کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: بوریت کے ڈر سے قراء ت ِ قرآن میںمیانہ روی اختیار کرنے کا، نیز اس چیز کا بیان¤کہ کتنے دنوں میں قرآن مجید کی تکمیل کی جائے
حدیث نمبر: 8372
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَدَّدَ آيَةً حَتَّى أَصْبَحَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح تک ایک آیت ہی دہراتے رہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب كيفية نزول القرآن / حدیث: 8372
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11593 /2 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11615»
حدیث نمبر: 8373
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ جَمَعْتُ الْقُرْآنَ فَقَرَأْتُ بِهِ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي أَخْشَى أَنْ يَطُولَ عَلَيْكَ زَمَانٌ أَنْ تَمَلَّ اقْرَأْهُ فِي كُلِّ شَهْرٍ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ دَعْنِي أَسْتَمْتِعُ مِنْ قُوَّتِي وَشَبَابِي قَالَ اقْرَأْهُ فِي كُلِّ عِشْرِينَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ دَعْنِي أَسْتَمْتِعُ مِنْ قُوَّتِي وَشَبَابِي قَالَ اقْرَأْهُ فِي كُلِّ عَشْرٍ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ دَعْنِي أَسْتَمْتِعْ مِنْ قُوَّتِي وَشَبَابِي قَالَ اقْرَأْهُ فِي كُلِّ سَبْعٍ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ دَعْنِي أَسْتَمْتِعْ مِنْ قُوَّتِي وَشَبَابِي فَأَبَى زَادَ فِي رِوَايَةٍ فَاقْرَأْ فِي كُلِّ سَبْعٍ لَا تَزِيدَنَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے قرآن مجید حفظ کر لیا تھا اور ہر رات کو قرآن مجید کی تکمیل کرتا تھا،جب یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے خطرہ ہے کہ جب تو لمبی عمر پائے گا تو تو اکتا جائے گا، اس لیے ایک مہینہ میں ایک دفعہ قرآن مکمل کر لیا کر۔ لیکن میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اپنی قوت اور جوانی سے فائدہ اٹھانے دیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیس دن میں ایک دفعہ پڑھ لیا کرو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اپنی قوت اور جوانی سے فائدہ اٹھانے دیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چلو دس دن میں پڑھ لیا کرو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اپنی قوت اور جوانی سے استفادہ کرنے دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سات دنوں میں ایک ختم کر لیا کرو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے چھوڑ دیں، مجھے اپنی قوت اور جوانی سے فائدہ اٹھانے دیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انکار کیا، ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر سات دن میں قرآن ختم کرلیا کر، لیکن اس سے کم دنوں میں نہیں۔
۔ (دوسری سند )سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے اس طرح بھی مروی ہے کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں کتنے دنوں میں قرآن ختم کیا کرو؟ فرمایا: ہر ماہ میں ختم کرو۔ میں نے کہا: مجھے زیادہ قوت ہے۔آپ نے فرمایا: پچیس دنوں میں پڑھ لو۔ میں نے کہا: مجھ میں زیادہ قوت ہے۔آپ نے فرمایا: بیس دن میں پڑھ لو۔ میں نے کہا: مجھ میں اس سے زیادہ قوت ہے۔ آپ نے فرمایا: پندہ دنوں میں قرآن ختم کرلیا کرو۔ میں نے کہا: مجھ میں اس سے زیادہ قوت ہے۔ آپ نے فرمایا: سات دنوں میں پڑھ لیا کرو۔ میں نے کہا: مجھ میں اس سے زیادہ قوت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو تین دن سے کم میں پڑھے گا اس نے اسے سمجھا نہیں۔
وضاحت:
فوائد: … ابو داود کی روایت کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب سے پہلے چالیس دنوں میں قرآن مجید کی تکمیل کرنے کا حکم دیا، اس روایت سے معلوم ہوا کہ ہر چالیس دنوں میں کم از کم ایک بار قرآن مجید کی تلاوت مکمل کرنی چاہیے۔ جیسا کہ اسحاق بن ابراہیم کہتے ہیں: ((وَلَانُحِبُّ لِلرَّجُلِ اَنْ یَاْتِیَ عَلَیْہِ اَکْثَرُ مِنْ اَرْبَعِیْنَیَوْمًا وَلَمْ یَقْرَأِ الْقُرْآنَ بِھٰذَ الْحَدِیْثِ۔)) ہم اس حدیث کی روشنی میں کسی آدمی کے لیےیہ پسند نہیں کرتے کہ چالیس دن گزر جائیں اور اس نے مکمل قرآن مجید کی تلاوت نہ کی ہو۔ (ترمذی)
امام احمد، امام اسحق بن راہویہ اور امام ابوعبید وغیرہ کا یہی خیال ہے کہ تین دنوں سے پہلے قرآن مجید کی تکمیل نہیں کرنی چاہیے، لیکن کئی سلف صالحین سے اس سے کم مدت میں قرآن مجید کی تلاوت مکمل کرنا ثابت ہے۔ امام نووی نے کہا: راجح بات یہ ہے کہ اس میں شخصیات کا اعتبار کیا جائے گا، جو آدمی قرآن مجید کو سمجھتا ہواور دورانِ تلاوت اس پر
غور و فکر کرتا ہو، اسی طرح جو آدمی حصولِ علم اور دین کے دوسرے اہم امور اور مسلمانوں کی عام مصلحتوں میں مصروف ہو، اس کے لیے مستحبّ یہ ہے کہ وہ اتنی تلاوت کر لیا کرے، جس میں غور و فکر اور تدبر برقرار ہے اور اس کے کام میں بھی حرج نہ ہو، لیکن جس آدمی کے ایسے مشاغل نہ ہوں، اس کو حسب ِ امکان کثرت سے تلاوت کرنی چاہیے، بس ایک چیز کا خیال رکھے کہ اتنی زیادہ تلاوت نہ کرے کہ اکتا جائے۔ بہرحال ہمارا نظریہیہ ہے کہ تین دنوں سے کم مدت میں قرآن مجید کی تکمیل نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بڑی رغبت کے ساتھ عبادت کرنے والے تھے، وہ ہر رات کو قرآن مجید مکمل کرتے تھے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے دنوں کی حد مقرر کی توا نھوں نے آ پ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اصرار کے ساتھ مزید دن کم کرنے کی درخواست بھی کی تھی، اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہی فرمایا کہ جو آدمی اس کتاب کو تین دنوں سے کم مدت میںپڑھ لے گا، وہ اس کو نہیں سمجھے گا۔ جہاں اس حدیث میں قرآن مجید کی تلاوت کی تکمیل کے لیے مدت کا تعین کر دیا ہے، وہاں تین ایام سے کم ختم کرنے کی وجہ سے اس چیز کی وضاحت ہو رہی ہے کہ تلاوت ِ قرآن سے مقصود قرآن فہمی ہے۔ لیکن عصر حاضر میںبالخصوص عجموں میں فہمِ قرآن کا جنازہ اٹھ چکا ہے، ہر بندہ خود بھی بغیر سوچے سمجھے قرآن مجید کی تلاوت کر رہا ہے اور اپنی اولاد کو اسی انداز کا عادی بنا رہا ہے۔ یاد رہے کہ قرآن مجید ایسے سنہری قوانین و ضوابط کا مجموعہ ہے، جن کی روشنی میں زندگی کو بہترین سانچے میں ڈھالا جا سکتا ہے اور قوانین کو بغیر سوچے سمجھے پڑھا نہیں جاتا، بلکہ ان کو سمجھ کر ان پر عمل کیا جاتا ہے۔قرآن مجید کو تین ایام سے کم مدت میں ختم کرنے سے اس لیے روکا گیا کہ قاری بغیر سمجھے تلاوت کرتا جائے گا، لیکن افسوس کہ ہم تین نہیں، تیسیا تین سو دنوں میں بھی ختم کر لیں، پھر بھی ہمیں سمجھ نہیں آتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب كيفية نزول القرآن / حدیث: 8373
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1980، ومسلم: 1159 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6516 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6516»
حدیث نمبر: 8373M
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي كَمْ أَقْرَأُ الْقُرْآنَ قَالَ اقْرَأْهُ فِي كُلِّ شَهْرٍ قَالَ قُلْتُ إِنِّي أَقْوَى عَلَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ قَالَ اقْرَأْهُ فِي خَمْسٍ وَعِشْرِينَ قُلْتُ إِنِّي أَقْوَى عَلَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ قَالَ اقْرَأْهُ فِي عِشْرِينَ قَالَ قُلْتُ إِنِّي أَقْوَى عَلَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ قَالَ اقْرَأْهُ فِي خَمْسَ عَشْرَةَ قَالَ قُلْتُ إِنِّي أَقْوَى عَلَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ قَالَ اقْرَأْهُ فِي سَبْعٍ قَالَ قُلْتُ إِنِّي أَقْوَى عَلَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ قَالَ لَا يَفْقَهُهُ مَنْ يَقْرَؤُهُ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے اس طرح بھی مروی ہے کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! میں کتنے دنوں میں قرآن ختم کیا کرو فرمایا ہر ماہ میں ختم کرو میں نے کہا: مجھے زیادہ قوت ہے پچیس دنوں میں پڑھ لو میں نے کہا: مجھ میں زیادہ قوت ہے کہا: میں دن میں پڑھ لو ، میں نے کہا: مجھ میں اس سے زیادہ قوت ہے فرمایا پندہ دنوں میں قرآن ختم کر لیا کرو ۔ میں نے کہا: مجھ میں اس سے زیادہ قوت ہے فرمایا سات دنوں میں پڑھ لیا کرو ۔ میں نے کہا: مجھ میں اس سے زیادہ قوت ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو تین دن سے کم میں پڑھے گا اس نے اسے سمجھا نہیں ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب كيفية نزول القرآن / حدیث: 8373M
درجۂ حدیث محدثین: صحیح لغيره
تخریج حدیث «تخريج حديث صحيح لغيره، وانظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6516»