کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قراء ت کی فضیلت کا بیان مکمل قرآن مجید حفظ کر لینے والے صحابۂ کرام کا بیان
حدیث نمبر: 8378
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بَشَّرَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ غَضًّا كَمَا أُنْزِلَ فَلْيَقْرَأْ عَلَى قِرَاءَةِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں یہ خوشخبری سنائی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو چاہتا ہے کہ قرآن مجید کو اس طرح ترو تازہ پڑھے، جس طرح وہ نازل ہوا ہے تو وہ ام عبد کے بیٹے (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) کی قراء ت کے مطابق پڑھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب كيفية نزول القرآن / حدیث: 8378
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن ۔ أخرجه ابن ماجه: 138 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 35 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 35»
حدیث نمبر: 8379
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ قَالَ غَضًّا أَوْ رَطْبًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے، البتہ اس میں غَضًّا اَوْ رَطْبًا کے الفاظ ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب كيفية نزول القرآن / حدیث: 8379
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح ۔ أخرجه الترمذي: 169، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 36 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 36»
حدیث نمبر: 8380
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ غَرِيضًا كَذَا قَالَ كَمَا أُنْزِلَ فَلْيَقْرَأْهُ عَلَى قِرَاءَةِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو قرآن مجید کو اس طرح ترو تازہ پڑھنا چاہتا ہے جس طرح کہ وہ نازل ہوا تو اسے چاہیے کہ وہ ابن ام عبد یعنی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قراء ت کے مطابق پڑھے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قراء ت کو تروتازہ قرار دینے کی وجہ حدیث نمبر (۸۴۴۹)میں بیان کی گئی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب كيفية نزول القرآن / حدیث: 8380
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره ۔ أخرجه ابويعلي: 6106، والبزار: 2682، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: )9754 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9753»
حدیث نمبر: 8381
عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَذُكِرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ إِنَّ ذَاكَ لَرَجُلٌ لَا أَزَالُ أُحِبُّهُ أَبَدًا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ خُذُوا الْقُرْآنَ عَنْ أَرْبَعَةٍ عَنْ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ فَبَدَأَ بِهِ وَعَنْ مُعَاذٍ وَعَنْ سَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ قَالَ يَعْلَى أَحَدُ الرُّوَاةِ وَنَسِيتُ الرَّابِعَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ مسروق رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں:میں سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا، وہاں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ذکر ہونے لگا، انھوں نے کہا: میں اس وقت سے اس آدمی سے محبت کرتا ہوں، جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ حدیث سنی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اِن چار افراد سے قرآن مجید کی تعلیم حاصل کرو: ابن ام عبد، معاذ، مولائے ابی حذیفہ سالم۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب سے پہلے ابن ام عبد یعنی سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا۔ یعلیٰ راوی کہتے ہیں: میں چوتھے کا نام بھول گیا۔
وضاحت:
فوائد: … چوتھے صحابی سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ تھے، جیسا کہ اگلی حدیث سے ثابت ہو رہا ہے۔ کسی سے محبت کرنے کے لیے صحابۂ کرام کے معیار پر غور کریں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب كيفية نزول القرآن / حدیث: 8381
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3760، ومسلم: 2464، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6523 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6523»
حدیث نمبر: 8382
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ اسْتَقْرِئُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اِن چار افراد سے قرآن مجید سیکھو: عبداللہ بن مسعود، مولائے ابی حذیفہ سالم، معاذ بن جبل اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہم۔
وضاحت:
فوائد: … چار صحابۂ کرام کی بڑی منقبت کا بیان ہے کہ سب سے عظیم کلام کی تعلیم کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے بیشمار ساتھیوں میں صرف چار کا نام پیش کیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب كيفية نزول القرآن / حدیث: 8382
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6767»
حدیث نمبر: 8383
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَمَعَ الْقُرْآنَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَةُ نَفَرٍ كُلُّهُمْ مِنَ الْأَنْصَارِ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَأَبُو زَيْدٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد ِ مبارک میں چار افراد نے مکمل قرآن مجید حفظ کیا تھا، یہ سارے کے سارے انصار میں سے تھے: ابی بن کعب، معاذ بن جبل، زید بن ثابت اور ابو زید۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا ابو زید رضی اللہ عنہ، سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے چچائوں میں سے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب كيفية نزول القرآن / حدیث: 8383
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5003، ومسلم: 2465 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13441 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13475»