حدیث نمبر: 9496
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا إِذَا جِئْنَا إِلَيْهِ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ أَحَدُنَا حَيْثُ يَنْتَهِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف آتے تھے تو جہاں مجلس ختم ہو رہی ہوتی تھی، وہیں بیٹھ جاتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … بعد میں آنے والے وڈیروںیا خیر و بھلائی کی رغبت رکھنے والے صوفی مزاج لوگوں کییہ عادت ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام کی بابرکت مجالس میں ایسا نہیں ہوتا تھا، وہاں جس کو جہاں جگہ ملتی تھی، وہ وہیں بیٹھ جاتا تھا۔ شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: اس حدیث میں عہد ِ نبوی کے ایک ادب ِ مجلس کا ذکر کیا گیا ہے۔ عصر حاضر میں اہل علم سمیت اکثر لوگ اس کو ترک کر چکے ہیں۔ وہ ادب یہ ہے کہ جب کوئی آدمی کسی مجلس میں پہنچے تو جہاں مجلس ختم ہو رہی ہے، وہیں بیٹھ جائے، اگرچہ اسے دروازے کی دہلیز پر بیٹھنا پڑے، وہ اس چیز کا انتظار نہ کرے کہ لوگ اس کے لیے کھڑے ہوںتاکہ وہ آگے جا سکے، جیسا کہ متکبر سرداروں اور بڑائی خور لوگوں کا وطیرہ ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا کرنے سے صراحت کے ساتھ منع کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لایُقِیْمُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَقْعَدِہٖ ثُمَّ یَجْلِسُ فِیْہِ، وَلٰکِنْ تَفَسَّحُوْا وَتَوَسَّعُوْا)) … کوئی آدمی دوسرے آدمی کو اس کی مجلس سے کھڑا مت کرے اور پھروہاں خود بیٹھ جائے، (البتہ تم کو چاہئے کہ) کھلے ہو جاؤ اور وسعت پیدا کرو۔ (مسلم) اور صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے: جب کوئی آدمی سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے لیے اپنی مجلس سے کھڑا ہوتا تو وہ وہاں نہیں بیٹھتے تھے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا کہ مجلس میں بیٹھا ہوا آدمی کسی کی خاطر کھڑا ہو۔ دیکھیں صحیحہ: ۲۲۸۔(صحیحہ: ۳۳۰)
حدیث نمبر: 9497
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يُقِيمُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِهِ فَيَجْلِسَ فِيهِ وَلَكِنْ تَفَسَّحُوا وَتَوَسَّعُوا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی کسی آدمی کو اس کی مجلس سے کھڑا نہ کرے، اور پھر وہ خود وہاں بیٹھ جائے، البتہ کھلے اور وسیع ہو جایا کرو۔
حدیث نمبر: 9498
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يُقِيمُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِهِ وَلَكِنْ افْسَحُوا يَفْسَحِ اللَّهُ لَكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص کسی شخص کو اس کی مجلس سے کھڑا نہ کیا کرے، البتہ کھلے ہو جایا کرو، اللہ تعالیٰ بھی وسعت پیدا کر دے گا۔
وضاحت:
فوائد: … کسی آدمی کو مجلس سے اٹھا کر اس کی جگہ پر بیٹھ جانا انتہائی سوئے ادبی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے، کسی مجلس میں بیٹھنے کا قانون پہلے آئیے پہلے پائیے کا ہے۔
حدیث نمبر: 9499
عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ دُعِيَ إِلَى شَهَادَةٍ مَرَّةً فَجَاءَ إِلَى الْبَيْتِ فَقَامَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ مَجْلِسِهِ فَقَالَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ مِنْ مَجْلِسِهِ أَنْ يَجْلِسَ فِيهِ وَعَنْ أَنْ يَمْسَحَ الرَّجُلُ يَدَهُ بِثَوْبِ مَنْ لَا يَمْلِكُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ ان کو گواہی کے لیے بلایا گیا، پس وہ گھر آئے اور ایک آدمی ان کی خاطر اپنی مجلس سے کھڑا ہو گیا، لیکن انھوں نے کہا: جب کوئی آدمی کسی دوسرے آدمی کی خاطر اپنی مجلس سے کھڑا ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم کو اس کی جگہ میں بیٹھ جانے سے منع کیا اور اس سے بھی منع فرمایا کہ آدمی ایسے شخص کے کپڑے سے ہاتھ صاف کرے، جس کا وہ مالک نہ ہو۔
حدیث نمبر: 9500
عَنْ أَبِي الْخَصِيبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ قَاعِدًا فَجَاءَ ابْنُ عُمَرَ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ مَجْلِسِهِ لَهُ فَلَمْ يَجْلِسْ فِيهِ وَقَعَدَ فِي مَكَانٍ آخَرَ فَقَالَ الرَّجُلُ مَا كَانَ عَلَيْكَ لَوْ قَعَدْتَ فَقَالَ لَمْ أَكُنْ أَقْعُدُ فِي مَقْعَدِكَ وَلَا مَقْعَدِ غَيْرِكَ بَعْدَ شَيْءٍ شَهِدْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ مَجْلِسِهِ فَذَهَبَ لِيَجْلِسَ فِيهِ فَنَهَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو خصیب سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں بیٹھا ہوا تھا، سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہماتشریف لائے، ایک آدمی ان کو جگہ دینے کے لیے اپنی مجلس سے کھڑا ہو گیا، لیکن وہ اس جگہ میں نہیں، بلکہ کسی اور جگہ میں بیٹھ گئے، اس آدمی نے کہا: اگر تم میری جگہ میں بیٹھ جاتے تو تم پر کوئی حرج تو نہیں تھا؟ انھوں نے کہا: نہ میں نے تیری بیٹھک میں بیٹھنا ھےاور نہ کسی اور کی بیٹھک میں، اس چیز کے بعدجو میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی میں دیکھی، اس کی تفصیل یہ ہے کہ ایک آدمی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، تو ایک آدمی اس کی خاطر اپنی مجلس سے کھڑا ہو گیا اور وہ اس کی جگہ میں بیٹھنے لگا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس وہاں بیٹھنے سے منع فرما دیا۔
وضاحت:
فوائد: … لیکن درج ذیل حدیث اورشرح پر غور کریں۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَایَقُوْمُ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ مِنْ مَجْلِسِہٖوَلٰکِنِافْسَحُوْایَفْسَحِ اللّٰہُ لَکُمْ۔)) … کوئی آدمی کسی کے لیے اپنی نشست سے کھڑا نہ ہو، بلکہ مجلس میں گنجائش پیدا کر لیا کرو، اللہ تعالیٰ تمھارے لیے وسعت پیدا کر دے گا۔ (مسند احمد: ۲/ ۴۸۳صحیحہ: ۲۲۸)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مجلس میں بیٹھے ہوئے لوگوں کو دوسروں کی خاطر کھڑے نہیں ہونا چاہئے، ہاں ان کے بیٹھنے کے لیے گنجائش پیدا کر دینی چاہئے۔
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ رقمطراز ہیں: اس حدیث میں واضح دلالت موجود ہے کہ یہ آداب ِ اسلامیہ میں سے نہیں ہے کہ کوئی آدمی کسی کے احترام کی وجہ سے مجلس سے کھڑا ہو جائے اور وہ اس کی جگہ میں بیٹھ جائے، بلکہ اسے چاہئے کہ آنے والے کے لیے وسعت پیدا کرے۔ جب لوگ زمین پر بیٹھے ہوں تو مجلس میں وسعت پیدا کرنا ممکن ہو گا اور کرسیوں کی صورت میں ناممکن ہے۔ بہرحال کسی کی خاطر کھڑا ہونے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس حدیث کی مخالفت ہو گی۔ یہی وجہ ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ یہ ناپسند کرتے تھے کہ کوئی آدمی اپنی مجلس سے کھڑا ہو اور وہ وہاں بیٹھجائیں۔ مذکورہ بالا حدیث کے الفاظ لَایَقُوْمُ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ … (کوئی آدمی کسی کے لیے کھڑا نہ ہو) کم از کم کراہت پر دلالت کرتے ہیں، کیونکہیہاں نفی بمعنی نہی ہے، وگرنہ نہی کا اصل تقاضا تو تحریم ہے۔ واللہ اعلم۔
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی ایک حدیث کے الفاظ یہ ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لایُقِیْمُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَقْعَدِہٖثُمَّیَجْلِسُ فِیْہ)) … کوئی آدمی دوسرے آدمی کو اس کی جگہ سے کھڑا کر کے اس کی جگہ پر مت بیٹھے۔ (مسلم)
ذہن نشین رہے کہ ان دونوں احادیث میں کوئی تعارض نہیں ہے، کیونکہ اُس میں دوسرے کو اٹھانے سے اور اِس میں دوسرے کے خود اٹھنے سے منع کیا گیا ہے۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَایَقُوْمُ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ مِنْ مَجْلِسِہٖوَلٰکِنِافْسَحُوْایَفْسَحِ اللّٰہُ لَکُمْ۔)) … کوئی آدمی کسی کے لیے اپنی نشست سے کھڑا نہ ہو، بلکہ مجلس میں گنجائش پیدا کر لیا کرو، اللہ تعالیٰ تمھارے لیے وسعت پیدا کر دے گا۔ (مسند احمد: ۲/ ۴۸۳صحیحہ: ۲۲۸)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مجلس میں بیٹھے ہوئے لوگوں کو دوسروں کی خاطر کھڑے نہیں ہونا چاہئے، ہاں ان کے بیٹھنے کے لیے گنجائش پیدا کر دینی چاہئے۔
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ رقمطراز ہیں: اس حدیث میں واضح دلالت موجود ہے کہ یہ آداب ِ اسلامیہ میں سے نہیں ہے کہ کوئی آدمی کسی کے احترام کی وجہ سے مجلس سے کھڑا ہو جائے اور وہ اس کی جگہ میں بیٹھ جائے، بلکہ اسے چاہئے کہ آنے والے کے لیے وسعت پیدا کرے۔ جب لوگ زمین پر بیٹھے ہوں تو مجلس میں وسعت پیدا کرنا ممکن ہو گا اور کرسیوں کی صورت میں ناممکن ہے۔ بہرحال کسی کی خاطر کھڑا ہونے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس حدیث کی مخالفت ہو گی۔ یہی وجہ ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ یہ ناپسند کرتے تھے کہ کوئی آدمی اپنی مجلس سے کھڑا ہو اور وہ وہاں بیٹھجائیں۔ مذکورہ بالا حدیث کے الفاظ لَایَقُوْمُ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ … (کوئی آدمی کسی کے لیے کھڑا نہ ہو) کم از کم کراہت پر دلالت کرتے ہیں، کیونکہیہاں نفی بمعنی نہی ہے، وگرنہ نہی کا اصل تقاضا تو تحریم ہے۔ واللہ اعلم۔
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی ایک حدیث کے الفاظ یہ ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لایُقِیْمُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَقْعَدِہٖثُمَّیَجْلِسُ فِیْہ)) … کوئی آدمی دوسرے آدمی کو اس کی جگہ سے کھڑا کر کے اس کی جگہ پر مت بیٹھے۔ (مسلم)
ذہن نشین رہے کہ ان دونوں احادیث میں کوئی تعارض نہیں ہے، کیونکہ اُس میں دوسرے کو اٹھانے سے اور اِس میں دوسرے کے خود اٹھنے سے منع کیا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 9501
عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ لِأَبِي قِلَابَةَ دَخَلْتُ أَنَا وَأَبُوكَ عَلَى ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَحَدَّثَنَا أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَلْقَى لَهُ وِسَادَةً مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ فَلَمْ أَقْعُدْ عَلَيْهَا بَقِيَتْ بَيْنِي وَبَيْنَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو ملیح سے مروی ہے، انھوں نے ابو قلابہ سے کہا: میں اور تمہارے ابو، ہم دو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہماماما کے پاس گئے، انھوں نے ہمیں بیان کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے لے چمڑے کا تکیہ رکھا، اس کا بھراؤ کھجور کے پتے تھے، لیکن وہ اس پر نہ بیٹھے اور وہ تکیہ ان کے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درمیان پڑا رہا۔
وضاحت:
فوائد: … غور کریں کہ سیدا لاولین والآخرین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کے لیے تکیہ پیش کر رہے ہیں،یہ علیحدہ بات ہے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا احترام کرتے ہوئے اس تکیے پر نہ بیٹھے۔ ایسی احادیث ِ مبارکہ کے بعد ہمیں ادنی و اعلی مہمانوں میں اس طرح فرق کرنے سے باز آ جانا چاہیے کہ اعلی کی پرتکلف ضیافت کی جاتی ہے اور ادنی کو پوچھنے کے لیے تیار کوئی نہیں ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 9502
عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَلَسْتُ إِلَى ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَمَعَهُ رَجُلٌ يُحَدِّثُهُ فَدَخَلْتُ مَعَهُمَا فَضَرَبَ بِيَدِهِ صَدْرِي وَقَالَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا تَنَاجَى اثْنَانِ فَلَا تَجْلِسْ إِلَيْهِمَا حَتَّى تَسْتَأْذِنَهُمَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سعید مقبری کہتے ہیں: میں آیا اور سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہماکے ساتھ بیٹھ گیا، جبکہ ان کے ساتھ ایک اور آدمی گفتگو کر رہا تھا، جب میں ان کے ساتھ داخل ہوا تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہماماما نے میری چھاتی پر ہاتھ مارا اور کہا: کیا تو یہ نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب دو آدمی سرگوشی کر رہے ہوں تو ان کے ساتھ نہ بیٹھ،یہاں تک کہ تو ان سے اجازت لے لے۔
وضاحت:
فوائد: … شریعت ِ اسلامیہ کا امتیازی وصف اعتدال ہے۔ جہاں بعض مصلحتوں کی بنا پر اکٹھے تین افراد میں سے دو کو علیحدہ ہو کر صلاح و مشورہ کرنے سے منع کیا گیا ہے، وہاں اگر پہلے ہی سے کسی مقام پر دو افراد رازدارانہ انداز میں گفت و شنید کر رہے ہوں تو بعد میں آنے والے افراد کو بغیر اجازت ان کی مجلس میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
قارئین ِ کرام! آپ کا ذاتی تجربہ ہو گاکہ بسا اوقات مختلف وجوہات کی بنا پر آپ بھی نہیں چاہتے ہوں گے کہ کوئی آدمی آپ کی مجلس میں گھس کر آپ کے مخفی سلسلۂ کلام کو منقطع کر دے، اگرچہ آنے والا آپ کا کتنا ہی قریبی اور مخلص دوست کیوں نہ ہو نبی مہربان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے سے ہی آپ کے حق میںفیصلہ کر دیا ہے۔
عام دوستوں اور تعلق داروں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ ان آداب کا خیال نہیں رکھتے، آگے سے تعلق کی وجہ سے ٹوکا بھی نہیں جاتا، جبکہ اندر سے کڑتے رہتے ہیں۔
قارئین ِ کرام! آپ کا ذاتی تجربہ ہو گاکہ بسا اوقات مختلف وجوہات کی بنا پر آپ بھی نہیں چاہتے ہوں گے کہ کوئی آدمی آپ کی مجلس میں گھس کر آپ کے مخفی سلسلۂ کلام کو منقطع کر دے، اگرچہ آنے والا آپ کا کتنا ہی قریبی اور مخلص دوست کیوں نہ ہو نبی مہربان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے سے ہی آپ کے حق میںفیصلہ کر دیا ہے۔
عام دوستوں اور تعلق داروں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ ان آداب کا خیال نہیں رکھتے، آگے سے تعلق کی وجہ سے ٹوکا بھی نہیں جاتا، جبکہ اندر سے کڑتے رہتے ہیں۔