کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: عذاب والی آیتیا رحمت والی آیت اور بعض سورتوں کی تکمیل کے وقت¤قاری کے لیے مستحب ذکر کا بیان
حدیث نمبر: 8384
عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا مَرَّ بِآيَةِ رَحْمَةٍ سَأَلَ وَإِذَا مَرَّ بِآيَةٍ فِيهَا عَذَابٌ تَعَوَّذَ وَإِذَا مَرَّ بِآيَةٍ فِيهَا تَنْزِيهٌ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ سَبَّحَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب رحمت والی آیت کی تلاوت کرتے تو اللہ تعالیٰ سے اس کا سوال کرتے، جب عذاب کے ذکر پر مشتمل آیت کے پاس سے گزرتے تو پناہ مانگتے اور جب ایسی آیت سے گزرتے، جس میں اللہ تعالیٰ کی تقدیس بیان کی گئی ہوتی تواس کی تسبیح بیان کرتے۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قدر توجہ کے ساتھ تلاوت کیا کرتے تھے کہ حسب ِ امکان آیات کے تقاضے بھی پورے کرتے جاتے۔ اس موضوع پر صرف یہی حدیث صحیح ہے کہ رحمت، عذاب اور تسبیح والی آیات پر مطلوبہ ذکر کرنا چاہیے، مقتدی کو چاہیے کہ وہ خاموش رہے اور امام کی قراء ت پر یہ دعائیں نہ کرے، کیونکہ قراء ت کے وقت مقتدی کے لیے خاموش رہنے کا عام حکم ہے، ما سوائے سورۂ فاتحہ کے، امام اور منفرد کو اس سنت پر عمل کرنا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب كيفية نزول القرآن / حدیث: 8384
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 772، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23261 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23650»
حدیث نمبر: 8385
عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ سَمِعَهُ مِنْ شَيْخٍ فَقَالَ مَرَّةً سَمِعْتُهُ مِنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ أَعْرَابِيٍّ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَرَأَ وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا فَبَلَغَ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ فَلْيَقُلْ آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَنْ قَرَأَ وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ فَلْيَقُلْ بَلَى وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنَ الشَّاهِدِينَ وَمَنْ قَرَأَ أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍ عَلَى أَنْ يُحْيِيَ الْمَوْتَى فَلْيَقُلْ بَلَى قَالَ إِسْمَاعِيلُ فَذَهَبْتُ أَنْظُرُ هَلْ حَفِظَ وَكَانَ أَعْرَابِيًّا فَقَالَ يَا ابْنَ أَخِي أَظَنَنْتَ أَنِّي لَمْ أَحْفَظْهُ لَقَدْ حَجَجْتُ سِتِّينَ حَجَّةً مَا مِنْهَا سَنَةٌ إِلَّا أَعْرِفُ الْبَعِيرَ الَّذِي حَجَجْتُ عَلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی سورۂ مرسلات پڑھے اور جب وہ اس آیت {فَبِأَ یِّ حَدِیثٍ بَعْدَہُ یُؤْمِنُونَ} پرپہنچے تو کہے: آمَنَّا بِاللّٰہِ (ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے ہیں)، جو آدمی سورۂ تین کی تلاوت کرے تو وہ آخر میں کہے: بَلٰی وَأَ نَا عَلٰی ذَلِکَ مِنْ الشَّاہِدِینَ (کیوں نہیں، اور میں اس پر گواہوں میں سے ہوں)، اور جو آدمی جب یہ آیت {أَ لَیْسَ ذٰلِکَ بِقَادِرٍ عَلَی أَ نْ یُحْیِیَ الْمَوْتٰی} پڑھے، تو وہ کہے: بَلٰی (کیوں نہیں)۔ اسماعیل راوی نے کہا: میں نے کوشش کی کہ پتہ چلاؤں اس اعرابی نے اسے اچھی طرح یاد بھی کیا ہے یا نہیں، اس نے آگے سے کہا: بھتیجے! تیرا کیا خیال ہے کہ میں نے اسے یاد نہیں کیا، میں نے ساٹھ حج کئے ہیں اور میں ہر سال والے اس اونٹ کو پہچان سکتا ہوں، جس پر میں نے حج کیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب كيفية نزول القرآن / حدیث: 8385
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة الراوي عن ابي ھريرة ۔ أخرجه ابوداود: 887، والترمذي: 3347، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7391 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7385»