کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا اپنے زمانۂ خلافت میں (ایک قراء ت کے مطابق) مصاحف لکھوانا، پھران کو مختلف علاقوں میں تقسیم کرنا اور لوگوں کو اس پر پابند رہنے پر آمادہ کرنا اور اس کے مخالف قراء ت والے اور قدیم مصاحف کو جلا دینے کا بیان
حدیث نمبر: 8408
عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَوْ غَيْرِهِ أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا كُتِبَتِ الْمَصَاحِفُ فَقَدْتُ آيَةً كُنْتُ أَسْمَعُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْتُهَا عِنْدَ خُزَيْمَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ [سورة الأحزاب: ٢٣] إِلَى تَبْدِيلًا قَالَ فَكَانَ خُزَيْمَةُ يُدْعَى ذَا الشَّهَادَتَيْنِ أَجَازَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَهَادَتَهُ بِشَهَادَةِ رَجُلَيْنِ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَقُتِلَ يَوْمَ صِفِّينَ مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب مصاحف تحریر کیے گئے تو مجھے ایک آیت نہیں مل رہی تھی، جبکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وہ سنا کرتا تھا، بالآخر میں نے وہ آیت سیدنا خزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس پائی، وہ آیتیہ تھی: {مِنْ الْمُؤْمِنِینَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاہَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہِ … تَبْدِیلًا}۔سیدنا خزیمہ رضی اللہ عنہ کو دو شہادتوں والا کہا جاتا تھا، اس کی وجہ یہ تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی شہادت کو دو آدمیوں کی شہادت کے برابر قرار دیا تھا، امام زہری رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: سیدنا خزیمہ رضی اللہ عنہ صفین کی جنگ میں شہید ہو گئے تھے، جبکہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے لڑ رہے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … آیت کو گم پانے کا یہ واقعہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں پیش آیا، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے دور میں جو دو آیتیں گم پائی تھیں، وہ سورۂ توبہ کی آخری تھیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب كيفية نزول القرآن / حدیث: 8408
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2807، 4986، 7425 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21652 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21991»
حدیث نمبر: 8408M
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ فُقِدَتْ آيَةٌ مِنْ سُورَةِ الْأَحْزَابِ حِينَ نَسَخْنَا الْمَصَاحِفَ قَدْ كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِهَا رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ [سورة الأحزاب: ٢٣] فَالْتَمَسْتُهَا فَوَجَدْتُهَا مَعَ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَلْحَقْتُهَا فِي سُورَتِهَا فِي الْمُصْحَفِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب ہم مصحف لکھ رہے تھے تو میں نے سورۂ احزاب کی ایک آیت نہ پائی، جب کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وہ سن رکھی تھی، وہ یہ آیت تھی: {رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاہَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہِ … … }، جب میں نے وہ آیت تلاش کی تو اس کو سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس پایا، پس میں اس کو مصحف میں اس کی سورت میں لکھ دیا۔
وضاحت:
فوائد: … حافظ ابن کثیر رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: یہ امیر المومنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے مناقب میں سے ہے کہ انھوں نے لوگوں کو قرآن مجید کی ایک قراء ت پر جمع کر دیا، تاکہ لوگوں میں اختلاف واقع نہ ہو، جبکہ ان سے پہلے سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما حفاظت ِ قرآن کا اہتمام کر چکے تھے، پس ائمۂ اربعہ اور خلفائے اربعہ دین کے مصالح پر متفق تھے۔
صحیح بخاری کی درج ذیل مفصل روایت سے پوری بات سمجھ میں آ جاتی ہے: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: أَ نَّ حُذَیْفَۃَ بْنَ الْیَمَانِ قَدِمَ عَلَی عُثْمَانَ وَکَانَ یُغَازِی أَ ہْلَ الشَّأْمِ فِی فَتْحِ إِرْمِینِیَۃَ وَأَ ذْرَبِیجَانَ مَعَ أَ ہْلِ الْعِرَاقِ فَأَ فْزَعَ حُذَیْفَۃَ اخْتِلَافُہُمْ فِی الْقِرَائَ ۃِ، فَقَالَ حُذَیْفَۃُ لِعُثْمَانَ: یَا أَ مِیرَ الْمُؤْمِنِینَ! أَ دْرِکْ ہٰذِہِ الْأُمَّۃَ قَبْلَ أَ نْ یَخْتَلِفُوا فِی الْکِتَابِ اخْتِلَافَ الْیَہُودِ وَالنَّصَارٰی، فَأَرْسَلَ عُثْمَانُ إِلٰی حَفْصَۃَ أَ نْ أَ رْسِلِی إِلَیْنَا بِالصُّحُفِ نَنْسَخُہَا فِی الْمَصَاحِفِ ثُمَّ نَرُدُّہَا إِلَیْکِ، فَأَ رْسَلَتْ بِہَا حَفْصَۃُ إِلَی عُثْمَانَ، فَأَ مَرَ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ وَعَبْدَ اللّٰہِ بْنَ الزُّبَیْرِ وَسَعِیدَ بْنَ الْعَاصِ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ ہِشَامٍ فَنَسَخُوہَا فِی الْمَصَاحِفِ، وَقَالَ عُثْمَانُ لِلرَّہْطِ الْقُرَشِیِّینَ الثَّلَاثَۃِ إِذَا اخْتَلَفْتُمْ أَ نْتُمْ وَزَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ فِی شَیْء ٍ مِنْ الْقُرْآنِ فَاکْتُبُوہُ بِلِسَانِ قُرَیْشٍ، فَإِنَّمَا نَزَلَ بِلِسَانِہِمْ فَفَعَلُوا حَتَّی إِذَا نَسَخُوا الصُّحُفَ فِی الْمَصَاحِفِ، رَدَّ عُثْمَانُ الصُّحُفَ إِلٰی حَفْصَۃَ وَأَ رْسَلَ إِلٰی کُلِّ أُفُقٍ بِمُصْحَفٍ مِمَّا نَسَخُوا وَأَ مَرَ بِمَا سِوَاہُ مِنْ الْقُرْآنِ فِی کُلِّ صَحِیفَۃٍ أَ وْ مُصْحَفٍ أَ نْ یُحْرَقَ قَالَ ابْنُ شِہَابٍ وَأَ خْبَرَنِی خَارِجَۃُ بْنُ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ سَمِعَ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ قَالَ: فَقَدْتُ آیَۃً مِنْ الْأَ حْزَابِ حِینَ نَسَخْنَا الْمُصْحَفَ قَدْ کُنْتُ أَ سْمَعُ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَقْرَأُ بِہَا فَالْتَمَسْنَاہَا فَوَجَدْنَاہَا مَعَ خُزَیْمَۃَ بْنِ ثَابِتٍ الْأَ نْصَارِیِّ: {مِنْ الْمُؤْمِنِینَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاہَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہِ۔} فَأَ لْحَقْنَاہَا فِی سُورَتِہَا فِی الْمُصْحَفِ۔ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ، سیدناعثمان رضی اللہ عنہ کے
پاس پہنچے، اس وقت وہ اہل شام و عراق کو ملا کر آرمینۃ و آذربائیجان کو فتح کرنے کے لیے جنگ کر رہے تھے، قراء ت میں اہل عراق اور اہل شام کے اختلاف نے سیدنا حذیفہ کو بے چین کردیا، چنانچہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا: اے امیرالمومنین! اس امت کو پا لیجئے، قبل اس کے کہ یہیہود و نصاریٰ کی طرح کتاب میں اختلاف کرنے لگیں، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو پیغام بھیجا کہ تم وہ صحیفے میرے پاس بھیج دو، ہم اس کی نقلیں تیار کر کے تم کو واپس کر دیں گے، سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے یہ صحیفے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو بھیجوا دیئے، سیدنا عثمان نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ، سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ، سیدنا سعید بن عاص اور سیدنا عبدالرحمن بن حارث بن ہشام کو حکم دیا کہ وہ اس مصحف کی نقلیں تیار کریں اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان تینوں قریشیوں سے کہا: جب تم میں اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہ میں کہیں قراء تِ قرآن میں اختلاف ہو جائے تو اس کو قریش کی زبان میں لکھ دینا، کیونکہ قرآن مجید قریش کی زبان میں نازل ہوا ہے، پس ان لوگوں نے ایسا ہی کیا،یہاں تک کہ جب ان صحیفوں کو مصاحف میں نقل کرلیا گیا تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے وہ صحیفے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو پاس بھجوا دیئے اور نقل شدہ مصاحف میں سے ایک ایک نسخہ تمام علاقوں میں بھیج دیئے اور حکم دے دیا کہ اس کے سوائے جو قرآن صحیفہیا مصاحف میں ہے، جلا دیا جائے، امام زہری نے کہا: مجھ سے خارجہ بن زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا قول نقل کیا کہ میں نے مصاحف کو نقل کرتے وقت سورۂ احزاب کی ایک آیت نہ پائی، حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا تھا، پس جب ہم نے اسے تلاش کیا تو وہ آیت مجھے سیدنا خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس ملی، وہ یہ آیت تھی: {مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاہَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہ … } (سورۂ احزاب: ۲۳) تو ہم نے اس آیت کو اس سورت میں شامل کردیا۔ عربوں کی سہولت کے لیے قرآن مجید سات قراء ات پرنازل ہوا تھا، لیکن جب بعد میں غیر عربوں کی وجہ سے یہی رخصت اور سہولت شدید اختلاف کا سبب بنی تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ لوگوں کو ایک قراء ت پر جمع کر کے امت ِ مسلمہ پر احسانِ عظیم کر دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب كيفية نزول القرآن / حدیث: 8408M
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21982»