کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: صغیرہ گناہوں کو حقیر سمجھنے سے ترہیب کا بیان
حدیث نمبر: 9841
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((إِيَّاكُمْ وَمُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ فَإِنَّهُنَّ يَجْتَمِعْنَ عَلَى الرَّجُلِ حَتَّى يُهْلِكْنَهُ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ لَهُنَّ مَثَلًا كَمَثَلِ قَوْمٍ نَزَلُوا أَرْضَ فَلَاةٍ فَحَضَرَ صَنِيعُ الْقَوْمِ أَيْ طَعَامُهُمْ فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَنْطَلِقُ فَيَجِيءُ بِالْعُودِ وَالرَّجُلُ يَجِيءُ بِالْعُودِ حَتَّى جَمَعُوا سَوَادًا فَأَجَّجُوا نَارًا وَأَنْضَجُوا مَا قَذَفُوا فِيهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ صغیرہ گناہوں کو حقیر سمجھنے سے ترہیب کا بیان وہ آدمی پر اس قدر جمع ہو جائیں کہ اس کو ہلاک کر دیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان گناہوں کی ایک مثال بیان کی کہ ان کی مثال اس قوم کی طرح ہے جو کسی صحراء میں اترے اور جب ان کے کھانے کا وقت ہوا تو ایک آدمی گیا اور ایک لکڑی لے آیا، دوسرا ایک لکڑی لے آیا،یہاں تک کہ گزارے کے لائق لکڑیاں جمع ہو گئیں، پھر انھوں نے آگ جلائی اور وہ کچھ پکا لیا، جو انھوں نے پکانا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مثال کے ذریعے اپنا مقصود واضح کر دیا ہے کہ پوری زندگی کے معمولی معمولی گناہ جمع ہو کر انسان کی ہلاکت کا سبب بن سکتے ہیں، لہٰذا اللہ تعالیٰ کی ہر قسم کی نافرمانی سے اجتناب کرنا چاہئے۔ مومن و مسلمان کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی معصیت سے گریز کرے، قطع نظر اس سے کہ وہ صغیرہ گناہ ہو یا کبیرہ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9841
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن لغيره، أخرجه الطيالسي: 400، والطبراني في الكبير : 10500 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3818 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3818»
حدیث نمبر: 9842
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((إِيَّاكُمْ وَمُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ كَقَوْمٍ نَزَلُوا فِي بَطْنِ وَادٍ فَجَاءَ ذَا بِعُودٍ وَجَاءَ ذَا بِعُودٍ حَتَّى أَنْضَجُوا خُبْزَتَهُمْ وَإِنَّ مُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ مَتَى يُؤْخَذُ بِهَا صَاحِبُهَا تُهْلِكْهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صغیرہ گناہوں سے گریز کرو۔ (اور ان کو حقیر مت سمجھو، غور فرماؤ کہ) کچھ لوگ ایک وادی میں پڑاؤ ڈالتے ہیں، ایک آدمی ایک لکڑی لاتا ہے اور دوسرا ایک لاتا ہے … (ایک ایک کر کے اتنی لکڑیاں جمع ہو جاتی ہیں کہ) وہ آگ جلا کر روٹیاں وغیرہ پکا لیتے ہیں۔ اسی طرح اگر صغیرہ گناہوں کی بنا پر مؤاخذہ ہوا تو وہ بھی ہلاک کر سکتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9842
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه الطبراني في الكبير : 5872، وفي الاوسط : 7319، و الصغير : 904 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22808 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23194»
حدیث نمبر: 9843
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((يَا عَائِشَةُ إِيَّاكِ وَمُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ فَإِنَّ لَهَا مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ طَالِبًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کرنے سے بچتے رہنا، کیونکہ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے سوال کرنے والا (فرشتہ) ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … مومنانہ تہذیبیہ ہے کہ کسی نیکی کو حقیر سمجھ کر ترک نہ کیا جائے اور کسی برائی کو معمولی تصور کر کے اس کا ارتکاب نہ کیا جائے، کیونکہ پوری زندگی کی معمولی معمولی غفلتیں اور سستیاں انسان کی ہلاکت کا سبب بن سکتی ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9843
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده قوي، أخرجه ابن ماجه: 4243 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24919»
حدیث نمبر: 9844
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّكُمْ لَتَعْمَلُونَ أَعْمَالًا هِيَ أَدَقُّ فِي عَيْنِكُمْ مِنَ الشَّعْرِ كُنَّا نَعُدُّهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمُوبِقَاتِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بلاشبہ تم ایسے اعمال بھی سرانجام دے رہے ہوجو تمہارے نزدیک بال سے بھی زیادہ باریک ہیں(یعنی تم ان کو نہایت معمولی سمجھتے ہو) حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہدِ مبارک میں ہم ان کو ہلاک کردینے والے امور میں شمار کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … موجودہ دور میں لوگوں کی تربیت میں آڑے آنے والی سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ ان کو نیکی اور برائی کی صورتوں کا علم ہی نہیں تاکہ وہ نیکیاں کر سکیں اور برائیوں سے بچ سکیں۔ مثلا بے پردگی، تنگ لباس، موسیقی، تہمت بازی، دو رُخا پن، چغلی و غیبت، مکرو فریب، جھوٹ، تمباکو نوشی، شیو کرنا، مردوں کا شلوار اور تہبند ٹخنوں سے نیچے لٹکانا، داڑھی تراشنا، خط کروانا، چہرے سے بال اکھاڑنا، لمبی لمبی مونچھیں رکھنا، ہمسائیوں کو تنگ کرنا، اپنے آپ کو نیک و برتر سمجھنا اور دوسروں کو گھٹیا و کم تر سمجھنا، بے صبری، قطع رحمی، ناراضگی، حد سے زیادہ گپ شپ، حلال و حرام کی تمیز نہ کرنا، تلاوت سے دوری، عورتوں کا تھریڈنگ کرنا، مصنوعی ناخن لگانا، جوڑے باندھنا، وگ لگانا، سلام کا اہتمام نہ کرنا، تصویریں بنوانا۔ وغیرہ وغیرہ۔ ماحصل یہ ہے کہ ہر مسلمان آخرت کی فکر کرے اور قرآن و حدیث کا مطالعہ کر کے اپنا مقام سمجھے اور اپنی منزل مقرر کرے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9844
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10995 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11008»
حدیث نمبر: 9845
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّكُمْ لَتَعْمَلُونَ أَعْمَالًا فَذَكَرَ مِثْلَ الْأَثَرِ الْمُتَقَدِّمِ بِلَفْظِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بیشک تم لوگ ایسے ایسے کام کرتے ہو، … ۔ پھر سابقہ قول کی طرح کے الفاظ نقل کیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9845
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10995 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12631»
حدیث نمبر: 9846
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ قُرْطٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّكُمْ لَتَعْمَلُونَ الْيَوْمَ أَعْمَالًا فَذَكَرَ مِثْلَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبادہ بن قرط رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: بیشک تم لوگ آج ایسے ایسے افعال کر جاتے ہو کہ … … ۔ پھر سابقہ قول کی طرح بیان کیا۔
وضاحت:
فوائد: … فسق کی دو صورتیں ہیں: کبیرہ گناہ کا ارتکاب کرنااور صغیرہ گناہوں پر اصرار کرنا، اس لیے جہاں کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے گا، وہاں صغیرہ گناہوں سے بچنے کے لیے بھی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9846
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه الطيالسي: 1353 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20752 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21032»