کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: بیٹیوں کا اکرام کرنے کی ترغیب اور ان کی تربیت اور ان پر نرمی کرنے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 9036
۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ رضی اللہ عنہ ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((لا تُکْرِھُوْا الْبَنَاتِ فَاِنَّھُنَّ الْمُؤْنِسَاتُ الْغَالِیَاتُ۔))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی بچیوں کو مجبور نہ کیا کرو، کیونکہ وہ دل بہلانے والی اور خاوندوں سے محبت کرنے والی ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … بہرحال بچیوں کو نکاح پر مجبور نہیں کیا سکتا ہے، ان کی اپنی رضامندی ضروری ہے۔
حدیث نمبر: 9037
۔ عَنْ عِکْرَمَۃَ، قَالَ: کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ زَیْدِ بْنِ عَلِیٍّ بِالْمَدِیْنَۃِ، فَمَرَّ شَیْخٌیُقَالَ لَہُ شُرَحْبِیْلُ اَبُوْسَعْدٍ، فَقَالَ: یَااَبَا سَعْدٍ، مِنْ اَیْنَ جِئْتَ؟ فَقَالَ: مِنْ عِنْدِ اَمِیْرِالْمُؤْمِنِیْنَ، حَدَّثْتُہُ بِحَدِیْثٍ، فَقَالَ: لِاَنْ یَّکُوْنَ ھٰذَا الْحَدِیْثُ حَقًّا، اَحَبُّ اِلَّیٰ مِنْ اَنْ یَّکُوْنَ لِیْ حُمْرُ النَّعَمِ، قَالَ: حَدَّثَ بِہٖالْقَوْمَ،قَالَ: سَمِعْتُابْنَعَبَّاسٍیَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ تُدْرِکُ لَہُ ابْنَتَانِ، فَیُحْسِنُ اِلَیْھِمَا مَا صَحِبَتَاہُ، اَوْ صَحِبَھُمَا، اِلَّا اَدْخَلَتَاہُ الْجَنَّۃَ۔))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عکرمہ کہتے ہیں: میں مدینہ منورہ میں زید بن علی کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ابو سعد شرحبیل نامی ایک بزرگ کا وہاں سے گزر ہوا، انھوں نے کہا: اے ابو سعد! کہاں سے آ رہے ہو؟ اس نے کہا: امیر المؤمنین کے پاس سے، میں نے ان کو ایک حدیث بیان کی اور انھوں نے کہا: اگر یہ حدیث واقعی ثابت ہے تو یہ مجھے سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ محبوب ہو گی، پھر انھوں نے لوگوں کو وہ حدیث بیان کی اور کہا: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس مسلمان کی دو بیٹیاں بالغ ہو جائیں اور پھر وہ جب تک اس کے ساتھ رہیں،یا وہ ان کے ساتھ رہے تو وہ ان کے ساتھ احسان کرتا رہے تووہ اس کو جنت میں داخل کر دیں گی۔
حدیث نمبر: 9038
۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ رضی اللہ عنہ ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((لا یَکُوْنُ لِاَحَدٍ ثَلاثُ بَنَاتٍ، اَوْ ثَلاثُ اَخَوَاتٍ، اَوْ بِنْتَانِ، اَوْ اُخْتَانِ ، فَیَتَّقِی اللّٰہَ فِیھِنَّ، وَیُحْسِنُ اِلَیْھِنَّ، اِلاَّ دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی کی تین بیٹیاں یا تین بہنیں یا دو بیٹیاں یا دو بہنیں ہوں اور وہ ان کے حقوق کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہو اور ان کے ساتھ احسان کرتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔
حدیث نمبر: 9039
۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ رضی اللہ عنہ ، عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نَحْوُہُ، وَزَاد:َ ((وَجَبَتْ لَہُ الْجَنَّۃُ اَلْبَتَّۃَ۔)) قَالَ: قِیْلَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَاِنْ کَانَتِ اثْنَتَیْنِ؟ قَالَ: ((وَاِنْ کَانَتِ اثْنَتَیْنِ۔)) قَالَ: فَرَاٰی بَعْضُ الْقَوْمِ اَنْ لَوْ قَالُوْا لَہُ: وَاحِدَۃً، لَقَالَ وَاحِدَۃً۔
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبدا للہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: درج بالا حدیث کی طرح ہے، البتہ یہ الفاظ اس میں زیادہ ہیں: تو اس آدمی کے لیے قطعی طور پر جنت واجب ہو جائے گی۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر دو ہوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ دو ہوں۔ پھر لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے اور سوچنے لگے کہ اگر ایک کے بارے میں سوال کیا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہہ دینا تھا کہ اگرچہ ایک ہو ۔
حدیث نمبر: 9040
۔ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ اَنَسٍ اَوْ غَیْرِہِ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((مَنْ عَالَ ابْنَتَیْنِ اَوْ ثَلاثَ بَنَاتٍ اَوْ اُخْتَیْنِ اَوْ ثَـلَاثَ اَخَوَاتٍ، حَتّٰییَمُتْنَ اَوْ یَمُوْتَ عَنْھُنَّ، کُنْتُ اَنَا وَھُوَ کَھَاتَیْنِ۔)) وَاَشَارَ بِاِصْبَعَیْہِ السَّبَّابَۃِ وَالْوُسْطٰی۔
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے یا کسی اور صحابی سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے دو بیٹیوں،یا تین بیٹیوں،یا دو بہنوں، یا تین بہنوں کی پرورش کی اور ان کے ضروری اخراجات کا ذمہ دار بنا، یہاں تک کہ وہ وفات پا گئیں یا وہ خود فوت ہو گیا تو میں اور وہ شخص ان دو انگلیوں کی طرح قریب قریب ہوں گے۔ ساتھ ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انگشت شہادت اور درمیانی انگلی سے اشارہ کیا۔
حدیث نمبر: 9041
۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) یُحَدِّثُ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی اللہ عنہ ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((مَنْ کانَ لَہُ ثَلاَثُ بَنَاتٍ، وَثَلَاثُ اَخَوَاتٍ اِتَّقَی اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَاَقَامَ عَلَیْھِنَّ، کَانَ مَعِیَ فِی الْجَنَّۃِ ھٰکَذا۔)) وَاَشَارَ بِاَصَابِعِہِ الْاَرْبَعِ۔
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کی تین بیٹیوں اور تین بہنیں ہوں اور وہ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور ان کی نگہبانی کرے تو وہ جنت میں میرے ساتھ اس طرح ہو گا۔ ساتھ ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چار انگلیوں سے اشارہ بھی کیا۔
حدیث نمبر: 9042
۔ عَنْ سُرَاقَۃَ بْنِ مَالِکٍ رضی اللہ عنہ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ لَہُ: ((یَاسُرَاقَۃُ! اَلَا اَدُلُّکَ عَلٰی اَعْظَمِ الصَّدَقَۃِ، اَوْ مِنْ اَعْظَمِ الصَّدَقَۃِ ؟)) قَالَ: بَلٰییَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((اِبْنَتُکَ مَرْدُوْدَۃٌ اِلَیْکَ لَیْسَ لَھَا کَاسِبٌ غَیْرُکَ۔))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: اے سراقہ! کیا میں سب سے بڑے صدقے کی طرف تیری رہنمائی نہ کر دوں؟ انھوں نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیری بیٹی جو تیری طرف لوٹا دی جائے اور تیرے علاوہ اس کے لیےکمانے والا کوئی نہ ہو۔
وضاحت:
فوائد: … تیری بیٹی جو تیری طرف لوٹا دی جائے۔ اس سے مراد بیٹی کا طلاق ملنے یا بیوہ ہو جانے کی وجہ سے اپنے باپ کے پاس گھر واپس آ جانا ہے، عام طور پر ایسی بچیوں کی کفالت کو بوجھ سمجھ لیا جاتا ہے۔ لیکن خبردار! ایسی بے آسرا بچی اور بہن کا آسرا بننا بڑی سعادت کی بات ہو گی، ایک شفقت والا بھائی مجھے یاد آ رہا ہے، جس نے اپنی دکھی بہن سے کہا تھا: بہن! تیری اور تیرے بچے کی کفالت کی خاطر میں شادی نہیں کروں گا۔ کتنا محبت بھرا انداز ہے، بہن کو کتنی تسلی ہوئی ہو گی۔
حدیث نمبر: 9043
۔ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللّّٰہُ عَنْہُ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((مَنْ کُنَّ لَہُ ثَـلَاثُ بَنَاتٍ اَوْ ثَـلَاثُ اَخَوَاتٍ، اَوْ بِنْتَانِ، اَوْ اُخْتَانِِ اِتَّقَی اللّٰہَ فِیْھِنَّ، وَاَحْسَنَ اِلَیْھِنَّ حَتّٰییُبِنَّ اَوْ یَمُتْنَ کُنَّ لَہُ حِجَابًا مِنَ النَّارِ۔))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کی تین بیٹیاں،یا تین بہنیں،یا دو بیٹیاں،یا دو بہنیں ہوں اور وہ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور ان کے ساتھ احسان کرے، یہاں تک کہ وہ اس سے جدا ہو جائیں یا فوت ہو جائیں تو وہ اس کے لیے جہنم سے پردہ ہوں گی۔
حدیث نمبر: 9044
۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی اللہ عنہ ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((مَنْ وُلِدَتْ لَہ اِبْنَۃٌ فَلَمْ یَئِدْھَا، وَلَمْ یُھِنْھَا، وَلَمْ یُؤْثِرْ وَلَدَہُ عَلَیْھَا،یَعْنِی الذَّکَرَ، اَدْخَلَہُ اللّٰہُ بِھَا الْجَنَّۃَ۔))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کی بچی پیدا ہو اور وہ نہ اسے زندہ درگور کرے، نہ اس کی توہین کرے اور نہ بیٹوں کو اس پر ترجیح دے تو اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل کر دے گا۔
حدیث نمبر: 9045
۔ عَنْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الْمَخْزُوْمِیِّ رضی اللہ عنہ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلٰی اُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقَالَتْ: یَابُنَیَّ! اَلا اُحَدِّثُکَ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلٰییَااُمَّہْ! قَالَتْ: سَمِعْتُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ اَنْفَقَ عَلَی ابْنَتَیْنِ، اَوْ اُخْتَیْنِ، اَوْ ذَوَاتَیْ قَرَابَۃٍ،یَحْتَسِبُ النَّفْقَۃَ عَلَیْھِمَا حَتّٰی یُغْنِیَھُمَا اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہِ عَزَّوَجَلَّ، اَوْ یَکْفِیَھُمْا، کَانَتَا لَہُ سِتْرًا مِّنَ النَّارِ۔))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد المطلب مخزومی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، انھوں نے کہا: اے پیارے بیٹا! کیا میں تجھے وہ حدیث بیان نہ کروں، جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، اے اماں جان! انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کویہ فرماتے ہوئے سنا: جو آدمی دو بیٹیوں،یا دو بہنوں، یا دو رشتہ دار لڑکیوں پر ثواب کی نیت سے خرچ کرتا ہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان دو بچیوں کو اپنے فضل سے غِنٰی کر دیتا ہے یا ان کو کفایت کرتا ہے تو وہ اس کے لیے آگ سے پردہ ہوں گی۔
حدیث نمبر: 9046
۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رضی اللہ عنہ ، عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((مَنْ کَانَ لَہُ ثَـلَاثُ بَنَاتٍ، فَصَبَرَ عَلٰی لَاْوَائِھِنَّ وَضَرَّائِھِنَّ، وَسَرَّائِھِنَّ، اَدْخَلَہُ اللّٰہُ الْجَنَّۃَ بِفَضْلِ رَحْمَتِہِ اِیَّاھُنَّ۔)) فَقَالَ رَجُلٌ: اَوْ ثِنْتَانِیَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((اَوْ ثِنْتَانِ۔)) فَقَالَ رَجُلٌ: اَوْ وَاحِدَۃٌ ؟ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قال: ((اَوْ وَاحِدَۃٌ۔))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کی تین بیٹیاں ہوں اور وہ ان کی تنگدستی اور خوشحالی پر صبر کرے تو اللہ تعالیٰ ان بچیوں پر رحمت کرنے کی وجہ سے اس شخص کو جنت میں داخل کر دے گا۔ ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر دو بیٹیاں ہوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ دو ہوں۔ اس نے پھر کہا: اور اگر ایک ہو اے اللہ کے رسول!؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ ایک بھی ہو۔
حدیث نمبر: 9047
۔ عَنْ عَائِشَۃَ رضی اللہ عنہا ، اِنَّ امْرَاَۃً دَخَلَتْ عَلَیْھَا، ومَعَھَا اِبْنَتَانِ لَہَا، قَالَتْ: فَاَعْطَیْتُھَا تَمْرَۃً فَشَقَّتْھَا بَیْنَھُمَا، فَذَکَرَتْ ذٰلِکَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقَالَ: ((مَنِ ابْتُلِیَ بِشَیْئٍ مِّنْ ھٰذِہِ الْبَنَاتِ فَاَحَسَنَ اِلَیْھِنَّ کُنَّ لَہُ سِتْرًا مِّنَ النَّارِ۔))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ایک عورت میرے پاس آئی اور اس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں تھیں، میں نے اس کو ایک کھجور دی اور اس نے اس کھجور کو اپنی دو بیٹیوں میں تقسیم کر دیا، پھر جب میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ان بیٹیوں کے ذریعے آزمایا گیا، لیکن اس نے ان کے ساتھ احسان کیا تو وہ اس کے لیے آگ سے پردہ ہوں گی۔
حدیث نمبر: 9048
۔ وَعَنْھَا اَیْضًا، اَنَّھَا قَالَتْ: جَائَ تْنِیْ مِسْکِیْنَۃٌ تَحْمِلُ ابْنَتَیْنِ لَھَا، فَاَطْعَمْتُھَا ثَـلَاثَ تَمَرَاتٍ، فَاَعْطَتْ کُلَّ وَاحِدَۃٍ مِنْھُمَا تَمْرَۃً، وَرَفَعَتْ اِلٰی فِیْھَا تَمْرَۃً لِتَاْکُلَھَا، فَاسْتَطْعَمَتْھَا ابْنَتَاھَا فَشَقَّتِ التَّمْرَۃَ الَّتِیْ کَانَتْ تُرِیْدُ اَنْ تَاْکُلَھَا بَیْنَہُمَا، قَالَتْ: فَاَعْجَبَنِیْ شَاْنُھَا، فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ الَّذِیْ صَنَعَتْ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقَالَ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ قَدْ اَوْجَبَ لَھَا بِھَا الْجَنَّۃَ وَاَعْتَقَھَا بِھَا مِنَ النَّارِ۔))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میرے پاس ایک مسکین عورت آئی، اس نے دو بچیاں اٹھائی ہوئی تھیں، میں نے اس کو تین کھجوریں دیں، اس نے ہر ایک بیٹی کو ایک ایک کھجور دی اور ایک خود کھانے کے لیے منہ کی طرف اٹھائی، لیکن اس کی دونوں بیٹیوں نے وہ کھجور بھی ا س سے لینا چاہی، پس اس نے اس کھجور کے ٹکڑے کیے اور ان دونوں کو دے دیے، مجھے اس کی اس کاروائی نے تعجب میں ڈال دیا اور جب میں نے اس کا عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کو جنت میں داخل کر دیا ہے اور جہنم سے آزاد کر دیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … سبحان اللہ! اگر بچیاںیا بہنیں مل جائیں تو جنت کو حاصل کرنا کتنا آسان ہو جاتا ہے۔
بیٹیاں اللہ تعالیٰ کی رحمت ہیں، ان کا رحمت ہونے کااس سے بڑا ثبوت کیا ہو سکتا ہے کہ باپ ان کے ساتھ حسن صحبت کی وجہ سے جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔ بلا شک و شبہ ہر معاشرے میں اور ہر دور میں بیٹوں کی تمنائیں کی جاتی رہیں، لیکن اگر ان خواہشات کی تکمیل نہ ہو سکے تو اللہ تعالیٰ کے فیصلے کو اپنی تمنا سے زیادہ حکمت و دانائی والا سمجھ کر بیٹیوں پر مکمل رضامندی کا اظہار کیا جانا چاہیے۔
ہاںیہ علیحدہ بات ہے کہ محبت کا اظہار کرتے ہوئے بیٹیوں کا اتنا لحاظ نہ کیا جائے کہ انھیں وقت ضائع کرنے کے لیے اور ان کے طبعی شرم و حیا کو متاثر کرنے کے لیے انٹر نیٹ، کیبل نیٹ ورک، وی سی آر، موبائل اور سی ڈی پلیرکی صورت میں بے حیائی کے تمام مواقع مہیا کئے جائیں۔ والدین کا امتیاز اس میں ہے ان کی بیٹیاں نیکی و پارسائی اور تقوی وطہارت میں اپنی مثال آپ ہوں۔
اگریہ ایجادات کسی بچی کی ضرورت بن جائیں تو اس کی تربیت کرنا، اس کے نقصان دہ پہلو سے اس کو آگاہ کرنا اور حسب ِ استطاعت اس کی نگرانی کرنا ضروری ہے، کوئی مانے یا مانے نیٹ لیکنیہ حقیقت ہے کہ موبائل کی وجہ سے کئی لڑکے اور لڑکیاں بے راہ روی میں مبتلا ہو گئے۔
بیٹیاں اللہ تعالیٰ کی رحمت ہیں، ان کا رحمت ہونے کااس سے بڑا ثبوت کیا ہو سکتا ہے کہ باپ ان کے ساتھ حسن صحبت کی وجہ سے جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔ بلا شک و شبہ ہر معاشرے میں اور ہر دور میں بیٹوں کی تمنائیں کی جاتی رہیں، لیکن اگر ان خواہشات کی تکمیل نہ ہو سکے تو اللہ تعالیٰ کے فیصلے کو اپنی تمنا سے زیادہ حکمت و دانائی والا سمجھ کر بیٹیوں پر مکمل رضامندی کا اظہار کیا جانا چاہیے۔
ہاںیہ علیحدہ بات ہے کہ محبت کا اظہار کرتے ہوئے بیٹیوں کا اتنا لحاظ نہ کیا جائے کہ انھیں وقت ضائع کرنے کے لیے اور ان کے طبعی شرم و حیا کو متاثر کرنے کے لیے انٹر نیٹ، کیبل نیٹ ورک، وی سی آر، موبائل اور سی ڈی پلیرکی صورت میں بے حیائی کے تمام مواقع مہیا کئے جائیں۔ والدین کا امتیاز اس میں ہے ان کی بیٹیاں نیکی و پارسائی اور تقوی وطہارت میں اپنی مثال آپ ہوں۔
اگریہ ایجادات کسی بچی کی ضرورت بن جائیں تو اس کی تربیت کرنا، اس کے نقصان دہ پہلو سے اس کو آگاہ کرنا اور حسب ِ استطاعت اس کی نگرانی کرنا ضروری ہے، کوئی مانے یا مانے نیٹ لیکنیہ حقیقت ہے کہ موبائل کی وجہ سے کئی لڑکے اور لڑکیاں بے راہ روی میں مبتلا ہو گئے۔