کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کی عمروں کا بیان
حدیث نمبر: 9829
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَجَلُكُمْ فِي أَجَلِ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ كَمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى غُرُوبِ الشَّمْسِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم سے پہلے والے لوگوں کی عمروں کو دیکھا جائے تو تمہاری عمر نمازِ عصر سے غروب آفتاب تک ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9829
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري مطولا: 5021 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5911 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5911»
حدیث نمبر: 9830
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَيْضًا قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالشَّمْسُ عَلَى قُعَيْقِعَانَ بَعْدَ الْعَصْرِ فَقَالَ مَا أَعْمَارُكُمْ فِي أَعْمَارِ مَنْ مَضَى إِلَّا كَمَا بَقِيَ مِنَ النَّهَارِ فِيمَا مَضَى مِنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، جبکہ سورج عصر کے بعد قعیقعان پہاڑ پر تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پہلے گزر جانے والے لوگوں کی عمروں کی بہ نسبت تمہاری عمر اتنی ہے، جتنا دن کا حصہ باقی ہے، گزر جانے والے حصے کی بہ نسبت۔
وضاحت:
فوائد: … پہلی امتوں کے افراد طویل طویل عمریں پاتے تھے، نوح علیہ السلام کی تبلیغ کا عرصہ (۹۵۰) برس ہے۔ ان کی بہ نسبت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کے لوگوں کی عمریں کم ہیں، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((أَعْمَارُ أُمَّتِيْ مَابَیْنَ السِّتِّیْنَ إِلَی السَّبْعِیْنَ، وَأَقَلُّھُمْ مَنْ یَّجُوْزُ ذٰلِکَ۔)) … فرمایا: میری امت کی عمریں ساٹھ سے ستر سال کے درمیان ہیں، کم ہی لوگ ایسے ہیں جو اس حد سے تجاوز کرتے ہیں۔
(ترمذی: ۲/۲۷۲، ابن ماجہ: ۴۲۳۶)
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کے زیادہ تر افراد کی عمریںیہی رہی ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود (۶۳) برس کی عمر میں دنیائے فانی سے روانہ ہو گئے تھے، بہت کم شخصیات نے ان عمروں سے تجاوز کیا ہے،مثلا صحابۂ کرام میں سیدہ اسما بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے (۱۰۰) سال، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے (۱۰۳) سال، سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے (۱۲۰) سال اور سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے (۲۵۰) سال عمر پائی۔
اب بھی اس طرح کی لمبی عمر پانے والے افراد بہت کم ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کو کم عمری کا یہ صلہ دیا ہے کہ ان کو ایسی عبادات عطا کر دی ہیں، جن کے ذریعے مختصر مدت میں بلند درجات حاصل کیے جا سکتے ہیں، درج ذیل دو مثالوں پر غور کریں: (۱)سیدنا اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنِ اغْتَسَلَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَغَسَّلَ وَبَکَّرَ وَابْتَکَرَ وَدَنَا وَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ کَانَ لَہُ بِکُلِّ خُطْوَۃٍیَخْطُوہَا أَجْرُ سَنَۃٍ صِیَامِہَا وَقِیَامِہَا۔)) … جس نے جمعہ کے دن غسل کیا اور (سر کو) اچھی طرح دھویا اور مسجد میں جلدی گیا، امام کا ابتدائی خطبہ پایا اور امام کے نزدیک ہو کر خطبہ سنا اور اس دوران خاموش رہا تو اس کو ہر ہر قدم پر ایک ایک سال کے روزوں اور قیام کا ثواب ملے گا۔ (ترمذی: ۴۵۶)
(۲) اللہ تعالیٰ نے سورۂ قدر میں شب ِ قدر کے قیام کو ایک ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر قراردیا، حافظ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں اس سورت کے نزول کے بارے میں درج ذیل روایات پیش کی ہیں، ان روایات کو تحقیق کے بغیر پیش کیا گیا ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے: امام مجاہد کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا ذکر کیا جو ایک ہزار ماہ تک اللہ کی راہ میںیعنی جہاد میں ہتھیار بند رہا، مسلمانوں کو یہ سن کر بڑا تعجب ہوا تو اللہ تعالیٰ نے یہ سورت اتار دی کہ ایک شب ِ قدر کی عبادت اس شخص کی ایک ہزار مہینے کی عبادت سے افضل ہے، ابن جریر میں ہے: بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جو رات کو قیام کرتا تھا صبح تک اور دن میں شام تک دشمنانِ دین سے جہاد کرتا تھا،ایک ہزار مہینے تک یہی عمل کرتا رہا، پس اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی کہ اس امت کے کسی شخص کا صرف لیلۃ القدر کا قیام اس عابد کی ایک ہزارمہینے کی اس عبادت سے افضل ہے، ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنی اسرائیل کے چار عابدوں کا ذکر کیا، جنہوں نے اسی سال تک اللہ تعالیٰ کی عبادت کی تھی، ایک نے آنکھ جھپکنے کے برابر بھی اللہ کی نافرمانی نہیں کی تھی: ایوب، زکریا، حزقیل بن عجوز اور یوشع بن نونh، اس سے صحابۂ کرام کو بڑا تعجب ہوا، اتنے میں جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے محمد!آپ کی امت نے اس جماعت کی اس عبادت پر تعجب کیا، اللہ تعالیٰ نے اس سے بھی افضل چیز آپ پر نازل فرمائی اور کہا کہ یہ چیزاس سے افضل ہے جس پر آپ اور آپ کی امت نے تعجب ظاہر کیا تھا، پس محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ بیحد خوش ہوئے، (یہ چیز شب ِ قدر تھی)، امام مجاہد کہتے ہیں: مطلب یہ ہے کہ اس رات کا نیک عمل اس کا روزہ اس کی نماز ایک ہزارمہینوں کے روزے اور نماز سے افضل ہے، جن میں لیلۃ القدر نہ ہو اور مفسرین کا بھییہ قول ہے امام ابن جریر نے بھی اسی کو پسند فرمایا ہے کہ وہ ایک ہزار مہینے جن میں لیلۃ القدر نہ ہو، یہی ٹھیک ہے، اس کے سوا اور کوئی قول ٹھیک نہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9830
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5966»
حدیث نمبر: 9831
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((لَقَدْ أَعْذَرَ اللَّهُ إِلَى عَبْدٍ أَحْيَاهُ حَتَّى بَلَغَ سِتِّينَ أَوْ سَبْعِينَ سَنَةً لَقَدْ أَعْذَرَ اللَّهُ لَقَدْ أَعْذَرَ اللَّهُ إِلَيْهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: البتہ تحقیق اللہ تعالیٰ نے اس آدمی کا عذر ختم کر دیا، جس کو اتنی دیر تک زندہ رکھا کہ وہ ساٹھ یا ستر سال کی عمر کو پہنچ گیا، تحقیق اللہ تعالیٰ نے اس کا عذر ختم کر دیا ہے، بس اللہ تعالیٰ نے اس کا عذر ختم کر دیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9831
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6419، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7713 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7699»
حدیث نمبر: 9832
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((مَنْ عَمَّرَ سِتِّينَ أَوْ سَبْعِينَ سَنَةً فَقَدْ أَعْذَرَ إِلَيْهِ فِي الْعُمُرِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی کو اللہ تعالیٰ نے ساٹھ یا ستر سال تک زندہ رکھا، پس اللہ تعالیٰ نے عمر کے سلسلے میں اس کا عذر ختم کر دیا۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں ساٹھ ستر سال عمر پانے والے آدمی کو وعید سنائی گئی ہے کہ اسے اتنی لمبی عمر دی گئی کہ اس میں اخروی کامیابی کے اسباب جمع کیے جا سکتے تھے۔لیکن اس حدیث سے ساٹھ سال سے کم عمر والے اپنے حق میںکسی قسم کی گنجائش کا استدلال نہیں کر سکتے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9832
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9240»
حدیث نمبر: 9833
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((مَا مِنْ مُعَمَّرٍ يُعَمَّرُ فِي الْإِسْلَامِ أَرْبَعِينَ سَنَةً إِلَّا صَرَفَ اللَّهُ عَنْهُ ثَلَاثَةَ أَنْوَاعٍ مِنَ الْبَلَاءِ الْجُنُونُ وَالْجُذَامُ وَالْبَرَصُ فَإِذَا بَلَغَ خَمْسِينَ سَنَةً لَيَّنَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْحِسَابَ فَإِذَا بَلَغَ سِتِّينَ رَزَقَهُ اللَّهُ الْإِنَابَةَ إِلَيْهِ بِمَا يُحِبُّ فَإِذَا بَلَغَ سَبْعِينَ سَنَةً أَحَبَّهُ اللَّهُ وَأَحَبَّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ فَإِذَا بَلَغَ الثَّمَانِينَ قَبِلَ اللَّهُ حَسَنَاتِهِ وَتَجَاوَزَ عَنْ سَيِّئَاتِهِ فَإِذَا بَلَغَ تِسْعِينَ غَفَرَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ وَسُمِّيَ أَسِيرَ اللَّهِ فِي أَرْضِهِ وَشُفِّعَ لِأَهْلِ بَيْتِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی کو اسلام کی چالیس سال عمر دی جاتی ہے، اللہ تعالیٰ اس سے تین قسم کی بیماریاں دور کر دیتا ہے، جنون، کوڑھ اور پھلبہری، جب آدمی پچاس سال تک پہنچ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر حساب کو آسان کر دیتا ہے، جب اس کی عمر ساٹھ برس ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اپنی پسند کے مطابق اپنی طرف رجوع کرنے کی توفیق دیتا ہے، پھر جب وہ ستر سال کا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اور اہل آسمان اس سے محبت کرنے لگتے ہیں، جب اس کی عمر اسی سال ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی نیکیاں قبول کر لیتا ہے اور اس کی برائیوں سے تجاوز کر دیتا ہے، پھر جب اس کی عمر نوے برس ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دیتا ہے اور اس کا یہ نام رکھ دیا ہے کہ فلاں آدمی زمین میں اللہ تعالیٰ کا قیدی ہے اور اس کے گھر والوں کے حق میں اس کی سفارش قبول کی جاتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9833
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف جدا، فرج بن فضالة ضعيف، محمد بن عامر لم نعرف من ھو، محمد بن عبد الله ضعيف، أخرجه البزار: 3587، وابويعلي: 4246 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5626 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5626»