کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اولاد اور پھر قریب سے قریب تر رشتہ داروں کے ساتھ نیکی کرنا
حدیث نمبر: 9015
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فَقِيرًا فَلْيَبْدَأْ بِنَفْسِهِ وَإِنْ كَانَ فَضْلًا فَعَلَى عِيَالِهِ وَإِنْ كَانَ فَضْلًا فَعَلَى ذَوِي قَرَابَتِهِ أَوْ قَالَ عَلَى ذَوِي رَحِمِهِ وَإِنْ كَانَ فَضْلًا فَهَا هُنَا وَهَا هُنَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی فقیر ہو تو وہ اپنے آپ سے ابتداء کرے، اگر مال بچ جائے تو اپنے بچوں پر خرچ کرے، اگر پھر بھی مال زائد ہو تو اپنے دوسرے رشتہ داروں پر صرف کرے اور اگر پھر بھی مال بچ جائے تو اِدھر اُدھر یعنی دوسرے لوگوں پر خرچ کرے۔
وضاحت:
فوائد: … صدقہ و خیرات باعث ِ اجرو ثواب عمل ہے، لیکن عام صدقہ سے پہلے اعتدال اور میانہ روی کے ساتھ والدین، اولاد، بیوی اور دوسرے قرابتداروں کی ضروریات کو مقدم کرنا چاہیے، آج کل لوگ بیوی بچوں پر تو تکلف کی حد تک خرچ کرتے ہیں، لیکن دوسرے رشتہ داروں سے مکمل بے رخی اختیار کرتے ہیں اور ان کا نظریہیہ ہوتا ہے کہ اگر ایک بار کسی کو دے دیں تو وہ دوبارہ جان نہیں چھوڑتا۔ ایسے لوگوں کا یہ نظریہ غلط ہے، اگر کوئی رشتہ دار دوبارہ آ جائے اور گنجائش ہو تو بار بار اس کے آنے کو محسوس نہیں کرنا چاہیے اور اگر گنجائش نہ ہو تو اچھے طریقے سے معذرت کر لینی چاہیے۔
بہرحال عام خیراتی اداروں اور ہسپتالوں میں صدقہ دینے سے پہلے غریب رشتہ داروں کو ترجیح دی جائے، ان کی ضرورت پوری کرنے کے بعد مزید صدقہ و خیرات کرنا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9015
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 997 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14273 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14324»
حدیث نمبر: 9016
عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا أَطْعَمْتَ نَفْسَكَ فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ وَمَا أَطْعَمْتَ وَلَدَكَ فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ وَمَا أَطْعَمْتَ زَوْجَكَ فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ وَمَا أَطْعَمْتَ خَادِمَكَ فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو تو اپنے آپ کو کھلائے گا، وہ تیرے لیے صدقہ ہو گا، جو تو اپنی اولاد کو کھلائے گا، وہ بھی تیرے لیے صدقہ ہو گا، جو تو اپنی بیوی کو کھلائے گا، وہ بھی تیرے لیے صدقہ ہو گا اور جو تو اپنے خادم کو کھلائے گا، وہ بھی تیرے لیے صدقہ ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9016
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، أخرجه ابن ماجه: 2138 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17179 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17311»
حدیث نمبر: 9017
عَنْ ثَوْبَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَفْضَلُ دِينَارٍ دِينَارٌ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ عَلَى عِيَالِهِ وَدِينَارٌ يُنْفِقُهُ عَلَى دَابَّتِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ ثُمَّ قَالَ أَبُو قِلَابَةَ مِنْ قِبَلِهِ بِرًّا بِالْعِيَالِ قَالَ وَأَيُّ رَجُلٍ أَعْظَمُ أَجْرًا مِنْ رَجُلٍ يُنْفِقُ عَلَى عِيَالِهِ صِغَارًا يُعِفُّهُمُ اللَّهُ بِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب سے زیادہ فضیلت والا دینار وہ ہے، جو بندہ اپنے بچوں پر خرچ کرتا ہے اور وہ دینار ہے جو آدمی اللہ کے راستے میں اپنے چوپائے پر خرچ کرے۔ پھر ابو قلابہ نے اپنی طرف سے بچوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کے متعلق بات کرتے ہوئے کہا: اور کون سا آدمی اجر و ثواب میں اس شخص سے بڑا ہو سکتا ہے، جو اپنے چھوٹے بچوں پر خرچ کرتا ہے اور اس طرح اللہ تعالیٰ ان کو اس کے ذریعے پاکدامن بنائے رکھتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … جو آدمی کمانے کے قابل نہ ہو، اس کا سہارا بننا بڑی نیکی ہے، بالخصوص اگر وہ فرد چھوٹی عمر میں ہو اور وہ بھی اولاد ہو تو اس کی ضروریات پوری کرنا والدین کی سعادت ہوگی، اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ اجر و ثواب کی نیت سے اپنے بچوں کی ضروریات پوری کیا کریں، لیکن تکلف سے بچیں اور دوسرے غریب بچوں کابھی خیال رکھیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9017
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22453 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22820»
حدیث نمبر: 9018
عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُوصِيكُمْ بِالْأَقْرَبِ فَالْأَقْرَبِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے تم کو زیادہ قریبی رشتہ داروں کے بارے میں وصیت کی ہے اور پھر ان سے جو ان کے بعد ہوں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9018
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22453 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17316»
حدیث نمبر: 9019
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَذْنَبْتُ ذَنْبًا كَبِيرًا فَهَلْ لِي تَوْبَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلَكَ وَالِدَانِ قَالَ لَا قَالَ فَلَكَ خَالَةٌ قَالَ نَعَمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَبَرَّهَا إِذًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے بہت بڑا گناہ کیا ہے، کیا میرے لیے توبہ کا امکان ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تیرے والدین زندہ ہیں؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیری کوئی خالہ ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اسی سے نیکی کر۔
وضاحت:
فوائد: … ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اِنَّ الْحَسَنَاتِ یُذْھِبْنَ السَّیِّئَاتِ} … بیشک نیکیاںبرائیوں کو ختم کر دیتی ہیں (سورۂ ہود: ۱۱۴) اس حدیث ِ مبارکہ میں بھییہی قانون بیان کیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9019
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه الترمذي: 1904، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4624 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4624»
حدیث نمبر: 9020
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أَعْتَقْتُ جَارِيَةً لِي فَدَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِعِتْقِهَا فَقَالَ آجَرَكِ اللَّهُ أَمَا إِنَّكِ لَوْ كُنْتِ أَعْطَيْتِهَا أَخْوَالَكِ كَانَ أَعْظَمَ لِأَجْرِكِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ زوجۂ رسول سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے اپنی ایک لونڈی کو آزاد کیا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں آپ کو اس کی آزادی کی بارے میں بتلایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تجھے اجر عطا کرے، لیکن اگر تو اپنے ماموؤں کو دے دیتی تو اس میں تیرے لیے زیادہ اجر ہوتا۔
وضاحت:
فوائد: … محتاج رشتہ دار پر خرچ کرنا، غلاموں کو آزاد کرنے سے زیادہ باعث ِ ثواب ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9020
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 1690، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26817 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27354»
حدیث نمبر: 9021
عَنْ شُعْبَةَ قَالَ قُلْتُ لِمُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ أَسَمِعْتَ أَنَسًا يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِلنُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ قَالَ نَعَمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ امام شعبہ کہتے ہیں: میں نے معاویہ بن قرہ سے کہا: کیا تم نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سنا کہ انھوں نے یہ بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ کو فرمایا: لوگوں کا بھانجا ان میں سے ہی ہے۔ انھوں نے کہا: جی ہاں۔
وضاحت:
فوائد: … صلہ رحمی اور معاونت کا سلسلہ دوسرے رشتہ داروں کی طرح بھانجے کو بھی حاصل ہے
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9021
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3528، 6761، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12187 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12211»
حدیث نمبر: 9022
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ سَمِعْتُ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ اجْتَمَعْتُ أَنَا وَفَاطِمَةُ وَالْعَبَّاسُ وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ الْعَبَّاسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَبِرَ سِنِّي وَرَقَّ عَظْمِي وَكَثُرَتْ مُؤْنَتِي فَإِنْ رَأَيْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ تَأْمُرَ لِي بِكَذَا وَكَذَا وَسْقًا مِنْ طَعَامٍ فَافْعَلْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَفْعَلُ ذَلِكَ ثُمَّ قَالَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنْتَ أَعْطَيْتَنِي أَرْضًا كَانَتْ مَعِيشَتِي مِنْهَا ثُمَّ قَبَضْتَهَا فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تَرُدَّهَا عَلَيَّ فَافْعَلْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَفْعَلُ ذَلِكَ قَالَ فَقُلْتُ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ رَأَيْتَ أَنْ تُوَلِّيَنِي هَذَا الْحَقَّ الَّذِي جَعَلَهُ اللَّهُ لَنَا فِي كِتَابِهِ مِنْ هَذَا الْخُمُسِ فَأَقْسِمُهُ فِي حَيَاتِكَ كَيْ لَا يُنَازِعَنِيهِ أَحَدٌ بَعْدَكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَفْعَلُ ذَلِكَ فَوَلَّانِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَسَمْتُهُ فِي حَيَاتِهِ ثُمَّ وَلَّانِيهِ أَبُو بَكْرٍ فَقَسَمْتُهُ فِي حَيَاتِهِ ثُمَّ وَلَّانِيهِ عُمَرُ فَقَسَمْتُهُ فِي حَيَاتِهِ حَتَّى كَانَتْ آخِرُ سَنَةٍ مِنْ سِنِي عُمَرَ فَإِنَّهُ أَتَاهُ مَالٌ كَثِيرٌ {وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى} [الأنفال: 41]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں، سیدہ فاطمہ، سیدنا عباس اور سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہم، رسول اللہ کے پاس جمع ہوئے، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اب میری عمر بڑی ہو چکی ہے، میری ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں اور مشقت بھی کافی کر لی ہے، اس لیے اگر آپ مناسب سمجھیں تو میرے لیے اتنے وسق اناج کا حکم دے دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم اس طرح کر دیں گے۔ پھر سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے مجھے ایک زمین دی تھی، وہ میری گزران کا ذریعہ تھی، لیکن پھر آپ نے واپس لے لی ہے، اگر آپ مناسبت سمجھتے ہیں تو دوبارہ مجھے دے دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم اس طرح کریں گے۔ پھر میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ مناسب سمجھیں کہ آپ مجھے اس حق کا والی بنا دیں، جس کا اللہ تعالیٰ نے خُمُس کی صورت میں اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے، میں اس کو آپ کی زندگی میں تقسیم کروں گا، تاکہ آپ کے بعد کوئی آدمی مجھ سے جھگڑا نہ کرے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم ایسے ہی کریں گے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اس کا والی بنا دیا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات ِ مبارکہ میں اس کوتقسیم کیا، پھر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے مجھے اس کا والی بنایا، میں نے ان کی زندگی میں بھی اس کو تقسیم کیا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے اس کا والی بنایا اور میں نے ان کی زندگی میں اس کو تقسیم کیا،یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا آخری سال تھا اور ان کے پاس بہت زیادہ مال آیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے قرابتداروں کا خیال رکھا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9022
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3528، 6761، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12187 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 646»
حدیث نمبر: 9023
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَدِمَتْ عِيرٌ الْمَدِينَةَ فَاشْتَرَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَبِحَ أَوَاقِيَ فَقَسَمَهَا فِي أَرَامِلِ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَقَالَ لَا أَشْتَرِي شَيْئًا لَيْسَ عِنْدِي ثَمَنُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک قافلہ مدینہ منورہ میں آیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے کوئی چیز خریدی اور اس پر کچھ اوقیے نفع کمایا اور پھر ان کو بنو عبد المطلب کی بیواؤں میں تقسیم کر دیا اور فرمایا: آئندہ میں ایسی چیز نہیں خریدوں گا، جس کی میرے پاس قیمت نہیں ہو گی۔
وضاحت:
فوائد: … ایسی چیز خریدنے سے اجتناب کا درس دیا جا رہا ہے، جس کی بندے کے پاس قیمت نہ ہو، کیونکہ ممکن ہے کہ آدمی مقروض ہی فوت ہو جائے اور اس کی طرف سے ادائیگی بھی نہ کی جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9023
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، شريك بن عبد الله القاضي سييء الحفظ، وسماك في روايته عن عكرمة اضطراب، أخرجه ابوداود: 3344، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2093 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2093»
حدیث نمبر: 9024
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ أَبُو طَلْحَةَ أَكْثَرَ أَنْصَارِيٍّ بِالْمَدِينَةِ مَالًا وَكَانَ أَحَبَّ أَمْوَالِهِ إِلَيْهِ بَيْرُحَاءَ وَكَانَتْ مُسْتَقْبِلَةَ الْمَسْجِدِ فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَاءٍ فِيهَا طَيِّبٍ قَالَ أَنَسٌ فَلَمَّا نَزَلَتْ {لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ} [آل عمران: 92] قَالَ أَبُو طَلْحَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ {لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ} [آل عمران: 92] وَإِنَّ أَحَبَّ أَمْوَالِي إِلَيَّ بَيْرُحَاءُ وَإِنَّهَا صَدَقَةٌ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَرْجُو بِرَّهَا وَذُخْرَهَا عِنْدَ اللَّهِ فَاضَعْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ حَيْثُ أَرَاكَ اللَّهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَخٍ ذَلِكَ مَالٌ رَابِحٌ ذَلِكَ مَالٌ رَابِحٌ وَقَدْ سَمِعْتُ وَأَنَا أَرَى أَنْ تَجْعَلَهَا فِي الْأَقْرَبِينَ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ أَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَقَسَمَهَا أَبُو طَلْحَةَ فِي أَقَارِبِهِ وَبَنِي عَمِّهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: مدینہ منورہ کے انصاریوں میں سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سب سے زیادہ مالدار تھے اور ان کا سب سے پسندیدہ مال بیرحاء باغ تھا، یہ مسجد کے سامنے تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس میں داخل ہوتے اور اس کا میٹھا پانی پیتے تھے، جب یہ آیت نازل ہوئی: {لَنْ تَنَالُوْا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ} … تم جب تک پسندیدہ چیزیں خرچ نہیں کرو گے، اس وقت تک نیکی تک نہیں پہنچو گے۔ تو سیدنا ابو طلحہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ {لَنْ تَنَالُوْا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ} اور میرا سب سے پسندیدہ مال بیرحاء ہے، لہٰذا میں اس کو اللہ تعالیٰ کے لیے صدقہ کرتا ہوں اور اس کے ہاں اس کی نیکی اور ذخیرہ ہونے کی امید کرتا ہوں، اے اللہ کے رسول! جیسے اللہ تعالیٰ آپ کو توفیق دے، اس کے مطابق اس کو تقسیم کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: واہ واہ! یہ تو نفع بخش مال ہے، یہ تو نفع بخش مال ہے، تحقیق میں نے تیری بات سن لی ہے، میرا خیال ہے کہ تو اس کو اپنے رشتہ داروں میں تقسیم کر دے۔ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اسی طرح ہی کروں گا، پھر انھوں نے وہ مال اپنے رشتے داروں اور چچا زادوں میں تقسیم کر دیا۔
وضاحت:
فوائد: … اولاد، والدین اور بیوی کا تو آدمی پر حق ہے، سب سے پہلے ان کو ہی ترجیح دینی چاہیے، ان کی ضروریات کے بعد دوسرے رشتہ داروں کا خیال رکھنا چاہیے، لیکن اس قانون کا مطلب موجودہ زمانے کا پرتکلف نظام نہیں ہے، جائز اخراجات ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9024
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، شريك بن عبد الله القاضي سييء الحفظ، وسماك في روايته عن عكرمة اضطراب، أخرجه ابوداود: 3344، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2093 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12465»
حدیث نمبر: 9025
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا مَاتَ ابْنُ آدَمَ انْقَطَعَ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةٍ إِلَّا مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب ابن آدم مرتا ہے تو اس کے عمل کا سلسلہ بھی منقطع ہو جاتا ہے، ما سوائے تین اعمال کے، صدقہ جاریہ سے، یا علم سے جس سے نفع اٹھایا جاتا ہو یا نیک اولاد سے جو اس کے لیے دعا کرتی ہو۔
وضاحت:
فوائد: … صدقہ جاریہ کی کسی قسم کا انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن جو خیر اپنے ورثے میں نیک اولاد کو چھوڑ کر جانے میں ہے، اس کی کوئی مثال نہیں، اس کا کوئی جواب نہیں۔ لیکن افسوس اس بات پر ہے کہ مسلمانانِ عصرِ حاضر نے اپنی اولاد کی ترقی کے مختلف حقوق ادا کیے ہیں، ما سوائے نیک تربیت کے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9025
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1631، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8844 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8831»
حدیث نمبر: 9026
عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي وَفْدِ كِنْدَةَ فَقَالَ لِي هَلْ لَكَ مِنْ وَلَدٍ قُلْتُ غُلَامٌ وُلِدَ لِي فِي مَخْرَجِي إِلَيْكَ مِنِ ابْنَةِ جَمْدٍ وَلَوَدِدْتُ أَنْ مَكَانَهُ شَبِعَ الْقَوْمُ قَالَ لَا تَقُولَنَّ ذَلِكَ فَإِنَّ فِيهِمْ قُرَّةَ عَيْنٍ وَأَجْرًا إِذَا قُبِضُوا ثُمَّ وَلَئِنْ قُلْتَ ذَاكَ إِنَّهُمْ لَمَجْبَنَةٌ مَحْزَنَةٌ إِنَّهُمْ لَمَجْبَنَةٌ مَحْزَنَةٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں میں کندہ کے وفد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا تیری اولاد ہے؟ میں نے کہا: ابھی جب میں آپ کی طرف نکل رہا تھا، اس وقت میرا ایک بچہ بنت جمد کے بطن سے پیدا ہوا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ اس بچے کی بجائے لوگ ہی سیر ہو کر کھانا کھا لیتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر گز اس طرح نہ کہو، کیونکہ بعض بچے آنکھ کی ٹھنڈک بنتے ہیں اور جب فوت ہو جاتے ہیں تو اجر ملتا ہے، پھر بھی اگر تو یہ بات کہتا ہے تو یہ بچے بزدلی اور غم کا سبب بنتے ہیں، بے شک یہ بزدلی اور غم کاسبب بنتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … بچوں کی فکر انسان کو بزدل اور بخیل بنا دیتی ہے، ہر کوئی زندگی کا حریص ہوتا ہی ہے، لیکن جب بچے ہو جائیں تو ان کی خدمت اور نگہداشت کی خاطر انسان اپنی زندگی کو زیادہ قیمتی سمجھنے لگ جاتا ہے اور جہاد جیسے عظیم عمل میںشرکت کرتے وقت بھی فکر مند ہو جاتاہے۔ بہرحال اولاد ایک نعمت ہے، ان کی خدمت میں شرف ہے، لیکن دوسرے شرعی احکام متأثر نہیں ہونے چاہئیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9026
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه الطبراني: 646، والحاكم: 4/ 239، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21840 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22183»
حدیث نمبر: 9027
عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ زَعَمَتِ الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ خَوْلَةُ بِنْتُ حَكِيمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مُحْتَضِنًا أَحَدَ ابْنَيِ ابْنَتِهِ وَهُوَ يَقُولُ وَاللَّهِ إِنَّكُمْ لَتُجَبِّنُونَ وَتُبَخِّلُونَ وَإِنَّكُمْ لَمِنْ رَيْحَانِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَإِنَّ آخِرَ وَطْأَةٍ وَطِئَهَا اللَّهُ بِوَجٍّ قَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً إِنَّكُمْ لَتُبَخِّلُونَ وَإِنَّكُمْ لَتُجَبِّنُونَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عمر بن عبد العزیز کہتے ہے: ایک عورت سیدہ خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے بیٹی کے دو بیٹوں میں سے ایک کو گود میں لے کر نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے: اللہ کی قسم! تم بزدل اور بخیل بناتے ہو، جبکہ تم اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی خوشبودار چیز بھی ہو اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے آخری قتال وَجّ یعنی طائف میں ہوا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … غزوۂ طائف، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آخری قتال تھا، اگرچہ غزوۂ تبوک اس کے بعد پیش آیا، لیکن اس میں جنگ نہیں ہوئی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9027
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لانقطاعه، عمر بن عبد العزيز لا يعرف له سماع من خولة ، ولجھالة ابن ابي سويد، أخرجه الترمذي: 1910 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27314 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27857»
حدیث نمبر: 9028
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ الْجَزَرِيُّ عَنْ نَاصِحٍ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَأَنْ يُؤَدِّبَ الرَّجُلُ وَلَدَهُ أَوْ أَحَدُكُمْ وَلَدَهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَتَصَدَّقَ كُلَّ يَوْمٍ بِنِصْفِ صَاعٍ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَهَذَا الْحَدِيثُ لَمْ يُخْرِجْهُ أَبِي فِي مُسْنَدِهِ مِنْ أَجْلِ نَاصِحٍ لِأَنَّهُ ضَعِيفٌ فِي الْحَدِيثِ وَأَمْلَاهُ عَلَيَّ فِي النَّوَادِرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی کا اپنے بچے کو ادب و اخلاق کی تعلیم دینا اس سے بہتر ہے کہ وہ روزانہ نصف صاع صدقہ کرے۔ امام احمد کے بیٹے عبد اللہ نے کہا: میرے باپ نے ناصح راوی کی وجہ سے اس حدیث کو اپنی مسند میں روایت نہیں کیا، کیونکہ یہ راوی حدیث میں ضعیف ہے، اورانھوں نے مجھے نوادر میں املاء کروائی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9028
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لانقطاعه، عمر بن عبد العزيز لا يعرف له سماع من خولة ، ولجھالة ابن ابي سويد، أخرجه الترمذي: 1910 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27314 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21206»
حدیث نمبر: 9029
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَنَا عَامِرُ بْنُ صَالِحِ بْنِ رُسْتُمَ الْمُزَنِيُّ ثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى بْنِ عَمْرٍو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ قَالَ أَوِ ابْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا نَحَلَ وَالِدٌ وَلَدَهُ أَفْضَلَ مِنْ أَدَبٍ حَسَنٍ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا بِهِ خَلْفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ وَالْقَوَارِيرِيُّ قَالَا ثَنَا عَامِرُ بْنُ أَبِي عَامِرٍ بِإِسْنَادِهِ فَذَكَرَ مِثْلَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سعید بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: والدین نے اپنے بچے کو حسن ادب سے بہترین کوئی تحفہ نہیں دیا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ ایک بہت بڑی حقیقت ہے کہ والدین کا اپنی اولاد کو سب سے بڑا تحفہ حسن ادب اور اچھی تربیت ہے، اولاد کو اس قابل بنا دینا چاہیے کہ وہ دین کو بھی سمجھے اور دنیا سے بھی غافل نہ ہونے پائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9029
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف عامر بن صالح، ولارسالة عمرو بن سعيد بن العاص، جد ايوب بن موسي ليس له صحبة، وموسي بن عمرو تفرد بالرواية عنه ابنه ايوب أخرجه الحاكم: 4/ 263، والبيھقي في الشعب : 1673، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15403/1 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15478»
حدیث نمبر: 9030
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْصَاهُ بِعَشْرِ كَلِمَاتٍ (مِنْهَا) وَأَنْفِقْ عَلَى عِيَالِكَ مِنْ طَوْلِكَ وَلَا تَرْفَعْ عَنْهُمْ عَصَاكَ أَدَبًا وَأَخِفْهُمْ فِي اللَّهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو دس باتوں کی وصیت کی تھی، ان میں سے تین یہ تھیں: اور اپنی مالی وسعت کے مطابق اپنے اہل و عیال پر خرچ کر، ان کو ادب کی تعلیم دینے کے لیے ان سے لاٹھی کو دور نہ کر اور ان کو اللہ تعالیٰ کے بارے میں خوف دلا کے رکھ۔
وضاحت:
فوائد: … دوسری نصوص سے ثابت ہوتا ہے کہ ضرورت کے وقت بیوی بچوں کو سزا دی جا سکتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9030
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لانقطاعه، عبد الرحمن بن جبير لم يدرك معاذا أخرجه بنحوه ابن ماجه: 3371، 4034 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 222075 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22425»
حدیث نمبر: 9031
۔ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ رضی اللہ عنہ ، قَالَ اِنَّ اَبِیْ بَشِیْرًا وَھَبَ لِیْ ھِبَۃً، فَقَالَتْ اُمِّیْ: اَشْھِدْ عَلَیْھَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَاَخَذَ بِیَدِیْ فَانْطَلَقَ بِیْ حَتّٰی اَتَیْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ِ، فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ اُمَّ ھٰذَا الْغُلَامِ سَاَلَتْنِیْ اَنْ اَھَبَ لَہُ ھِبَۃً فَوَھَبْتُھَا لَہُ، فَقَالَتْ: اَشْھِدْ عَلَیْھَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، فَاَتَیْتُکَ لِاُشْھِدُکَ، فَقَالَ: ((رُوَیْدَکَ، اَلَکَ وَلَدٌ غَیْرُہُ؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((کُلُّھُمْ اَعْطَیْتَہُ کَمَا اَعْطَیْتَہُ؟)) قَالَ: لا، قَالَ: ((فَـلَا تُشْھِدْنِیْ اِذًا، اِنِّیْ لا اَشْھَدُ عَلٰی جَوْرٍ، اِنَّ لِبَنِیْکَ عَلَیْکَ مِنَ الْحَقِّ اَنْ تَعْدِلَ بَیْنَھُمْ۔))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے باپ سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ نے مجھے ایک چیز ہبہ کی، میرے ماں نے ان سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس ہبہ پر گواہ بنائیں، چنانچہ انھوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے لے کر چل پڑے، یہاں تک کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گئے، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس بچے کی ماں نے پہلے مجھ سے یہ مطالبہ کیا کہ میں اِس کو کوئی ہبہ دوں، اور اب اس کا تقاضا یہ ہے کہ آپ کو اس پر گواہ بناؤں، اس لیے آپ کو گواہ بنانے کے لیے آپ کے پاس آیا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ذرا ٹھیرو، کیا تمہاری اور بھی اولاد ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر کیا تم نے ان میں سے ہر ایک کو یہ ہبہ دیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر مجھے گواہ بنانے کی ضرورت نہیں، میں ظلم پر گواہ نہیں بن سکتا، تم پر تمہارے بیٹوں کا یہ حق ہے کہ تم ان کے ما بین انصاف کرو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9031
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2587، ومسلم: 1623 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18369 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»
حدیث نمبر: 9032
۔ (وَفِیْ لَفْظٍ) فَقَالَ: النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((فَاَشْھِدْ غَیْرِیْ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((اَلَیْسَیَسُرُّکَ اَنْ یَّکُوْنُوْا فِی الْبِرِّ سَوَائً ؟)) قَالَ: بَلٰی، وَفِیْ لَفْظٍ: ((اِنَّ لَھُمْ عَلَیْکَ مِنَ الْحَقِّ اَنْ تَعْدِلَ بَیْنَھُمْ کَمَا اَنَّ لَکَ عَلَیْھِمْ مِنَ الْحَقِّ اَنْ یَّبَرُّوْکَ۔))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر میرے علاوہ کسی اور کو گواہ بنا لو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں یہ بات خوش نہیں کرتی کہ تمہاری اولاد تم سے برابر برابر نیکی کرے؟ انھوں نے کہا: جی کیوں نہیں۔ ایک روایت میں ہے: تم پر تمہاری اولاد کایہ حق ہے کہ تم ان کے مابین انصاف کرو، جیسا کہ اُن پر تمہارا حق ہے کہ وہ سب تم سے نیکی کریں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9032
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السا بق ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»
حدیث نمبر: 9033
۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ: ((قَارِبُوْا بَیْنَ اَبْنَائِکُمْ یَعْنِیْ سَوُّوْا بَیْنَھُمْ۔)) وَفِیْ لَفْظٍ: ((اِعْدِلُوْا بَیْنَ اَبْنَائِکُمْ، اِعْدِلُوْا بَیْنَ اَبْنَائِکُمْ، اِعْدِلُوْا بَیْنَ اَبْنَائِکُمْ۔))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے بیٹوں کے ما بین برابری کرو۔ ایک روایت میں ہے: اپنے بیٹوں کے مابین انصاف کرو، اپنی اولاد کے درمیان عدل سے کام لو، اپنی بچوں اور بچیوں کے ما بین برابری کا رویہ اختیار کرو۔
وضاحت:
فوائد: … والدین کسی ایک بچے کے ساتھ کسی اعتبار سے امتیازی سلوک نہیں کر سکتے، بعض آباء کو دیکھا گیا ہے کہ ان کے بعض بچے ہمیشہ ان کے غیظ و غضب اور طعن و تشنیع کا نشانہ بنتے ہیں اور بعض لاڈ پیار کے مستحق ٹھہرتے ہیں، اسی طرح جب بچوں پر خرچ کرنے کی باری آتی ہے تو پھر اسی امتیاز کو مدّنظر رکھا جاتا ہے۔ ایسا کرنا ضلالت و گمراہی ہے، نبوی منہج سے بھٹک جانے کی علامت ہے اور بچوں کو بغاوت پر آمادہ کرنے کی علامت ہے۔ بچوں اور بچیوں کی شادیوں پر بھی مساوات کو ملحوظِ خاطر رکھنا چاہئے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کاَنَ رَجُلٌ جَالِسٌ مَعَ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَجَائَ ہُ ابْنٌ لَہُ فَأَخَذَہُ فَقَبَّلَہُ ثُمَّ أَجْلَسَہُ فِی حِجْرِہِ، وَجَائَـتِ ابْنَۃٌ لَّہُ، فَأَخَذَھَا إِلٰی جَنْبِہٖ،فَقَالَالنَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((أَلَا عَدَلْتَ بَیْنَھُمَا؟)) یَعْنِی: بَیْنَ ابْنِہٖوَبِنْتِہٖفِی تَقْبِیْلِھِمَا۔ … ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اس کے پاس اس کا بیٹا آیا، اس نے اس کا بوسہ لیا اور اسے اپنی گود میں بٹھا لیا، اس کے بعد اس کی بیٹی آئی، اس نے اسے اپنے ساتھ بٹھا لیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے ان کے درمیان انصاف کیوں نہیں کیا۔ یعنی بیٹے کا بوسہ لیا اور بیٹی کا نہیں لیا۔ (مسند بزار: ۲/۳۷۸/۱۸۹۳، شعب الایمان للبیھقی: ۶/ ۴۱۰/۸۷۰۰، صحیحہ: ۲۸۸۳، ۲۹۹۴) یہ اولاد کے مابین مساوات کا معیار ہے کہ محبت کے ظاہری تقاضوں میں بھی کمی بیشی نہیں ہونی چاہئے۔ یہ ممکن ہے کہ والدین کے دل میں کسی ایک بیٹے کا لحاظ یا اس کی محبت دوسروں کی بہ نسبت زیادہ ہو، اور اس میں مضائقہ بھی نہیں ہے، کیونکہیہ کسی کے بس کی بات نہیں ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ سب سے زیادہ محبت تھی، لیکن مساوات کے ظاہری تقاضے پورے کرنا ضروری ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9033
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 3544، والنسائي: 6/ 262 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18451 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»
حدیث نمبر: 9034
۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رضی اللہ عنہ ، اَبْصَرَ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم الْاَقْرَعُ یُقَبِّلُ حَسَنًا، فَقَالَ: لِیْ عَشَرَۃٌ مِّنَ الْوَلَدِ، مَا قَبَّلْتُ اَحَدًا مِنْھُمْ قَطُّ! قَالَ: ((اِنَّہُ مَنْ لَایَرْحَمُ لَایُرْحَمُ۔))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا اقرع رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا بوسہ لیتے ہوئے دیکھا اور کہا: میرے دس بچے ہیں، میں نے تو ان میں سے کسی کا بوسہ نہیں لیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9034
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2318 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:7289 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»
حدیث نمبر: 9035
۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: دَخَلَ عُیَیْنَۃُ بْنُ حِصْنٍ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَرَآہُ یُقَبِّلُ حَسَنًا اَوْ حُسَیْنًا، فَقَالَ لَہُ: لا تُقَبِّلْہُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! لَقَدْ وُلِدَ لِیْ عَشَرَۃٌ مَا قَبَّلْتُ اَحَدًا مِنْھُمْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((اِنَّ مَنْ لایَرْحَمُ لایُرْحَمُ۔))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عیینہ بن حصن رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا حسن یا سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کا بوسہ لے رہے تھے، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ان کا بوسہ نہ لیں، میرے تو دس بچے ہیں اور میں نے کبھی کسی کا بوسہ نہیں لیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔
وضاحت:
فوائد: … بندے کا رحمدل ہونا اس بات کی علامت ہے کہ اللہ تعالیٰ بھی اس پر رحم کرے گا، اگر کوئی آدمی بہت ہی سخت طبیعت کا مالک ہو تو اس کو چاہیے کہ تکلف کرتے ہوئے اپنی اولاد کے معاملے میں نرمی کر لیا کرے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9035
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5997، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7121 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»