کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: شراب کو بہانے اور اس کے برتنوں کو توڑ دینے کا اور شراب کو سرکہ بنا لینے سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 7569
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ أَهْرَاقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْخَمْرَ وَكَسَّرَ جِرَارَهُ وَنَهَى عَنْ بَيْعِهِ وَبَيْعِ الْأَصْنَامِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب مکہ فتح ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شراب کو بہا دیا اور اس کے مٹکوں کو توڑ دیا اور اس کی اور بتوں کی خریدو فروخت سے منع کر دیا۔
حدیث نمبر: 7570
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَيْتَامٍ وَرِثُوا خَمْرًا فَقَالَ أَهْرِقْهَا قَالَ أَفَلَا نَجْعَلُهَا خَلًّا قَالَ لَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا کہ چند یتیم ہیں، جنہیں شراب وراثت میں ملی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے بہا دو۔ انھوں نے کہا: کیا ہم اسے سرکہ نہ بنا لیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔
حدیث نمبر: 7571
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ كَانَ فِي حِجْرِ أَبِي طَلْحَةَ يَتَامَى فَابْتَاعَ لَهُمْ خَمْرًا فَلَمَّا حُرِّمَتِ الْخَمْرُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَصْنَعُهُ خَلًّا قَالَ لَا قَالَ فَأَهْرَاقَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کی پرورش میں کچھ یتیم بچے تھے، انہوں نے ان کے لیے شراب خریدی، (لیکن ابھی تک وہ پڑی تھی کہ)شراب حرام ہو گئی، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اوردریافت کیا کیا میں اس کا سرکہ بنا لوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ پس انھوں نے وہ شراب بہا دی۔
حدیث نمبر: 7572
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ آتِيَهُ بِمُدْيَةٍ وَهِيَ الشَّفْرَةُ فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَأَرْسَلَ بِهَا فَأُرْهِفَتْ ثُمَّ أَعْطَانِيهَا وَقَالَ اغْدُ عَلَيَّ بِهَا فَفَعَلْتُ فَخَرَجَ بِأَصْحَابِهِ إِلَى أَسْوَاقِ الْمَدِينَةِ وَفِيهَا زِقَاقُ خَمْرٍ قَدْ جُلِبَتْ مِنَ الشَّامِ فَأَخَذَ الْمُدْيَةَ مِنِّي فَشَقَّ مَا كَانَ مِنْ تِلْكَ الزِّقَاقِ بِحَضْرَتِهِ ثُمَّ أَعْطَانِيهَا وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ الَّذِينَ كَانُوا مَعَهُ أَنْ يَمْضُوا مَعِي وَأَنْ يُعَاوِنُونِي وَأَمَرَنِي أَنْ آتِيَ الْأَسْوَاقَ كُلَّهَا فَلَا أَجِدُ فِيهَا زِقَّ خَمْرٍ إِلَّا شَقَقْتُهُ فَفَعَلْتُ فَلَمْ أَتْرُكْ فِي أَسْوَاقِهَا زِقًّا إِلَّا شَقَقْتُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کے پاس چھری لاؤں، میں چھری لے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ چھری تیز کرنے کے لیے بھیجی، پس اس کو تیز کیا گیا، پھر مجھے دے دی اور فرمایا: یہ چھری لے کر صبح کو میرے پاس آنا۔ پس میں نے ایسے ہی کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ساتھیوں کے ساتھ مدینہ کے بازاروں میں نکلے، بازاروں میں شراب کی مشکیں تھیں، جو شام سے لائی گئی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے وہ چھری لے لی اور جومشکیں موجود تھیں، ان سب کو چاک کر دیا، اور پھر چھری مجھے دے دی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جتنے ساتھی تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں یہ حکم دیا کہ وہ میرے ساتھ چلیں اور مجھ سے تعاون کریں اور مجھے حکم دیا کہ میں بازاروں میں جاؤں اور شراب کی جو بھی مشک پاؤں، اسے پھاڑ ڈالوں، پس میں نے ایسے ہی کیا، میں نے بازاروں میں کوئی شراب کی ایسی مشک نہ چھوڑی، جسے میں نے چیر نہ ڈالا ہو۔
حدیث نمبر: 7573
(وَعَنْهُ أَيْضًا) عَنْ ثَابِتٍ وَقَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا حُرِّمَتِ الْخَمْرُ قَالَ إِنِّي يَوْمَئِذٍ لَأَسْقِيهِمْ لَأَسْقِي أَحَدَ عَشَرَ رَجُلًا فَأَمَرُونِي فَكَفَأْتُهَا وَكَفَأَ النَّاسُ آنِيَتَهُمْ بِمَا فِيهَا حَتَّى كَادَتِ السِّكَكُ أَنْ تُمْتَنَعَ مِنْ رِيحِهَا قَالَ أَنَسٌ وَمَا خَمْرُهُمْ يَوْمَئِذٍ إِلَّا الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ مَخْلُوطَيْنِ قَالَ فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّهُ كَانَ عِنْدِي مَالُ يَتِيمٍ فَاشْتَرَيْتُ بِهِ خَمْرًا أَفَتَأْذَنُ لِي أَنْ أَبِيعَهُ فَأَرُدَّ عَلَى الْيَتِيمِ مَالَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الثُّرُوبُ فَبَاعُوهَا وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا وَلَمْ يَأْذَنْ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْعِ الْخَمْرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ جب شراب حرام ہوئی تو سیدنا انس کہتے ہیں: میں اس دن ساتھیوں کوشراب پلا رہا تھا، کل گیارہ آدمی تھے، جنہیں میں نے شراب پلائی، پھر حرام ہونے کے بعد انہوں نے مجھے حکم دیا میں شراب انڈیل دوں، میں نے بھی انڈیل دی اور لوگوں نے بھی اپنے اپنے برتن انڈیل دیئے، گلیاں شراب کی بدبو سے بھر گئیں، چلنا مشکل ہو رہا تھا، ان دنوں ان کی شراب زیادہ کچی کھجور اورخشک کھجور سے ملا کر تیار کی گئی تھی، ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: میرے پاس یتیموں کامال تھا، میں نے اس سے شراب خرید لی تھی، (جبکہ اب شراب تو حرام ہو گئی ہے) تو کیا آپ اس کی اجازت دیتے ہیں کہ میں وہ فروخت کرکے ان کا مال بچا لوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہودیوں کو اللہ تعالیٰ ہلاک کرے، ان پرچربی حرام تھی، انہوں نے اسے فروخت کیا اور اس کی قیمت کو کھا گئے۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کوشراب فروخت کرنے کی اجازت نہ دی۔
وضاحت:
فوائد: … صحیح بخاری کی ایک روایت (۵۵۸۰)کے الفاظ یہ ہیں: سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: جب شراب کو ہم پر حرام کیا گیا تو مدینہ منورہ میں انگوروں کی شراب بہت کم تھی اور کچی اور خشک کھجوروں کی شراب عام تھی۔
حدیث نمبر: 7574
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْنَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا حُرِّمَتِ الْخَمْرُ إِنَّ عِنْدَنَا خَمْرًا لِيَتِيمٍ لَنَا فَأَمَرَنَا فَأَهْرَقْنَاهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب شراب حرام ہوئی تو ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کی کہ ہمارے پاس یتیموں کی شراب ہے، اس کا کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا اور ہم نے اس شراب کو بہا دیا۔
حدیث نمبر: 7575
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ أَسْقِي أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ وَأُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ وَسُهَيْلَ ابْنَ بَيْضَاءَ وَنَفَرًا مِنْ أَصْحَابِهِ عِنْدَ أَبِي طَلْحَةَ وَأَنَا أَسْقِيهِمْ حَتَّى كَادَ الشَّرَابُ أَنْ يَأْخُذَ فِيهِمْ فَأَتَى آتٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ أَوَمَا شَعَرْتُمْ أَنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ فَمَا قَالُوا حَتَّى نَنْظُرَ وَنَسْأَلَ فَقَالُوا يَا أَنَسُ اكْفِ مَا بَقِيَ فِي إِنَائِكَ قَالَ فَوَاللَّهِ مَا عَادُوا فِيهَا وَمَا هِيَ إِلَّا التَّمْرُ وَالْبُسْرُ وَهِيَ خَمْرُهُمْ يَوْمَئِذٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا ابو عبیدہ بن جراح، سیدنا ابی بن کعب، سیدنا سہیل بن بیضاء اور صحابہ کرام کی ایک جماعت کوسیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے گھر میں شراب پلا رہا تھا، تقریباً شراب اپنا اثر ان میں دکھا رہی تھی کہ ایک مسلمان آیا اور اس نے کہا: کیا تمہیں معلوم نہیں کہ شراب حرام ہو چکی ہے؟ انہوں نے جواباً یہ نہیں کہا کہ اچھا ہم دیکھتے ہیں یا کسی اور سے پوچھتے ہیں، بلکہ انہوں نے فوراً حکم دیا: اے انس! جو برتن میں باقی ہے، اسے انڈیل دو، اللہ کی قسم! اس کے بعد انہوں نے شراب کودیکھا تک نہیں، اس دور میں وہ عام طور پر شراب خشک کھجور اور کچی کھجور سے بناتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … شراب کی حرمت کا معاملہ تو بالکل واضح ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی تعمیل میں صحابۂ کرام کی رغبت کا اندازہ لگا کر ہمیں بھی چاہیے کہ اپنے آپ کی اصلاح کریں۔