کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: قرآن پاک دلکش آواز میں پڑھنے کی ترغیب
حدیث نمبر: 8357
عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَرَأَ أَلْفَ آيَةٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُتِبَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَعَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو رضائے الٰہی کی خاطر ہزار آیات پڑھے گا، روزِ قیامت اس کا ساتھ انبیائے کرام، صدیقوں، شہیدوں اور نیک لوگوں میں لکھا جائے گا اور ان لوگوں کا ساتھ کتنا ہی اچھا ہے، ان شاء اللہ۔
وضاحت:
فوائد: … خشوع و خضوع، رقت اور خوبصورت آواز کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت کرنا اللہ تعالی کے ہاں پسندیدہ عمل ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب كيفية نزول القرآن / حدیث: 8357
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، لضعف زبان بن فائد، وسھل بن معاذ في رواية زبان عنه ۔ أخرجه الطبراني في الكبير : 20/399، وابويعلي: 1489، والحاكم: 2/ 87 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15611 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15696»
حدیث نمبر: 8358
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا أَذِنَ اللَّهُ لِشَيْءٍ مَا أَذِنَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ زَادَ فِي رِوَايَةٍ فِيمَا يَجْهَرُ بِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے کبھی کسی چیز کو اس قدر غور سے نہیں سنا جتنا وہ اپنے نبی کی آواز سننے کے لئے کان لگاتے ہیں، جب وہ قرآن بلند آواز سے پڑھ رہا ہو۔
وضاحت:
فوائد: … وکیع راوی کا بیان کیا ہوا معنی درست نہیں ہے، اس کا صحیح معنی قرآن پاک کو خوبصورت آواز میں پڑھنے کا ہے۔
(وہ ہم سے نہیں جو قرآن مجید کے ساتھ (اور چیزوں سے) مستغنی نہیں ہوتا۔ حدیث کا یہ مفہوم بھی ٹھیک ہے، امام بخاری نے اسی زیر مطالعہ حدیث کے لیے عنوان قائم کر کے قرآن مجید کییہ آیت پیش کی ہے۔ {اَوَ لَمْ یَکْفِہِمْ اَنَّآ اَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْکِتٰبَ یُتْلٰی عَلَیْہِمْ } (العنکبوت: ۵۱) کیا ان کو یہ کافی نہیں کہ ہم نے تجھ پر کتاب نازل کی ہے، وہ ان پر پڑھی جاتی ہے۔ یعنییہ کتاب پہلی کتب سماوی سے مستغنی کرتی ہے فضول اشعار اور تحریروں سے بے پرواہ کرتی ہے۔ (بخاری، باب من لم یتغنی بالقرآن قبل الحدیث: ۵۰۲۲) معلوم ہوتا ہے کہ حدیث کے دونوں مفہوم درست ہیںیہ حدیث نبوی کا ایک کمال ہے۔) (عبداللہ رفیق)
بلاشبہ خوبصورت آواز سے قرآن مجید کے حسن میں اضافہ ہوتاہے اور تلاوت کرنے والوں اور سننے والوں میں مزید تلاوت کرنے اور سننے کی تمنا پیدا ہوتی ہے، لیکن اس معاملے میں تکلف سے گریز کرنا ضروری ہے۔
معلوم ہوا کہ قرآن مجید کی تلاوت کرتے وقت مخصوص سریلی آواز کا اہتمام کیا جائے، لیکن اس معاملے میں عرب کے لہجے کو سامنے رکھنا چاہیے، جیسے حرم مکی کے امام تلاوت کرتے ہیں، زیادہ تکلف سے بچنا چاہیے، جیسے آج کل مصری قراء کی تلاوت کا انداز ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب كيفية نزول القرآن / حدیث: 8358
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5023، 5024، 7482، ومسلم: 792 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7670 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7657»
حدیث نمبر: 8359
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ قَالَ وَكِيعٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَعْنِي يَسْتَغْنِي بِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناسعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو قرآن پاک گا کر نہیں پڑھتا، وہ ہم سے نہیں ہے۔ وکیع راوی نے اس کا یہ معنی بیان کیا: وہ اس کے ذریعے لوگوں سے مستغنی ہو جاتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … مخفی صدقہ افضل ہے، کیونکہ اس میں ریاکاری کا شبہ نہیں ہوتا، اگر ریاکاری کا شبہ نہ ہو اور کسی کو نصیحت کرنا مقصود ہو تو اعلانیہ صدقہ بھی درست ہے، یہی حکم تلاوت ِ قرآنِ مجید کا ہے،
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب كيفية نزول القرآن / حدیث: 8359
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره ۔ أخرجه ابوداود: 1470 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1549 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1549»
حدیث نمبر: 8360
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْجَاهِرُ بِالْقُرْآنِ كَالْجَاهِرِ بِالصَّدَقَةِ وَالْمُسِرُّ بِالْقُرْآنِ كَالْمُسِرِّ بِالصَّدَقَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلند آواز سے قرآن کی تلاوت کرنے والا اعلانیہ صدقہ کرنے والے کی طرح ہے اور پوشیدہ آواز میں تلاوت کرنے والا مخفی انداز میں صدقہ کرنے والے کی طرح ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اَوَّاہ کے معانی: آہیں بھرنے والا، گڑگڑانے والا، زیادہ رونے والا، زیادہ دعائیں کرنے والا
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب كيفية نزول القرآن / حدیث: 8360
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح ۔ أخرجه ابوداود:1333، والنسائي: 5/ 80، والترمذي: 2919 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17444 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17581»
حدیث نمبر: 8361
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ يُقَالُ لَهُ ذُو الْبِجَادَيْنِ إِنَّهُ أَوَّاهٌ وَذَلِكَ أَنَّهُ كَانَ رَجُلًا كَثِيرَ الذِّكْرِ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْقُرْآنِ وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ فِي الدُّعَاءِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ذو بِجادَین نامی ایک آدمی کے بارے میں فرمایا: بیشک وہ بہت زیادہ گڑگڑانے والا ہے۔ یہ آدمی بہت زیادہ قرآن مجید کی تلاوت کر کے ذکر میں مشغول رہنے والا تھا اور دعا کرتے وقت اپنی آواز کو بلند کرتا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب كيفية نزول القرآن / حدیث: 8361
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره ۔ أخرجه الطبراني في الكبير : 17/ 813 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17453 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17592»
حدیث نمبر: 8362
عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَلَّهُ أَشَدُّ أَذَنًا إِلَى الرَّجُلِ حَسَنِ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ مِنْ صَاحِبِ الْقَيْنَةِ إِلَى قَيْنَتِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس آدمی کی طرف بہت زیادہ کان لگاتے ہیں، جو قرآن پاک خوبصورت آواز سے پڑھتا ہے، گانے والی کا مالک بھی گانے والی کی طرف اتنا کان نہیں لگاتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب كيفية نزول القرآن / حدیث: 8362
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لانقطاعه، فان اسماعيل بن عبيد الله لم يدرك فضالة بن عبيد، بينھما ميسرة مولي فضالة، وھو مجھول ۔ أخرجه الحاكم: 1/ 570، والبيھقي: 10/ 230 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23947 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24446»
حدیث نمبر: 8363
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ فَسَمِعَ قِرَاءَةَ رَجُلٍ فَقَالَ مَنْ هَذَا قِيلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ فَقَالَ لَقَدْ أُوتِيَ هَذَا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے اور ایک آدمی کی تلاوت کی آواز سنی اور پوچھا: یہ کون ہے؟ کسی نے کہا: یہ عبداللہ بن قیس ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تحقیق اس کو داود علیہ السلام کی بانسریاں عطا کی گئی ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … بانسری سے مراد خوبصورت آواز ہے اور آل داود سے مراد خود داود علیہ السلام ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب كيفية نزول القرآن / حدیث: 8363
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ۔ أخرجه ابن ماجه: 1341 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9806 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9805»
حدیث نمبر: 8364
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ الْأَشْعَرِيَّ أُعْطِيَ مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عبداللہ بن قیس اشعری کو داود علیہ السلام کی بانسریوں میں سے ایک بانسری عطا کی گئی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ان روایات کا مقصود یہ ہے کہ تجوید و حسن صوت اور خوش آوازی و خوش الحانی کے ساتھ ایسے سوز میں تلاوت کی جائے کہ جس سے رقت طاری ہو جائے اور حرفوں کی ادائیگی اس طرح ہو کہ اس میں کمییا بیشی نہ ہو۔ زیادہ تکلف اور تصنع سے بچا جائے، جیسے آج کل کے بہت سے قاری بالخصوص مصر کے بعض قراء تلاوت کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب كيفية نزول القرآن / حدیث: 8364
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح ۔ أخرجه ابوعوانة: 3890، وابن حبان: 892 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23033 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23421»