کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: صلہ رحمی کی ترغیب کا بیان
حدیث نمبر: 9049
۔ عَنْ عَلِیٍّ رضی اللہ عنہ عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ: ((مَنْ سَرَّہُ اَنْ یُمَدَّ لَہُ فِیْ عُمُرِہِ وَیُوْسَعَ لَہُ فِیْ رِزْقِہِ، وَیُدَفَعَ عَنْہُ مِیْتَۃُ السُّوْئِ، فَلْیَتَّقِ اللّٰہَ، وَلْیَصِلْ رَحِمَہُ۔))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کو یہ بات اچھی لگتی ہے کہ اس کی عمر لمبی کر دی جائے اور اس کے رزق میں اضافہ کر دیا جائے اور بری موت کو اس سے دفع کر دیا جائے تو وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور صلہ رحمی کرے۔
وضاحت:
فوائد: … ایک طرف تو ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ اَجَلٌ فَاِذَا جَائَ اَجَلُہُمْ لَا یَسْـتَاْخِرُوْنَ سَاعَۃً وَّلَا یَسْتَقْدِمُوْنَ} … اور ہر امت کے لیے ایک وقت ہے، پھر جب ان کا وقت آجاتا ہے تو وہ ایک گھڑی نہ پیچھے ہوتے ہیں اور نہ آگے ہوتے ہیں۔ (سورۂ اعراف: ۳۴)
دوسری طرف یہ حدیث ِ مبارکہ ہے کہ تقوی اور صلہ رحمی کی وجہ سے عمر میں اضافہ ہو جاتا ہے، جمع و تطبیق کی درج ذیل دو صورتیں ہیں: ۱۔ عمر کی زیادتی سے مراد بابرکت زندگی ہے، یعنی تقوی اختیار کرنے والا اور صلہ رحمی کرنے والا مسلمان اپنی مختصر زندگی میں اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اس کی اطاعت کے اتنے امور سرانجام دے لیتا ہے کہ عام لوگ اتنا کچھ کر سکنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔
۲۔ زیادتی سے مراد زیادتی ہی ہے، لیکن اس کا تعلق عمر سے متعلقہ فرشتے سے ہے، یعنی اس فرشتے سے کہا جاتا ہے کہ اگر فلاں آدمی صلہ رحمی اختیار کرے تو اس کی عمر نوے برس ہو گی، وگرنہ ساٹھ برس، جبکہ اللہ تعالیٰ کو علم ہے کہ اس بندے نے صلہ رحمی اختیار کرنی ہے یا نہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9049
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده قوي، أخرجه البزار: 693، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1213 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»
حدیث نمبر: 9050
۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی اللہ عنہ ، عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مِثْلُہُ۔
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9050
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13401 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»
حدیث نمبر: 9051
عَنْ ثَوْبَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ مولائے رسول سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9051
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
حدیث نمبر: 9052
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَعَلَّمُوا مِنْ أَنْسَابِكُمْ مَا تَصِلُونَ بِهِ أَرْحَامَكُمْ فَإِنَّ صِلَةَ الرَّحِمِ مَحَبَّةٌ فِي الْأَهْلِ مَثْرَاةٌ فِي الْمَالِ مَنْشَأَةٌ فِي أَثَرِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے نسبوں کے بارے میں اتنا علم تو حاصل کر لو کہ جس کے ذریعے آپس میں صلہ رحمی اختیار کر سکو، کیونکہ صلہ رحمی سے قرابتداروں میں محبت پیدا ہوتی ہے، مال میں برکت ہوتی ہے اور عمر میں اضافہ ہوتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … نسب کے علم کے ذریعے ہی پتہ چلے گا کہ کون قریبی رشتہ دار ہے اور کون دور کا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9052
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه الترمذي: 1979، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8868 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8855»
حدیث نمبر: 9053
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الرَّاحِمُونَ يَرْحَمُهُمُ الرَّحْمَنُ ارْحَمُوا أَهْلَ الْأَرْضِ يَرْحَمْكُمْ أَهْلُ السَّمَاءِ وَالرَّحِمُ شَجْنَةٌ مِنَ الرَّحْمَنِ مَنْ وَصَلَهَا وَصَلْتُهُ وَمَنْ قَطَعَهَا بَتَتُّهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صلہ رحمی کرنے والوں پر رحمن رحم کرتا ہے، تم اہل زمین پر رحم کرو، آسمان والے تم پر رحم کریں گے، رحم (رشتہ داری) رحمن کی شاخ ہے، جو اس کو ملاتا ہے، میں اس کو ملاتا ہوں اور جو اس کو کاٹتا ہے، میں اس کو کاٹ دیتا ہوں ۔
وضاحت:
فوائد: … آسمانوں والوں سے مراد فرشتے ہیں اور ان کی رحمت سے مقصود رحمت کی دعا کرنا ہے۔ (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9053
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه الترمذي: 1924، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6494 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6494»
حدیث نمبر: 9054
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الرَّحِمَ مُعَلَّقَةٌ بِالْعَرْشِ وَلَيْسَ الْوَاصِلُ بِالْمُكَافِئِ وَلَكِنَّ الْوَاصِلَ الَّذِي إِذَا انْقَطَعَتْ رَحِمُهُ وَصَلَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہمایہ بھی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صلہ رحمی عرش کے ساتھ لٹکی ہوئی ہے اور وہ شخص صلہ رحمی کرنے والا نہیں ہے، جو بدلے میں یہ عمل کر رہا ہو (اصل اور کامل درجے میں)، صلہ رحمی کرنے والا تو وہ ہے کہ جب اس کا رشتہ کٹ رہا ہو تو وہ اس کو جوڑ رہا ہو۔
وضاحت:
فوائد: … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((الرَّحِمُ مُعَلَّقَۃٌ بِالْعَرْشِ تَقُولُ مَنْ وَصَلَنِی وَصَلَہُ اللّٰہُ وَمَنْ قَطَعَنِی قَطَعَہُ اللّٰہُ)) … رشتہ داری عرش کے ساتھ معلق ہے اور وہ کہتی ہیں: جس نے مجھے ملایا، اللہ تعالیٰ اس کو ملا لے اور جس نے مجھے توڑا، اللہ تعالیٰ اس کو کاٹ دے۔ (صحیح مسلم: ۴۶۳۵)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9054
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه ابن ابي شيبة: 8/539، وابن حبان: 445 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6524 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6524»
حدیث نمبر: 9055
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي ذَوِي أَرْحَامٍ أَصِلُ وَيَقْطَعُونَنِي وَأَعْفُو وَيَظْلِمُونَنِي وَأُحْسِنُ وَيُسِيئُونَنِي أَفَأُكَافِئُهُمْ قَالَ لَا إِذًا تُتْرَكُونَ جَمِيعًا وَلَكِنْ خُذْ بِالْفَضْلِ وَصِلْهُمْ فَإِنَّهُ لَنْ يَزَالَ مَعَكَ ظَهِيرٌ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا كُنْتَ عَلَى ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرے کچھ رشتہ دار ہیں، میں ان سے صلہ رحمی کرتا ہوں اور وہ مجھ سے قطع رحمی کرتے ہیں، میں ان کو معاف کرتا ہوں، لیکن وہ مجھ پر ظلم کرتے ہیں اور میں ان کے ساتھ احسان کرتا ہوں، لیکن وہ مجھ سے برے طریقے سے ہی پیش آتے ہیں، اب میں ان کو ان امور کا بدلہ دے سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں، پھر تو تم سب کو چھوڑ دیا جائے گا، تم فضیلت والے عمل کا اہتمام کرو اور ان سے صلہ رحمی کرو، پس بیشک تو جب تک اس روٹین پر برقرار رہے گا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے تیرے ساتھ ایک مددگار ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9055
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6700 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6700»
حدیث نمبر: 9056
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي قَرَابَةً أَصِلُهُمْ وَيَقْطَعُونَ وَأُحْسِنُ إِلَيْهِمْ وَيُسِيئُونَ إِلَيَّ وَأَحْلُمُ عَنْهُمْ وَيَجْهَلُونَ عَلَيَّ قَالَ لَئِنْ كُنْتَ كَمَا تَقُولُ كَأَنَّمَا تُسِفُّهُمُ الْمَلَّ وَلَا يَزَالُ مَعَكَ مِنَ اللَّهِ ظَهِيرٌ عَلَيْهِمْ مَا دُمْتَ عَلَى ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے کچھ قرابت دار ہیں، میں تو ان سے صلہ رحمی کرتا ہوں، لیکن وہ قطع رحمی کرتے ہیں، میں ان کے ساتھ احسان کرتا ہوں، لیکن وہ مجھ سے برا سلوک کرتے ہیں اور میں ان سے بردباری سے پیش آتا ہوں، لیکن وہ جہالت برتتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر بات ایسے ہی ہے، جیسے تو کہہ رہا ہے تو گویا تو ان کو گرم راکھ کھلا رہا ہے اور جب تک تو اس عمل پر قائم رہے گا، ان کی مخالفت میں تیرے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک مدد گار ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … گرم راکھ چبوانے کامطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کو اس برتاؤ کی وجہ سے گویا شدید نفسیاتی اور معاشرتی تکلیف سے دو چار کرنے کا انداز ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9056
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2558، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7992 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7979»
حدیث نمبر: 9057
عَنْ دُرَّةَ بِنْتِ أَبِي لَهَبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَامَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ النَّاسِ أَقْرَؤُهُمْ وَأَتْقَاهُمْ وَآمَرُهُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَأَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأَوْصَلُهُمْ لِلرَّحِمِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ دُرّہ بنت ابی لہب رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچا، جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پرتھے اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سے لوگ بہترہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں بہتر وہ ہے جو سب سے زیادہ قرآن پڑھنے والے، سب سے زیادہ تقوی والے، سب سے زیادہ نیکی کا حکم دینے والے، سب سے زیادہ برائی سے منع کرنے والے اور سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9057
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، أخرجه ابن ابي شيبة: 8/ 539 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27434 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27980»
حدیث نمبر: 9058
عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّدَقَاتِ أَيُّهَا أَفْضَلُ قَالَ عَلَى ذِي الرَّحِمِ الْكَاشِحِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صدقات کے بارے میں سوال کیا کہ کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس رشتہ دار پر جو دل میں عداوت چھپانے والا ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9058
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه الدارمي: 1/ 397،و الطبراني في الكبير : 3126 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15320 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15394»
حدیث نمبر: 9059
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بھی اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9059
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه الطبراني في الكبير : 4015، وفي الاوسط : 3303 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23530 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23927»
حدیث نمبر: 9060
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ أَعْرَابِيًّا عَرَضَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي مَسِيرِهِ فَأَخَذَ بِخِطَامِ نَاقَتِهِ أَوْ بِزِمَامِ نَاقَتِهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْ يَا مُحَمَّدُ أَخْبِرْنِي بِمَا يُقَرِّبُنِي مِنَ الْجَنَّةِ وَيُبَاعِدُنِي مِنَ النَّارِ قَالَ تَعْبُدُ اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ وَتَصِلُ الرَّحِمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک بدّو ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی کی لگام پکڑ لی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی سفر میں تھے، اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! یا اس نے کہا: اے محمد! مجھے ایسا عمل بتائیں جو مجھے جنت کے قریب کر دے اور آگ سے دور کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اللہ تعالیٰ کی عبادت کیا کر، اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرا، نماز قائم کر، زکوۃ ادا کر اور صلہ رحمی کر۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9060
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5983، ومسلم: 13، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23538 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23935»
حدیث نمبر: 9061
عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ صَدَقَتُكَ عَلَى الْمِسْكِينِ صَدَقَةٌ وَعَلَى ذِي الْقُرْبَى الرَّحِمِ ثِنْتَانِ صَدَقَةٌ وَصِلَةٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سلمان بن عامر ضَبّی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسکین پر صدقہ کرنے میں صرف صدقے کا ثواب ہوتا ہے اور رشتہ دار پر کرنے سے دو ثواب ہوتے ہیں، ایک صدقہ کا اور دوسرا صلہ رحمی کا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9061
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه ابوداود: 2355، والترمذي: 658، وابن ماجه: 1844، والنسائي: 5/ 92، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17872 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18029»
حدیث نمبر: 9062
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا إِنَّهُ مَنْ أُعْطِيَ مِنَ الرِّفْقِ فَقَدْ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَصِلَةُ الرَّحِمِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ وَحُسْنُ الْجِوَارِ يَعْمُرَانِ الدِّيَارَ وَيَزِيدَانِ فِي الْأَعْمَارِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُن کو فرمایا : جس کو نرمی عطا کی گئی، اُس کو دنیا و آخرت کی خیر و بھلائی سے نواز دیا گیا اور صلہ رحمی، حسنِ اخلاق اور پڑوسی سے اچھا سلوک کرنے (جیسے امورِ خیر) گھروں (اور قبیلوں) کو آباد کرتے ہیں اور عمروں میں اضافہ کرتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … عمر میں اضافہ ہونے کے دو مفاہیم ہیں: (۱)حقیقی طور پر عمر بڑھ جاتی ہے، جس کو اللہ تعالیٰ کی معلّق تقدیر سے تعبیر کیا جاتا ہے۔(۲) عمر کی مقدار میں اضافہ نہیں ہوتا، لیکن اس میں اتنی برکت پیدا ہو جاتی ہے اور صلہ رحمی کرنے والے کی زندگی کاہر پہلو فوائد سےیوں لبریز ہو جاتاہے کہ دوسرے لوگ جو کام لمبی لمبی عمروں میں سرانجام نہیں دے سکتے، یہ لوگ اپنی مختصر عمروں میں ان سے ہمکنار ہو جاتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9062
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه مختصرا ابو يعلي: 4530 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25259 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25773»