کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا بیان
حدیث نمبر: 8937
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُصُّ عَلَى الْمِنْبَرِ {وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ} [سورة الرحمن: ٤٦] فَقُلْتُ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الثَّانِيَةَ {وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ} [سورة الرحمن: ٤٦] فَقُلْتُ الثَّانِيَةَ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الثَّالِثَةَ {وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ} [سورة الرحمن: ٤٦] فَقُلْتُ الثَّالِثَةَ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ وَإِنْ رَغِمَ أَنْفُ أَبِي الدَّرْدَاءِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو درداء سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو منبر پر یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا: {وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہِ جَنَّتَانِ۔} … اور جو آدمی اپنے ربّ کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا، اس کے لیے دو باغات ہیں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! اگرچہ وہ زنا بھی کرے اور چوری بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسری دفعہ فرما دیا کہ اور جو آدمی اپنے ربّ کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا، اس کے لیے دو جنتیں ہیں۔ میں نے بھی دوسری دفعہ کہہ دیا: اے اللہ کے رسول! اگرچہ وہ زنا اور چوری بھی کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیسری دفعہ وہی آیت پڑھتے ہوئے فرمایا: اور جو آدمی اپنے ربّ کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا، اس کے لیے دو باغات ہیں۔ اُدھر میں نے بھی تیسری دفعہ وہی سوال کر دیا کہ اے اللہ کے رسول! اگرچہ وہ زنا بھی کرے اور چوری بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں اور اگرچہ ابو درداء کا ناک خاک آلود ہو جائے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں اللہ کے خوف کی فضیلت بیان کی گئی ہے، زنا اور چوری کی اجازت نہیں دی گئی، بہتر یہ ہے کہ جس حدیث ِ مبارکہ میں کسی چیز کی فضیلتیا مذمت بیان ہو رہی ہو تو اس کے موضوع کو سمجھ کر فضیلت والی چیز کو اپنایا جائے اور مذمت والی چیز سے اجتناب کیاجائے، مزید دیکھیں حدیث نمبر (۵۴۲۸)
اللہ تعالیٰ کا خوف اور خشیت ِ الٰہی ہی ایسا تصور ہے، جس کی وجہ سے نیکیوں کو سرانجام دینا اور برائیوں سے اجتناب کرنا بہت آسان ہو جاتا ہے، سینکڑوں آیات و احادیث میں اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی فضیلت بیان کی گئی اور اس کا درس دیا گیا ہے، ذیل میں اللہ تعالیٰ کے خوف پر آمادہ کرنے والے چند ایک خوبصورت اقوال بیان کیے جاتے ہیں،یہ اقوال (جامع العلوم والحکم: ۱/ ۱۶۲) سے نقل کیے گئے ہیں: وہب بن ورد رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: خَفِ اللّٰہَ عَلٰی قَدْرِ قُدْرَتِہٖعَلَیْکَ وَاسْتَحْیِ مِنْہُ عَلٰی قَدْرِ قُرْبِہٖمِنْکَ۔ … اللہتعالیٰ سے اتنا ڈر، جتنی اس کو تجھ پر قدرت حاصل ہے اور اس سے اتنا شرما، جتنا وہ تیرے قریب ہے۔
ایک آدمی نے وہب بن ورد رحمتہ اللہ علیہ سے کہا: آپ مجھے نصیحت کریں، انھوں نے کہا: اِتَّقِ اللّٰہَ أَنْ یَکُوْنَ أَہْوَنَ النَّاظِرِیْنَ إِلَیْکَ۔ … اللہ تعالیٰ سے اس چیز سے ڈر جا کہ تجھے دیکھنے والوں میں سے سب سے کم وقعت والا اللہ تعالیٰ ہو۔
یعنی ایسا نہ ہو کہ لوگوں کے سامنے تو تو برائی کرنے سے بچے اور جب تو اکیلا ہو تو اللہ تعالیٰ کا کوئی لحاظ رکھے بغیر اس برائی کا اجتناب کر دے، اس کا مطلب یہ ہو گا کہ جو اہمیت لوگوں کو دی جا رہی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کو نہیں دی جا رہی۔
سلف صالحین میں سے ایک نے کہا: ابْنَ آدَمَ إِنْ کُنْتَ حَیْثُ رَکِبْتَ الْمَعْصِیَۃَ لَمْ تَصِفْ لَکَ مِنْ عَیْنٍ نَاظِرَۃٍ إِلَیْکَ فَلَمَّا خَلَوْتَ بِاللّٰہِ وَحْدَہٗصِفْتَلَکَمَعْصِیَتہً وَلَمْ تَسْتَحْیِ مِنْہٗحَیَائَ کَ مِنْ بَعْضِ خَلْقِہٖمَاأَنْتَ إِلاَّ أَحَدُ رَجُلَیْنِ إِنْ کُنْتَ ظَنَنْتَ أَنَّہٗلَایَرَاکَ فَقَدْ کَفَرْتَ وَإِنْ کُنْتَ عَلِمْتَ أَنَّہٗیَرَاکَ فَلَمْ یَمْنَعْکَ مِنْہٗمَامَنَعَکَمِنْأَضْعَفِخَلْقِہٖلَقَدِاجْتَرَأْتَ۔ … اےابنآدم! جبتونےبرائی کا ارتکاب کرنا چاہا تو دیکھنے والی آنکھ کی وجہ سے وہ تجھ سے سرزد نہ ہو سکی، لیکن جب تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ اکیلا ہوا تو اس کا ارتکاب کر دیا اور اللہ سے اتنی بھی شرم نہیں کی، جتنی اس کی مخلوق کے بعض افراد سے کی۔ تو نہیں ہے، مگر دو آدمیوں میں سے ایک، اگر تو گمان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تجھے دیکھ نہیں رہے تو تو کافر ہو گیا اور اگر تو جانتا ہے کہ وہ تجھ دیکھ رہا ہے تو یہ چیز تیرے لیے رکاوٹ نہ بن سکی، جبکہ کمزور ترین مخلوق رکاوٹ بن گئی تھی، تو یقینا تونے اللہ تعالیٰ پر جرأت کی۔
کسی نے رات کو ایک بدو خاتون سے برائی کرنے کا ارادہ کیا اور اس نے کہا: مَا یَرَانا إِلَّا الْکَوَاکِبُ۔ … اب تو ہمیں صرف ستارے دیکھنے والے ہیں، اس نے آگے سے جواب دیا: أَیْنَ مُکَوْکِبُہَا؟ … ستاروں کو چمکانے والا کہاں ہے؟
امام احمد رحمتہ اللہ علیہ یہ شعر پڑھا کرتے تھے: إِذَا مَا خَلَوْتَ الدَّہْــرَ یَوْمًا فَـلَا تَقُلْ خَلَوْتُ وَلٰکِنْ قُلْ عَلَیَّ رَقِیْبُ
وَ لَا تَحْــــــسَبَنَّ اللّٰہَ یَغْفَلُ سَاعَۃً وَلَا أَنْ مـَـا یَخْفٰی عَلَیْہِیَغِیْبُ
جب تو کسی وقت خلوت میں ہو تو یہ نہ کہہ کہ میں علیحدہ ہو گیا ہوں، بلکہ کہہ کہ مجھ پر نگہبان موجود ہے۔
کبھییہ گمان نہ کر کہ اللہ تعالیٰ کسی لمحے غافل ہو جاتا ہے اور نہ یہ خیال کر کہ جو چیزیں تجھ پر مخفی ہے، وہ اس سے بھی غائب ہیں
ابن سماک رحمتہ اللہ علیہ یہ شعر پڑھا کرتے تھے: یَا مُدْمِنَ الذَّنْبِ أَمَا تَسْتَحْیِ وَاللّٰہُ فِــی الْخَلْوَۃِ ثَانِیْکَا
غَــــــرَّکَ مِنْ رَّبِّکَ إِمْہَالُہٗوَسِـــتْرُہٗطُوْلَمَسَاوِیْکَا
گناہوںپر ہمیشگی کرنے والے کیا تو شرماتا نہیں ہے، جبکہ خلوت میں تیرا دوسرا اللہ ہوتا ہے۔
تیرے پروردگار کے مہلت دینے نے تجھے دھوکہ دے رکھا ہے اور اس چیز نے کہ اس نے تیری برائیوں پر پردہ ڈال رکھا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الترغيب فى الأعمال الصالحة / حدیث: 8937
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه النسائي في الكبري : 11560 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8683 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8668»
حدیث نمبر: 8938
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ سُلَيْمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ الْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَا أَقُولُ فِي رَجُلٍ خَيْرًا وَلَا شَرًّا حَتَّى أَنْظُرَ مَا يُخْتَمُ لَهُ يَعْنِي بَعْدَ شَيْءٍ سَمِعْتُهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قِيلَ وَمَا سَمِعْتَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَقَلْبُ ابْنِ آدَمَ أَشَدُّ انْقِلَابًا مِنَ الْقِدْرِ إِذَا اجْتَمَعَتْ غَلْيًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سید مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث سننے کے بعد اب اس وقت تک کسی شخص کے بارے میں خیریا شرّ کا فیصلہ نہیں کرتا، جب تک یہ نہ دیکھ لوں کہ کس عمل پر اس کی زندگی کا اختتام ہو رہا ہے، کسی نے کہا: کون سی حدیث تو نے سنی ہے؟ میں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ابن آدم کا دل اس ہنڈیا سے بھی زیادہ الٹ پلٹ ہونے والا ہے، جو ساری کی ساری ابل رہی ہو۔
وضاحت:
فوائد: … پہلے دور کے لوگ رسوخ والے اور اپنے اپنے نظریوں پر قائم رہنے والے ہوتے تھے، عصر حاضر میں وقار، متانت اور سنجیدگی جیسی صفات نایاب ہوتی جارہی ہیں، اسی کی ایک شق یہ ہے کہ لوگوں کا نیکیوں سے برائیوں کی طرف اور برائیوں سے نیکیوں کی طرف منتقل ہونے کا پتہ ہی نہیں چلتا، زیادہ غالب چیزیہی ہے کہ لوگوں کے دل اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی معرفت اور محبت سے خالی ہوتے جا رہے ہیں، جس کی وجہ سے بدعملی میں بڑا اضافہ ہو رہا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الترغيب فى الأعمال الصالحة / حدیث: 8938
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، أخرجه الطبراني: 20/ 603، والحاكم: 2/ 289 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23816 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24317»
حدیث نمبر: 8939
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ وَأَهْلُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَخَافُ عَلَيْنَا وَقَدْ آمَنَّا بِكَ وَبِمَا جِئْتَ بِهِ قَالَ إِنَّ الْقُلُوبَ بِيَدِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يُقَلِّبُهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کثرت سے یہ دعا کیا کرتے تھے: … یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ! ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلٰی دِیْنِکَ۔(اے دلوں کو الٹ پلٹ کر دینے والے! میرے دل کو اپنے دین پر جمائے رکھنا)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ اور اہل و عیال نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کو ہمارے بارے میں کوئی ڈر ہے، جبکہ ہم آپ پر اور آپ کی لائی ہو شریعت پر ایمان لائے ہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک تمام دل اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں، وہ ان کو الٹ پلٹ کر دیتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الترغيب فى الأعمال الصالحة / حدیث: 8939
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده قوي علي شرط مسلم، أخرجه الترمذي: 2140، وابن ماجه: 3834، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12107 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12131»
حدیث نمبر: 8940
عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ رَجُلًا كَانَ فِيمَنْ قَبْلَكُمْ رَغَسَهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مَالًا وَوَلَدًا حَتَّى ذَهَبَ عَصْرُهُ وَجَاءَ عَصْرٌ فَلَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قَالَ أَيْ بَنِيَّ أَيَّ أَبٍ كُنْتُ لَكُمْ قَالُوا خَيْرَ أَبٍ قَالَ أَنْتُمْ مُطِيعِيَّ قَالُوا نَعَمْ قَالَ انْظُرُوا إِذَا أَنَا مِتُّ أَنْ تُحَرِّقُونِي حَتَّى تَدَعُونِي فَحْمًا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَفَعَلُوا وَاللَّهِ ذَلِكَ ثُمَّ اهْرُسُونِي بِالْمِهْرَاسِ يُومِئُ بِيَدِهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَفَعَلُوا وَاللَّهِ ذَلِكَ ثُمَّ اذْرُونِي فِي الْبَحْرِ فِي يَوْمِ رِيحٍ لَعَلِّي أَضِلُّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَفَعَلُوا وَاللَّهِ ذَلِكَ فَإِذَا هُوَ فِي قَبْضَةِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَقَالَ يَا ابْنَ آدَمَ مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ قَالَ أَيْ رَبِّ مَخَافَتُكَ قَالَ فَتَلَافَاهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تم سے پہلے ایک آدمی کے مال و دولت میں بڑی برکت عطا کی تھی،یہاں تک کہ اس کا زمانہ گزر گیا اور نیا زمانہ آنے لگا، پس جب اس کی وفات کا وقت قریب ہوا تو اس نے کہا: تم نے مجھے کیسا باپ پایا؟انھوں نے کہا: بہترین باپ، اس نے کہا: کیا تم میری اطاعت کرو گے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، اس نے کہا: دیکھو، جب میں مر جاؤں تو تم نے مجھے اتنا جلانا ہے کہ میں کوئلے بن جاؤں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! انھوں نے ایسے ہی کیا۔ پھر اس نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا: پھر مجھے ہاون دستے سے کوٹ دینا۔ انھوں نے ایسے ہی کیا، پھر مجھے (یعنی میری راکھ کو) ہوا والے دن سمندر میں اڑا دینا، ہو سکتا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ سے چھپ جاؤں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس اللہ کی قسم! انھوں نے ایسے ہی کیا،لیکن اچانک اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنے قبضے میں کر کے پوچھا: اے آدم کے بیٹے! تجھے یہ کاروائی کرنے پر کس نے آمادہ کیا تھا؟ اس نے کہا: اے میرے ربّ! تیرا ڈر تھا، پس اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کی کوتاہی کو معاف کر دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الترغيب فى الأعمال الصالحة / حدیث: 8940
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه الدارمي: 2813، والطبراني في الكبير : 19/ 1026 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20012 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20261»
حدیث نمبر: 8941
عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ فَجَمَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ وَقَالَ لَهُ لِمَ فَعَلْتَ ذَلِكَ قَالَ مِنْ خَشْيَتِكَ قَالَ فَغَفَرَ لَهُ قَالَ عُقْبَةُ بْنُ عَمْرٍو أَنَا سَمِعْتُهُ يَقُولُ ذَلِكَ وَكَانَ نَبَّاشًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہما نے اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے ، البتہ اس میں ہے: پس اللہ تعالیٰ نے اس کو جمع کر لیا اور کہا: تو نے ایسے کیوں کیا تھا؟ اس نے کہا: تیرے ڈر کی وجہ سے، پس اللہ تعالیٰ نے اس کو بخش دیا۔ عقبہ بن عمرو نے کہا: میں نے سنا ہے کہ وہ کفن چور تھا۔
وضاحت:
فوائد: … ایک بڑا اہم سوال یہ ہے کہ اس آدمی کا نظریہیہ تھا کہ اگر اس کی میت کے ساتھ یہ کاروائی کی گئی تو وہ اللہ تعالیٰ سے چھپ جائے گا، جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: {اِنَّ اللّٰہَ لَا یَخْفٰی عَلَیْہِ شَیْئ’‘ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِی السَّمَآئِ۔} … بیشکنہ زمین میں کوئی چیز اللہ تعالیٰ پر مخفی ہے اور نہ آسمان میں۔ (سورۂ آل عمران: ۵)
نیز اللہ تعالیٰ قادرِ مطلق ہے وہ جو چاہے کر سکتا ہے، اس آدمی کے نظریہ سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب اس کی راکھ ہواؤں اور سمندروں میں اڑا دی جائے تو اللہ تعالیٰ اس کو اکٹھا کرنے اور اس کو دوبارہ زندہ کرنے پر قادر نہیں ہو گا۔
اس سوال کے کئی جوابات دیئے گئے ہیں، تین درج ذیل ہیں: ۱۔ یہ آدمی اللہ تعالیٰ کا اقرار تو کرتا تھا،لیکن کسی فترہ کے زمانے میں ہونے کی وجہ سے اس کو کسی نبی کی مکمل تعلیمات کا علم نہیں تھا، اس لیےیہ اللہ تعالیٰ کی تمام صفات اور ایمان کی تمام شرائط سے ناواقف تھا۔
۲۔ ممکن ہے کہ اس آدمی نے یہ وصیت اس وقت کی ہو، جب دہشت اور خوف کی وجہ سے اس کی عقل زائل ہو چکی ہو۔
۳۔ ممکن ہے کہ یہ آدمی خلوص کے ساتھ کسی شریعت کا تابع ہو، لیکن مکمل معلومات حاصل کرنے سے پہلے انتقال کر گیا ہو۔ واللہ اعلم بالصواب۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الترغيب فى الأعمال الصالحة / حدیث: 8941
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «البخاري: 3452، 3479 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23353 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23745»
حدیث نمبر: 8942
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا لَمْ يَعْمَلْ مِنَ الْخَيْرِ شَيْئًا قَطُّ إِلَّا التَّوْحِيدَ فَلَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قَالَ لِأَهْلِهِ إِذَا أَنَا مِتُّ فَخُذُونِي وَاحْرُقُونِي حَتَّى تَدَعُونِي حُمَمَةً ثُمَّ اطْحَنُونِي ثُمَّ اذْرُونِي فِي الْبَحْرِ فِي يَوْمٍ رَاحٍ قَالَ فَفَعَلُوا بِهِ ذَلِكَ فَإِذَا هُوَ فِي قَبْضَةِ اللَّهِ قَالَ فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ قَالَ مَخَافَتُكَ قَالَ فَغَفَرَ اللَّهُ لَهُ قَالَ يَحْيَى حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِمِثْلِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک آدمی نے توحید کے علاوہ کوئی نیک عمل نہیں کیا تھا، جب اس کی وفات کا وقت ہوا تو اس نے اپنے اہل خانہ سے کہا: جب میں مر جاؤں تو مجھے پکڑ کر جلا دینا اور کوئلہ بنا دینا، پھر پیس دینا اور ہوا والے دن سمندر میں اڑا دینا، انھوں نے ایسے ہی کیا، لیکن اچانک وہ اللہ تعالیٰ کے قبضے میں آگیا، اللہ تعالیٰ نے اس سے کہا: تجھے کسی چیز نے اس کاروائی پر آمادہ کیا؟ اس نے کہا: تیرے ڈر نے، پس اللہ تعالیٰ نے اس کو معاف کر دیا۔
وضاحت:
فوائد: … سابقہ حدیث کے فوائد ملاحظہ فرمائیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الترغيب فى الأعمال الصالحة / حدیث: 8942
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه ابويعلي: 5105، والطبراني في الكبير : 10467، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3784 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3784»
حدیث نمبر: 8943
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بھی اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الترغيب فى الأعمال الصالحة / حدیث: 8943
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3478، 6481 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11096 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11112»
حدیث نمبر: 8944
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ وَأَبِي الدَّهْمَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَا كَانَا يُكْثِرَانِ السَّفَرَ نَحْوَ هَذَا الْبَيْتِ قَالَا أَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ (وَفِي رِوَايَةٍ فَقُلْنَا هَلْ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا) فَقَالَ الْبَدَوِيُّ أَخَذَ بِيَدِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يُعَلِّمُنِي مِمَّا عَلَّمَهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَقَالَ إِنَّكَ لَنْ تَدَعَ شَيْئًا اتِّقَاءَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا أَعْطَاكَ اللَّهُ خَيْرًا مِنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو قتادہ اور ابو دہماء سے مروی ہے کہ وہ بیت اللہ کی طرف کثرت سے سفر کرتے تھے، وہ کہتے ہیں: ایک دفعہ ہم ایک دیہاتی آدمی کے پاس آئے اور کہا: کیا تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی حدیث سنی ہے؟ اس بدّو نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے بعض وہ چیزیں سکھائیں، جن کا علم اللہ تعالیٰ نے آپ کو دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو جس چیز کو بھی اللہ تعالیٰ کے ڈر کی وجہ سے چھوڑے گا، اللہ تعالیٰ تجھے اس سے بہتر عطا کرے گا۔
وضاحت:
فوائد: … کتنی خوبصورت حدیث ِ مبارکہ ہے، مسلمان کی زندگی کے لمحہ لمحہ کو شامل ہے، یہ فرمانِ عالی شان اس قابل ہے کہ ہر اقدام سے پہلے اس کو مد نظر رکھا جائے، زندگی حقیقی لذتوںسے بھر جائے گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الترغيب فى الأعمال الصالحة / حدیث: 8944
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه البيھقي: 5/ 335 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20739 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21019»