کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: شرم و حیا کی ترغیب دلانے اور اس چیز کا بیان کہ حیا خیر ہی لاتا ہے
حدیث نمبر: 9222
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ ((اسْتَحْيُوا مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حَقَّ الْحَيَاءِ)) قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَسْتَحِي وَالْحَمْدُ لِلَّهِ قَالَ ((لَيْسَ ذَلِكَ وَلَكِنَّ مَنِ اسْتَحْيَا مِنَ اللَّهِ حَقَّ الْحَيَاءِ فَلْيَحْفَظِ الرَّأْسَ وَمَا حَوَى وَالْبَطْنَ وَمَا وَعَى وَلْيَذْكُرِ الْمَوْتَ وَالْبِلَى وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ تَرَكَ زِينَةَ الدُّنْيَا فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدِ اسْتَحْيَا مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حَقَّ الْحَيَاءِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن فرمایا: اللہ تعالیٰ سے شرماؤ، جیسے اس سے شرمانے کا حق ہے۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ بیشک ہم اس سے شرماتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: معاملہ اس طرح نہیں ہے، جیسے تم نے سمجھ رکھا ہے، جو آدمی اللہ تعالیٰ سے کما حقہ شرمانا چاہتا ہو تو وہ سر کی اور ان چیزوں کی حفاظت کرے، جن کو سر نے سمیٹا ہوا ہے اور حفاظت کرے پیٹ کی اور ان چیزوں کی، جن پر پیٹ مشتمل ہے اور موت اور بوسیدگی کو یاد کرے اور جو آخرت کا ارادہ رکھتا ہے، وہ دنیا کی زینت چھوڑ دے، جس نے ایسے کیا، وہ اللہ تعالیٰ سے شرما گیا، جیسے اس سے شرمانے کا حق ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9222
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن، قاله الالباني، أخرجه الترمذي: 2458 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3671 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3671»
حدیث نمبر: 9223
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((الْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حیا، ایمان کا ایک شعبہ ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9223
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 9، ومسلم: 35، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9710 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9708»
حدیث نمبر: 9224
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((الْحَيَاءُ مِنَ الْإِيمَانِ وَالْإِيمَانُ فِي الْجَنَّةِ وَالْبَذَاءُ مِنَ الْجَفَاءِ وَالْجَفَاءُ فِي النَّارِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حیاء، ایمان سے ہے اور ایمان جنت میں (لے جانے والا) ہے اوربد کلامی و بد زبانی، اکھڑ مزاجی اور بدخلقی سے ہے اوراکھڑ مزاجی آگ میں(لے جانے والی) ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں جہاں شرم و حیا کو سراہا گیا اور ایمان کا جزو قرار دیا گیا ہے، وہاں بدکلامی اور بداخلاقی کی شدید مذمت بھی کی گئی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9224
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه الترمذي: 2009، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10512 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10519»
حدیث نمبر: 9225
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((مَا كَانَ الْفُحْشُ فِي شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا شَانَهُ وَلَا كَانَ الْحَيَاءُ فِي شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا زَانَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بدزبانی اور بدگوئی جس چیز میں ہو گی، اس کو عیب دار بنا دے گی اور حیا جس چیز میں ہو گا، اس کو خوبصورت بنا دے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9225
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه ابن ماجه: 4185،و الترمذي: 1974 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12689 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12719»
حدیث نمبر: 9226
عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْحَيَاءَ وَالسِّتْرَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنایعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ حیا اور پردے کو پسند کرتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9226
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لانقطاعه، عطاء لم يسمع من يعلي، وابن ابي ليلي ضعيف ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17968 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18131»
حدیث نمبر: 9227
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((الْحَيَاءُ خَيْرٌ كُلُّهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حیاسارے کا سارا خیر و بھلائی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9227
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه الطيالسي: 854،و الطبراني في الكبير : 18/ 502، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19817 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20055»
حدیث نمبر: 9228
عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَعِظُ أَخَاهُ فِي الْحَيَاءِ فَقَالَ ((الْحَيَاءُ مِنَ الْإِيمَانِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سنا کہ ایک آدمی اپنے بھائی کو حیا کے بارے کچھ نصیحت کر رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حیا، ایمان میں سے ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9228
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6118، ومسلم: 59 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4554 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4554»
حدیث نمبر: 9229
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((الْحَيَاءُ وَالْعِيُّ شُعْبَتَانِ مِنَ الْإِيمَانِ وَالْبَذَاءُ وَالْبَيَانُ شُعْبَتَانِ مِنَ النِّفَاقِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حیا اور کلام پر عدم قدرت ایمان کے دو شعبے ہیں اوربد کلامی اور کلام پر قدرت نفاق کے دو شعبے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9229
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح دون قوله العي والبيان ، وھذا اسناد ضعيف لانقطاعه بين حسان بن عطية وبين ابي امامة، أخرجه الترمذي: 2027، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22312 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22668»
حدیث نمبر: 9230
عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا السَّوَّارِ الْعَدَوِيَّ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ الْخُزَاعِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ((الْحَيَاءُ لَا يَأْتِي إِلَّا بِخَيْرٍ)) فَقَالَ بُشَيْرُ بْنُ كَعْبٍ مَكْتُوبٌ فِي الْحِكْمَةِ إِنَّ مِنْهُ وَقَارًا وَمِنْهُ سَكِينَةً فَقَالَ عِمْرَانُ أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَتُحَدِّثُنِي عَنْ صُحُفِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حیا صرف خیر وبھلائی کو لاتا ہے۔ بشیر بن کعب نے کہا: حکمت میں لکھا ہوا ہے کہ حیا کی بعض صورتیں باعث ِ وقار اور بعض باعث ِ سکینت ہوتی ہیں، سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کر رہا ہوں اور تو اپنے صحیفوں سے بیان کرتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9230
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6117، ومسلم: 37 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19830 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20068»
حدیث نمبر: 9231
عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ بُشَيْرِ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْحَيَاءُ خَيْرٌ كُلُّهُ فَقَالَ بُشَيْرٌ فَقُلْتُ إِنَّ مِنْهُ ضَعْفًا وَإِنَّ مِنْهُ عَجْزًا فَقَالَ أَحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَتَجِيئُنِي بِالْمُعَارِضِ لَا أُحَدِّثُكَ بِحَدِيثٍ مَا عَرَفْتُكَ فَقَالُوا يَا أَبَا نُجَيْدٍ إِنَّهُ طَيِّبُ الْهَوَى وَإِنَّهُ وَإِنَّهُ فَلَمْ يَزَالُوا بِهِ حَتَّى سَكَنَ وَحَدَّثَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حیا سارے کا سارا خیر و بھلائی ہی ہے۔ بُشَیر نے کہا: حیا کی بعض صورتوں میں کمزوری اور بعض میں عاجزی ہوتی ہے، لیکن انھوں نے کہا: میں تجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کرتا ہوں اور تم احادیث کی مخالف چیزیں پیش کرتے ہو، آئندہ میں جب تک تجھے پہچانتا رہوں گا، ایک حدیث بھی بیان نہیں کروں گا، لیکن لوگوں نے کہا: یہ اچھی طبیعت کا آدمی ہے اور اس میں فلاں فلاں خوبی بھی ہے، بہرحال لوگ اس کی صفات شمار کرتے رہے، یہاں تک کہ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ سکون میں آگئے اور احادیث بیان کرنے لگے۔
وضاحت:
فوائد: … اچھی طرح ذہن نشین کر لیں کہ حیا سے مراد وہ شرم و جھجک اور وقار وسنجیدگی نہیں جس کا تعین موجودہ معاشرہ کرتا ہے، شریعت کی روشنی میں حیا سے مراد اخلاق حسنہ کا وہ پہلو ہے جو برے اقوال و افعال سے اجتناب کرنے اور کسی مستحق کے حق میں کوتاہی برتنے سے باز رہنے پر آمادہ کرتا ہے۔ اس مفہوم میں حیا کو ایمان کی ایک شاخ قرار دیا گیا ہے، کیونکہ ایسا حیا خیر ہی خیر ہے، جو انسان کو دھوکہ، فریب دہی اور جعل سازی وغیرہ جیسے غلط کاموں سے محفوظ ومامون رکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حیا، خیر وبھلائی کا ہی نام ہے۔
(بخاری:۶۱۱۷، مسلم: ۳۷)
معلوم ہوا کہ شریعت پر عمل پیرا ہونے کو حیا کہتے ہیں، لہٰذا مسلمان کو مجسمۂ حیا ہو نا چاہئے، وہ اپنے تہذیب وتمدن، کلچر و ثقافت، چلن پھرن، اٹھک بیٹھک، نقل و حرکت، بول چال، خورد ونوش، میل ملاپ، دوستی و دشمنی، خوشی وغمی، غرضیکہ تمام معاملات میں شرم و حیا کا پیکر بن کر سامنے آئے۔
حیا، حسنِ اخلاق کا اتنا اہم پہلو ہے کہ پہلی شریعتوں میں بھی اس کو بحال رکھا گیا۔
سیدنا ابو مسعود بدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((آخِرُمَا أدْرَکَ النَّاسُ مِنْ کَلَامِ النُّبُوَّۃِ الأوْلٰی: إذَا لَمْ تَسْتَحْیِ فَاصْنَعْ مَاشِئْتَ۔)) (صحیحہ:۶۸۴) … پہلی نبوت کے کلام سے لوگوں کو آخری بات یہ ملی ہے کہ جب تجھے حیا نہ رہے تو جو چاہے کرتا پھرے۔
شریعت مطہرہ میں جس حیا کی تعریف کی گئی ہے، حافظ ابن حجر نے اس کی توضیحیوں کی ہے: وَفِیْ الشَّرْعِ: خُلُقٌ یَبْعَثُ عَلٰی اجْتِنَابِ الْقَبِیْحِ وَیَمْنَعُ مِنَ التَّقْصِیْرِ فِیْ حَقِّ ذِیْ الْحَقِّ۔ (فتح الباری: ۱/۷۲) …
شریعت میں (حیا سے مراد)وہ خصلت ہے جو قبیح چیز سے اجتناب کرنے اور کسی حقدار کے حق میں کمی کرنے سے باز رہنے پر آمادہ کرے۔
اس مفہوم میں حیا ایسی عظیم صفت ہے، جو منکرات و سیئات سے پرہیز کرنے اور تزکیہ نفس میں مؤمن کی سب سے بڑی معاون ہے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق کی پاسداری کرنے پر ابھارتی ہے اور ان میںکسی قسم کی کم و کاست کرنے سے روکتی ہے۔
مذکورہ حدیث میں … مِنْ کَلَامِ النُّبُوَّۃِ الْاُوْلٰی سے مراد یہ ہے تمام انبیا و رسل کی شریعتوں میں شرعی حیا کی اہمیت بحال رہی۔
اس حدیث ِ مبارکہ میں باحیا ہونے کی ترغیب دلائی گئی ہے، یعنی جب کوئی انسان حیائے شرعی کو ترک کر دیتا ہے تو وہ طبعی طور پر ایسے دہانے پر کھڑا ہو جاتاہے،جہاں ہر قسم کی برائی کا ارتکاب ممکن ہوتا ہے۔ اس حدیث پر اسلام کا مدار ہے، کیونکہیہ حیا ہی ہے کہ جس کی بنا پر مومن فرض اور مستحب کو ترک کرنے سے اور حرام اور مکروہ کا ارتکاب کرنے سے شرماتا ہے۔ نیزیہ بھی اشارہ ملتا ہے جو آدمی استطاعت کے باوجود کوئی نیکی کرنے یا کسی برائی سے باز آنے کے سلسلے میں لوگوں سے شرم محسوس کرتا ہے، تو اسے حیادار نہیں کہا جا سکتا، بلکہ وہ بزدل اور ضعیف الایمان ہے، جو شریعت کی روشنی میں بے حیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9231
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه: مسلم: 37، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19972 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20214»