کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: وہ جس سے شراب بنائی جاتی ہے اور شراب کی حرمت کا بیان اور یہ کہ ہر نشہ آور حرام ہے
حدیث نمبر: 7538
عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مِنَ الْحِنْطَةِ خَمْرٌ وَمِنَ التَّمْرِ خَمْرٌ وَمِنَ الشَّعِيرِ خَمْرٌ وَمِنَ الزَّبِيبِ خَمْرٌ وَمِنَ الْعَسَلِ خَمْرٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گندم سے شراب بنتی ہے، کھجور سے شراب ہوتی ہے، جو سے شراب تیار کی جاتی ہے، منقّی سے شراب ہے اور شہد سے شراب تیار کی جاتی ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … احناف کا مسلک یہ ہے کہ صرف انگور اور کھجور کی شراب حرام ہے، لیکن اس باب کی احادیث ِ مبارکہ سے جمہور کے مسلک کی تائید ہوتی ہے کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے، خواہ وہ انگور یا کھجور کی شراب ہو یا کسی اور چیز کی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے منبر رسول پر دورانِ خطبہ ارشاد فرمایا: اَلْخَمْرُ مَا خَامَرَ الْعَقْلَ … خمر وہ چیز ہے جو عقل پر پردہ ڈال دے۔ (بخاری، مسلم) اس سلسلے میں ہر آدمی کو ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ شریعت کا مقصود یہ ہے جس چیز کی وجہ سے عقلی توازن برقرار نہ رہ سکے یا جو چیز عقل پر پردہ ڈال دے، وہ جس چیز سے بھی بنائی گئی ہو، اس کا نام جو بھی رکھ دیا جائے،وہ حرام اور ممنوع ہو گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7538
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه النسائي: 8/ 295، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5992 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5992»
حدیث نمبر: 7539
عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَفَعَهُ قَالَ إِنَّ مِنَ الزَّبِيبِ خَمْرًا وَمِنَ التَّمْرِ خَمْرًا وَمِنَ الْحِنْطَةِ خَمْرًا وَمِنَ الشَّعِيرِ خَمْرًا وَمِنَ الْعَسَلِ خَمْرًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: منقّی، کھجور، گندم، جو اور شہد سے شراب بنائی جاتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7539
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح من قول عمر موقوفا، وھو في حكم المرفوع، أخرجه بوداود: 3676، والترمذي: 1872، 1873، وأخرجه البخاري: 5581، ومسلم: 3032 عن عمر موقوفا ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18350 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18540»
حدیث نمبر: 7540
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْخَمْرُ مِنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ مِنَ النَّخْلَةِ وَالْعِنَبَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شراب ان دو درختوں کھجور اور انگور کے پھلوں سے بنائی جاتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7540
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1985، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9297 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9283»
حدیث نمبر: 7541
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبِتْعِ وَالْبِتْعُ نَبِيذُ الْعَسَلِ وَكَانَ أَهْلُ الْيَمَنِ يَشْرَبُونَهُ فَقَالَ كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بتع کے متعلق سوال کیا گیا، بتع شہد سے بنائی گئی نبیذ کو کہتے ہیں اور یمن والے یہ مشروب پیتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر وہ مشروب جو نشہ آور ہے، وہ حرام ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7541
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5586، ومسلم: 2001 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24652 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25159»
حدیث نمبر: 7542
عَنْ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَ إِنِّي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ خُرَاسَانَ وَإِنَّ أَرْضَنَا أَرْضٌ بَارِدَةٌ فَذَكَرَ مِنْ ضُرُوبِ الشَّرَابِ فَقَالَ اجْتَنِبْ مَا أَسْكَرَ مِنْ زَبِيبٍ أَوْ تَمْرٍ أَوْ مَا سِوَى ذَلِكَ قَالَ مَا تَقُولُ فِي نَبِيذِ الْجَرِّ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عیینہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں کہ ایک آدمی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہماکے پاس آیا اور کہا: میں خراسان کارہنے والا ہوں اور ہماراعلاقہ ٹھنڈا ہے، پھر اس نے مشروبات کی کئی قسمیں بیان کیں، انہوں نے کہا: جو چیز بھی نشہ دے، تو اس سے اجتناب کر، وہ منقّی سے بنی ہو یا کھجورسے ہو یا کوئی بھی ہو۔ اس نے کہا: مٹکے میں بنائی گئی نبیذ کے متعلق کیا خیال ہے؟ ابن عباس رضی اللہ عنہمانے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مٹکے میں بنائی گئی نبیذ سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7542
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 977، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2009 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2009»
حدیث نمبر: 7543
عَنْ سَلَامِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ يَعْنِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور جو چیز نشہ پیدا کرے، اس کی معمولی مقدار بھی حرام ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7543
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث قوي، أخرج الشطرين جميعا ابن ماجه: 3392، وأخرج الشرط الاول النسائي: 8/ 324، وابن ماجه: 3387 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5648 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5648»
حدیث نمبر: 7544
عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ وَكُلُّ خَمْرٍ حَرَامٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر نشہ آور چیز شراب ہے اورہر شراب حرام ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ہمارے ہاں احادیث میںمذکورہ لفظ خَمْر کا معنی شراب کیا جاتا ہے، جبکہ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہر نشہ آور چیز خَمْر ہے اور ہر خَمْر حرام ہے۔ نیز سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: وَالْخَمْرُ مَا خَامَرَ الْعَقْلَ۔ (بخاری، مسلم) … خَمْر ا س چیز کو کو کہتے ہیں جو عقل پر پردہ ڈال دے۔اس اعتبار سے سگریٹ اور حقہ وغیرہ کی شکل میں تمباکو نوشی، نسوار، بیڑہ وغیرہ کی نوعیت کی تمام چیزیں خَمْر میں داخل ہیں۔شراب اور نشہ آور چیز کا استعمال اتنا سنگین جر م ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مُدْمِنُ خَمْرٍ کَعَابِدِ وَثْنٍ۔)) (ابن ماجہ: ۳۳۷۵) … ہمیشہ شراب پینے والا بت کی عبادت کرنے والے کی طرح ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7544
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2003، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4830 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4830»
حدیث نمبر: 7545
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو چیز زیادہ مقدار میں نشہ پیدا کرتی ہے، اس کی معمولی مقدار بھی حرام ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7545
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، أخرجه النسائي: 8/ 300، وابن ماجه: 3394، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6558 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6558»
حدیث نمبر: 7546
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے بھی اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7546
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره ، أخرجه ابوداود: 3681، والترمذي: 1865، وابن ماجه: 3393، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14703 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14759»
حدیث نمبر: 7547
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا أَسْكَرَ الْفَرَقُ مِنْهُ إِذَا شَرِبْتَهُ فَمِلْءُ الْكَفِّ مِنْهُ حَرَامٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس چیز کا ایک فرق نشہ پیدا کر دے، اس سے ایک لپ بھر پینا بھی حرام ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7547
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 3687، والترمذي: 1866 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24432 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24936»
حدیث نمبر: 7548
عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ كُلِّ مُسْكِرٍ وَمُفْتِرٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر نشہ آور چیز اور ہرفتور پیدا کرنے والی چیز سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7548
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح لغيره دون قوله: ومفتِر وھذا اسناد ضعيف لضعف شھر بن حوشب، أخرجه ابوداود: 3686 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26634 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27169»
حدیث نمبر: 7549
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ قَالَ سَمِعْتُ الْمُخْتَارَ بْنَ فُلْفُلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الشُّرْبِ فِي الْأَوْعِيَةِ فَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُزَفَّتَةِ وَقَالَ كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ قَالَ قُلْتُ وَمَا الْمُزَفَّتَةُ قَالَ الْمُقَيَّرَةُ قَالَ قُلْتُ فَالرَّصَاصُ وَالْقَارُورَةُ قَالَ مَا بَأْسَ بِهِمَا قَالَ قُلْتُ فَإِنَّ نَاسًا يَكْرَهُونَهُمَا قَالَ دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ فَإِنَّ كُلَّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ قَالَ قُلْتُ لَهُ صَدَقْتَ السُّكْرُ حَرَامٌ فَالشَّرْبَةُ وَالشَّرْبَتَانِ عَلَى طَعَامِنَا قَالَ مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ وَقَالَ الْخَمْرُ مِنَ الْعِنَبِ وَالتَّمْرِ وَالْعَسَلِ وَالْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالذُّرَةِ فَمَا خَمَّرْتَ مِنْ ذَلِكَ فَهِيَ الْخَمْرُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ مختار بن فلفل کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے برتنوں میں مشروب پینے کے متعلق سوال کیا، انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تارکول والے برتن سے منع کیا ہے اور فرمایا: ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ میں نے کہا: کچ اور شیشے کے برتن کے متعلق کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا: ان کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ہے، میں نے کہا: کچھ لوگ انہیں ناپسند کرتے ہیں، انہوں نے کہا: جو چیز تجھے شک میں ڈالتی ہے، اسے اس وقت تک چھوڑ دو، جب تک کہ شک ختم نہ ہو جائے اور بے شک ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ میں نے کہا: آپ سچ کہتے ہیں کہ نشہ آور چیز حرام ہے، لیکن کھانے کے بعد اگر ایک دو گھونٹ پی لیں تو؟ انہوں نے کہا: جو چیز زیادہ مقدار میں نشہ پیدا کر دے، اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے، شراب انگور سے ہوتی ہے، کھجور سے ہوتی ہے، شہد سے ہوتی ہے، گندم سے ہوتی ہے، جو سے ہوتی ہے، مکئی سے ہوتی ہے، ان میں سے جو بھی تو شراب بنائے گا، یہ وہ شراب ہے جسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7549
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه النسائي: 8/ 308، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12099 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12123»
حدیث نمبر: 7550
عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ أُنَاسًا مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَعْلَمَهُمُ الصَّلَاةَ وَالسُّنَنَ وَالْفَرَائِضَ ثُمَّ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لَنَا شَرَابًا نَصْنَعُهُ مِنَ الْقَمْحِ وَالشَّعِيرِ قَالَ فَقَالَ الْغُبَيْرَاءُ قَالُوا نَعَمْ قَالَ لَا تَطْعَمُوهُ ثُمَّ لَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ بِيَوْمَيْنِ ذَكَرُوهُمَا لَهُ أَيْضًا فَقَالَ الْغُبَيْرَاءُ قَالُوا نَعَمْ قَالَ لَا تَطْعَمُوهُ ثُمَّ لَمَّا أَرَادُوا أَنْ يَنْطَلِقُوا سَأَلُوهُ عَنْهُ فَقَالَ الْغُبَيْرَاءُ قَالُوا نَعَمْ قَالَ لَا تَطْعَمُوهُ قَالُوا فَإِنَّهُمْ لَا يَدَعُونَهَا قَالَ مَنْ لَمْ يَتْرُكْهَا فَاضْرِبُوا عُنُقَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ یمن کے کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، آپ نے انہیں نماز، سنتوں اور فرضوں کی تعلیم دی، انھوں نے کہا: ہمارا ایک مشروب ہے، جسے ہم گندم اور جو سے تیار کرتے ہیں، اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جسے غبیراء کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو نہ کھانا۔ دو دن کے بعد پھر انہوں نے ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہی غبیراء؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو استعمال نہیں کرنا۔ جب یہ لوگ جانے لگے تو انھوں نے اس کے متعلق پھر سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ غبیراء؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو نہیں کھانا۔ وہ کہنے لگے: وہ لوگ تو اس کو نہیں چھوڑیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اس کو نہ چھوڑے، اس کی گردن اڑا دینا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7550
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف دراج بن سعان، أخرجه ابويعلي: 7147، والطبراني في الكبير : 23/ 483، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27407 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27952»
حدیث نمبر: 7551
عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى حَرَّمَ عَلَيَّ الْخَمْرَ وَالْكُوبَةَ وَالْقِنِّينَ وَإِيَّاكُمْ وَالْغُبَيْرَاءَ فَإِنَّهَا ثُلُثُ خَمْرِ الْعَالَمِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک میرے رب نے میرے اوپر شراب، ڈھولک بجانا اور رومیوں والا جوا کھیلنا حرام کیا ہے اور غبیراء سے بچو، (یہ غبیراء جو گندم اور جو سے تیار کی جاتی ہے) یہ پوری دنیا کی شرابوں کا ایک تہائی حصہ ہے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِجْتَنِبُوْا الخَمْرَ، فَإِنَّھَا مِفْتَاحُ کُلِّ شَرٍّ۔)) … شراب سے بچو، کیونکہ یہ ہر برائی کی بنیاد ہے۔ (حاکم: ۴/ ۱۴۵، صحیحہ: ۲۷۹۸)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7551
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغير دون قوله: فانھا ثلث خمر العالم وھذ اسناد ضعيف، بكر بن سوادة لم يدرك قيس بن سعد، وعبيد الله بن زحر الضمري مختلف فيه، أخرجه ابن ابي شيبة: 8/197، والبيھقي: 10/ 222، والطبراني في الكبير : 18/ 897، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15481 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15560»
حدیث نمبر: 7552
عَنْ دَيْلَمٍ الْحِمْيَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضٍ بَارِدَةٍ نُعَالِجُ بِهَا عَمَلًا شَدِيدًا وَإِنَّا نَتَّخِذُ شَرَابًا مِنْ هَذَا الْقَمْحِ نَتَقَوَّى بِهِ عَلَى أَعْمَالِنَا وَعَلَى بَرْدِ بِلَادِنَا قَالَ هَلْ يُسْكِرُ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَاجْتَنِبُوهُ قَالَ ثُمَّ جِئْتُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ فَقُلْتُ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ فَقَالَ هَلْ يُسْكِرُ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَاجْتَنِبُوهُ قُلْتُ إِنَّ النَّاسَ غَيْرُ تَارِكِيهِ قَالَ فَإِنْ لَمْ يَتْرُكُوهُ فَاقْتُلُوهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا دیلم حمیری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ ہماری سر زمین ٹھنڈک والی ہے اور ہماری محنت بہت سخت ہے، ہم گندم سے ایک شراب تیار کرتے ہیں، جس کے ذریعہ ہم قوت حاصل کرتے ہیں تاکہ عملی مشقت اور علاقے کی ٹھنڈک پر قابو پائیں، اس کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا وہ نشہ آور ہے؟ میں نے کہا: جی وہ نشہ آور تو ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس سے اجتناب کرو اور اسے نہ پیو۔ میں سامنے سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور یہی سوال دوہرایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا وہ نشہ دیتی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس سے بچو۔ میں نے کہا: لوگ تو اسے نہیں چھوڑیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر نہ چھوڑیں تو انہیں قتل کر دو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7552
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 3683 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18035 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18198»
حدیث نمبر: 7553
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا قَدِمَ مِنْ جَيْشَانَ وَجَيْشَانُ مِنَ الْيَمَنِ فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَرَابٍ يَشْرَبُونَهُ بِأَرْضِهِمْ مِنَ الذُّرَةِ يُقَالُ لَهُ الْمِزْرُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمُسْكِرٌ هُوَ قَالَ نَعَمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ وَإِنَّ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَهْدًا لِمَنْ يَشْرَبُ الْمُسْكِرَ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا طِينَةُ الْخَبَالِ قَالَ عَرَقُ أَهْلِ النَّارِ أَوْ عُصَارَةُ أَهْلِ النَّارِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جیشان کا ایک آدمی آیا، جیشان یمن کا علاقہ ہے، اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک شراب کے متعلق دریافت کیا، جسے وہ پیتے تھے، وہ ان کے ہاں تیار کی جاتی تھی، اس کا نام مزر تھا، وہ مکئی سے تیار کرتے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا وہ نشہ آور ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا عہد ہے کہ جونشہ آور چیز پیے گا، وہ اسے طینہ الخبال سے پلائے گا۔ لوگوں نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! طینۃ الخبال کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دوزخیوں کا پسینہ ہے یا ان کے زخموں سے بہنے والا مادہ ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7553
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2002 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14880 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14941»
حدیث نمبر: 7554
عَنِ ابْنِ شَرَاحِيلَ بْنِ بُكَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ شَرَاحْبِيلَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِنَّ لِي أَرْحَامًا بِمِصْرَ يَتَّخِذُونَ مِنْ هَذِهِ الْأَعْنَابِ قَالَ وَفَعَلَ ذَلِكَ أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ لَا تَكُونُوا بِمَنْزِلَةِ الْيَهُودِ حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ فَبَاعُوهَا وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا قَالَ قُلْتُ مَا تَقُولُ فِي رَجُلٍ أَخَذَ عُنْقُودًا فَعَصَرَهُ فَشَرِبَهُ قَالَ لَا بَأْسَ فَلَمَّا سِرْتُ قَالَ مَا حَلَّ شُرْبُهُ حَلَّ بَيْعُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ شراحبیل بن بکیل کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہماسے کہا: میرے مصر میں کچھ رشتہ دار رہتے ہیں، وہ انگور سے شراب تیار کرتے ہیں، انھوں نے کہا: کیا مسلمانوں میں سے بھی کوئی یہ کام کرتا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، انہوں نے کہا: یہودیوں کی طرح کی روش اختیار نہ کرو، ان پر چربی حرام قرار دی گئی، لیکن انہوں نے اسے فروخت کیااور اس کی قیمت کھانا شروع کر دی۔ میں نے کہا: آپ کا اس آدمی کے بارے میں کیا خیال ہے، جو انگور کا ایک گچھا لیتا ہے اور اسے نچور کر پی لیتا ہے؟ انھوں نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے، پھر جب میں چلا تو انھوں نے کہا: جس چیز کا پینا حلال ہے، اس چیز کا فروخت کرنا بھی حلال ہے۔
وضاحت:
فوائد: … شراب کے موضوع پر اس باب کی احادیث ِ مبارکہ میں انتہائی اہم قوانین بیان کیے گئے ہیں اور شریعت کا اصل مقصد بیان کیا گیا ہے، شراب اس وجہ سے حرام نہیں ہے کہ وہ انگور سے بنائی جاتی ہے یا گندم سے یا کسی اور چیز سے، بلکہ اس کی حرمت کا سبب اس کی صفت ِنشہ ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7554
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اثر حسن ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16066 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16163»