کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: توحید پرست بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بیان کے ابواب
حدیث نمبر: 10187
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَتَبَ كِتَابًا بِيَدِهِ لِنَفْسِهِ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فَوَضَعَهُ تَحْتَ عَرْشِهِ فِيهِ رَحْمَتِي سَبَقَتْ غَضَبِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تخلیق سے قبل اپنے ہاتھ سے اپنے نفس کے لیے ایک کتاب لکھی اور اس کو اپنے عرش کے نیچے رکھا، اس میں ہے: میری رحمت میرے غضب پر غالب آ گئی۔
حدیث نمبر: 10188
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا فَرَغَ اللَّهُ مِنَ الْخَلْقِ كَتَبَ عَلَى عَرْشِهِ رَحْمَتِي سَبَقَتْ غَضَبِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ مخلوق سے فارغ ہوا تو اس نے اپنے عرش پر لکھا: میری رحمت میرے غضب سے سبقت لے گئی۔
حدیث نمبر: 10189
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَضَى اللَّهُ الْخَلْقَ كَتَبَ فِي كِتَابِهِ فَهُوَ عِنْدَهُ فَوْقَ الْعَرْشِ إِنَّ رَحْمَتِي سَبَقَتْ غَضَبِي وَفِي لَفْظٍ غَلَبَتْ غَضَبِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (تیسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کامعاملہ مکمل کیا، تو اپنی کتاب میں لکھا: بیشک میری رحمت میرے غضب پر غالب آ گئی، وہ کتاب عرش پر اس کے پاس ہے۔
حدیث نمبر: 10190
وَمِنْ طَرِيقٍ رَابِعٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ الْخَلْقَ كَتَبَ بِيَدِهِ عَلَى نَفْسِهِ إِنَّ رَحْمَتِي غَلَبَتْ غَضَبِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (چوتھی سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا تو اپنے ہاتھ سے اپنے نفس پر لکھا: بیشک میری رحمت میرے غضب پر غالب آ گئی۔
وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالیٰ کے غضب کی بہ نسبت اس کی رحمت وسیع ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {عَذَابِیْٓ اُصِیْبُ بِہٖمَنْاَشَآئُوَرَحْمَتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْْئٍ فَسَاَکْتُبُھَا لِلَّذِیْنَیَتَّقُوْنَ وَیُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَالَّذِیْنَ ھُمْ بِاٰیٰتِنَایُؤْمِنُوْن۔} … میرا عذاب، میں اسے پہنچاتا ہوں جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت نے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے، سو میں اسے ان لوگوں کے لیے ضرور لکھ دوں گا جو ڈرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور (ان کے لیے) جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں۔ (سورۂ اعراف: ۱۵۶)
حدیث نمبر: 10191
حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِائَةُ رَحْمَةٍ وَإِنَّهُ قَسَمَ رَحْمَةً وَاحِدَةً بَيْنَ أَهْلِ الْأَرْضِ فَوَسِعَتْهُمْ إِلَى آجَالِهِمْ وَذَخَرَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ رَحْمَةً لِأَوْلِيَائِهِ وَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَابِضٌ تِلْكَ الرَّحْمَةَ الَّتِي قَسَمَهَا بَيْنَ أَهْلِ الْأَرْضِ إِلَى التِّسْعَةِ وَالتِّسْعِينَ فَيُكَمِّلُهَا مِائَةَ رَحْمَةٍ لِأَوْلِيَائِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ مُحَمَّدٌ فِي حَدِيثِهِ وَحَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ وَخِلَاسٌ كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُ ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ حسن بصری کہتے ہیں: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی سو رحمتیں ہیں، اس نے ایک رحمت کو اہل زمین کے مابین تقسیم کیا، وہ ان کے لیے ان کی موتوں تک پوری ہو گئی، اور ننانوے رحمتوں کو اپنے اولیاء کے لیے ذخیرہ کر رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ نے جس رحمت کو زمین والوںمیں تقسیم کیا ہے، وہ قیامت کے دن اس کو بھی واپس کر کے ننانوے کے ساتھ ملا کر سو پورا کر دے گا۔ محمد بن سیرین اور خلاس نے اس حدیث کو سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا بیان کیا ہے۔
حدیث نمبر: 10192
عَنْ جُنْدُبٍ الْبَجَلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَأَنَاخَ رَاحِلَتَهُ ثُمَّ عَقَلَهَا ثُمَّ صَلَّى خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَى رَاحِلَتَهُ فَأَطْلَقَ عِقَالَهَا ثُمَّ رَكِبَهَا ثُمَّ نَادَى اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا وَلَا تُشْرِكْ فِي رَحْمَتِنَا أَحَدًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَقُولُونَ هَذَا أَضَلُّ أَمْ بَعِيرُهُ أَلَمْ تَسْمَعُوا مَا قَالَ قَالُوا بَلَى قَالَ لَقَدْ حَظَرْتَ رَحْمَةُ اللَّهِ وَاسِعَةٌ إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ مِائَةَ رَحْمَةٍ فَأَنْزَلَ اللَّهُ رَحْمَةً وَاحِدَةً يَتَعَاطَفُ بِهَا الْخَلَائِقُ جِنُّهَا وَإِنْسُهَا وَبَهَائِمُهَا وَعِنْدَهُ تِسْعٌ وَتِسْعُونَ أَتَقُولُونَ هُوَ أَضَلُّ أَمْ بَعِيرُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جندب بجلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک بدّو آیا، اپنے اونٹ کو بٹھا کر اس کے گھٹنے کو باندھا اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا میں نماز پڑھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو وہ اپنے سواری کے پاس آیا، اس کی رسی کھولی اور اس پر سوار ہوا اور کہا: اے اللہ! مجھ پر اور محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) پر رحم فرما اور اپنی رحمت میں کسی اور کو شریک نہ کر، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی یہ دعا سن کر فرمایا: کیا تم یہ کہو گے کہ یہ زیادہ گمراہ ہے یا اس کا اونٹ؟ کیا تم لوگوں نے اس کی کہی ہوئی بات سنی نہیں ہے؟ لوگوں نے کہا: جی کیوں نہیں، سنی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے تنگ کر دیا ہے، اللہ تعالیٰ کی رحمت وسیع چیز ہے، بیشک اللہ تعالیٰ نے سو رحمتیں پیدا کی ہیں، ان میں سے ایک رحمت نازل کی ہے، اسی کی وجہ سے جنوں، انسان اور جانوروں سمیت تمام مخلوقات ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، ننانوے رحمتیں اس کے پاس محفوظ ہیں، اب کیا تم کہو گے کہ وہ خود زیادہ گمراہ ہے یا اس کا اونٹ؟
حدیث نمبر: 10193
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِلَّهِ مِائَةُ رَحْمَةٍ أَنْزَلَ مِنْهَا رَحْمَةً وَاحِدَةً بَيْنَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ وَالْهَوَامِّ فِيهَا يَتَعَاطَفُونَ وَبِهَا يَتَرَاحَمُونَ وَبِهَا تَعْطِفُ الْوَحْشُ عَلَى أَوْلَادِهَا وَأَخَّرَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ يَرْحَمُ بِهَا عِبَادَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی سو رحمتیں ہیں، اس نے ان میں ایک رحمت انسانوں، جنوں اور کیڑوں مکوڑوں کے درمیان نازل کی ہے، اس کی وجہ وہ ایک دوسرے سے محبت اور ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں، اسی کے اثر سے وحشی جانور اپنے بچوں پر مہربانی کرتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے ننانوے رحمتوں کو قیامت کے دن تک مؤخر کر دیا ہے، وہ ان کے ذریعے اپنے بندوں پر رحم کرے گا۔
وضاحت:
فوائد: … تمام مخلوقات میںمحبت کا جو عنصر پایا جاتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی اس ایک رحمت کا اثر ہے۔
حدیث نمبر: 10194
عَنْ سَلْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ مِائَةَ رَحْمَةٍ فَمِنْهَا رَحْمَةٌ يَتَرَاحَمُ بِهَا الْخَلْقُ فِيهَا تَعْطِفُ الْوُحُوشُ عَلَى أَوْلَادِهَا وَأَخَّرَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے سو رحمتیں پیدا کی ہیں، ان میں ایک رحمت کا اثر ہے کہ مخلوقات ایک دوسرے سے محبت رکھتی ہیں، وحشی جانور اسی رحمت کی وجہ سے اپنی اولاد سے شفقت کرتے ہیں اور اس نے ننانوے رحمتیں قیامت کے دن تک مؤخر کر دی ہیں۔
حدیث نمبر: 10195
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ يَعْلَمُ الْمُؤْمِنُ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الْعُقُوبَةِ مَا طَمَعَ فِي الْجَنَّةِ أَحَدٌ وَلَوْ يَعْلَمُ الْكَافِرُ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رَحْمَةٍ مَا قَنَطَ مِنَ الْجَنَّةِ أَحَدٌ خَلَقَ اللَّهُ مِائَةَ رَحْمَةٍ فَوَضَعَ رَحْمَةً وَاحِدَةً بَيْنَ خَلْقِهِ يَتَرَاحَمُونَ بِهَا وَعِنْدَ اللَّهِ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ رَحْمَةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر مؤمن کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کا پتہ چل جائے تو کوئی بھی جنت کی طمع نہیں رکھے گا اور اگر کافر کو اللہ تعالیٰ کی رحمت کا پتہ چل جائے تو کوئی بھی جنت سے ناامید نہیں ہو گا، اللہ تعالیٰ نے کل سو رحمتیں پیدا کی ہیں، ان میں سے ایک رحمت اپنی مخلوق کے اندر نازل کی ہے، اسی کی وجہ سے یہ ایک دوسرے پر رحیم ہے اور ننانوے رحمتیں اللہ تعالیٰ کے پاس ہی ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … مسلمان کو اپنی زندگی میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید بھی کرنی چاہیے، لیکن اس کے عذاب کا ڈر بھی ہونا چاہیے، اس کو خوف اور امید کی زندگی کہتے ہیں، پھر عملی انداز بھی ایسا ہونا چاہیے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید بھی نظر آئے اور اس کے عذاب سے ڈر ستاتا رہے۔