حدیث نمبر: 9488
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أُخْبِرَ أَبُو سَعِيدٍ بِجَنَازَةٍ فَعَادَ وَقَدْ تَخَلَّفَ حَتَّى إِذَا أَخَذَ النَّاسُ مَجَالِسَهُمْ ثُمَّ جَاءَ فَلَمَّا رَآهُ الْقَوْمُ تَشَذَّبُوا عَنْهُ فَقَامَ بَعْضُهُمْ لِيَجْلِسَ فِي مَجْلِسٍ فَقَالَ لَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ خَيْرَ الْمَجَالِسِ أَوْسَعُهَا ثُمَّ تَنَحَّى وَجَلَسَ فِي مَجْلِسٍ وَاسِعٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبد الرحمن بن ابی عمرہ انصاری کہتے ہیں: سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ کو ایک جنازے کا بتایا گیا، اس سے وہ لوٹے اور پھر مجلس سے اتنے پیچھے رہ گئے کہ لوگ اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ گئے، جب لوگوں نے ان کو آتے ہوئے دیکھا تو وہ منتشر ہو گئے اور بعض لوگوں نے کہا کہ ان کو چاہیے کہ اس مجلس میں بیٹھ جائیں، لیکن انھوں نے کہا: جی نہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بیشک بہترین مجلس وہ ہوتی ہے، جو وسیع ہو۔ پھر وہ علیحدہ ہوئے اور ایک وسیع مجلس میں بیٹھ گئے۔
وضاحت:
فوائد: … کشادہ مجلس میں جہاں بیٹھنے والے راحت اور سکون محسوس کرتے ہیں، وہاں باہر سے آنے والے افراد کے لیے نہ کوئی دشواری ہوتی ہے اور نہ گفتگو متاثر ہوتی ہے۔ ایسی مجلس میں سامعین کو توجہ اور انہماک کے ساتھ بات سننے کا موقع ملتا ہے۔ اس کے برعکس تنگ مجلس میںبیٹھنے والوں کو گھٹن اور تنگی محسوس ہوتی ہے، نیز آنے والے افراد زیادہ پریشانی کا سبب بنتے ہیں اور ان کی وجہ سے گفتگو بھی متاثر ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 9489
عَنْ أَبِي عَيَّاضٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَجْلِسَ بَيْنَ الضَّحِّ وَالظِّلِّ وَقَالَ مَجْلِسُ الشَّيْطَانِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ صحابی ٔ رسول بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آدمی کو اس طرح بیٹھنے سے منع فرمایا کہ اس کے جسم کا کچھ حصہ دھوپ میں ہو اور کچھ سائے میں اور فرمایا: یہ تو شیطان کی بیٹھک ہے۔
وضاحت:
فوائد: … شارح ابوداود علامہ عظیم آبادی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: جب انسان کے بعض حصے پر دھوپ اور بعض پر سایہ پڑ رہا ہو تو وہ وہاں سے کھڑا ہو جائے اور مکمل سائے میںیا مکمل دھوپ میں بیٹھ جائے، کیونکہ اگر وہ وہیں بیٹھا رہا تو اس کے مزاج میں فساد آ جائے گا، کیونکہ اس کا جسم دھوپ اور سائے جیسی دو متضاد چیزوں کی لپیٹ میں ہو گا۔ لیکن مناسب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بیٹھک سے منع کرنے کے لیے جو علت بیان کی ہے کہ یہ تو شیطان کی بیٹھک ہے، اسی پر اکتفا کیا جائے۔ (عون المعبود)
حدیث نمبر: 9490
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ جَالِسًا فِي الشَّمْسِ فَقَلَصَتْ عَنْهُ فَلْيَتَحَوَّلْ مِنْ مَجْلِسِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی دھوپ میں بیٹھا ہو اور پھر دھوپ اس سے ہٹ جائے تو اس کو چاہیے کہ اس مجلس سے پھر جائے۔
حدیث نمبر: 9491
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمَجَالِسَ ثَلَاثَةٌ سَالِمٌ وَغَانِمٌ وَشَاجِبٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجلسیں تین قسم کی ہوتی ہیں، سلامتی والی، غنیمت والی اور بے تکی باتوں اور بک بک والی۔
حدیث نمبر: 9492
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَجَالِسُ بِالْأَمَانَةِ إِلَّا ثَلَاثَةَ مَجَالِسَ مَجْلِسٌ يُسْفَكُ فِيهِ دَمٌ حَرَامٌ وَمَجْلِسٌ يُسْتَحَلُّ فِيهِ فَرْجٌ حَرَامٌ وَمَجْلِسٌ يُسْتَحَلُّ فِيهِ مَالٌ مِنْ غَيْرِ حَقٍّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجالسیں امانت کے ساتھ ہوتی ہیں، ما سوائے تین مجلسوں کے، (۱) وہ مجلس جس میں حرام خون بہایا جائے، (۲) وہ مجلس جس میں حرام شرمگاہ کو حلال سمجھ لیا جائے اور (۳) وہ مجلس جس میں بغیر کسی حق کے مال کو حلال سمجھا جائے۔
وضاحت:
فوائد: … مجلسیں امانت ہی ہوتی ہیں، لیکن جب کسی مسلمان یا مجلس کے شرّ سے دوسرے کو نقصان پہنچنے کا امکان ہو تو پھر اس قدر راز کو فاش کرنا ضروری ہے کہ لوگوں کو اس نقصان سے بچایا جا سکے۔
حدیث نمبر: 9493
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ قَوْمٍ جَلَسُوا مَجْلِسًا لَمْ يَذْكُرُوا اللَّهَ فِيهِ إِلَّا رَأَوْهُ حَسْرَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس مجلس میں لوگ اللہ تعالیٰ کا ذکر نہیں کرتے، وہ قیامت والے دن اس مجلس کو اپنے لیے باعث ِ حسرت خیال کریں گے۔
حدیث نمبر: 9494
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا قَعَدَ قَوْمٌ مَقْعَدًا لَا يَذْكُرُونَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَيُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَّا كَانَ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَإِنْ دَخَلُوا الْجَنَّةَ لِلثَّوَابِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو لوگ کسی مجلس میں بیٹھتے ہیں اور اس میں نہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں اور نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں تو وہ مجلس قیامت کے دن ان کے لیے باعث ِ حسرت ہو گی، اگرچہ وہ دوسرے اعمال کی وجہ سے جنت میں داخل ہو جائیں۔
حدیث نمبر: 9495
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ ثُمَّ تَفَرَّقُوا لَمْ يَذْكُرُوا اللَّهَ كَأَنَّمَا تَفَرَّقُوا عَنْ جِيفَةِ حِمَارٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب لوگ کہیں جمع ہوں اور پھر اللہ تعالیٰ کا ذکر کیے بغیر منتشر ہو جائیں، تو وہ ایسے ہی ہوں گے جیسے مرے ہوئے گدھے کے پاس سے اٹھے ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالیٰ کی تسبیحات، تہلیلات، تکبیرات اور تحمیدات بیان کر کے اس کا ذکر کرنا جہاں باعثِ اجرِ عظیم ہے، وہاں اس سے غفلت برتنا باعث ِ حسرت و ندامت ہے۔ انسان کو چاہئے کہ اپنے جسم کی مختلف حالتوںیعنی چلنے،کھڑا ہونے، بیٹھنے اور لیٹنے کے دوران اللہ تعالیٰ کو کسی نہ کسی انداز میںیاد کرتا رہے۔
ہمارے جسم کو لیٹنے، بیٹھنے اور کھڑے ہونے کی صلاحیت حاصل ہونااللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے، جس پر اس نے اپنے ذکر کا مطالبہ کیا۔
کسی مجلس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر نہ کرنا یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے رحمت و سلامتی کی دعا نہ کرنا اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے کہ وہ اس غفلت کو معاف کر دے یا اس کی وجہ سے مؤاخذہ کرے۔
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: یہ احادیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ہر مجلس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنا واجب ہے، اس دلالت کی درج ذیل وجوہات ہیں: اولاً: پھر اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو انھیں عذاب دے اور اگر چاہے تو انھیں بخش دے۔ یہ جملہ اس وقت کہا جا سکتاہے، جب واجب کو ترک کیا گیا ہو اور اس کا ترک کرنا معصیت ہو۔
ثانیاً: اگرچہ وہ (دوسرے اعمال کے) اجر و ثواب کی وجہ سے جنت میں داخل ہو جائیں۔ سے پتہ چلتا ہے کہ جو شخص مجلس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود نہیں بھیجے گا، وہ جہنم میں داخل ہونے کا حقدار ہو گا، اگرچہ یہ ممکن ہے کہ اس کے ایمان کے اجر و ثواب کے صلے میں اسے جنت میں داخل کر دیا جائے۔
(ثالثاً) تو وہ مردار گدھے جیسی چیز سے اٹھتے ہیں یہ تشبیہ تقاضا کرتی ہے کہ ان کا عمل قبیح ہے اور یہ تشبیہ اسی چیز سے متعلقہ ہو سکتی ہے، جو حرام ہو۔
ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ متنبہ رہے اور ہر مجلس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے سے غافل نہ ہو جائے، وگرنہ یہ غفلت اس کے لیے نقصان اور حسرت کا باعث بنے گی۔
مناوی نے (فیض القدیر) میں کہا: اس سے مجلس سے کھڑے ہوتے وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے کی تاکید پیدا ہو تی ہے، اس ذکر و درود کے لیے کوئی بھی الفاظ کہے جا سکتے ہیں، ذکر کی کامل ترین صورت دعائے کفارۂ مجلس ہو گی: ((سُبْحَانَکَ اَللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ، اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ، اَسْتَغْفِرُکَ وَاَتُوْبُ اِلَیْکَ۔))
اور درود بھیجنے کے لیے تشہد والا درود پڑھا جائے۔ (صحیحہ: ۸۰)
ہمارے جسم کو لیٹنے، بیٹھنے اور کھڑے ہونے کی صلاحیت حاصل ہونااللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے، جس پر اس نے اپنے ذکر کا مطالبہ کیا۔
کسی مجلس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر نہ کرنا یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے رحمت و سلامتی کی دعا نہ کرنا اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے کہ وہ اس غفلت کو معاف کر دے یا اس کی وجہ سے مؤاخذہ کرے۔
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: یہ احادیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ہر مجلس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنا واجب ہے، اس دلالت کی درج ذیل وجوہات ہیں: اولاً: پھر اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو انھیں عذاب دے اور اگر چاہے تو انھیں بخش دے۔ یہ جملہ اس وقت کہا جا سکتاہے، جب واجب کو ترک کیا گیا ہو اور اس کا ترک کرنا معصیت ہو۔
ثانیاً: اگرچہ وہ (دوسرے اعمال کے) اجر و ثواب کی وجہ سے جنت میں داخل ہو جائیں۔ سے پتہ چلتا ہے کہ جو شخص مجلس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود نہیں بھیجے گا، وہ جہنم میں داخل ہونے کا حقدار ہو گا، اگرچہ یہ ممکن ہے کہ اس کے ایمان کے اجر و ثواب کے صلے میں اسے جنت میں داخل کر دیا جائے۔
(ثالثاً) تو وہ مردار گدھے جیسی چیز سے اٹھتے ہیں یہ تشبیہ تقاضا کرتی ہے کہ ان کا عمل قبیح ہے اور یہ تشبیہ اسی چیز سے متعلقہ ہو سکتی ہے، جو حرام ہو۔
ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ متنبہ رہے اور ہر مجلس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے سے غافل نہ ہو جائے، وگرنہ یہ غفلت اس کے لیے نقصان اور حسرت کا باعث بنے گی۔
مناوی نے (فیض القدیر) میں کہا: اس سے مجلس سے کھڑے ہوتے وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے کی تاکید پیدا ہو تی ہے، اس ذکر و درود کے لیے کوئی بھی الفاظ کہے جا سکتے ہیں، ذکر کی کامل ترین صورت دعائے کفارۂ مجلس ہو گی: ((سُبْحَانَکَ اَللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ، اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ، اَسْتَغْفِرُکَ وَاَتُوْبُ اِلَیْکَ۔))
اور درود بھیجنے کے لیے تشہد والا درود پڑھا جائے۔ (صحیحہ: ۸۰)