حدیث نمبر: Q8349
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔
حدیث نمبر: 8349
عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ شُرَيْحًا الْحَضْرَمِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ذَاكَ رَجُلٌ لَا يَتَوَسَّدُ الْقُرْآنَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس شریح حضرمی کا ذکر کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ایسا شخص ہے، جو قرآن کو تکیہ نہیں بناتا۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ان الفاظ سے مدح بھی کشید کی جا سکتی ہے اور مذمت بھی، مدح کی صورت میں مفہوم یہ ہو گا کہ تکیہ نہ بنانے سے مراد یہ ہے کہ وہ رات کو تہجد پڑھتا ہے اور مذمت کی صورت میں معنییہ ہوگا کہ نہ اس کوقرآن مجیدیاد ہے اور نہ وہ اس کی قراء ت پر ہمیشگی اختیار کرتا ہے، یعنی جب وہ سوتا ہے تو اس کے ساتھ قرآن مجید نہیں ہوتا۔
حدیث نمبر: 8350
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَمَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللَّهِ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ إِلَّا نَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ وَحَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ وَذَكَرَهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيمَنْ عِنْدَهُ وَمَنْ أَبْطَأَ بِهِ عَمَلُهُ لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو لوگ اللہ تعالیٰ کے گھروں میں سے کسی گھر میں بھی جمع ہو کر اللہ تعالیٰ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اور اس کو باہم مل کر پڑھتے ہیں، ان پر سکینت نازل ہوتی ہے،رحمت ان کو ڈھانپ لیتی ہے، فرشتے ان کو گھیر لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کا ان ہستیوں میں ذکر کرتاہے، جو اس کے پاس ہیں، اور جس کے عمل نے اس کو پیچھے کر دیا، اس کا نسب اس کو آگے نہیں لے جا سکے گا۔
وضاحت:
فوائد: … اس میں تلاوت ِ قرآن کے اجتماع کی فضیلت کا بیان ہے، لیکن ساتھ ساتھ یہ تعلیم بھی دی گئی ہے کہ حسب و نسب کوئی باعث ِ امتیاز چیز نہیں ہے، اگر عملِ صالح نہ ہوا تو نسب کوئی فائدہ نہیں دے گا، جبکہ ہمارامعاشرہ اس وقت مال اور نسب کو ترجیح دینے کی لپیٹ میں ہے۔
حدیث نمبر: 8351
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الْأُتْرُجَّةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَرِيحُهَا طَيِّبٌ وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ التَّمْرَةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَلَا رِيحَ لَهَا وَمَثَلُ الْفَاجِرِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الرَّيْحَانَةِ مُرٌّ طَعْمُهَا وَرِيحُهَا طَيِّبٌ وَمَثَلُ الْفَاجِرِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ مُرٌّ طَعْمُهَا وَلَا رِيحَ لَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن کی تلاوت کرنے والے مومن کی مثال نارننگی کی مانند ہے، اس کا ذائقہ بھی اچھا ہوتا ہے اور خوشبو بھی عمدہ ہوتی ہے، تلاوت نہ کرنے والے مومن کی مثال کھجور کی مانند ہے، اس کا ذائقہ اچھا ہوتا ہے، لیکن اس کی خوشبو نہیں ہوتی، تلاوت کرنے والے فاجر کی مثال نیاز بو کی مانند ہے، اس کا ذائقہ کڑوا ہوتا ہے، لیکن خوشبو اچھی ہوتی ہے اور تلاوت نہ کرنے والے فاجر کی مثال اندرائن کی مانند ہے، جس کا ذائقہ بھی کڑوا ہوتاہے اور خوشبو بھی نہیں ہوتی۔
وضاحت:
فوائد: … یہ قرآن مجید کی پاکیزگی ہے، چاروں مثالوں پر غور کر کے فرق کو سمجھا جا سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 8352
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَجِيءُ الْقُرْآنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَالرَّجُلِ الشَّاحِبِ فَيَقُولُ لِصَاحِبِهِ أَنَا الَّذِي أَسْهَرْتُ لَيْلَكَ وَأَظْمَأْتُ هَوَاجِرَكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روز قیامت قرآن پاک زرد رنگت والے آدمی کی مانند آئے گا۔ اپنے ساتھی سے کہے گا: میں نے تجھے رات بیدار رکھا اور تجھے دوپہر کے وقت پیاسا رکھا توا ٓج میں سفارش کروں گا۔
وضاحت:
فوائد: … اَلشَّاحِب کے معانییہ ہیں: وہ شخص جس کا رنگ اور جسم کسی بیمارییا سفر جیسے عارضے کی وجہ سے بدلا ہوا ہو، حافظ سیوطی نے کہا: قرآن مجید کی اس حالت میں آنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کی صاحب ِ قرآن سے مشابہت ہو جائے، جس نے رات کو بیدار رہ کر تلاوت و قیام کے ذریعے اور دن کو روزے کے ذریعے اپنے آپ کو تھکا دیا تھا، یایہ وجہ بھی ہو سکتی ہے کہ جیسے دنیا میں عمل کی وجہ سے صاحب ِ قرآن کا رنگ بدل جاتا تھا، اسی طرح قیامت والے دن اس کے لیے تگ و دو کرنے کی وہ سے قرآن کے مخصوص وجود کا رنگ بدلا ہوا ہو گا۔ واللہ اعلم۔حافظ ِ قرآن اور دوسرے صاحب ِ قرآن لوگوں کو قرآن مجید کے ان سفارشی الفاظ پر غور کرنا چاہیے، تاکہ ہم اپنا جائزہ لے سکیں کہ آیا ہم ان الفاظ کا مصداق بن سکیں گے یا نہیں۔
حدیث نمبر: 8353
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَهُوَ مَاهِرٌ بِهِ مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ وَالَّذِي يَقْرَأُهُ وَهُوَ عَلَيْهِ شَاقٌّ فَلَهُ أَجْرَانِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو قرآن پاک پڑھتا ہے اور وہ اس میں ماہر ہو تو اس کا ساتھ سفید چہروں والے اور عزت والے نیکو کار فرشتوں کے ساتھ ہوگا اور وہ جو اسے پڑھتا ہے اور یہ اس پرگراں ہو تو اسے دہرا اجر ملے گا۔
وضاحت:
فوائد: … قرآن کا ماہر وہ ہے کہ جس نے بہترین انداز میں حفظ مکمل کیا ہوا ہو، دورانِ تلاوت کوئی اٹکن نہ آتی ہو، عمدگی اور تجوید کی رو رعایت کر کے تلاوت کرتا ہو، سنتے وقت یوں لگتا ہو کہ قرآن مجید، قاری کی زبان پر تیر رہا ہے، جبکہ اس کے وجود پر قرآن کے عملی تقاضے کا حسن بھی نظر آتا ہو۔ دوہرے اجر سے تلاوت کا اجر اور مشقت برداشت کرنے کا اجر ہے۔حدیث کے دوسرے حصے کا یہ مطلب نہیں کہ آدمی غلط ملط پڑھتا ہے، اس سے مراد وہ آدمی ہے، جس کی زبان مشکل سے ہی الفاظ ادا کر پاتی ہے، یا شروع شروع میں ناخواندگی کی وجہ سے مشکل ہوتی ہے۔ بہرحال ہر آدمی کے لیے ضروری ہے کہ وہ تعلیمِ قرآن کے حصول کے لیے اچھے مدرس کا اہتمام کرے
حدیث نمبر: 8354
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَقْرَأُ آيَةً فَقَالَ رَحِمَهُ اللَّهُ لَقَدْ أَذْكَرَنِي آيَةً كُنْتُ نُسِّيتُهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو سنا، وہ ایک آیت کی تلاوت کر رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے، اس نے مجھے ایک آیت یاد دلا دی، مجھے تو وہ بھلا دی گئی تھی۔
وضاحت:
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک دفعہ ہم قرآن پاک پڑھ رہے تھے، ہم میں عرب لوگ بھی تھے اور عجمی بھی اور سیاہ رنگت والے بھی تھے اور سفید رنگت والے بھی، اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: تم بھلائی پر ہو، تم اللہ تعالیٰ کی کتاب کی تلاوت کر رہے ہو، جبکہ تم میں اللہ کے رسول بھی موجود ہیں، عنقریب ایسا وقت بھی آئے گا کہ لوگ اس کتاب کو خوبصورت پڑھنے کے لیے اتنا مبالغہ کریں گے، جیسے تیرکو بڑی توجہ کے ساتھ سیدھا کیا جاتا ہے، لیکن اس کے اجر کو (دنیا میںہی) جلدی جلدی وصول کریں گے اور اس کو آخرت تک مؤخر نہیں کریں گے۔
حدیث نمبر: 8355
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ نَقْرَأُ فِينَا الْعَرَبِيُّ وَالْعَجَمِيُّ وَالْأَسْوَدُ وَالْأَبْيَضُ إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَنْتُمْ فِي خَيْرٍ تَقْرَءُونَ كِتَابَ اللَّهِ وَفِيكُمْ رَسُولُ اللَّهِ وَسَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَثْقَفُونَهُ كَمَا يَثْقَفُونَ الْقَدَحَ يَتَعَجَّلُونَ أُجُورَهُمْ وَلَا يَتَأَجَّلُونَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک دفعہ ہم قرآن پاک پڑھ رہے تھے، ہم میں عرب لوگ بھی تھے اور عجمی بھی اور سیاہ رنگت والے بھی تھے اور سفید رنگت والے بھی، اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: تم بھلائی پر ہو، تم اللہ تعالیٰ کی کتاب کی تلاوت کر رہے ہو، جبکہ تم میں اللہ کے رسول بھی موجود ہیں، عنقریب ایسا وقت بھی آئے گا کہ لوگ اس کتاب کو خوبصورت پڑھنے کے لیے اتنا مبالغہ کریں گے، جیسے تیرکو بڑی توجہ کے ساتھ سیدھا کیا جاتا ہے، لیکن اس کے اجر کو (دنیا میں ہی) جلدی جلدی وصول کریں گے اور اس کو آخرت تک مؤخر نہیں کریں گے۔
وضاحت:
فوائد: … یعنی قرآن مجید کے الفاظ کی ادائیگی اور ان کے مخارج کا بہت زیادہ خیال رکھا جائے گا، پرترنم اور سریلی آواز میں اور خوب اتار چڑھاؤ کے ساتھ تلاوت کی جائے گی، لیکن مقصودیہ ہو گا کہ لوگوں کو خوش کر کے ان سے مال و دولت بٹورا جائے۔ عصرِ حاضر میں ایسے لوگوں نے قرآن مجید کو پیشہ بنا رکھا ہے۔ ان کی خلوتیں کیا، جلوتوں میں بھی قرآن حکیم کا ان کے وجود پر کوئی اثر دکھائی نہیں دیتا۔
مزید دیکھیں حدیث نمبر (۶۱۴۱)والا باب اور اس کی تشریح۔
مزید دیکھیں حدیث نمبر (۶۱۴۱)والا باب اور اس کی تشریح۔
حدیث نمبر: 8356
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ فَإِذَا فِيهِ قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ قَالَ اقْرَءُوا الْقُرْآنَ وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ فَاسْتَمَعَ فَقَالَ اقْرَءُوا فَكُلٌّ حَسَنٌ وَابْتَغُوا بِهِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ قَوْمٌ يُقِيمُونَهُ إِقَامَةَ الْقَدَحِ يَتَعَجَّلُونَهُ وَلَا يَتَأَجَّلُونَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے، جبکہ مسجد میں کچھ لوگ قرآن پاک کی تلاوت کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن کریم پڑھو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غور سے سنا اور پھر فرمایا: تلاوت کرو، تلاوت کرو، ہر ایک اچھا ہے، لیکن اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کو تلاش کرو، ایسے لوگوں کے آنے سے پہلے پہلے کہ وہ اس کی تلاوت اس طرح ٹھیک ٹھیک کریں گے، جس طرح تیر سیدھا کیا جاتا ہے، لیکن دنیا میں اس کا اجر طلب کریں گے اور آخرت تک اس کے ثواب کو مؤخر نہیں کریں گے۔
وضاحت:
فوائد: … رضائے الہی سے مراد أجرت اور شہرت طلبی وغیرہ کی وجہ سے تلاوت نہ کی جائے، بلکہ محض اللہ تعالی کی رضامندی کے حصول کے لیے قرآن مجید پڑھا جائے۔