حدیث نمبر: 8934
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا نَاصِحُ بْنُ الْعَلَاءِ أَبُو الْعَلَاءِ حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ سَمِعْتُ الْقَوَارِيرِيَّ يَقُولُ كُنْتُ أَمُرُّ بِنَاصِحٍ فَيُحَدِّثُنِي فَإِذَا سَأَلْتُهُ الزِّيَادَةَ قَالَ لَيْسَ عِنْدِي غَيْرُ ذَا وَكَانَ ضَرِيرًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد الرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قسم کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں یہ بھی ہے: عبیداللہ قواریری کہتے ہیں: میں ناصح بن علاء کے پاس سے گزرتا تھا اور وہ مجھے احادیث بیان کرتے تھے، پھر جب میں ان سے مزید کا سوال کرتا تو وہ کہتے: میرے پاس اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے، وہ نابینا آدمی تھے۔
حدیث نمبر: 8935
قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْإِمَامِ أَحْمَدَ قَرَأْتُ عَلَى أَبِي حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ حَدَّثَنَا سُكَيْنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ الْهَجَرِيُّ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا عَالَ مَنِ اقْتَصَدَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے میانہ روی اختیار کی، وہ محتاج نہیں ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن عملی طور پر یہ ایک سنہری اصول ہے کہ معاملات دینی ہوں یا دنیوی، جو آدمی میانہ روی اختیار کرے گا، وہ دونوں جہانوں میں سرخرو ہو گا۔
حدیث نمبر: 8936
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مِنْ فِقْهِ الرَّجُلِ رِفْقُهُ فِي مَعِيشَتِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ آدمی کی سمجھداری کی علامت ہو گی کہ وہ معیشت میں نرمی یعنی اعتدال اختیار کرے۔
وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا: {وَالَّذِیْنَ اِذَآ اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَلَمْ یَقْتُرُوْا وَکَانَ بَیْنَ ذٰلِکَ قَوَامًا۔} … اور وہ کہ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ خرچ میں تنگی کرتے ہیں اور (ان کا خرچ) اس کے درمیان معتدل ہوتا ہے۔ (سورۂ فرقان: ۶۷)