حدیث نمبر: 9834
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ((إِيَّاكُمْ وَالشُّحَّ فَإِنَّ الشُّحَّ أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ أَمَرَهُمْ بِالْقَطِيعَةِ فَقَطَعُوا وَأَمَرَهُمْ بِالْبُخْلِ فَبَخِلُوا وَأَمَرَهُمْ بِالْفُجُورِ فَفَجَرُوا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لالچ سے بچو، بیشک اس لالچ نے تم سے پہلے والے لوگوں کو ہلاک کر دیا، اس نے ان کو قطع رحمی کا حکم دیا، پس انھوں نے قطع رحمی کی، اس نے ان کو بخیلی کا حکم دیا، پس انھوں نے بخیلی کی اور اس نے ان کو برائیوں پر اکسایا، پس انھوں نے برائیاں کیں۔
وضاحت:
فوائد: … کنجوسی، بخل اور حرص جیسے اوصاف انسان کے کمینہ ہونے کے لیے کافی ہیں، بخیل آدمی سنگ دل بن جاتا ہے، دوسروں کی خوشی و غمی سے مستغنی ہو جاتا ہے، اپنے روپے پیسے کو بچانے یا اس کو بڑھانے کے لیے وہ قتل و غارت گری جیسے اقدامات کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے اور شریعت میں گنجائشیں تلاش کر تے کرتے اللہ تعالیٰ کی حدود کو پھلانگنا شروع کر دیتا ہے۔ مال کی شدید محبت کو شُحّ کہتے ہیں۔ جب انسان کے دل میں دنیا اور دنیا کے مال و اسباب کی محبت حد سے تجاوز کر کے شدید ہو جائے تو ایسا انسان حرام اور حلال کے درمیان تمیز بھی نہیں کرتا اور دسرے انسانوں کا خون بہانے سے گریز بھی نہیں کرتا۔ جیسے آج کل ہمارے معاشرے کا حال ہے اور یہ حالت اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ اس معاشرے کی بقا کی کوئی ضمانت نہیں ہے، یہ دیریا سویر ہلاکت سے دو چار ہو کر ہی رہے گا۔
حدیث نمبر: 9835
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((لَا يَجْتَمِعُ شُحٌّ وَإِيمَانٌ فِي قَلْبِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لالچ اور ایمان، دونوں مسلمان آدمی کے دل میں جمع نہیں ہو سکتے۔
وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ مومن کو ہر صورت میں بخل اور کنجوسی سے دور رہنا چاہیے۔
حدیث نمبر: 9836
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّهُ كَانَ مَعَ أَبِي ذَرٍّ فَخَرَجَ عَطَاؤُهُ وَمَعَهُ جَارِيَةٌ لَهُ فَجَعَلَتْ تَقْضِي حَوَائِجَهُ قَالَ فَفَضَلَ مَعَهَا سَبْعَةٌ قَالَ فَأَمَرَهَا أَنْ تَشْتَرِيَ بِهَا فُلُوسًا قَالَ قُلْتُ لَهُ لَوِ ادَّخَرْتَهُ لِلْحَاجَةِ تَنُوبُكَ أَوْ لِلضَّيْفِ يَنْزِلُ بِكَ قَالَ إِنَّ خَلِيلِي عَهِدَ إِلَيَّ أَنْ أَيُّمَا ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ أُوكِيَ عَلَيْهِ فَهُوَ جَمْرٌ عَلَى صَاحِبِهِ حَتَّى يُفْرِغَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبد اللہ بن صامت سے مروی ہے کہ وہ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، ان کا کوئی مال نکل آیا، ان کے ساتھ ان کی ایک لونڈی بھی تھی، اس نے ان کی ضروریات پوری کرنا شروع کیں، جب اس مال سے سات بچ گئے تو انھوں نے اپنی لونڈی سے کہا کہ وہ ان کے عوض قدیم سکے خرید لے، میں (عبد اللہ بن صامت) نے کہا: اگر تم ان کو پیش آنے والی ضرورت یا اپنے پاس آنے والے مہمان کے لیے ذخیرہ کر لو تو بہتر ہو گا۔ انھوں نے کہا: میرے خلیل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یہ وصیت کی تھی کہ جس سونے اور چاندی کو بند کر کے رکھ دیا جائے تو وہ اس مالک کے لیے انگارے ہوں گے، یہاں تک کہ وہ ان کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر دے۔
حدیث نمبر: 9837
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((مَثَلُ الْبَخِيلِ وَالْمُنْفِقِ كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُبَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ مِنْ لَدُنْ ثُدِيِّهِمَا إِلَى تَرَاقِيهِمَا فَأَمَّا الْمُنْفِقُ فَلَا يُنْفِقُ مِنْهَا إِلَّا اتَّسَعَتْ حَلْقَةٌ مَكَانَهَا فَهُوَ يُوَسِّعُهَا عَلَيْهِ وَأَمَّا الْبَخِيلُ فَإِنَّهَا لَا تَزْدَادُ عَلَيْهِ إِلَّا اسْتِحْكَامًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بخل کرنے والے اور خرچ کرنے والے کی مثال ان دو آدمیوں کی طرح ہے کہ جن پر ان کے سینے والی جگہ سے لے کر ہنسلی کی ہڈی تک دو زرہیں ہوں، پس خرچ کرنے والا جب بھی خرچ کرتا ہے تو اس کا حلقہ اپنی جگہ پر کھل جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ ساری کھلی ہو جاتی ہے اور رہا مسئلہ بخیل کا تو اس کی زرہ کی مضبوطی میں اور زیادہ اضافہ ہو جاتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … مفہوم یہ ہے کہ جب سخی آدمی خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے سینے میں وسعت پیدا ہو جاتی ہے اور اس کے ہاتھ اس کے ساتھ اتفاق کرتے ہیں، لیکن جب بخیل کو خرچ کرنے کا خیال آتا ہے تو اس کا سینہ اور تنگ ہو جاتا ہے اور اس کے ہاتھ بند ہو جاتے ہیں اور وہ حیلے بہانے کر کے بزعم خود اپنا مال محفوظ کرنے کی کوشش میں لگ جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 9838
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ لِفُلَانٍ فِي حَائِطِي عَذْقًا وَأَنَّهُ قَدْ آذَانِي وَشَقَّ عَلَيَّ مَكَانُ عَذْقِهِ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ((بِعْنِي عَذْقَكَ الَّذِي فِي حَائِطِ فُلَانٍ)) قَالَ لَا قَالَ ((فَهَبْهُ لِي)) قَالَ لَا قَالَ ((فَبِعْنِيهِ بِعَذْقٍ فِي الْجَنَّةِ)) قَالَ لَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((مَا رَأَيْتُ الَّذِي هُوَ أَبْخَلُ مِنْكَ إِلَّا الَّذِي يَبْخَلُ بِالسَّلَامِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: میرے باغ میں فلاں آدمی کا کھجور کا درخت ہے، پس تحقیق اس نے مجھے تکلیف دی ہے اور اس کے درخت کی جگہ میرے لیے باعث ِ مشقت ثابت ہوئی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص کی طرف پیغام بھیجا کہ فلاں آدمی کے باغ میں موجود اپنا کھجور کا درخت مجھے فروخت کر دے۔ لیکن اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر مجھے ہبہ کر دے۔ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر جنت کے کھجور کے درخت کے عوض مجھے بیچ دے۔ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے ایسا شخص نہیں دیکھا، جو تجھ سے زیادہ بخیل ہو، سوائے اس کے جو سلام کہنے میں بخل کرتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … رغبت کا تقاضا تو یہی تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کییہ پیش کش قبول کر لی جاتی، بہرحال مزاج مختلف ہوتے ہیں اور مالک کو اختیار بھی ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 9839
عَنْ أَبِي بِشْرٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبَّادَ بْنَ شُرَحْبِيلَ وَكَانَ مِنَّا مِنْ بَنِي غُبَرَ قَالَ أَصَابَتْنَا سَنَةٌ فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَدَخَلْتُ حَائِطًا مِنْ حِيطَانِهَا فَأَخَذْتُ سُنْبُلًا فَفَرَكْتُهُ وَأَكَلْتُ مِنْهُ وَحَمَلْتُ فِي ثَوْبِي فَجَاءَ صَاحِبُ الْحَائِطِ فَضَرَبَنِي وَأَخَذَ ثَوْبِي فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ((مَا عَلَّمْتَهُ إِذْ كَانَ جَاهِلًا وَلَا أَطْعَمْتَهُ إِذْ كَانَ سَاغِبًا أَوْ جَائِعًا)) فَرَدَّ عَلَيَّ الثَّوْبَ وَأَمَرَ لِي بِنِصْفِ وَسْقٍ أَوْ وَسْقٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عباد بن شرحبیل رضی اللہ عنہ ، جو بنو غبر میں سے تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم قحط سالی میں مبتلا ہو گئے، میں مدینہ میں آیا اور اس کے باغوں میں سے کسی ایک باغ میں داخل ہوا، ایک سٹّے کو ملا اور اس سے دانے نکالے۔ کچھ دانے کھا لیے اور کچھ کپڑے میں اٹھا لیے، اتنے میں باغ کا مالک آگیا، اس نے مجھے مارا اور میرا کپڑا چھین لیا۔ میں (شکایت لے کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا (اور ساری بات بتائی) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (باغ کے اس مالک) سے فرمایا: وہ جاہل تھا تو نے اسے تعلیم نہیں دی اور وہ بھوکا تھا تو نے اسے کھلایا نہیں۔ تو اس نے میرا کپڑا مجھے لوٹا دیا اور مجھے ایک یا نصف وسق کھانے کا بھی دیا۔
وضاحت:
فوائد: … شرعی قانون کے مطابق اس آدمی کا باغ سے دانے اٹھا کر لے جانا غلطی تھی، اس کے احکام مقرر ہیں، چونکہ یہ آدمی جاہل تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے معذور قرار دیا اور مالک کو معمولی سی سرزنش کر دی۔ صاع ایک پیمانے کا نام ہے، جو دو کلو سو گرام کے برابر ہوتا ہے اور ایک وسق میں ساٹھ صاع ہوتے ہیں۔
حدیث نمبر: 9840
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((يَقُولُ الْعَبْدُ مَالِي مَالِي وَإِنَّ مَالَهُ مِنْ مَالِهِ ثَلَاثٌ مَا أَكَلَ فَأَفْنَى أَوْ لَبِسَ فَأَبْلَى أَوْ أَعْطَى فَأَقْنَى مَا سِوَى ذَلِكَ فَهُوَ ذَاهِبٌ وَتَارِكُهُ لِلنَّاسِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بندہ کہتا ہے: میرا مال، میرا مال، جبکہ اس کے مال میں سے اس کے صرف تین حصے ہیں، (۱) جو اس نے کھا کر فنا کر دیا، (۲) جو اس نے پہن کر بوسیدہ کر دیا اور (۳) جو اس نے کسی کو مال دے کر خوش کر دیا، اس کے علاوہ جو کچھ ہے، وہ اس کو لوگوں کے لیے چھوڑ کر جانے والا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … انسان کا حقیقی سرمایہ وہی ہے جو وہ اپنی زندگی میں خرچ کر دیتا ہے، باقی اس کے ورثاء اور لواحقین کا ہے۔