کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سابق احادیث میں جن برتنوں میں نبیذ بنانے کو حرام قرار دیا گیا¤ان کے اس حکم کے منسوخ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 7527
عَنْ يَحْيَى بْنِ غَسَّانَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ أَبِي فِي الْوَفْدِ الَّذِينَ وَفَدُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَبْدِ قَيْسٍ فَنَهَاهُمْ عَنْ هَذِهِ الْأَوْعِيَةِ قَالَ فَأَتْخَمْنَا ثُمَّ أَتَيْنَاهُ الْعَامَ الْمُقْبِلَ قَالَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ نَهَيْتَنَا عَنْ هَذِهِ الْأَوْعِيَةِ فَأَتْخَمْنَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ انْتَبِذُوا فِيمَا بَدَا لَكُمْ وَلَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا فَمَنْ شَاءَ أَوْكَأَ سِقَاءَهُ عَلَى إِثْمٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ یحییٰ بن غسان تیمی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے ابا جان اس وفد میں تھے، جو عبد قیس میں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تھا، آپ نے انہیں ان چار برتنوں کے استعمال سے منع فرمایا تھا، وہ کہتے ہیں: ہم نے ان برتنوں کا استعمال چھوڑ دیا تھا، لیکن ہم وبا زدہ ہو گئے تھے، جب ہم آئندہ سال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے تو ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے ان برتنوں کے استعمال سے منع فرمایا ہے اور ہمارا علاقہ وبائی ہے، ہم وبا زدہ ہو گئے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب جس برتن میں چاہو نبیذ بنا سکتے ہو، بس نشہ آور چیز نہ پینا،جو چاہے وہ اپنے مشکیزے کا منہ بند کر سکتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … آخری جملے کا معنی و مفہوم یہ ہے کہ اگر وہ مشروب نشہ آور ہو چکا ہے تو تم نے اس کا منہ باندھ کر معصیت کا ارتکاب کیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7527
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف يحيي بن عبد الله التيمي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15949 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16045»
حدیث نمبر: 7528
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ قَيْسٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كُلُّ امْرِئٍ حَسِيبُ نَفْسِهِ لِيَشْرَبْ كُلُّ قَوْمٍ فِيمَا بَدَا لَهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب عبد القیس کاوفد آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہرآدمی اپنی ذات کا خود ذمہ دارہے، ہرقوم جس برتن میں چاہے پیے، البتہ نشہ آور نہ ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7528
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف شھر بن حوشب ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8336 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8318»
حدیث نمبر: 7529
(وَعَنْهُ أَيْضًا) قَالَ إِنِّي لَشَاهِدٌ لِوَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَنَهَاهُمْ أَنْ يَشْرَبُوا فِي هَذِهِ الْأَوْعِيَةِ الْحَنْتَمِ وَالدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِيرِ قَالَ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ النَّاسَ لَا ظُرُوفَ لَهُمْ قَالَ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّهُ يَرْثِي لِلنَّاسِ قَالَ فَقَالَ اشْرَبُوا مَا طَابَ لَكُمْ فَإِذَا خَبُثَ فَذَرُوهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: جب وفد عبد القیس آیا تھا، میں بھی اس وقت حاضر تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں ان برتنوں میں سے پینے سے منع فرمایا: کدو سے تیار شدہ برتن، تارکول لگا مٹکا اور تنا سے تیار شدہ، ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! لوگوں کے پاس اور برتن نہیں ہیں، سیدنا ابوہریرہ کہتے ہیں: میں نے دیکھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لوگوں کی حالت پر ترس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان برتنوں میں پیو جتنا تمہاری مرضی، بس جب نشہ پیدا ہو جائے تو پھرچھوڑ دینا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7529
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف شھر بن حوشب، ولجھالة حفص بن خالد ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8656 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8641»
حدیث نمبر: 7530
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْأَوْعِيَةِ فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ فَلَا بُدَّ لَنَا قَالَ فَلَا إِذَنْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان برتنوں سے پینے پر پابندی لگائی تو انصارکہنے لگے: ان کے استعمال کے بغیر ہمارے لیے کوئی چارہ کار نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر کوئی حرج نہیں انھیں استعمال کرو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7530
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5592 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14244 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14294»
حدیث نمبر: 7531
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ بُرَيْدَةَ بْنِ حُصَيْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ ثَلَاثٍ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا فَإِنَّ فِي زِيَارَتِهَا عِظَةً وَعِبْرَةً وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِي فَوْقَ ثَلَاثٍ فَكُلُوا وَادَّخِرُوا وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ النَّبِيذِ فِي هَذِهِ الْأَسْقِيَةِ فَاشْرَبُوا وَلَا تَشْرَبُوا حَرَامًا (وَفِي لَفْظٍ وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ فَانْتَبِذُوا فِي كُلِّ وِعَاءٍ وَاجْتَنِبُوا كُلَّ مُسْكِرٍ)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا بریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں تین چیزوں سے منع کیا تھا، قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، لیکن اب میں یہ حکم دیتا ہوں کہ ان کی زیارت کیا کرو، کیونکہ ان کی زیارت سے نصیحت اور عبرت حاصل ہوتی ہے، اور میں نے تمہیں تین دن سے زیادہ قربانیوں کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا، اب کھاؤ اور ذخیرہ کرو اور میں نے تمہیں ان برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع کیا تھا ، اب تم ہرقسم کے برتن سے پیو، بس حرام نہ پینا۔ ایک روایت میں ہے: میں نے تمہیں مٹکے میں نبیذ بنانے سے منع کیا تھا، اب تم ہر برتن میں نبیذ بنا سکتے ہو، بس ہر نشہ آور مشروب سے اجتناب کرو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7531
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 977، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23015 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23403»
حدیث نمبر: 7532
((وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ) وَفِيهِ وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ وَإِنَّ مُحَمَّدًا أُذِنَ لَهُ فِي زِيَارَةِ قَبْرِ أُمِّهِ وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ الظُّرُوفِ وَإِنَّ الظُّرُوفَ لَا تُحَرِّمُ شَيْئًا وَلَا تُحِلُّهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، اب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کی ماں کی قبر کی زیارت کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے اور میں نے تمہیں چند برتنوں سے منع کیا تھا، جبکہ برتن کسی چیز کو حلال یا حرام نہیں کر سکتے (اس لیے تم ان کو استعمال کیا کرو)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7532
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23404»
حدیث نمبر: 7533
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَحْوُهُ وَفِيهِ وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ الْأَوْعِيَةِ فَاشْرَبُوا فِيهَا وَاجْتَنِبُوا كُلَّ مَا أَسْكَرَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: میں نے تمہیں برتنوں سے منع کیا تھا ، پس اب ان میں پی سکتے ہو، البتہ ہر نشہ آور چیز سے اجتناب کرو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7533
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه ابن ابي شيبة: 8/ 111، وابويعلي: 278 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1236 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1236»
حدیث نمبر: 7534
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَحْوَ حَدِيثِ عَلِيٍّ وَفِيهِ وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ النَّبِيذِ فِي هَذِهِ الْأَوْعِيَةِ فَاشْرَبُوا بِمَا شِئْتُمْ وَلَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا فَمَنْ شَاءَ أَوْكَأَ سِقَاءَهُ عَلَى إِثْمٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بھی سیدنا علی کی مانند روایت بیان کرتے ہیں، البتہ اس میں ہے: میں نے تمہیں ان برتنوں میں نبیذ بنانے سے روکا تھا، اب جیسے چاہو جائز مشروب پی سکتے ہو، البتہ نشہ آور نہ پینا اور جو چاہے کہ اپنی مشک میں گناہ بند کرے بے شک وہ نشہ آور مشروب رکھ لے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7534
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح بطرقه وشواھده، أخرجه الحاكم: 1/ 375، وابويعلي: 3707 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13487 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13521»
حدیث نمبر: 7535
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَنَا شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ نَهَى عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ وَأَنَا شَهِدْتُ حِينَ رَخَّصَ فِيهِ قَالَ وَاجْتَنِبُوا الْمُسْكِرَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن مغفل مزنی رضی ا للہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مٹکے کی نبیذ سے منع فرمایا تھا تو میں اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں حاضر تھا اور جب آپ نے رخصت دی تھی، تب بھی میں حاضر تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: البتہ نشہ آور چیز سے اجتناب کرنا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7535
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ابو جعفر الرازي الي الضعف اقرب لسوء حفظه ولا يحتمل تفرده، أخرجه ابن ابي شيبة: 8/ 110، والطحاوي في شرح معاني الآثار : 4/ 229 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16804 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16927»
حدیث نمبر: 7536
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صُحَارٍ الْعَبْدِيِّ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ مِسْقَامٌ فَأْذَنْ لِي فِي جَرِيرَةٍ أَنْتَبِذُ فِيهَا قَالَ فَأَذِنَ لَهُ فِيهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا صحار عبدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں بہت زیادہ بیمار رہنے والا آدمی ہوں، مجھے اجازت دیں کہ میں اپنے مٹکے میں نبیذ بنا لیا کروں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7536
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة حال عبد الرحمن بن صحار، أخرجه البزار: 2910، والطبراني في الكبير : 7403، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20339 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20604»
حدیث نمبر: 7537
حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ذَكَرَ أَنَّ الَّذِي يُحَدِّثُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ فِي النَّبِيذِ بَعْدَ مَا نَهَى عَنْهُ مُنْذِرٌ أَبُو حَسَّانَ ذَكَرَهُ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ يَقُولُ مَنْ خَالَفَ الْحَجَّاجَ فَقَدْ خَالَفَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عاصم نے بیان کیا کہ جس نے یہ بیان کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نبیذ پینے کی ممانعت کے بعد اس کی اجازت دی تھی، وہ بیان کرنے والے منذر ابو حسان ہیں۔ انہوں نے یہ سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے۔اور وہ کہا کرتے تھے کہ جس نے حجاج کی مخالفت کی تو اس نے مخالفت کی۔
وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شراب کی حرمت کے موقع پر جن برتنوں کو حرام قرار دیا تھا، ان کی حرمت عارضی طور پر تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو استعمال کرنے کی اجازت دے دی تھی، جیسا کہ اس باب کی احادیث سے معلوم ہو رہا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7537
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف جدا، منذر ابو حسان يرمي بالكذب ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20134 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20396»