ۃ قبیلے کے لوگوں کی طرح لگتے تھے، میں نے عیسی رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ عروہ بن مسعود کے زیادہ مشابہ لگتے تھے، میں نے ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا، وہ تمہارے اپنے ساتھی سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے، اس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی ذات مراد لے رہے تھے، اور میں نے جبریل علیہ السلام کو دیکھا، وہ دحیہ کے زیادہ مشابہ لگتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … حضرت جبریل علیہ السلام کی اپنی خاص شکل تھی، جب وہ انسانی روپ میں آتے تھے تو دحیہ کے مشابہ لگتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب خلق العالم / حدیث: 10259
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 167 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14589 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14643»
حدیث نمبر: 10260
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلَ وَلَهُ سِتُّ مِائَةِ جَنَاحٍ كُلٌّ مِنْهَا قَدْ سَدَّ الْأُفُقَ يَسْقُطُ مِنْ جَنَاحِهِ مِنَ التَّهَاوِيلِ وَالدُّرِّ وَالْيَاقُوتِ مَا اللَّهُ أَعْلَمُ بِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جبریل علیہ السلام کو ان کی اصلی حالت میں دیکھا، ان کے چھ سو پر تھے، ان میں سے ہر پر نے افق کو پُر کر رکھا تھا، ان کے پروں سے مختلف رنگوں کی چیزیں، موتی اوریاقوت گر رہے تھے، جن کو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب خلق العالم / حدیث: 10260
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف شريك النخعي، وقوله له ست مائة جناح ثابت باسناد صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3748 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3748»
حدیث نمبر: 10261
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ إِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَرَ جِبْرِيلَ فِي صُورَتِهِ إِلَّا مَرَّتَيْنِ (أَمَّا مَرَّةً) فَإِنَّهُ سَأَلَهُ أَنْ يُرِيَهُ نَفْسَهُ فِي صُورَتِهِ فَأَرَاهُ صُورَتَهُ فَسَدَّ الْأُفُقَ (وَأَمَّا الْأُخْرَى) فَإِنَّهُ صَعِدَ مَعَهُ حِينَ صَعِدَ بِهِ وَقَوْلُهُ {وَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَى ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا أَوْحَى} [سورة النجم: 7-10] قَالَ فَلَمَّا أَحَسَّ جِبْرِيلُ رَبَّهُ عَادَ فِي صُورَتِهِ وَسَجَدَ فَقَوْلُهُ {وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَى إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى لَقَدْ رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى} [سورة النجم: 13-18] قَالَ خَلْقَ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جبریل علیہ السلام کو ان کی اصلی شکل میں دو بار دیکھا، ایک بار اس وقت جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے مطالبہ کیا کہ وہ آپ کو اپنی اصلی صورت دکھائے، پس انھوں نے اپنی اصلی شکل دکھائی اور افق کو بھر دیا، دوسری مرتبہ اس وقت جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ساتھ چڑھے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:اور وہ بلند آسمان کے کناروں پر تھا، پھر نزدیک ہوا اور اتر آیا، پس وہ دو کمانوں کے بقدر فاصلہ رہ گیا، بلکہ اس سے بھی کم، پس اس نے اللہ کے بندے کو وحی پہنچائی جو بھی پہنچائی۔ پس جب حضرت جبریل علیہ السلام نے اپنے ربّ کو محسوس کیا تو اپنی اصلی شکل میں آ کر سجدہ کیا، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اسے تو ایک مرتبہ اور بھی دیکھا تھا، سدرۃ المنتہی کے پاس، اسی کے پاس جنۃ الماوی ہے، جب کہ سدرہ کو چھپائے لیتی تھی، وہ چیز جو اس پر چھا رہی تھی، نہ تو نگاہ بہکی نہ حد سے بڑھی،یقینا اس نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیوں میں سے بعض نشانیاں دیکھ لیں۔اس نے کہا: یہ جبریل علیہ السلام کی تخلیق ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب خلق العالم / حدیث: 10261
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة حال اسحاق بن ابي الكھتلة، وللشك في وصله عن ابن مسعود ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:3864 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3864»
حدیث نمبر: 10262
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ جَاءَتْ يَهُودُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا لَهُ مَلَكٌ يَأْتِيهِ بِالْخَبَرِ فَأَخْبِرْنَا مَنْ صَاحِبُكَ قَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالُوا جِبْرِيلُ ذَاكَ الَّذِي يَنْزِلُ بِالْحَرْبِ وَالْقِتَالِ وَالْعَذَابِ عَدُوُّنَا لَوْ قُلْتَ مِيكَائِيلَ الَّذِي يَنْزِلُ بِالرَّحْمَةِ وَالنَّبَاتِ وَالْقَطْرِ لَكَانَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِيلَ} [سورة البقرة: 97] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یہودی لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور انھوں نے کہا: ہر نبی کا ایک فرشتہ ہوتا ہے، جو اس کے پاس خیر لاتا ہے، آپ ہمیں بتائیں کہ آپ کے پاس آنے والا فرشتہ کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ جبریل علیہ السلام ہے۔ انھوں نے کہا: جبریل،یہ تو لڑائی، قتال اور عذاب کے ساتھ نازل ہونے والا ہمارا دشمن فرشتہ ہے، اگر آپ نے میکائیل کا نام لیا ہوتا تو تب بات بنتی، وہ رحمت، انگوری اور بارش کے ساتھ نازل ہوتا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کر دی: {قُلْ مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّہ نَزَّلَہ عَلٰی قَلْبِکَ بِاِذْنِ اللّٰہِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَیَدَیْہِ وَھُدًی وَّبُشْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ } … آپ کہہ دیجئے کہ جو جبریل کا دشمن ہے تو یقینا اس نے آپ کے دل پر پیغام باری تعالیٰ اتارا ہے، جو پیغام ان کے پاس کی کتاب کی تصدیق کرنے والا اور مومنوں کو ہدایت اور خوشخبری دینے والا ہے۔ (سورۂ بقرہ: ۹۷)
وضاحت:
فوائد: … امام طبری رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: اس پر تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ جب یہودیوں نے جبرائیل علیہ السلام کو اپنا دشمن اور میکائیل علیہ السلام کو اپنا دوست بتایا تھا تو اس وقت ان کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی۔
لیکنیہ نہیں ہو سکتا کہ میکائیل سے دوستی ہو اور جبریل سے دشمنی، اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات، فرشتوں اور رسولوں کی دوستییا دشمنی کو ایک قرار دیتے ہوئے اس سے اگلی آیت میں فرمایا: {مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّلّٰہِ وَمَلٰیِکَتِہٖ وَرُسُلِہٖوَجِبْرِیْلَ وَمِیْکٰیلَفَاِنَّ اللّٰہَ عَدُوٌّ لِّلْکٰفِرِیْنَ۔} … جو کوئی اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں اور جبریل اور میکائل کا دشمن ہے تو بے شک اللہ کافروں کا دشمن ہے۔ (سورۂ بقرہ: ۹۸)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب خلق العالم / حدیث: 10262
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه الترمذي: 3117 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2483 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2483»
حدیث نمبر: 10263
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَاحِبَ الصُّورِ فَقَالَ عَنْ يَمِينِهِ جِبْرِيلُ وَعَنْ يَسَارِهِ مِيكَائِيلُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صور پھونکنے والے فرشتے کا ذکر کیا اور فرمایا: اس کی دائیں جانب جبریل علیہ السلام ہے اور بائیں جانب میکائیل علیہ السلام ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب خلق العالم / حدیث: 10263
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف عطية العوفي، أخرجه ابوداود: 3999 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11069 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11085»
حدیث نمبر: 10264
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لِجِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ مَا لِي لَمْ أَرَ مِيكَائِيلَ ضَاحِكًا قَطُّ قَالَ مَا ضَحِكَ مِيكَائِيلُ مُنْذُ خُلِقَتِ النَّارُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جبریل علیہ السلام سے فرمایا: کیا وجہ ہے کہ میں نے میکائیل کو کبھی بھی ہنستے ہوئے نہیں دیکھا؟ انھوں نے کہا: اس وقت سے میکائیل نہیںہنسے، جب سے جہنم کی آگ کو پیدا کیا گیا۔
وضاحت:
فوائد: … میکائیل جہنم کی آگ کی وجہ سے اتنی دہشت میں ہے کہ ان کے چہرے سے مسکرانے اور ہنسنے کے آثار مٹ گئے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب خلق العالم / حدیث: 10264
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، قاله الالباني، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13376 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13376»
حدیث نمبر: 10265
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَصْلِحِي لَنَا الْمَجْلِسَ فَإِنَّهُ يَنْزِلُ مَلَكٌ إِلَى الْأَرْضِ لَمْ يَنْزِلْ إِلَيْهَا قَطُّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: میری بیٹھک کو درست کردے، کیونکہ زمین کی طرف وہ فرشتہ نازل ہونے والا ہے، جو پہلے کبھی نازل نہیں ہوا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب خلق العالم / حدیث: 10265
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لابھام الشيخ من المدينة الذي روي عن ام سلمة، سيّار بن حاتم مختلف فيه ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27536 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27071»
حدیث نمبر: 10266
عَنْ أَبِي الْعَالِيَةَ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ عَمِّ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُولَ أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى وَنَسَبَهُ إِلَى أَبِيهِ قَالَ وَذَكَرَ أَنَّهُ أُسْرِيَ بِهِ وَأَنَّهُ رَأَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ آدَمَ طُوَالًا كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ وَذَكَرَ أَنَّهُ رَأَى عِيسَى مَرْبُوعًا إِلَى الْحُمْرَةِ وَالْبَيَاضِ جَعْدًا وَذَكَرَ أَنَّهُ رَأَى الدَّجَّالَ وَمَالِكًا خَازِنَ النَّارِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو عالیہ کہتے ہیں: تمہارے نبی کے چچا زاد (سیدنا عبد اللہ بن عباس f) نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کسی بندے کے لیےیہ جائز نہیں کہ وہ یہ کہے کہ وہ یونس بن متی سے بہتر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ان کے باپ کی طرف منسوب کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس چیز کا ذکر کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسراء کرایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے موسی علیہ السلام کو دیکھا، وہ گندمی رنگ کے دراز قد آدمی تھے، ایسے لگ رہا تھے، جیسے وہ شنوء ہ قبیلے کے فرد تھے، پھر عیسی علیہ السلام کا ذکر کیا کہ وہ معتدل قد کے تھے، ان کا رنگ سرخی سفیدی مائل تھا، ان کا جسم بھرا ہوا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بتلایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دجال اور جہنم کے داروغے مالک کو دیکھا۔
وضاحت:
فوائد: … جہنم کے داروغے کا نام مالک ہے، اسی مناسبت سے یہ حدیث ذکر کی گئی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب خلق العالم / حدیث: 10266
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3179 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3179»
حدیث نمبر: 10267
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا كَانَ فِي انْقِطَاعٍ مِنَ الدُّنْيَا وَإِقْبَالٍ مِنَ الْآخِرَةِ نَزَلَ إِلَيْهِ مَلَائِكَةٌ مِنَ السَّمَاءِ بِيضُ الْوُجُوهِ كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الشَّمْسُ مَعَهُمْ كَفَنٌ مِنْ أَكْفَانِ الْجَنَّةِ وَحَنُوطٌ مِنْ حَنُوطِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَجْلِسُوا مِنْهُ مَدَّ الْبَصَرِ ثُمَّ يَجِيءُ مَلَكُ الْمَوْتِ عَلَيْهِ السَّلَامُ حَتَّى يَجْلِسَ عِنْدَ رَأْسِهِ فَيَقُولُ أَيَّتُهَا النَّفْسُ الطَّيِّبَةُ اخْرُجِي إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانٍ قَالَ فَتَخْرُجُ تَسِيلُ كَمَا تَسِيلُ الْقَطْرَةُ مِنْ فِي السِّقَاءِ فَيَأْخُذُهَا فَإِذَا أَخَذَهَا لَمْ يَدَعُوهَا فِي يَدِهِ طَرْفَةَ عَيْنٍ حَتَّى يَأْخُذُوهَا فَيَجْعَلُوهَا فِي ذَلِكَ الْكَفَنِ وَفِي ذَلِكَ الْحَنُوطِ وَيَخْرُجُ مِنْهَا كَأَطْيَبِ نَفْحَةِ مِسْكٍ وُجِدَتْ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ قَالَ فَيَصْعَدُونَ بِهَا فَلَا يَمُرُّونَ يَعْنِي بِهَا عَلَى مَلَأٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِلَّا قَالُوا مَا هَذَا الرُّوحُ الطَّيِّبُ فَيَقُولُونَ فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ بِأَحْسَنِ أَسْمَائِهِ الَّتِي كَانُوا يُسَمُّونَهُ بِهَا فِي الدُّنْيَا حَتَّى يَنْتَهُوا بِهَا إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَسْتَفْتِحُونَ لَهُ فَيُفْتَحُ لَهُمْ فَيُشَيِّعُهُ مِنْ كُلِّ سَمَاءٍ مُقَرَّبُوهَا إِلَى السَّمَاءِ الَّتِي تَلِيهَا حَتَّى يُنْتَهَى بِهَا إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ اكْتُبُوا كِتَابَ عَبْدِي فِي عِلِّيِّينَ وَأَعِيدُوهُ إِلَى الْأَرْضِ فَإِنِّي مِنْهَا خَلَقْتُهُمْ وَفِيهَا أُعِيدُهُمْ وَمِنْهَا أُخْرِجُهُمْ تَارَةً أُخْرَى قَالَ فَتُعَادُ رُوحُهُ فِي جَسَدِهِ فَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيُجْلِسَانِهِ فَيَقُولَانِ لَهُ مَنْ رَبُّكَ فَيَقُولُ رَبِّيَ اللَّهُ فَيَقُولَانِ مَا دِينُكَ فَيَقُولُ دِينِيَ الْإِسْلَامُ الْحَدِيثَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک بندہ جب دنیا سے آخرت کی طرف جانے کی حالت میں ہوتا ہے تو اس کی طرف آسمان سے فرشتے نازل ہوتے ہیں، ان کے چہرے سورج کی طرح سفید ہوتے ہیں، ان کے پاس جنت کے کفنوں میں سے ایک کفن اور جنت کی خوشبوؤں میں سے خوشبو ہوتی ہے، وہ تاحد نگاہ اس آدمی کے پاس بیٹھ جاتے ہیں، پھر ملک الموت علیہ السلام آتا ہے اور اس کے سر کے پاس بیٹھ کر کہتا ہے: اے پاکیزہ نفس! نکل اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور خوشنودی کی طرف، پس اس طرح بہہ کر نکلتی ہے، جیسے مشکیزے سے پانی کا قطرہ بہتا ہے، پس وہ اس کو پکڑ لیتا ہے، جب وہ اس کو پکڑتا ہے تو دوسرے فرشتے آنکھ جھپکنے کے بقدر بھی اس کو اس کے ہاتھ میں نہیں رہنے دیتے، وہ خود اس کو پکڑ لیتے ہیں اور اس کفن اور خوشبو میں رکھ دیتے ہیں، اس سے روئے زمین پر پائی جانے والی سب سے بہترین کستوری کے جھونکے کی طرح خوشبو آتی ہے، پس وہ فرشتے اس روح کو لے کر چڑھتے ہیں اور فرشتوں کے جس گروہ کے پاس سے گزرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: یہ پاکیزہ روح کون سی ہے؟ وہ کہتے ہیں: یہ فلاں بن فلاں ہے، وہ اس کو بہترین نام کے ساتھ یاد کرتے ہیں، جس کے ساتھ وہ دنیا میں اس کو موسوم کرتے تھے، یہاں تک کہ وہ اس کو آسمان دنیا تک لے جاتے ہیں اور دروازہ کھولنے کا مطالبہ کرتے ہیں، پس ان کے لیے دروزہ کھول دیا جاتا ہے، ہر آسمان کے مقرب فرشتے اس کو الوداع کرنے کے لیے اگلے آسمان تک اس کے ساتھ چلتے ہیں،یہاں تک کہ اس روح کو ساتویں آسمان تک پہنچا دیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میرے بندے کی کتاب کو علیین میں لکھ دو اور اس کو زمین کی طرف لوٹا دو، کیونکہ میں نے ان کو زمین سے پیدا کیا، اسی میں ان کو لوٹاؤں گا اور اسی سے دوبارہ ان کو نکالوں گا، پس اس کی روح اس کے جسم میں لوٹا دیجاتی ہے، اس کے پس دو فرشتے آتے ہیں اور اس کو بٹھا کر کہتے ہیں: تیرا ربّ کون ہے؟ وہ کہتا ہے: میرا ربّ اللہ ہے، وہ کہتے ہیں: تیرا دین کیا ہے ؟ وہ کہتا ہے: میرا دین اسلام ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ اللہ تعالیٰ کا نظام ہے، مسلمان کو چاہیے کہ وہ نیک بنے تاکہ موت کے وقت رحمت والے فرشتے اس کی روح کو وصول کریں اور اس کا استقبال کریں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب خلق العالم / حدیث: 10267
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح ، أخرجه ابوداود: 3212، 4753، وأخرجه مختصرا النسائي: 4/ 78، وابن ماجه: 1549 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18534 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18733»
حدیث نمبر: 10268
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَجْتَمِعُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ قَالَ فَيَجْتَمِعُونَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ قَالَ فَتَصْعَدُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ وَتَثْبُتُ مَلَائِكَةُ النَّهَارِ قَالَ وَيَجْتَمِعُونَ فِي صَلَاةِ الْعَصْرِ قَالَ فَتَصْعَدُ مَلَائِكَةُ النَّهَارِ وَتَثْبُتُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ قَالَ فَيَسْأَلُهُمْ رَبُّهُمْ كَيْفَ تَرَكْتُمْ عِبَادِي قَالَ فَيَقُولُونَ أَتَيْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ وَتَرَكْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ قَالَ سُلَيْمَانُ يَعْنِي الْأَعْمَشَ أَحَدَ الرُّوَاةِ وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَدْ قَالَ فِيهِ فَاغْفِرْ لَهُمْ يَوْمَ الدِّينِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رات اور دن کے فرشتے نمازِ فجر اور نمازِ عصر میں جمع ہوتے ہیں، جب وہ نماز ِ فجر میں جمع ہوتے ہیں تو رات کے فرشتے چڑھ جاتے ہیں اور دن کے فرشتے ٹھہر جاتے ہیں، پھر جب عصر کی نماز میںجمع ہوتے ہیں تو دن کے فرشتے چڑھ جاتے ہیں اور رات کے فرشتے ٹھہر جاتے ہیں، پس ان کا ربّ ان سے پوچھتا ہے: تم نے میرے بندوں کو کیسے چھوڑا؟ وہ کہتے ہیں: جب ہم ان کے پاس گئے تھے تو وہ نماز پڑھ رہے تھے اور اب جب ہم ان کو چھوڑ کر آئے تو پھر بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے، پس تو ان کو جزا کے دن بخش دینا۔
وضاحت:
فوائد: … کِرَامًا کَاتِبِیْن یعنی نیکیاں اور برائیاں لکھنے والے فرشتے، فجر اور عصر کی نمازوں میں ان کی ڈیوٹیاں تبدیل ہوتی ہیں، ان دونوں نمازوں میں یہ اکٹھے ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے پاس جا کر بندے کی نماز کی شہادت دیتے ہیں، وہ لوگ کتنے بد بخت ہیں، جن کے بارے میں بارگاہِ عالیہ میں یہ شہادت دی جاتی ہو گی کہ وہ نماز سے غیر حاضر تھے اور فلاں فلاں دنیوی کام میں پڑے ہوئے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب خلق العالم / حدیث: 10268
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 555، 7429، 7486، ومسلم: 632، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9151 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9140»
حدیث نمبر: 10269
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ وُكِّلَ بِهِ قَرِينُهُ مِنَ الْجِنِّ وَقَرِينُهُ مِنَ الْمَلَائِكَةِ قَالُوا وَإِيَّاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَإِيَّايَ وَلَكِنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَلَا يَأْمُرُنِي إِلَّا بِحَقٍّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی نہیں ہے، مگر اس کے ساتھ جنوں میں سے ایک ساتھی اور فرشتوں میں سے ایک ساتھی مقرر کیا گیا ہے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اور آپ کے ساتھ بھی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے ساتھ بھی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے میری نصرت کی، پس وہ مجھے صرف حق کا ہی حکم دیتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … فرشتہ نیکی پر آمادہ کرتا ہے اور شیطان برائی پر ابھارتا ہے۔ اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک خصوصیت کا بیان بھی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب خلق العالم / حدیث: 10269
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2814، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3648 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3648»
حدیث نمبر: 10270
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ سَمِعَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَمَّا أَهْبَطَهُ اللَّهُ تَعَالَى إِلَى الْأَرْضِ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ أَيْ رَبِّ {أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ} [سورة البقرة: 30] قَالُوا رَبَّنَا نَحْنُ أَطْوَعُ لَكَ مِنْ بَنِي آدَمَ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى لِلْمَلَائِكَةِ هَلُمُّوا مَلَكَيْنِ مِنَ الْمَلَائِكَةِ حَتَّى يُهْبَطَ بِهِمَا إِلَى الْأَرْضِ فَنَنْظُرُ كَيْفَ يَعْمَلَانِ قَالُوا رَبَّنَا هَارُوتُ وَمَارُوتُ فَأُهْبِطَا إِلَى الْأَرْضِ وَمُثِّلَتْ لَهُمَا الزُّهْرَةُ بِامْرَأَةٍ مِنْ أَحْسَنِ الْبَشَرِ فَجَاءَتْهُمَا فَسَأَلَاهَا نَفْسَهَا فَقَالَتْ لَا وَاللَّهِ حَتَّى تَكَلَّمَا بِهَذِهِ الْكَلِمَةِ مِنَ الْإِشْرَاكِ فَقَالَا وَاللَّهِ لَا نُشْرِكُ بِاللَّهِ أَبَدًا فَذَهَبَتْ عَنْهُمَا ثُمَّ رَجَعَتْ بِصَبِيٍّ تَحْمِلُهُ فَسَأَلَاهَا نَفْسَهَا قَالَتْ لَا وَاللَّهِ حَتَّى تَقْتُلَا هَذَا الصَّبِيَّ فَقَالَا وَاللَّهِ لَا نَقْتُلُهُ أَبَدًا فَذَهَبَتْ ثُمَّ رَجَعَتْ بِقَدَحِ خَمْرٍ تَحْمِلُهُ فَسَأَلَاهَا نَفْسَهَا قَالَتْ لَا وَاللَّهِ حَتَّى تَشْرَبَا هَذَا الْخَمْرَ فَشَرِبَا فَسَكِرَا فَوَقَعَا عَلَيْهَا وَقَتَلَا الصَّبِيَّ فَلَمَّا أَفَاقَا قَالَتِ الْمَرْأَةُ وَاللَّهِ مَا تَرَكْتُمَا شَيْئًا مِمَّا أَبَيْتُمَا عَلَيَّ إِلَّا قَدْ فَعَلْتُمَا حِينَ سَكِرْتُمَا فَخُيِّرَا بَيْنَ عَذَابِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ فَاخْتَارَا عَذَابَ الدُّنْيَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو زمین کی طرف اتارا تو فرشتوں نے کہا: کیا تو اس زمین میں اس کوآباد کرے گا جو اس میں فساد برپا کرے گا اور خون بہائے گا، جبکہ ہم تیری حمد کے ساتھ تیری تعریف کرتے ہیں اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے کہا: بیشک میں وہ کچھ جانتا ہوں، جو تم نہیں جانتے۔ فرشتوں نے کہا: اے ہمارے ربّ! ہم بنو آدم کی بہ نسبت تیری زیادہ اطاعت کرنے والے ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا: تم دو فرشتے پیش کرو، تاکہ ان کو زمین پر اتار کر دیکھا جا سکے کہ وہ کیسے عمل کرتے ہیں، انھوں نے کہا: اے ہمارے ربّ! یہ ہاروت اور ماروت ہیں، پس ان دو فرشتوں کو زمین کی طرف اتارا گیا اور انسانیت میں سے ایک انتہائی خوبصورت عورت کی شبیہ ان کے سامنے پیش کی گئی، انھوں نے اس سے اس کے نفس کا مطالبہ کیا، لیکن اس نے کہا: نہیں،اللہ کی قسم! یہ کام اس وقت تک نہیں ہو سکتا، جب تک تم شرکیہ بات نہیں کرو گے، انھوں نے کہا: اللہ کی قسم ہے، ہم کبھی بھی شرک تو نہیں کریں گے، پس وہ چلی گئی اور ایک بچہ لے کر پھر آگئی، انھوں نے پھر اس سے بدکاری کا مطالبہ کیا، اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! جب تک تم اس بچے کو قتل نہیں کرو گے، انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم اس کو قتل تو نہیں کریں گے، پس وہ چلی گئی اور شراب کا ایک پیالہ لے کر دوبارہ آ گئی، ان فرشتوں نے پھر اس سے اس کے نفس کا سوال کیا، لیکن اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! جب تک تم یہ شراب نہیں پیو گے، پس انھوں نے وہ شراب پی لی، جب اس سے ان کو نشہ آیا تو انھوں نے اس خاتون سے زنا بھی کر لیا اور بچے کو بھی قتل کر دیا، پھر جب ان کو افاقہ ہوا، تو اس عورت نے کہا: اللہ کی قسم ہے، جس جس چیز کا تم نے انکار کیا تھا، نشے کی حالت میں تم نے ان کا ارتکاب کر لیا، پھر اس جرم کی سزا میں ان کو دنیا اور آخرت کے عذاب میں اختیار دیا گیا، پس انھوں نے دنیا کا عذاب پسند کر لیا۔
وضاحت:
فوائد: … بہرحال اللہ تعالیٰ کی حکمتوں کا ادراک نہیں کیا جا سکتا ہے، کسی مخلوق کے بس میں نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے افعال کے اسرار و رموز کو سمجھ سکے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {لَا یُسْـئَـلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَہُمْ یُسْــَــلُوْنَ۔} … اس سے نہیں پوچھا جاتا اس کے متعلق جو وہ کرے اور ان سے پوچھاجاتا ہے۔ (سورۂ انبیائ: ۲۳)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب خلق العالم / حدیث: 10270
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف ومتنه باطل، موسي بن جبير الانصاري المدني لايعرف حاله، زھير بن محمد الخراساني، قال ابو حاتم: محله الصدق وفي حفظه سوئ، والصحيح ان ھذا الحديث لا تصح نسبته الي النبي صلي الله عليه وآله وسلم ، وانما ھو من قصص كعب الاحبار، أخرجه ابن حبان: 6186، والبزار: 2938 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6178 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6178»
حدیث نمبر: 10271
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَوْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً سَيَّاحِينَ فِي الْأَرْضِ فُضُلًا عَنْ كُتَّابِ النَّاسِ فَإِذَا وَجَدُوا قَوْمًا يَذْكُرُونَ اللَّهَ تَنَادَوْا هَلُمُّوا إِلَى بُغْيَتِكُمْ فَيَجِيئُونَ فَيَحُفُّونَ بِهِمْ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَقُولُ اللَّهُ أَيَّ شَيْءٍ تَرَكْتُمْ عِبَادِي يَصْنَعُونَ فَيَقُولُونَ تَرَكْنَاهُمْ يَحْمَدُونَكَ وَيُمَجِّدُونَكَ وَيَذْكُرُونَكَ فَيَقُولُ هَلْ رَأَوْنِي فَيَقُولُونَ لَا فَيَقُولُ فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْنِي فَيَقُولُونَ لَوْ رَأَوْكَ لَكَانُوا أَشَدَّ تَحْمِيدًا وَتَمْجِيدًا وَذِكْرًا فَيَقُولُ فَأَيَّ شَيْءٍ يَطْلُبُونَ فَيَقُولُونَ يَطْلُبُونَ الْجَنَّةَ فَيَقُولُ وَهَلْ رَأَوْهَا فَيَقُولُونَ لَا فَيَقُولُ فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْهَا فَيَقُولُونَ لَوْ رَأَوْهَا كَانُوا أَشَدَّ عَلَيْهَا حِرْصًا وَأَشَدَّ لَهَا طَلَبًا قَالَ فَيَقُولُ وَمِنْ أَيِّ شَيْءٍ يَتَعَوَّذُونَ فَيَقُولُونَ مِنَ النَّارِ فَيَقُولُ وَهَلْ رَأَوْهَا فَيَقُولُونَ لَا قَالَ فَيَقُولُ فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْهَا فَيَقُولُونَ لَوْ رَأَوْهَا كَانُوا أَشَدَّ مِنْهَا هَرَبًا وَأَشَدَّ مِنْهَا خَوْفًا قَالَ فَيَقُولُ إِنِّي أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ قَالَ فَيَقُولُونَ فَإِنَّ فِيهِمْ فُلَانًا الْخَطَّاءَ لَمْ يُرِدْهُمْ إِنَّمَا جَاءَ لِحَاجَةٍ فَيَقُولُ هُمُ الْقَوْمُ لَا يَشْقَى جَلِيسُهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک لوگوں کے اعمال لکھنے والے فرشتوں کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ کے زمین میں چلنے پھرنے والے فرشتے ہوتے ہیں، جب وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہوئے پاتے ہیں تو وہ کہتے ہیں: آؤ اپنے مقصود کی طرف، پس وہ آ جاتے ہیں اور ان لوگوں کو آسمانِ دنیا تک گھیر لیتے ہیں، پھر جب وہ اللہ تعالیٰ کے پاس جاتے ہیں تو وہ ان سے پوچھتا ہے: تم میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑکر آئے؟ وہ کہتے ہیں: ہم ان کو اس حال میں چھوڑ کر آئے کہ وہ تیری تعریف کر رہے تھے، تیری بزرگی بیان کر رہے تھے اور تیرا ذکر کر رہے تھے، وہ کہتا ہے: کیا انھوں نے مجھے دیکھا ہے؟ وہ کہتے ہیں: جی نہیں، وہ کہتا ہے: اگر وہ مجھے دیکھ لیں تو کیسا ہو گا؟ وہ کہتے ہیں: اگر وہ تجھے دیکھ لیں تو کثرت سے تیری تعریف اور بزرگی بیان کریں گے اور زیادہ ذکر کریں گے، وہ کہتا ہے: اچھا یہ بتاؤ کہ وہ کس چیز کا سوال کرتے تھے؟ وہ کہتے ہیں: جی وہ جنت کا سوال کرتے تھے، وہ کہتا ہے: کیا انھوں نے جنت کو دیکھا ہے؟ وہ کہتے ہیں: جی نہیں دیکھا، وہ کہتا ہے: اگر وہ دیکھ لیں تو؟ وہ کہتے ہیں: اگر وہ دیکھ لیں تو ان کی حرص بڑھ جائے گی اور وہ اس کازیادہ مطالبہ کریں گے، وہ کہتا ہے: وہ کس چیز سے پناہ مانگتے تھے؟ وہ کہتے ہیں: جی آگ سے، وہ کہتا ہے: کیا انھوں نے آگ کو دیکھا ہے؟ وہ کہتے ہیں: جی نہیں، وہ کہتا ہے: اگر وہ اس کودیکھ لیں تو؟ وہ کہتے ہیں: اگر وہ آگ کودیکھ لیں تو وہ اس سے دور بھاگنے میں اور اس سے ڈرنے میںزیادہ ہو جائیں گے، پھر اللہ تعالیٰ کہتا ہے: بیشک میں تم کوگواہ بناتا ہوں کہ میں نے ان کو بخش دیا ہے، وہ کہتے ہیں: ان میں فلاں آدمی تو خطاکار تھا، اس کاارادہ ان کے ساتھ بیٹھنا نہیں تھا، وہ تو اپنے کسی کام کی غرض سے آیا تھا، وہ کہتا ہے: یہ (ایک جگہ پر بیٹھنے والے) وہ لوگ ہیں، ان کے ساتھ بیٹھنے والا بدبخت نہیں ہو سکتا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ رحمت کے فرشتے زمین میں گشت کر کے ذکر والی مجالس کو تلاش کرتے ہیں،یہ فرشتے ان کے علاوہ ہیں، جو نیکیاں اور برائیاں لکھتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب خلق العالم / حدیث: 10271
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه الترمذي: 3600 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7424 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7418»