کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: شرابی کی وعید کا بیان،ہم اس سے اللہ تعالی کی پناہ طلب کرتے ہیں
حدیث نمبر: 7560
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَهُوَ فِي حَائِطٍ لَهُ بِالطَّائِفِ يُقَالُ لَهُ الْوَهْطُ وَهُوَ مُخَاصِرٌ فَتًى مِنْ قُرَيْشٍ يُزَنُّ بِشُرْبِ الْخَمْرِ فَقُلْتُ بَلَغَنِي عَنْكَ حَدِيثٌ أَنَّ مَنْ شَرِبَ شَرْبَةَ خَمْرٍ لَمْ يَقْبَلِ اللَّهُ لَهُ تَوْبَةً أَرْبَعِينَ صَبَاحًا وَأَنَّ الشَّقِيَّ مَنْ شَقِيَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ وَأَنَّهُ مَنْ أَتَى بَيْتَ الْمَقْدِسِ لَا يَنْهَزُهُ إِلَّا الصَّلَاةُ فِيهِ خَرَجَ مِنْ خَطِيئَتِهِ مِثْلَ يَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ فَلَمَّا سَمِعَ الْفَتَى ذِكْرَ الْخَمْرِ اجْتَذَبَ يَدَهُ مِنْ يَدِهِ ثُمَّ انْطَلَقَ ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو إِنِّي لَا أُحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ شَرِبَ مِنَ الْخَمْرِ شَرْبَةً لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَإِنْ عَادَ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَإِنْ عَادَ قَالَ فَلَا أَدْرِي فِي الثَّالِثَةِ أَوْ فِي الرَّابِعَةِ فَإِنْ عَادَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ رَدْغَةِ الْخَبَالِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبد اللہ بن دیلمی کہتے ہیں: میں سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہماکے پاس داخل ہوا، وہ طائف میں اپنے وہط نامی ایک باغ میں تھے،ان کے پہلو میں قریش کا ایک نوجوان بیٹھا ہوا تھا، جس پر شراب نوشی کی تہمت تھی، میں نے کہا: اے عبد اللہ ! مجھے آپ سے ایک حدیث پہنچی ہے کہ جس نے شراب کا ایک گھونٹ پیا، اللہ تعالیٰ چالیس دن تک اس کی توبہ قبول نہیں کرتے اور بدبخت وہ جو ماں کے پیٹ ہی سے بدبخت ہو اور جو بیت المقدس میں آئے، جبکہ اس کا یہ آنا صرف نماز کے لیے ہو، تو وہ اپنی خطاؤں سے اس طرح نکل جاتا ہے، جس طرح آج اس کی ماں نے اسے جنم دیا ہو، جب اس نوجوان نے شراب کی سزا کا ذکر سنا تو اس نے سیدنا عبد اللہ کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور چل دیا، پھر سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہمانے کہا: میں کسی کو اپنے اوپر وہ بات کہنے کی اجازت نہیں دے سکتا، جو میں نے نہیں کہی، میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے شراب کا گھونٹ پیا، اللہ تعالیٰ اس کی چالیس دن کی نماز قبول نہیں کرے گا، اگر وہ توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لے گا، اگر وہ دوبارہ پیے گا تو چالیس دن کی نماز قبول نہیں ہو گی، اگر وہ توبہ کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لے گا، اگر وہ پھر لوٹے، مجھے یاد نہیں کہ تیسری یا چوتھی مرتبہ ذکر کیا، اس کے بعد فرمایا: اگر اس کے بعد بھی کوئی پیے تو اللہ تعالیٰ کا حق بنتا ہے کہ اسے دوزخیوں کی پیپ سے جاری ہونے والی نہر سے پلائے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7560
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه ابن ماجه: 3377، وأخرج المرفوع منه النسائي: 8/ 317، لكن بلفظ لم تقبل له توبة بل لم تقبل له صلاة ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6644 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6644»
حدیث نمبر: 7561
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَسَكِرَ لَمْ تُقْبَلْ صَلَاتُهُ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً فَإِنْ شَرِبَهَا فَسَكِرَ لَمْ تُقْبَلْ صَلَاتُهُ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً فَإِنْ شَرِبَهَا فَسَكِرَ لَمْ تُقْبَلْ صَلَاتُهُ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً وَالثَّالِثَةَ وَالرَّابِعَةَ فَإِنْ شَرِبَهَا لَمْ تُقْبَلْ صَلَاتُهُ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً فَإِنْ تَابَ لَمْ يَتُبِ اللَّهُ عَلَيْهِ وَكَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُسْقِيَهُ مِنْ عَيْنِ خَبَالٍ قِيلَ وَمَا عَيْنُ خَبَالٍ قَالَ صَدِيدُ أَهْلِ النَّارِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے شراب پی اور ا سے نشہ ہوا، اس کی چایس دن کی نماز قبول نہیں ہوتی، اگر پھر شراب پی اورنشہ ہوا تو اس کی چالیس دن کی نماز قبول نہیں ہوتی، تیسری یا چوتھی مرتبہ فرمایا کہ اگر اس نے شراب پی تو اس کی چالیس دن کی نماز قبول نہیں ہوتی، اگر وہ توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول نہیں کرتے اور اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ اسے خبال کے چشمہ سے پلائے گا۔ کسی نے کہا: خبال کا چشمہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ دوزخ والوں کی پیپ ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7561
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره دون قوله: فان تاب لم يتب الله عليه نافع بن عاصم في عداد المجھولين، أخرجه البزار: 2936، والحاكم: 4/ 145 دون قوله: فان تاب لم يتب الله عليه ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6773 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6773»
حدیث نمبر: 7562
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ لَمْ يَقْبَلِ اللَّهُ لَهُ صَلَاةً أَرْبَعِينَ لَيْلَةً فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَإِنْ عَادَ كَانَ مِثْلَ ذَلِكَ فَمَا أَدْرِي أَفِي الثَّالِثَةِ أَمْ فِي الرَّابِعَةِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَإِنْ عَادَ كَانَ حَتْمًا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا طِينَةُ الْخَبَالِ قَالَ عُصَارَةُ أَهْلِ النَّارِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے شراب پی، اس کی چالیس دن کی نماز قبول نہیں ہوتی، اگر وہ توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرتا ہے، اگروہ شراب نوشی میں پھر لوٹے، مجھے معلوم نہیں کہ تیسری یا چوتھی مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ پھر شراب پیے تو اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ اسے طِینَۃُ الْخَبَال سے پلائے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! طِینَۃُ الْخَبَال کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دوزخیوں کی پیپ ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7562
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه البزار: 4074، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21502 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21834»
حدیث نمبر: 7563
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ لَمْ تُقْبَلْ صَلَاتُهُ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَإِنْ عَادَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ تَعَالَى أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ نَهْرِ الْخَبَالِ قِيلَ وَمَا نَهْرُ الْخَبَالِ قَالَ صَدِيدُ أَهْلِ النَّارِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے شراب نوشی کی، اس کی چالیس دن کی نماز قبول نہیں ہوتی ،اگر وہ توبہ کرے تواللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتے ہیں، لیکن اگر وہ پھر لوٹے تو اللہ تعالیٰ کا حق بنتا ہے کہ اسے خبال والی نہر سے پلائے۔ کسی نے کہا: نہر خبال سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دوزخیوں کی پیپ سے جاری ہونے والی نہر ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7563
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، أخرجه الترمذي: 1862، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4917 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4917»
حدیث نمبر: 7564
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ لَمْ يَرْضَ اللَّهُ عَنْهُ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً فَإِنْ مَاتَ مَاتَ كَافِرًا وَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَإِنْ عَادَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا طِينَةُ الْخَبَالِ قَالَ صَدِيدُ أَهْلِ النَّارِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے شراب پی، اللہ تعالیٰ اس سے چالیس دن ناراض رہتا ہے، اگر وہ اسی حالت میں فوت ہوا تو کافر فوت ہو گا، اگر وہ توبہ کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرے گا، اور اگر وہ پھر شراب نوشی کرے گا تو اللہ تعالیٰ کا حق بنتا ہے کہ اسے طِینَۃُ الْخَبَال سے پلائے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! طِینَۃُ الْخَبَال کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہاں دوزخیوں کی پیپ جمع ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7564
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح لغيره دون قوله: فان مات مات كافرا وھذا اسنا ضعيف لضعف شھر بن حوشب، أخرجه الطبراني في الكبير : 24/ 428، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27603 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28155»
حدیث نمبر: 7565
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَقْعُدَنَّ عَلَى مَائِدَةٍ يُدَارُ عَلَيْهَا بِالْخَمْرِ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَدْخُلِ الْحَمَّامَ إِلَّا بِإِزَارٍ وَمَنْ كَانَتْ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا تَدْخُلِ الْحَمَّامَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انھوں نے کہا: اے لوگو! میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ تعالیٰ اوریوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے، وہ ہرگز اس دستر خوان پر نہ بیٹھے جس پر شراب کا دور چل رہا ہو اور جو شخص اللہ تعالیٰ اوریوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ حمام میں بغیر تہبند کے داخل نہ ہو اور جو خاتون اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو وہ سرے سے حمام میں داخل نہ ہو۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں جن حماموں کا ذکر ہے، ان سے مراد دورِ جاہلیت کے وہ بڑے بڑے حمام ہیں، جہاں ایک سے زائد مختلف لوگ ننگے ہو کر اکٹھے نہاتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے حماموں میں مردوں کو ازار پہن کر نہانے کی اجازت دی اور عورتوں کو مطلق طور پر منع کر دیا۔ہمارے گھروں میں جو حمام بنے ہوئے ہیں، ان میں ننگا بھی نہایا جا سکتا ہے، بشرطیکہ ایک ایک فرد ہو، البتہ میاں بیوی اکٹھے نہا سکتے ہیں۔ مزید دیکھیں حدیث نمبر (۹۲۲) والا باب۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7565
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، أخرجه ابويعلي: 251، والبيھقي: 7/ 266، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 125 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 125»
حدیث نمبر: 7566
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَقْعُدْ عَلَى مَائِدَةٍ يُشْرَبُ عَلَيْهَا الْخَمْرُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو، وہ اس دستر خوان پر نہ بیٹھے جس پر شراب نوشی کی جا رہی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7566
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، أخرجه النسائي: 1/ 198، والترمذي: 2801 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14651 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14705»
حدیث نمبر: 7567
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُدْمِنُ الْخَمْرِ إِنْ مَاتَ لَقِيَ اللَّهَ كَعَابِدِ وَثَنٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہمیشہ شراب نوشی کرنے والا اگر اسی حالت میں مر گیا تو اس کی اللہ تعالیٰ سے جب ملاقات ہو گی تو وہ ایسے ہو گا جیسے کسی بت کی عبادت کرنے والا ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7567
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة الواسطة بين محمد بن المنكدر وبين ابن عباس، أخرجه ابن حبان: 5347، والبزار: 2934، وعبد الرزاق: 17070، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2453 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2453»
حدیث نمبر: 7568
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي وَهُوَ يَشْرَبُ الْخَمْرَ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ شُرْبَهَا فِي الْجَنَّةِ وَمَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي وَهُوَ يَتَحَلَّى الذَّهَبَ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ لِبَاسَهُ فِي الْجَنَّةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے جو بھی فوت ہوا اور وہ شراب نوشی کرتا تھا تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت میں سے شراب حرام کر دیتے ہیں اور جو شخص میری امت میں سے اس حال میں مرا کہ وہ سونا پہنتا تھا تو اللہ تعالیٰ اس پرجنت کا لباس حرام کر دیں گے۔
وضاحت:
فوائد: … احادیث ِ مبارکہ کا متن ہی مسئلہ سمجھانے کے لیے کافی ہے، شرابی کی کس قدر مذمت بیان کی جا رہی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7568
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، يزيد بن ھارون سمع من الجريري بعد ما اختلط، وقوله وَمَنْ مَاتَ اُمَّتِيْ وَھُوَ يَتَحَلَّي الذَّھْبَ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَيْهِ لِبَاسَهُ فِي الْجَنَّةِ صحيح بطريق آخر، أخرجه البزار: 2935 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6948 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6948»