کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: شراب کے ذریعے علاج کرنے کو حرام قرار دینے اور اس چیز کا بیان کہ شراب دوا نہیں ہے
حدیث نمبر: 7576
عَنْ طَارِقِ بْنِ سُوَيْدٍ الْحَضْرَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ بِأَرْضِنَا أَعْنَابًا نَعْتَصِرُهَا فَنَشْرَبُ مِنْهَا قَالَ لَا فَعَاوَدْتُهُ فَقَالَ لَا فَقُلْتُ إِنَّا نَسْتَشْفِي بِهَا لِلْمَرِيضِ فَقَالَ إِنَّ ذَلِكَ لَيْسَ شِفَاءً وَلَكِنَّهُ دَاءٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا طاربق بن سوید حضرمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہماری سر زمین میں انگور ہیں، ہم ان کو نچوڑ کر (شراب بناتے ہیں) اور پھر پیتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے پھر اپنی بات دوہرائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: ہم اس کے ذریعہ بیمار کے لیے شفا طلب کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک یہ شفا نہیں ہے، بلکہ یہ تو خود بیماری ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ابن عربی نے کہا: ہم نے مشاہدہ تو یہ کیا ہے کہ شراب پینے سے صحت اور قوت ملتی ہے، لیکن اس کا جواب یہ ہے کہ یہ امہال اور استدراج ہے، یا یوں کہیںگے کہ دراصل دواء وہ ہوتی ہے، جو بدن کو صحیح کرے اور دین کو خراب نہ کرے، اگر اس کی وجہ سے دین میں خرابی آ جائے تو اس کی بیماری اور ضرر غالب تصور جائے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7576
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1984، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18787 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18994»
حدیث نمبر: 7577
عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ سُوَيْدُ بْنُ طَارِقٍ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَمْرِ فَنَهَاهُ عَنْهَا فَقَالَ إِنِّي أَصْنَعُهَا لِلدَّوَاءِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّهَا دَاءٌ وَلَيْسَتْ بِدَوَاءٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا وائل حضرمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سوید بن طارق نامی ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شراب کے بارے میں دریافت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے پینے سے روک دیا، اس نے کہا: میں دوا کے لیے شراب بناتا ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک یہ تو بیماری ہے اور دوا نہیں ہے۔
وضاحت:
فوائد: … امام نووی نے کہا: اس حدیث میں یہ صراحت موجود ہے کہ شراب دوا نہیں ہے، لہذا اس سے علاج کرنا درست نہیںہے، ہمارے اصحاب کے ہاں یہی رائے راجح ہے کہ اس سے علاج کرنا حرام ہے اور پیاس بجھانے کے لیے اس کو پینا بھی حرام ہے، ہاں جب لقمہ گلے میںپھنس جائے اور اس کو اتارنے کے لیے شراب کے علاوہ کوئی چیز موجود نہ ہو تو ضروری ہے کہ شراب استعمال کر لی جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7577
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19065»