کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سچائی اور امانت کی ترغیب کا بیان
حدیث نمبر: 9232
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ فَإِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ وَمَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَصْدُقُ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ صِدِّيقًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سچائی کو لازم پکڑو، پس بیشک سچائی نیکی کی طرف اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے اور بندہ سچ بولتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں صِدِّیق لکھ دیا جاتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … سچائی ممتاز انسانی خصائل حمیدہ میں سے ہے، یہ وہ صفت ہے،جس کی وجہ سے انسان خیر و بھلائی کی طرف مائل اور شرّ و فساد سے دور ہوتا ہے اور اسی وصف کی بدولت آدمی جھوٹ، دروغ گوئی، بدکلامی، فحش گوئی، سب و شتم، لعن طعن اور چغلی غیبت جیسے اوصاف ِ ذمیمہ سے اجتناب کرتاہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9232
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2607، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4108 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4108»
حدیث نمبر: 9233
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا عَمَلُ الْجَنَّةِ قَالَ الصِّدْقُ وَإِذَا صَدَقَ الْعَبْدُ بَرَّ وَإِذَا بَرَّ آمَنَ وَإِذَا آمَنَ دَخَلَ الْجَنَّةَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا عَمَلُ النَّارِ قَالَ الْكَذِبُ إِذَا كَذَبَ فَجَرَ وَإِذَا فَجَرَ كَفَرَ وَإِذَا كَفَرَ دَخَلَ يَعْنِي النَّارَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! جنت کے اعمال کون سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سچائی، جب بندہ سچ بولتا ہے تو نیکی کرتا ہے، جب نیکی کرتا ہے تو ایمان دار بن جاتا ہے اور جب ایماندار بنتا ہے تو جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آگ کے اعمال کون کون سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جھوٹ، جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو برائی کرتا ہے، جب برائی کرتا ہے تو کفر کرتا ہے اور جب کفر کرتا ہے تو آگ میں داخل ہو جاتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9233
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «تخريج صحيح لغيره ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6641 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6641»
حدیث نمبر: 9234
عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَتَّقِ اللَّهَ وَلْيَقُلْ حَقًّا أَوْ لِيَسْكُتْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ علقمہ بن عبد اللہ مزنی بعض صحابۂ کرام سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، اس کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور سچی بات کرے یا پھر خاموش رہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9234
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20285 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20551»
حدیث نمبر: 9235
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ يُقَالُ لَهُ يُوسُفُ قَالَ كُنْتُ أَنَا وَرَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ نَلِي مَالَ أَيْتَامٍ قَالَ وَكَانَ رَجُلٌ قَدْ ذَهَبَ عَنِّي بِأَلْفِ دِرْهَمٍ قَالَ فَوَقَعَتْ لَهُ فِي يَدِي أَلْفُ دِرْهَمٍ قَالَ فَقُلْتُ لِلْقُرَشِيِّ إِنَّهُ قَدْ ذَهَبَ لِي بِأَلْفِ دِرْهَمٍ وَقَدْ أَصَبْتُ لَهُ أَلْفَ دِرْهَمٍ قَالَ فَقَالَ الْقُرَشِيُّ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَدِّ الْأَمَانَةَ إِلَى مَنِ ائْتَمَنَكَ وَلَا تَخُنْ مَنْ خَانَكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ اہل مکہ میں سے یوسف نامی آدمی کہتا ہے: میں اور ایک قریشی آدمی کچھ یتیموں کے مال کی سرپرستی کرتے تھے، ہوا یوں کہ ایک آدمی (خیانت کرتے ہوئے) مجھ سے ایک ہزار درہم لے گیا، پھر اس کا ایک ہزار درہم میرے ہتھے لگ گیا، میں نے قریشی سے کہا: فلاں بندہ میرا ایک ہزار درہم لے گیا تھا، اب اس کا ایک ہزار درہم مجھے مل گیا تو کیا اب میں یہ رقم دبا لوں؟ اس نے کہا: میرے باپ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو تجھے امین بنائے تو تو اس کو اس کی امانت ادا کر دے اور اس کے ساتھ خیانت نہ کر، جس نے تجھ سے خیانت کی ہو۔
وضاحت:
فوائد: … شریعت تمام کی تمام امانت ہے، کسی کا تعلق اللہ تعالیٰ کے حقوق سے ہے اور کسی کا بندوں کے حقوق سے۔ شریعت ِ اسلامیہ میں امانت کی ادائیگی پر بہت زور دیا گیا ہے اور اس کی ادائیگی نہ کرنے والے کو منافق کہا گیا ہے۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ امانت مسلمان کا مستقل وصف ہونا چاہیے، نہ کسی کی امانت کے بدلے میں اس صفت کو اپنایا جائے اور نہ کسی کی خیانت کے عوض اس کو ترک کیا جائے۔ اس معاملے میں اپنے پرائے، امین و خائن اور مسلم و کافر کا کوئی لحاظ نہیں رکھا گیا، بلکہ ہر ایک کی امانت ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔ ہمارے ہاں انتقام لینے کی فضا عام ہے، مثلا اگر وقت کی حکومت اپنے حقوق ادا نہ کر رہی ہو تو عوام اس کی املاک کو نقصان پہنچانا شروع کر دیتے ہیں، مثلا بجلی اور گیس چوری کرنا، حکومت کی ملکیت کا کسی قسم کا مال چوری کرنا، ٹرین کے ذریعے سفر کرنے پر کرایہ نہ دینا، دفاتر، سکولز، کالجز اور مختلف حکومتی اداروں میں اپنی ذمہ داریاں ادا نہ کرنا، سرکاری زمینوں پر ناجائز قبضہ کرنا۔ شریعت میں یہ تمام گناہ کی بدترین اقسام ہیں۔ یہی معاملہ کسی انسان کی خیانت کے مقابلے میں اس سے خیانت کرنے کا ہے۔
قارئین کرام! غور فرمائیں کہ شریعت میں نیکی اور گناہ کا تعلق اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اور نافرمانی سے ہے، کسی کی دوستی اور دشمنی سے نہیں۔ درج ذیل حدیث پر غور فرمائیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَا تُصَرُّوا الْاِبِلَ وَالْغَنَمَ، فَمَنْ ابْتَاعَھَا بَعْدُ فَھُوَ بِخَیْرِ النَّظَرِیْنَ بَعْدَ اَنْ یَّحْلُبَھَا، اِنْ شَائَ اَمْسَکَھَا، وَاِنْ شَائَ رَدَّھَا وَصَاعًا مِّنْ تَمْرٍ۔)) (بخاری: ۲۱۵۱، مسلم: ۱۵۲۴) … اونٹنیوں اور بکریوں (کو فروخت کرتے وقت) ان کا دودھ مت روکو، اگر کوئی آدمی ایسا جانور خرید لیتا ہے تو اسے دودھ دوہنے کے بعد دو اختیار ہیں، اگر وہ چاہے تو اسے اپنے پاس رکھ لے اور چاہے تو واپس کر دے، لیکن اس کے ساتھ کھجوروں کا ایک صاع بھی واپس کرے۔
مسلم کی روایت میں ہے: ((فَھُوَ بِالْخِیَارِ ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ۔)) … اسے (واپس کرنے کا) تین دنوں تک اختیار ہے۔ دیکھیں کہ جانور بیچنے والے نے دھوکہ کیا اور دو تین دن جانور کو چارہ ڈالتا رہا، لیکن اس کا دودھ نہیں دوہا۔ جب خریدنے والے نے دودھ دوہ کر استعمال کر لیا اور ایک دو دنوں تک اس پر حقیقت ِ حال واضح ہو گئی تو شریعت نے اسے سودا واپس کرنے کا تین دن تک اختیار دیا ہے اورساتھ یہ حکم بھی دیا ہے کہ اگر وہ جانور واپس کرتا ہے تو کھجوروں کا ایک صاع بھی ساتھ واپس کرے، تاکہ بیچنے والا جو چارہ ڈالتا رہا، لیکن دودھ نہیں دوہا، اس کا عوض ہو جائے۔
سبحان اللہ! جانور کا دودھ روکنے والے نے ظلم کیا اور دھوکہ کیا، لیکن شریعت نے یہ بھی پسند نہیں کیا کہ اس کے دھوکے کے عوض اس کو نقصان پہنچایا جائے یا اس کے ساتھ زیادتی کی جائے، بلکہ یہ حکم صادر فرمایا کہ اس کے دھوکے کو اس پر چھوڑ دیا جائے اور اس کے چارے یا محنت کے عوض اس کو کھجوروں کا ایک صاع دے دیا جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9235
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «مرفوعه حسن لغيره، وھذا اسناد ضعيف لابھام ابن الصحابي الذي روي عنه يوسف، أخرجه ابوداود: 3534، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15424 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15502»
حدیث نمبر: 9236
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ سَمِعَ مِنْ رَجُلٍ حَدِيثًا لَا يَشْتَهِي أَنْ يُذْكَرَ عَنْهُ فَهُوَ أَمَانَةٌ وَإِنْ لَمْ يَسْتَكْتِمْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی آدمی سے کوئی بات سنی اور وہ آدمی یہ نہ چاہتا ہو کہ وہ بات اس کے حوالے سے ذکر کی جائے تو وہ بات امانت ہو گی، اگرچہ بات کرنے والا اس کو راز رکھنے کی ہدایت نہ کرے۔
وضاحت:
فوائد: … لیکنیہ بات تسلیم شدہ ہے کہ بندے کو خود بخود سمجھ جانا چاہیے کہ کون سی بات یا چیز امانت ہوتی ہے، ضروری نہیں کہ یہ تاکید کی جائے کہ فلاں بات امانت ہے، اس کا خیال رکھنا، درج ذیل مثال پر غور کریں: سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا حَدَّثَ الرَّجُلُ بِالْحَدِیْثِ ثُمَّ الْتَفَتَ فَھِیَ أَمانَۃٌ۔)) … جب کوئی آدمی بات کرے، پھر ادھر ادھر دیکھنے لگے (کہ کوئی سن یا دیکھ تو نہیں رہا) تو اس کی بات امانت ہو گی۔ (ابوداود: ۲/۲۹۷، ترمذي: ۱/۳۵۵)
امام مبارکپوری رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث ِ مبارکہ کی شرح کرتے ہوئے لکھا: اگر کوئی آدمی کسی دوسرے شخص کے ساتھ گفتگو کر رہا ہو اور وہ گفتگو کے دوران دائیں بائیں دیکھے، تو اس سے یہ سمجھنا پڑے گا کہ وہ ہ راز کی بات کرنا چاہتا ہے اور اسے دوسرے لوگوں سے مخفی رکھنا چاہتا ہے۔ ایسی گفتگو امانت ہو گی اور اس کو راز رکھنا واجب ہو گا۔ ابن ارسلان نے کہا: متکلم کے ادھر ادھر دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسے اس بات کا خطرہ ہے کہ کوئی اس کی بات سن نہ لے، وہ صرف اپنے ہم مجلس تک اپنے راز کو محفوظ رکھنا چاہتا ہے۔ دراصل وہ ادھر ادھر دیکھ کر اپنے مخاطَب کو یہ کہنا چاہتا ہے کہ وہ اس کی گفتگو سنے، اس کو راز اور امانت سمجھے۔ (تحفۃ الاحوذی)
لیکن ہمارے ہاں تو تاکید کے باوجودمخصوص مجالس کو امانت نہیں سمجھاجاتا اور بات کو بتنگڑ بنا کر نشر کر دیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9236
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف عبيد الله بن الوليد الوصافي، وعبدُ الله بن عبيد بن عمير لم يذكروا له سماعا من ابي الدرداء ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27509 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28059»