کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: توکل کی ترغیب دلانے کا بیان
حدیث نمبر: 9252
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَوْ أَنَّكُمْ تَتَوَكَّلُونَ عَلَى اللَّهِ حَقَّ تَوَكُّلِهِ لَرَزَقَكُمْ كَمَا يَرْزُقُ الطَّيْرَ تَغْدُو خِمَاصًا وَتَرُوحُ بِطَانًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم اللہ تعالیٰ پر اس طرح بھروسہ کرو، جیسے بھروسہ کرنے کا حق ہے تو وہ تم کو ایسے رزق دے گا، جیسے وہ پرندے کو رزق دیتا ہے، جو صبح کو خالی پیٹ ہوتا ہے اور شام کو پیٹ بھرا ہوا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9252
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده قوي، أخرجه الترمذي: 2344، وابن ماجه: 4164، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 205 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 205»
حدیث نمبر: 9253
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَوْ أَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَتَوَكَّلُونَ (وَفِي رِوَايَةٍ لَوْ أَنَّكُمْ تَوَكَّلْتُمْ) عَلَى اللَّهِ حَقَّ تَوَكُّلِهِ لَرَزَقَكُمْ كَمَا يَرْزُقُ الطَّيْرَ أَلَا تَرَوْنَ أَنَّهَا تَغْدُو خِمَاصًا وَتَرُوحُ بِطَانًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم اللہ تعالیٰ پر اس طرح توکّل کرو، جیسے اس پر توکل کرنے کا حق ہے تو وہ تم اس طرح روزی دے گا، جیسے وہ پرندے کو روزی دیتا ہے، کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ پرندہ صبح کو خالی پیٹ ہوتا ہے اور شام کو سیرو سیراب۔
وضاحت:
فوائد: … توکل کا مطلب ہے جائز اسباب و وسائل استعمال کر کے اپنے مقصود تک پہنچنے کی کوشش کی جائے اور اصل بھروسہ اللہ تعالیٰ کی ذات پرکیا جائے، کیونکہ جب تک اللہ تعالیٰ کی مشیت شامل حال نہیں ہو گی، اسباب و وسائل بھی کچھ نہیں کر سکتے۔ بہرحال ظاہری اسباب کو اختیار کرنا بھی ضروری ہے، کیو نکہ اللہ تعالیٰ نے ایسا ہی کرنے کا حکم دیا ہے، جیسے پرندے گھونسلوں کے اندر نہیں بیٹھے رہتے، بلکہ تلاشِ رزق میں باہر نکلتے اور گھومتے پھرتے ہیں اور تب اللہ تعالیٰ ان کو رزق دیتا ہے۔
آجکل اکثرو بیشتر تاجروں اور دوکانداروں کو دیکھا گیاہے کہ وہ اپنی تجارت اور دوکانداری میں اتنے مصروف ہو جاتے ہیں کہ نماز سمیت اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے کئی حقوق کا خیال نہیں رکھتے، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ بعض لوگ
پیسے کی ہوس میں پڑ کر حلال و حرام کی تمیز ختم کر دیتے ہیں اور مختلف حربے استعمال کر کے حرام کو جائز کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ دراصل ایسے لوگ انتہائی ضعیف الایمان ہو چکے ہیں، ان کو چاہیے کہ کاروبار کو نہیں، اللہ تعالیٰ کو روزی رساں سمجھیں اور اس کی فرمانبرداری کر کے اس پر توکل کرنے کا صحیح حق ادا کریں۔
شیخ الاسلام صابونی نے کیا خوب اشعار کہے ہیں: تَوَکَّلْ عَلَی الرَّحْمٰنِ فِیْ کُلِّ حَاجَۃٍ اَرَدْتَّ فَاِنَّ الــلّٰــہَ یَقْضِیْ وَ یَقْدِرُ
مَتٰی مَا یُرِدْ ذُوْ الْعَرْشِ اَمْرًا بِعَبْدِہِ یُصِبْہُ وَ مَــــــا لِلْـعَبْدِ مَا یَتَخَیَّرُ
وَ قَدْ یَھْلِکُ الْاِنْسَانُ مِنْ وَجْہٍ اَمِنَہٗوَیَنْجُوْ بِاِذْنِ اللّٰہِ مِنْ حَیْثُیَحْذَرُ
تو ہر اس ضرورت میں رحمن پر توکل کر جس کا تونے ارادہ کر لیا، کیونکہ اللہ تعالیٰ فیصلہ کرتا ہے اور مقدار مقرر کرتا ہے۔ جب عرش والا اپنے بندے کے لیے کسی امر کا ارادہ کر لیتا ہے تو وہ اس کو اس تک پہنچا دیتاہے اور بندے کے لیے وہ کچھ نہیں ہے، جس کا وہ ارادہ کرتاہے۔ بعض اوقات انسان اس صورت میںہلاک ہو جاتا ہے، جس کے بارے میں وہ امن میں ہوتا ہے اور اللہ کے حکم سے وہاں سے نجات پا جاتا ہے، جہاں سے ڈر رہا ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9253
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 373»
حدیث نمبر: 9254
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ نَزَلَتْ بِهِ حَاجَةٌ فَأَنْزَلَهَا بِالنَّاسِ كَانَ قَمِنًا مِنْ أَنْ لَا تَسْهُلَ حَاجَتُهُ وَمَنْ أَنْزَلَهَا بِاللَّهِ آتَاهُ اللَّهُ بِرِزْقٍ عَاجِلٍ أَوْ بِمَوْتٍ آجِلٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کو کوئی ضرورت پڑی اور اس نے اس کو لوگوں پر پیش کر دیا تو وہ اس چیز کا زیادہ لائق ہو گا کہ اس کی ضرورت آسانی سے پوری نہ ہو اور جس نے اس حاجت کو اللہ تعالیٰ پر پیش کیا تو اللہ تعالیٰ یا تو اس کو جلدی رزق دے گا اور پھر تاخیر سے آنے والی موت دے دے گا۔
وضاحت:
فوائد: … اگلی روایت کے الفاظ معنی کے اعتبار سے زیادہ مناسب ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9254
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن أخرجه ابويعلي: 5317، والطبراني في الكبير : 9785، والحاكم: 1/ 408 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3696 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3696»
حدیث نمبر: 9255
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ فَأَنْزَلَهَا بِالنَّاسِ لَمْ تُسَدَّ فَاقَتُهُ وَمَنْ أَنْزَلَهَا بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَوْشَكَ اللَّهُ لَهُ بِالْغِنَى إِمَّا أَجَلٌ عَاجِلٌ أَوْ غِنًى عَاجِلٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو فاقہ میں مبتلا ہو گیا اور پھر اس نے اس فاقے کو لوگوں پر پیش کر دیا تو اس کا فاقہ پورا نہیں ہو گا اور جس نے اس کو اللہ تعالیٰ پر پیش کیا تو وہ جلد ہی اس کو غنی کر دے گا، جلدی موت کی صورت میں یا جلدی غنی کی صورت میں۔
وضاحت:
فوائد: … جو ذات پوری مخلوق کی حاجات و ضروریات پوری کرنے پر قادر بھی ہے اور اپنی عطا کا دروازہ بھی بند نہیںکرتا، وہی اس صفت کے لائق ہے کہ حاجات و ضروریات میں اسی کو یاد کیا جائے۔ بادشاہوںکے پاس آنے والے ایک آدمی نے وہب بن منبہ نے کہا: وَیْحَکَ أَتَأْتِیْ مَنْ یُغْلِقُ عَنْکَ بَابَہٗوَیُوَارِیْ عَنْکَ غِنَاہُ وَتَدَعُ مَنْ یَفْتَحُ لَکَ بَابَہٗنِصْفَاللَّیْلِ وَ نِصْفَ النَّھَارِ وَیَظْھَرُ لَکَ غِنَاہُ … تیرے لیے ہلاکت ہو، کیا تو اس کے پاس آتا ہے، جو اپنا دروازہ تجھ سے بند کر لیتا ہے اور اپنے غِنٰی کو تجھ سے چھپاتا ہے اور تو اس کو چھوڑ دیتا ہے، جو نصف رات کو بھی تیرے لیے دروازہ کھولتا ہے اور نصف دن کو بھی اور تیرے لیے اپنے غِنٰی کا اظہار بھی کرتاہے؟
دراصل انسان اپنی مصلحتوں اور مضرتوں کو سمجھنے سے عاجز ہے، اس کا کام کوشش کرنا ہے، لہٰذا اس کو سمجھنا چاہیے کہ ضرورتوں کی تکمیل کا ذریعہ صرف یہ نہیں ہے کہ لوگوں سے سوال کرنا شروع کر دیا جائے، بلکہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کو پورے یقین کے ساتھ پکارا جائے۔
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے شیخ محمود سبکی (المنھل العذب: ۹/ ۲۸۳) کے کلام کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے کہا: اَجَلٌ عَاجِلٌ (جلد موت) کے دو مفہوم ہیں: (۱) محتاج کا کوئی قریبی فوت ہو جائے گا، جس کا یہ وارث بنے گا۔ (۲) محتاج خود فوت ہو جائے گا اور سرے سے مال سے مستغنی ہو جائے گا۔ غِنًی عَاجِلٍ کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے کسی نہ کسی طریقے سے خوشحال اور غنی کر دے گا۔ درج ذیل آیت میں اسی حدیث کا مصداق بیان کیا گیا ہے: {وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہٗمَخْرَجًا۔وَیَرْزُقُہٗ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ} (سورۂ طلاق: ۲، ۳) … اور جو اللہ تعالیٰ سے ڈرے گا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے (ابتلا و آزمائش سے) نکلنے کی راہ پیدا کر دے گا اور اسے وہاں سے رزق دے گا، جہاں سے اسے کوئی وہم و گمان نہیں ہو گا۔ (صحیحہ: ۲۷۸۷)
اس فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں یہ ترغیب ہے کہ حاجت و ضرورت کے وقت اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا جائے اور ہر ممکنہ صورت میںلوگوں کے سامنے دست ِ سوال پھیلانے سے بچا جائے، اسی میں زندگی کا لطف اور مزہ ہے۔
آج کل لوگوں نے اپنا معیارِ زندگی اپنی آمدن سے بلند کر دیا ہے، اب اس کو برقرار رکھنے کے لیے وہ کسی قسم کا حربہ استعمال کرنے سے دریغ نہیں کرتے۔ ہمیں چاہیے کہ اسبابِ زندگی کے مطابق اپنے قدم پھیلائیں اور اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرتے رہیں۔ اگر صبر و قناعت ہو تو سالن کی بجائے چٹنی اور اچار اور پراٹھوں کی بجائے سوکھی روٹی کھا کر، دس بارہ کی بجائے تین چار سوٹوں پر گزارا کر کے اور مہمانوںکو مہنگے اور پیاس نہ بجھانے والے مشروبات کی بجائے عام مشروبات پلا کر بھی اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کیا جا سکتا ہے اور جیب کے مطابق زندگی کا سرکل بھی چلایا جا سکتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9255
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3869»
حدیث نمبر: 9256
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُرِيَ الْأُمَمَ بِالْمَوْسِمِ فَرَاثَتْ عَلَيْهِ أُمَّتُهُ قَالَ فَأُرِيتُ أُمَّتِي فَأَعْجَبَنِي كَثْرَتُهُمْ قَدْ مَلَأُوا السَّهْلَ وَالْجَبَلَ فَقِيلَ لِي إِنَّ مَعَ هَؤُلَاءِ سَبْعِينَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ هُمُ الَّذِينَ لَا يَكْتَوُونَ وَلَا يَسْتَرْقُونَ وَلَا يَتَطَيَّرُونَ وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ قَالَ عُكَاشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَدَعَا لَهُ ثُمَّ قَامَ يَعْنِي آخَرَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مَعَهُمْ قَالَ سَبَقَكَ بِهَا عُكَاشَةُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حج کے زمانے میں امتیں دکھائی گئیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنی امت تاخیر سے دکھائی گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب میری امت مجھے دکھائی گئی تو اس کی کثرت نے مجھے تعجب میں ڈال دیا، ہموار جگہ کیا پہاڑ کیا، ہر جگہ کو بھرا ہوا تھا، پھر مجھے کہا گیا کہ ان کے ساتھ ستر ہزار افراد ایسے بھی ہیں، جو حساب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے، یہ وہ لوگ ہیں جو داغ نہیں لگواتے، دم نہیں کرواتے، برا شگون نہیں لیتے اور اپنے ربّ پر توکل کرتے ہیں۔ سیدنا عکاشہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ مجھے ان میں بنا دے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے لیے دعا کی، اتنے میں ایک اور آدمی کھڑا ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ مجھے بھی ان میں بنا دے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عکاشہ تجھ سے سبقت لے گیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … دم کروانا اور داغ لگوانا جائز ہے، لیکن ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ پر اتنا زیادہ توکل ہوتا ہے کہ وہ اپنے معاملے کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر کے جائز اسباب بھی استعمال نہیں کرتے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9256
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وله شاھد عن ابن عباس عند البخاري ومسلم، أخرجه ابويعلي: 5339، والطيالسي: 352، والبزار: 3539 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3819 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3819»
حدیث نمبر: 9257
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثُ طَوَائِرَ فَأَطْعَمَ خَادِمَهُ طَائِرًا فَلَمَّا كَانَ فِي الْغَدِ أَتَتْهُ بِهِ فَقَالَ لَهَا أَلَمْ أَنْهَكِ أَنْ تَرْفَعِي شَيْئًا فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَأْتِي بِرِزْقِ كُلِّ غَدٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تحفے میں تین پرندے پیش کیے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک پرندہ اپنے خادم کو کھلا دیا، اگلے دن خادمہ نے ایک پرندہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پیش کیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں نے تجھے اس چیز سے منع نہیں کیا تھا کہ کوئی چیز اگلے دن کے لیے نہ رکھا کر، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر دن کا رزق عطا کرتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9257
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ھلال بن سويد، قال البخاري: روي عن انس لا يدخر شيء لغد ولا يتابع عليه، وعدّ ه العقيلي وابن عدي في الضعفائ، أخرجه ابويعلي: 4223، والبيھقي في الشعب : 1347 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13043 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13074»
حدیث نمبر: 9258
عَنْ سَلَّامٍ أَبِي شُرَحْبِيلَ قَالَ سَمِعْتُ حَبَّةَ وَسَوَاءَ ابْنَيْ خَالِدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا مَا يَقُولَانِ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَعْمَلُ عَمَلًا أَوْ يَبْنِي بِنَاءً فَأَعَنَّاهُ عَلَيْهِ فَلَمَّا فَرَغَ دَعَا لَنَا وَقَالَ لَا تَيْأَسَا مِنَ الْخَيْرِ (وَفِي رِوَايَةٍ مِنَ الرِّزْقِ) مَا تَهَزَّزَتْ رُءُوسُكُمَا إِنَّ الْإِنْسَانَ تَلِدُهُ أُمُّهُ أَحْمَرَ لَيْسَ عَلَيْهِ قِشْرَةٌ ثُمَّ يُعْطِيهِ اللَّهُ وَيَرْزُقُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا حَبّہ اور سیدنا سواء رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک کام کر رہے تھے یا کوئی عمارت بنا رہے تھے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدد کی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے کام سے فارغ ہوئے تو ہمارئے لیے دعا کی اور فرمایا: جب تک تمہارے سر حرکت کرتے رہیں گے، اس وقت تک تم نے خیر اور رزق سے ناامید نہیں ہونا، بیشک جب انسان کو اس کی ماں جنم دیتی ہے تو اس پر باریک لباس تک نہیں ہوتا، لیکن پھر اللہ تعالیٰ اس کو عطا کرتا ہے اور رزق دیتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9258
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ھلال بن سويد، قال البخاري: روي عن انس لا يدخر شيء لغد ولا يتابع عليه، وعدّ ه العقيلي وابن عدي في الضعفائ، أخرجه ابويعلي: 4223، والبيھقي في الشعب : 1347 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13043 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15950»
حدیث نمبر: 9259
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أُحْصِي شَيْئًا وَأَكِيلُهُ قَالَ يَا أَسْمَاءُ لَا تُحْصِي فَيُحْصِي اللَّهُ عَلَيْكِ قَالَتْ فَمَا أَحْصَيْتُ شَيْئًا بَعْدَ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِي وَلَا دَخَلَ عَلَيَّ وَمَا نَفِدَ عِنْدِي مِنْ رِزْقِ اللَّهِ إِلَّا أَخْلَفَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے ، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس سے گزرے اور میں کوئی چیز گن رہی تھی اور اس کا ماپ کررہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسماء! گنا نہ کر، وگرنہ اللہ تعالیٰ بھی تجھ پر گننا شروع کر دے گا۔ سیدہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کے بعد میرے پاس جو رزق آیا اور جو خرچ ہوا، میں نے کبھی کسی چیز کو شمار نہیں کیا اور جس دن اللہ تعالیٰ کا جو رزق خرچ ہوا، اس نے اس کا متبادل عطا کر دیا۔
وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالیٰ پر توکل کر کے صدقہ کرنا اور یہ امید رکھنا کہ وہ اس کا بہترین صلہ عطا فرمائے گا، اگر مسلمان عملی طور پر یہ نظریہ قائم کر لے تو اللہ تعالیٰ اس کے ظن کے مطابق اس کو عطا کرتے رہتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ پر توکل کے بارے میں سب سے پر اثر آیتیہ ہے: {وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہٗمَخْرَجًا۔وَّیَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ وَمَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ فَھُوَ حَسْبُہٗ} … اورجواللہسےڈرےگاوہاسکےلیے نکلنے کا کوئی راستہ بنا دے گا۔اور اسے رزق دے گا جہاں سے وہ گمان نہیں کرتا اور جو کوئی اللہ پر بھروسا کرے تو وہ اسے کافی ہے۔ (سورۂ طلاق:۲، ۳)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9259
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه الطبراني في الكبير : 24/ 241، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26970 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27510»