کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: دو چیزوں کو ملا کر ان سے بنائے گئے نبیذ کا بیان
حدیث نمبر: 7503
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْخَمْرُ مِنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ النَّخْلَةِ وَالْعِنَبَةِ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَنْبِذُوا التَّمْرَ وَالزَّبِيبَ جَمِيعًا وَلَا تَنْبِذُوا الْبُسْرَ وَالتَّمْرَ جَمِيعًا وَانْتَبِذُوا كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ عَلَى حِدَةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شراب ان دو درختوں کھجور اور انگور سے بنائی جاتی ہے۔ مزید نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کھجور اور منقی دونوں کو اکٹھے ملا کر نبیذ نہ بناؤ، کچی کھجور اور پختہ کھجور کو ملا کر نبیذ بناؤ، البتہ ان میں سے ہر ایک کا علیحدہ علیحدہ نبیذ بنا لیا کرو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7503
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1989، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10807 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10819»
حدیث نمبر: 7504
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ أَنْ يُخْلَطَا جَمِيعًا وَعَنِ الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ أَنْ يُخْلَطَا جَمِيعًا قَالَ وَكَتَبَ إِلَى أَهْلِ جُرَشٍ أَنْ لَا يَخْلِطُوا الزَّبِيبَ وَالتَّمْرَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچی کھجور اور پختہ کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے اور منقّی اور کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے اور یمن والوں کو لکھا کہ وہ منقی اور کھجور کو ملا کر نبیذ نہ بنایا کریں۔
وضاحت:
فوائد: … یمن میں ایک شہر کا نام جرش ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7504
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1990، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3110 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3110»
حدیث نمبر: 7505
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجَرِّ أَنْ يُنْبَذَ فِيهِ وَعَنِ التَّمْرِ وَالْبُسْرِ وَعَنِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ أَنْ يُخْلَطَ بَيْنَهُمَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مٹکا میں نبیذ بنانے اور کھجور اور انگور کو ملا کر نبیذ بنانے اور کچی اور پختہ کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7505
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه الترمذي: 1877، والنھي عن الانتباذ بالجر وعن الخلط بين التمر والزبيب والبسسر والتمر أخرجه مسلم: 1996، 1987، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11065 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11081»
حدیث نمبر: 7506
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ نَقِيعِ الْبُسْرِ وَهُوَ الزَّهْوُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بسر کھجور کی نبیذ سے منع فرمایا، یہ وہ کھجور ہے، جو پکنے کے بعد سرخ یا زرد ہو جاتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7506
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه ابن ابي شيبة: 6/ 257، وابن حبان: 4955 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24741 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25248»
حدیث نمبر: 7507
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَنْتَبِذُوا الرُّطَبَ وَالزَّهْوَ وَالتَّمْرَ وَالزَّبِيبَ جَمِيعًا وَانْتَبِذُوا كُلَّ وَاحِدٍ عَلَى حِدَتِهِ قَالَ يَحْيَى فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَتَادَةَ فَأَخْبَرَنِي عَنْ أَبِيهِ بِذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تر کھجور اور کچی کھجور اور خشک کھجور اور منقی کو ملا کر نبیذ نہ بنایا کرو، بلکہ ہر ایک کا الگ الگ نبیذ بنایا کرو۔ یحییٰ بن کثیر کہتے ہیں: میں نے اس بارے میں عبد اللہ بن ابی قتادہ سے سوال کیا،انہوں نے اس کے متعلق مجھے اپنے باپ سے بیان کیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7507
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1988، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22627 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23005»
حدیث نمبر: 7508
عَنْ كَبْشَةَ بِنْتِ أَبِي مَرْيَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قُلْتُ لِأُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَخْبِرِينِي مَا نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَهْلَهُ قَالَتْ نَهَانَا أَنْ نَعْجُمَ النَّوَى طَبْخًا وَأَنْ نَخْلِطَ الزَّبِيبَ وَالتَّمْرَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ کبشہ بنت مریم رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ مجھے وہ بات بتاؤ جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے گھر والوں کو منع کیا تھا، انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں گٹھلیاں پکا کر کھانے سے اور منقّی اور کھجور ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایاہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7508
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «قولھا ’ان نخلط الزبيب والتمر صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف لجھالة ريطة بنت حُريث، ولجھالة كبشة بنت ابي مريم، أخرجه ابوداود: 3706، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26505 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27038»
حدیث نمبر: 7509
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِيرِ وَأَنْ يُخْلَطَ الْبَلَحُ وَالزَّهْوُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کدو سے بنے ہوئے برتن، مٹکا، تارکول والے برتن اور تنا کرید کربنائے ہوئے برتن سے منع فرمایا، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچی اور پختہ کھجور ملا کر نبیذ بنانے سے بھی منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7509
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1995، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2499 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2499»
حدیث نمبر: 7510
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ نَشْوَانَ وَفِي لَفْظٍ سَكْرَانَ فَقَالَ قَدْ شَرِبْتُ زَبِيبًا وَتَمْرًا قَالَ فَجَلَدَهُ الْحَدَّ وَنَهَى أَنْ يُخْلَطَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایسے آدمی کو لایا گیا، جو نشے میں تھا، اس نے کہا: میں نے تو منقی اور کھجور ملا کر نبیذ بنا کر پیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے حد لگائی اور ان دونوں کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرما دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7510
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة النجراني، أخرجه ابويعلي: 5783 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5129 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5129»
حدیث نمبر: 7511
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلَا إِنَّ الْمُزَّاتِ حَرَامٌ وَالْمُزَّاتُ خَلْطُ التَّمْرِ وَالْبُسْرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبرد ارمزات حرام ہے۔ اور مزات یہ ہے کہ خشک کھجور اور پکی ہوئی تازہ کھجور ملا کر نبیذ بنایا جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7511
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة خالد بن الفزر، أخرجه ابويعلي: 4047، والبيھقي: 8/ 307 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12575 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12603»
حدیث نمبر: 7512
عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ كَرِهَ نَبِيذَ الْبُسْرِ وَحْدَهُ وَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُزَّاتِ فَأَكْرَهُ أَنْ يَكُونَ الْبُسْرُ وَحْدَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انھوں نے تنہا بسر کھجور سے نبیذ بنانے کو بھی مکروہ سمجھا ہے اور انھوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزات سے منع فرمایا ہے، پس میں صرف بسر کی نبیذ کو بھی ناپسند کرتا ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب کی احادیث میں ایک سے زائد چیزوں کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع کیا گیا ہے، عبارات بالکل واضح ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7512
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط البخاري، أخرجه ابوداود: 3709، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3095 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3095»