کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اللہ کی مخلوق پر رحم کرنے کی ترغیب اور ایسا کرنے والے کے ثواب¤اور مخلوق پر رحم نہ کرنے والے کی وعید کا بیان
حدیث نمبر: 9211
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَأَذْبَحُ الشَّاةَ وَإِنِّي أَرْحَمُهَا أَوْ قَالَ إِنِّي لَأَرْحَمُ الشَّاةَ أَنْ أَذْبَحَهَا فَقَالَ وَالشَّاةَ إِنْ رَحِمْتَهَا رَحِمَكَ اللَّهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا قرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں تو جب بکری کو ذبح بھی کرتا ہوں تو اس پر رحم کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو بکری پر رحم کرے گا تو اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم کرے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9211
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه الحاكم: 4/ 231، وابن ابي شيبة: 8/ 527، والطبراني في الكبير : 19/ 45 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15592 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15677»
حدیث نمبر: 9212
عَنْ جَرِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَا يَرْحَمْ لَا يُرْحَمْ وَمَنْ لَا يَغْفِرْ لَا يُغْفَرْ لَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا اور جو نہیں بخشتا، اس کو نہیں بخشا جاتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9212
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه الطيالسي: 661، والطبراني في الكبير : 2477، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19244 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19457»
حدیث نمبر: 9213
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا وَيُعَرِّفْ حَقَّ كَبِيرِنَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ ہم میں سے نہیں ہے، جو ہمارے کم سن پر رحم نہیں کرتا اور ہمارے بڑے کے حق کو نہیں پہچانتا۔
وضاحت:
فوائد: … اسلام اس لحاظ سے یکتا و یگانہ حیثیت کا مالک ہے کہ اس نے بزرگو ں کے احترام و اکرام اور چھوٹوں سے محبت و شفقت کرنے پر سب سے زیادہ زور دیا ہے۔ کوئی مذہب بسیار کوشش کے باوجود اپنے پیروکاروں کے دلوں میں بڑوں کے احترام اور چھوٹوں سے شفقت کے جذبات پیدا نہ کر سکا۔ مغربی تہذیب تو اخلاقِ حسنہ سے اس قدر عاری ہے کہ وہاں بڑی عمر کے لوگوں کو (Ol رضی اللہ عنہما Hous s) میں جمع کر کے ان کو زندگی کے حقیقی لطف اور اپنے بچوں پہ نگاہِ شفقت ڈالنے سے محروم کر دیا جاتا ہے، جبکہ اسلام اس فرد کو اپنے تمدن کا باشندہ ہی نہیں سمجھتا جو بزرگوں کی بزرگی اور بچوں سے حسن ِ سلوک کا لحاظ نہیں کرتا۔
((لَیْسَ مِنَّا))کے لفظی معانی وہ ہم میں سے نہیں کے ہیں،یہ جملہ کسی شخص سے نفرت، بیزاری اور براء ت کا اظہار کرنے کے لیے بولا جاتا ہے، اس جملہ کے مفہوم سے چند احتمالات پیدا ہوتے ہیں کہ وہ ہم میں سے نہیں سے کیا مراد ہے؟ کیا اس کا معنییہ ہے کہ اس کا تعلق ہماری امت سے نہیںیا وہ صادق اور کامیاب مسلمانوں میں سے نہیںیا وہ ہمارے طریقے پر نہیںیا وہ ہمارے حکم اور فیصلے پر نہیںیا وہ ان لوگوں میں سے ہے جو ہماری سفارش کے مستحق نہیں؟
اس سلسلہ میں محدثین کرام اور سلف صالحین کی توجیہات و تشریحات کا مطالعہ فرمائیں۔
۱۔حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ، عبدالرحمن مبارکپوری رحمتہ اللہ علیہ اوردیگر کئی اہل علم کہتے ہیں: لیس منا ای من اھل سنتنا و طریقتنا، ولیس المراد بہ اخراجہ عن الدین، ولکن فائدۃ ایرادہ بھذا اللفظ المبالغۃ فی الردع عن الوقوع فی مثلِ ذلک … وہ ہم میں سے نہیں سے مراد یہ ہے کہ وہ ہماری سنت اور طریقے پر نہیں،اس سے مراد اس آدمی کو دین ِ اسلام سے خارج کرنا نہیں، ان الفاظ کا فائدہ ایسی برائیوں سے ڈانٹ ڈپٹ کرنا ہے۔
۲۔ بعض اہل علم کہتے ہیں: فَلَیْسَ مِنَّا أیْ لَیْسَ عَلٰی دِیْنِنَا الکامِلِ۔ … ہم میں سے نہیں سے مراد یہ ہے کہ وہ ہمارے مکمل دین پر نہیں، بلکہ اس کا دین ناقص ہے)۔
۳۔ بعض علمائے دین کہتے ہیں: لیس منا ای لیس من أدبنا أولیس مِثْلَنَا۔ … وہ ہم میں سے نہیں سے مراد یہ ہے کہ وہ ہمارے (معینہ) آداب پر نہیںیا وہ ہماری طرح کا (مکمل) مسلمان نہیں۔
جبکہ امام سفیان بن عینیہ رحمتہ اللہ علیہ مذکورہ بالا تمام مفاہیم و مطالب کو ناپسند کرتے تھے اور کہتے تھے کہ حدیث میں وارد ہونے والے ایسے الفاظ کی تاویل کرنے سے باز رہنا چاہئے تاکہ لوگوں کے قلوب و اذہان میں اس کا اثر بھی زیادہ ہو اور لوگوں کو ایسے جرائم سے باز رہنے کا فائدہ بھی ہو۔
بہرحالیہ الفاظ متعلقہ امر کی قباحت و شناعت پر دلالت کرتے ہیں،یہ الفاظ صاحب ِ شریعت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے بہت سخت وعید ہیں، ایسے امور سے اجتناب کرنے کی ہر ممکنہ کوشش کرنی چاہئے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9213
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 4943، والترمذي: 1920، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6733 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6733»
حدیث نمبر: 9214
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ مَنْ لَا يَرْحَمُ النَّاسَ لَا يَرْحَمُهُ اللَّهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ اس پر رحم نہیں کرتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9214
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح لغيره، أخرجه الترمذي: 2381، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11362 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11382»
حدیث نمبر: 9215
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ كَانَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي بَعْثٍ بِأَرْمِينِيَّةَ قَالَ فَأَصَابَتْهُمْ مَخْمَصَةٌ أَوْ مَجَاعَةٌ قَالَ فَكَتَبَ جَرِيرٌ إِلَى مُعَاوِيَةَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ لَمْ يَرْحَمِ النَّاسَ لَا يَرْحَمُهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَأَتَاهُ فَقَالَ أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَأَقْفَلَهُمْ وَمَتَّعَهُمْ قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ وَكَانَ أَبِي فِي ذَلِكَ الْجَيْشِ فَجَاءَ بِقَطِيفَةٍ مِمَّا مَتَّعَهُ مُعَاوِيَةُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو اسحاق کہتے ہیں: سیدنا جریر بن عبد اللہ بَجَلی رضی اللہ عنہ ارمینیہ کے مقام پر ایک لشکر میں موجود تھے، وہ لشکر بھوک میں مبتلا ہو گیا، سیدنا جریر رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف خط لکھا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ اس پر رحم نہیں کرتا۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کو بلایا، پس جب وہ آئے تو انھوں نے کہا: کیا تم نے یہ حدیث واقعی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، پس انھوں نے سازو سامان کے ساتھ ان کو واپس کیا۔ ابو اسحق کہتے ہیں: میرے باپ بھی اس لشکر میں تھے، وہ بھی اس سامان میں سے ایک چادر لائے تھے، جو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھیجا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9215
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «مرفوعه صحيح، وھذا اسناد اختلف فيه علي ابي اسحاق، أخرج المرفوع منه مسلم: 2319، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19194 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19408»
حدیث نمبر: 9216
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى مِنْبَرِهِ يَقُولُ ((ارْحَمُوا تُرْحَمُوا وَاغْفِرُوا يَغْفِرِ اللَّهُ لَكُمْ وَيْلٌ لِأَقْمَاعِ الْقَوْلِ وَيْلٌ لِلْمُصِرِّينَ الَّذِينَ يُصِرُّونَ عَلَى مَا فَعَلُوا وَهُمْ يَعْلَمُونَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منبر پر فرمایا: رحم کرو، تم پر رحم کیا جائے گا، بخشو، اللہ تعالیٰ تم کو بخش دے گا، ان سنی کر دینے والوں کے لیے ہلاکت ہے، اصرار کرنے والوں کے لیے بھی ہلاکت ہے جو جاننے بوجھنے کے باجود اپنے برے افعال پر ڈٹے رہتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالیٰ کی ذات رحم کرنے اور بخشنے سے بدرجۂ اتم و اکمل متصف ہے،لیکن جو انسان، اللہ تعالیٰ کی مخلوقات کے حق میں ان دو صفات سے متصف ہو کر رحمدلی اور معافی کا معاملہ نہیں کرتا، اس کا اللہ تعالیٰ کی ان دو صفات سے بھی کوئی خاص تعلق نہیں ہوتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9216
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه البيھقي في الشعب : 7236، والبخاري في الأدب المفرد : 380 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7041 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7041»
حدیث نمبر: 9217
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ الصَّادِقَ الْمَصْدُوقَ أَبَا الْقَاسِمِ صَاحِبَ الْحُجْرَةِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ((لَا تُنْزَعُ الرَّحْمَةُ إِلَّا مِنْ شَقِيٍّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے صادق و مصدوق اور اس حجرے والے ابو القاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ رحمت کو صرف اس سے چھین لیا جاتا ہے، جو بد بخت ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9217
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 4942، والترمذي: 1924 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8001 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7988»
حدیث نمبر: 9218
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ دَخَلَ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَآهُ يُقَبِّلُ حَسَنًا أَوْ حُسَيْنًا فَقَالَ لَهُ لَا تُقَبِّلْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ وُلِدَ لِي عَشَرَةٌ مَا قَبَّلْتُ أَحَدًا مِنْهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((مَنْ لَا يَرْحَمْ لَا يُرْحَمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ سیدنا عیینہ بن حصن رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تشریف لائے اور دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا حسن رضی اللہ عنہ یا سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا بوسہ لے رہے تھے، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان کا بوسہ نہ لیں، میرے تو دس بچے ہیں، میں نے تو کسی کا بوسہ نہیں لیا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9218
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5997، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7121 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7121»
حدیث نمبر: 9219
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُقَبِّلُ الصِّبْيَانَ فَوَاللَّهِ مَا نُقَبِّلُهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((مَا أَمْلِكُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ نَزَعَ مِنْ قَلْبِكَ الرَّحْمَةَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک بدّو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ بچوں کا بوسہ لیتے ہیں؟ اللہ کی قسم! ہم تو ان کا بوسہ نہیں لیتے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تیرے دل کو رحمت سے محروم کر دیا ہے تو میں کچھ نہیں کر سکتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9219
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5998، ومسلم: 2317 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24291 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24795»
حدیث نمبر: 9220
عَنْ خَالِدِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ تَنَاوَلَ أَبُو عُبَيْدَةَ رَجُلًا بِشَيْءٍ فَنَهَاهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالُوا أَغْضَبْتَ الْأَمِيرَ فَأَتَاهُ فَقَالَ إِنِّي لَمْ أُرِدْ أَنْ أُغْضِبَكَ وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ((إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا لِلنَّاسِ فِي الدُّنْيَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ خالد بن حکیم بن حزام کہتے ہیں: سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے کسی وجہ سے ایک آدمی کو سزا دی، لیکن سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ان کو منع کر دیا، لوگوں نے کہا: تم نے امیر کو غصہ دلا دیا ہے، پس وہ اُن کے پاس گئے اور کہا: آپ کو غصہ دلانا میرا ارادہ نہیں تھا، لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ قیامت والے دن سب سے سخت عذاب اس کو دیا جائے گا، جو دنیا میں لوگوں کو سخت عذاب میں مبتلا کرتاہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9220
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، خالد بن حكيم مختلف فيه صحبته ، ثم انه اختلف فيه علي عمرو بن دينار، أخرجه الطيالسي: 1157، والحميدي: 562، والطبراني في الكبير : 3824 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16819 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16943»
حدیث نمبر: 9221
عَنْ عَرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ هِشَامِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ أَنَّهُ مَرَّ بِأُنَاسٍ مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ قَدْ أُقِيمُوا فِي الشَّمْسِ بِالشَّامِ فَقَالَ مَا هَؤُلَاءِ قَالُوا بَقِيَ عَلَيْهِمْ شَيْءٌ مِنَ الْخَرَاجِ فَقَالَ إِنِّي أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ((إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُعَذِّبُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُعَذِّبُونَ النَّاسَ)) قَالَ وَأَمِيرُ النَّاسِ يَوْمَئِذٍ عُمَيْرُ بْنُ سَعْدٍ عَلَى فِلَسْطِينَ قَالَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ فَحَدَّثَهُ فَخَلَّى سَبِيلَهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ہشام حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ کچھ ایسے ذمّی لوگوں کے پاس سے گزرے، جن کو شام میں دھوپ میں کھڑا کیا گیا تھا، انھوں نے کہا: انھوں نے کیا کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: ان پر لاگو کیا گیا کچھ خراج باقی ہے، انھوں نے کہا:بیشک میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بیشک اللہ تعالیٰ قیامت والے دن ان لوگوں کو عذاب دے گا جو آج لوگوں کو سزائیں دیتے ہیں۔ اس وقت فلسطین کے امیر عمیر بن سعد تھے، سیدنا حکیم رضی اللہ عنہ اُن کے پاس گئے اور ان کو یہ حدیث بیان کی، پس انھوں نے ان کو چھوڑ دیا۔
وضاحت:
فوائد: … مذکورہ بالا احادیث ِ مبارکہ کا مفہوم انتہائی واضح ہے، مسلمان کو رحمدلی اور نرم دلی جیسی صفت سے متصف ہو کر اپنے معاملات کو ڈیل کرنا چاہیے، ہر طرح کی ظلم و زیادتی سے اجتناب کرنا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9221
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2613 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15330 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15405»