کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: {لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوَاتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ وَاِنْ تُبْدُوْ مَا فِیْ اَنْفُسِکُمْ اَوْ تُخْفُوْہٗ … }کی تفسیر
حدیث نمبر: 8523
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: لَمَّا نَزَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: {لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ، فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ} فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى صَحَابَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ جَثَوْا عَلَى الرُّكَبِ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كُلِّفْنَا مِنَ الْأَعْمَالِ مَا نُطِيقُ الصَّلَاةَ وَالصِّيَامَ وَالْجِهَادَ وَالصَّدَقَةَ، وَقَدْ أُنْزِلَ عَلَيْكَ هَذِهِ الْآيَةُ وَلَا نُطِيقُهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَتُرِيدُونَ أَنْ تَقُولُوا كَمَا قَالَ أَهْلُ الْكِتَابَيْنِ مِنْ قَبْلِكُمْ سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا، بَلْ قُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ)) فَقَالُوا: سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ، فَلَمَّا أَقَرَّ بِهَا الْقَوْمُ وَذَلَّتْ بِهَا أَلْسِنَتُهُمْ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي إِثْرِهَا: {آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ، كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ} قَالَ عَفَّانُ: قَرَأَهَا سَلَّامٌ أَبُو الْمُنْذِرِ يُفَرِّقُ {وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ} فَلَمَّا فَعَلُوا ذَلِكَ نَسَخَهَا اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِقَوْلِهِ: {لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ} فَصَارَ لَهَا مَا كَسَبَتْ مِنْ خَيْرٍ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ مِنْ شَرٍّ، فَسَّرَ الْعَلاَءُ هَذَا {رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا} قَالَ: نَعَمْ، {رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا} قَالَ: نَعَمْ، {رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ} قَالَ: نَعَمْ، {وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ}
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی {لِلَّہِ مَا فِی السَّمَوَاتِ وَمَا فِی الْأَ رْضِ وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِی أَ نْفُسِکُمْ أَ وْ تُخْفُوہُ یُحَاسِبْکُمْ بِہِ اللّٰہُ، فَیَغْفِرُ لِمَنْ یَشَائُ وَیُعَذِّبُ مَنْ یَشَائُ وَاللّٰہُ عَلَی کُلِّ شَیْء ٍ قَدِیرٌ} … اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو زمین میں ہے اور اگر تم اسے ظاہر کرو جو تمھارے دلوں میں ہے، یا اسے چھپاؤ اللہ تم سے اس کا حساب لے گا، پھر جسے چاہے گابخش دے گا اور جسے چاہے گا عذاب دے گا اور اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔ یہ آیت صحابہ کرام پر بہت گراں گزری، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور دو زانوں ہو کر بیٹھ گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! ہمیں اس آیت میں ان اعمال کا مکلف بنایا گیا ہے، جن کی ہم طاقت رکھتے ہیں، نماز ہے، روزہ ہے، جہاد ہے، صدقہ ہے،(ہم ان اعمال کو سرانجام دے سکتے ہیں)، لیکن اب آپ پر جو آیت نازل ہوئی ہے، اس کی ہم میں طاقت نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم بھی وہی بات دہرانا چاہتے ہو، جس طرح تم سے پہلے اہل کتاب نے کہا تھا کہ ہم نے سنا اور ہم نے نافرمانی کی، بلکہ یہ کہو کہ ہم نے سنا اور ہم نے اطااعت کی، اے ہمارے پروردگار! ہم تیری بخشش مانگتے ہیں اور تیری طرف لوٹنا ہے۔ صحابہ کرام نے کہا: ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی، اے ہمارے رب! ہم تیری بخشش مانگتے ہیں اور تیری طرف لوٹنا ہے، جب لوگوں نے اس کا اقرار کیا اور ان کی زبانیں اس حکم کے سامنے پست ہوئیں تو اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَیْہِ مِنْ رَبِّہِ وَالْمُؤْمِنُونَ، کُلٌّ آمَنَ بِاللّٰہِ وَمَلَائِکَتِہِ وَکُتُبِہِ وَرُسُلِہِ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ أَ حَدٍ مِنْ رُسُلِہِ} عفان نے کہا: ابو منذر سلام نے یُفَرِّقُ پڑھا ہے، {وَقَالُوْا سَمِعْنَا وَأَ طَعْنَا غُفْرَانَکَ رَبَّنَا وَإِلَیْکَ الْمَصِیرُ} جب صحابہ کرام نے ایسے ہی کیا تو اللہ تعالیٰ اس آیت کے حکم کو اس فرمان کے ساتھ منسوخ کر دیا: {لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَہَا لَہَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَیْہَا مَا اکْتَسَبَتْ} نفس کے حق میں وہ خیر ہے، جو وہ کمائے اور اسی پر وہ شرّ ہے، جس کا وہ ارتکاب کرے۔ { رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِینَا أَ وْ أَ خْطَأْنَا} اللہ تعالیٰ نے کہا: ہاں {رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَیْنَا إِصْرًا کَمَا حَمَلْتَہُ عَلَی الَّذِینَ مِنْ قَبْلِنَا} اللہ تعالیٰ نے کہا: ہاں {رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَۃَ لَنَا بِہِ} اللہ تعالیٰ نے کہا: ہاں،{وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَ نْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکَافِرِینَ۔}
وضاحت:
فوائد: … صحابۂ کرام اس حدیث ِ مبارکہ کی ابتداء میں مذکورہ آیت کی وجہ سے بہت زیادہ پریشان ہو گئی، کیونکہ انھوں نے یہ سمجھا کہ دل میں جو خیالات اور وسوسے پیدا ہوتے ہیں، ان سب کے بارے میں محاسبہ ہو گا، کیونکہ اللہ تعالی نے فرمایا: اور اگر تم اسے ظاہر کرو جو تمھارے دلوں میں ہے، یا اسے چھپاؤ اللہ تم سے اس کا حساب لے گا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو تلقین کی کہ بس وہ تسلیم کرتے جائیں، اللہ تعالی کوئی سبیل پیدا کرے گا۔ {آمَنَ الرَّسُولُ} میں رسول سے مراد حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ {لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ أَ حَدٍ مِنْ رُسُلِہٖ} یہآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کا امتیاز ہے کہ اِس نے سب انبیاء و رسل کی نبوت و رسالت کو تسلیم کیا، اس امت کا رویہیہود ونصاری کی طرح نہیں، جو کسی پر ایمان لائے اور کسی کے ساتھ کفر کیا۔ آخری دو مکمل آیات اور ان کا ترجمہ درج ذیل ہیں: {اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْہِ مِنْ رَّبِّہٖوَالْمُؤْمِنُوْنَکُلٌّاٰمَنَبِاللّٰہِوَمَلٰیِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖوَرُسُلِہٖلَانُفَرِّقُبَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِہٖوَقَالُوْاسَمِعْنَاوَاَطَعْنَاغُفْرَانَکَرَبَّنَاوَاِلَیْکَ الْمَصِیْرُ۔لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَا لَہَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَیْہَا مَا اکْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَآ اِنْ نَّسِیْنَآ اَوْ اَخْطَاْنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَیْنَآ اِصْرًا کَمَا حَمَلْتَہ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَۃَ لَنَا بِہٖوَاعْفُعَنَّاوَاغْفِرْلَنَاوَارْحَمْنَااَنْتَمَوْلٰینَا فَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ۔} … رسول اس پر ایمان لایا جو اس کے رب کی جانب سے اس کی طرف نازل کیا گیا اور سب مومن بھی، ہر ایک اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا، ہم اس کے رسولوں میں سے کسی ایک کے درمیان فرق نہیں کرتے۔ اور انھوں نے کہا ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی، تیری بخشش مانگتے ہیں اے ہمارے رب! اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ اللہ کسی جان کو تکلیف نہیں دیتا مگر اس کی گنجائش کے مطابق، اسی کے لیے ہے جو اس نے (نیکی) کمائی اور اسی پر ہے جو اس نے (گناہ) کمایا، اے ہمارے رب! ہم سے مؤاخذہ نہ کر اگر ہم بھول جائیںیا خطا کر جائیں، اے ہمارے رب! اور ہم پر کوئی بھاری بوجھ نہ ڈال، جیسے تو نے اسے ان لوگوں پر ڈالا جو ہم سے پہلے تھے، اے ہمارے رب! اور ہم سے وہ چیز نہ اٹھوا جس (کے اٹھانے) کی ہم میں طاقت نہ ہو اور ہم سے در گزر کر اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر، تو ہی ہمارا مالک ہے، سو کافر لوگوں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔
حدیث نمبر: 8524
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ إِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ [سورة البقرة: ٢٨٤] قَالَ دَخَلَ قُلُوبَهُمْ مِنْهَا شَيْءٌ لَمْ يَدْخُلْ قُلُوبَهُمْ مِنْ شَيْءٍ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَسَلَّمْنَا فَأَلْقَى اللَّهُ الْإِيمَانَ فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ [سورة البقرة: ٢٨٥-٢٨٦] قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْإِمَامِ أَحْمَدَ آدَمُ هَذَا هُوَ أَبُو يَحْيَى بْنُ آدَمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی {لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوَاتِ وَمَا فِی الْأَ رْضِ وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِی أَ نْفُسِکُمْ أَ وْ تُخْفُوہُ یُحَاسِبْکُمْ بِہِ اللّٰہُ … } … اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو زمین میں ہے اور اگر تم اسے ظاہر کرو جو تمھارے دلوں میں ہے، یا اسے چھپاؤ اللہ تم سے اس کا حساب لے گا۔ تو صحابہ کے دلوں میں ایک خیال گھس گیا اور وہ غمگین ہو گئے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کہو کہ ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کییا ہم نے تسلیم کیا، پس اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ایمان ڈال دیا اور اتنے میں یہ آیات نازل کر دیں: {اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْہِ مِنْ رَّبِّہٖ وَالْمُؤْمِنُوْنَ کُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَمَلٰیِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ لَانُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِہٖ وَقَالُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَاغُفْرَانَکَ رَبَّنَا وَاِلَیْکَ الْمَصِیْرُ۔لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَا لَہَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَیْہَا مَا اکْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَآ اِنْ نَّسِیْنَآ اَوْ اَخْطَاْنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَیْنَآ اِصْرًا کَمَا حَمَلْتَہ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَۃَ لَنَا بِہٖ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْلَنَا وَارْحَمْنَا اَنْتَ مَوْلٰینَا فَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ۔}
وضاحت:
فوائد: … سابقہ حدیث کے فوائد میں ان آیات کا ترجمہ ملاحظہ ہو۔
حدیث نمبر: 8525
عَنْ مُجَاهِدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقُلْتُ يَا أَبَا عَبَّاسٍ كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ فَبَكَى قَالَ أَيَّةُ آيَةٍ قُلْتُ إِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ [سورة البقرة: ٢٨٤] قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّ هَذِهِ الْآيَةَ حِينَ أُنْزِلَتْ غَمَّتْ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَمًّا شَدِيدًا وَغَاظَتْهُمْ غَيْظًا شَدِيدًا يَعْنِي وَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكْنَا إِنْ كُنَّا نُؤَاخَذُ بِمَا تَكَلَّمْنَا وَبِمَا نَعْمَلُ فَأَمَّا قُلُوبُنَا فَلَيْسَتْ بِأَيْدِينَا فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا قَالَ فَنَسَخَتْهَا هَذِهِ الْآيَةُ آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ [سورة البقرة: ٢٨٥] إِلَى لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ [سورة البقرة: ٢٨٦] فَتُجُوِّزَ لَهُمْ عَنْ حَدِيثِ النَّفْسِ وَأُخِذُوا بِالْأَعْمَالِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ مجاہد کہتے ہیں: میں سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس داخل ہوا اور کہا: اے ابو عباس! میں سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تھا، انھوں نے یہ آیت پڑھی اور رو پڑے، انھوں نے کہا: کون سی آیت؟ میں نے کہا: یہ آیت{لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوَاتِ وَمَا فِی الْأَ رْضِ وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِی أَنْفُسِکُمْ أَوْ تُخْفُوہُ یُحَاسِبْکُمْ بِہِ اللّٰہُ … } … اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو زمین میں ہے اور اگر تم اسے ظاہر کرو جو تمھارے دلوں میں ہے، یا اسے چھپاؤ اللہ تم سے اس کا حساب لے گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ کرام سخت غمزہ ہوئے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! ہم تو ہلاک ہو گئے ہیں، اگرہماری باتوں اور اعمال کی وجہ سے ہمارا مؤاخذہ کیا جائے (تو یہ تو ٹھیک ہے)، اب ہمارے دل تو ہمارے قابو میں نہیں ہے۔ آگے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کہو: ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی۔ پھر اس آیت نے اس آیت کے حکم کو منسوخ کر دیا{آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَیْہِ مِنْ رَبِّہِ وَالْمُؤْمِنُونَ … … لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَہَا لَہَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَیْہَا مَا اکْتَسَبَتْ} پس نفس کے خیالات کو معاف کر دیا گیا اور اعمال کا مؤاخذہ کیا گیا۔
وضاحت:
فوائد: … ان آیات کا مضمون درج ذیل حدیث میں بیان کیا گیا ہے: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّ اللّٰہَ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِی مَا حَدَّثَتْ بِہِ أَ نْفُسُہَا مَا لَمْ یَتَکَلَّمُوا أَ وْ یَعْمَلُوا بِہِ۔)) … بیشک اللہ تعالی نے میری امت سے ان امور سے تجاوز کیا ہے، جو نفسوں میں خیال آتے ہیں، جب تک وہ اس کے مطابق کلام نہ کریںیا عمل نہ کریں۔ (صحیح مسلم: ۱۸۱)
حدیث نمبر: 8526
عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ إِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ [سورة البقرة: ٢٨٤] وَعَنْ هَذِهِ الْآيَةِ مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ [سورة النساء: ١٢٣] فَقَالَتْ مَا سَأَلَنِي عَنْهُمَا أَحَدٌ مُنْذُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْهُمَا فَقَالَ يَا عَائِشَةُ هَذِهِ مُتَابَعَةُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ الْعَبْدَ بِمَا يُصِيبُهُ مِنَ الْحُمَّى وَالنَّكْبَةِ وَالشَّوْكَةِ حَتَّى الْبِضَاعَةُ يَضَعُهَا فِي كُمِّهِ فَيَفْقِدُهَا فَيَفْزَعُ لَهَا فَيَجِدُهَا فِي ضِبْنِهِ حَتَّى إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَيَخْرُجُ مِنْ ذُنُوبِهِ كَمَا يَخْرُجُ التِّبْرُ الْأَحْمَرُ مِنَ الْكِيرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ امیہ سے مروی ہے کہ اس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ان آیات کے بارے میں سوال کیا: {إِنْ تُبْدُوْا مَا فِی أَنْفُسِکُمْ أَ وْ تُخْفُوْہُ یُحَاسِبْکُمْ بِہِ اللّٰہُ} اور {مَنْ یَعْمَلْ سُوئً ا یُجْزَ بِہِ} (جو کوئی برا عمل کرے گا، اس کو اس کا بدلہ دیا جائے گا) سیدہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جب سے میں نے ان کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا تھا، اس وقت سے اب تک کسی نے مجھ سے ان کے بارے میں سوال نہیں کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایاتھا: اے عائشہ! یہ اللہ تعالیٰ بندے کا مؤاخذہ کرتے رہتے ہیں، ان عوارض کے ذریعے جو بندے کو لاحق ہوتے رہتے ہیں، مثلاً: بخار ہو گیا، مصیبت آ گئی، کانٹا چبھ گیا،یہاں تک کہ وہ سامان، جو بندہ اپنی آستیں میں رکھتا ہے، پھر اس کو گم پانے کی وجہ سے پریشان ہو جاتا ہے، اتنے میں اسی اپنی پہلو یا بغل میں پا لیتا ہے،(بیماریوں اور پریشانیوں کا یہ سلسلہ جاری رہتا ہے) یہاں تک کہ مومن اپنے گناہوں سے اس طرح صاف ہو جاتا ہے، جس طرح سونے کی سرخ ڈلی صاف ہو کر بھٹی سے نکلتی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب میں سورۂ بقرہ کی آخری تین آیات کا ذکر ہے، آیات کا مفہوم احادیث سے ہی واضح ہو رہا ہے، ضرورت کے مطابق مزید وضاحت بھی کر دی ہے۔