کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سورۂ بقرہ کی آخری آیات کے فضائل
حدیث نمبر: 8527
عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ كِتَابًا قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِأَلْفَيْ عَامٍ فَأَنْزَلَ مِنْهُ آيَتَيْنِ فَخَتَمَ بِهِمَا سُورَةَ الْبَقَرَةِ وَلَا يُقْرَآَنِ فِي دَارٍ ثَلَاثَ لَيَالٍ فَيَقْرَبَهَا الشَّيْطَانُ قَالَ عَفَّانُ فَلَا تُقْرَبَنَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کی تخلیق سے دو ہزار سال قبل ایک دستاویز تحریر فرمائی، اس سے دو آیتیں اتاریں اور ان کے ذریعے سورۂ بقرہ کو مکمل کیا، جس گھر میں تین راتیں یہ دو آیتیں پڑھی جائیں گی، شیطان اس کے قریب نہیں پھٹک سکے گا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ آیات {آمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَا اُنْزِلَ اِلَیْہِ … } ہیں، پچھلے باب میں گزر چکی ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول / حدیث: 8527
درجۂ حدیث محدثین: اسناده حسن ۔ أخرجه الترمذي: 2882
تخریج حدیث «اسناده حسن ۔ أخرجه الترمذي: 2882 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18414 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18604»
حدیث نمبر: 8528
عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَرَأَ الْآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو رات کو سورۂ بقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھے گا تو یہ اسے کفایت کریں گی۔
وضاحت:
فوائد: … یہ آیات قیام اللیل سے یا شیطان سے یا آفات سے کفایت کریں گی، ممکن ہے کہ ان سب چیزوں سے کفایت کرنا مقصود ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول / حدیث: 8528
درجۂ حدیث محدثین: أخرجه البخاري: 5009
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5009، ومسلم: 807 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17096 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17224»
حدیث نمبر: 8529
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ اقْرَءُوا هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ اللَّتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فَإِنَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَعْطَاهُنَّ أَوْ أَعْطَانِيهِنَّ مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منبر پر براجمان ہو کر فرمایا: سورۂ بقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھا کرو، کیونکہ میرے رب نے مجھے عرش کے نیچے سے یہ عطاء کی ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول / حدیث: 8529
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره ۔ أخرجه ابويعلي: 1735
تخریج حدیث «صحيح لغيره ۔ أخرجه ابويعلي: 1735، والطبراني في الكبير : 17/ 780 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17445 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17582»
حدیث نمبر: 8529
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اقْرَأِ الْآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فَإِنِّي أُعْطِيتُهُمَا مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: سورۂ بقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھا کر، یہ مجھے عرش کے نیچے سے عطا کی گئی ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول / حدیث: 8529
درجۂ حدیث محدثین: انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17457
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17457»
حدیث نمبر: 8530
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُعْطِيتُ خَوَاتِيمَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ مِنْ بَيْتِ كَنْزٍ مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ لَمْ يُعْطَهُنَّ نَبِيٌّ قَبْلِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے سورۂ بقرہ کی آخری آیتیں عرش کے نیچے خزانے والے گھر سے عطا کی گئی ہیں اور مجھ سے پہلے کسی نبی کو یہ عطا نہیں کی گئیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول / حدیث: 8530
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره ۔ أخرجه الحاكم: 1/ 562
تخریج حدیث «صحيح لغيره ۔ أخرجه الحاكم: 1/ 562، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21345 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21672»