کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: جس سے وظیفہ رہ جائے اس کی قضا کب دے؟
حدیث نمبر: 8402
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْإِمَامِ أَحْمَدَ وَقَدْ بَلَغَ بِهِ أَبِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ فَاتَهُ شَيْءٌ مِنْ وِرْدِهِ أَوْ قَالَ مِنْ جُزْئِهِ فَقَرَأَهُ مَا بَيْنَ صَلَاةِ الْفَجْرِ إِلَى الظُّهْرِ فَكَأَنَّمَا قَرَأَهُ مِنْ لَيْلَةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’جس کا پابندی سے پڑھے جانے والا وظیفہ (رات کو) رہ جائے، لیکن اگر وہ اس کو نمازِ فجر اور نمازِ ظہر کے درمیان ادا کر لے تو وہ ایسے ہی ہو گا، جیسے رات کو پڑھا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اگر کسی آدمی نے نماز کے علاوہ رات کو ذکر و تلاوت کی کوئی صورت معین کر رکھی ہو اور وہ عذر کی وجہ سے رہ جائے تو اس حدیث پر عمل کرتے ہوئے وہ نمازِ فجر اور نمازِ ظہر کے درمیان اس کی ادائیگی کر سکتا ہے، تاکہ اس کا تسلسل برقرار رہے، لیکن اگر عذر کی وجہ سے تہجد کی نماز رہ جائے تو اس کی قضا کا وقت طلوع آفتاب کے بعد شروع ہو گا، نہ کہ نمازِ فجر کے بعد، دونوں اعمال کا آخری وقت زوال ہی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب كيفية نزول القرآن / حدیث: 8402
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 747 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 377 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 377»