کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: مشکیزے کی نبیذ اور اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پینے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اس کو اچھا سمجھنے کا بیان
حدیث نمبر: 7489
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ جَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَدِيفُهُ أُسَامَةُ فَسَقَيْنَاهُ مِنْ هَذَا النَّبِيذِ يَعْنِي نَبِيذَ السِّقَايَةِ فَشَرِبَ مِنْهُ وَقَالَ أَحْسَنْتُمْ هَكَذَا فَاصْنَعُوا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے اورسیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے سوار تھے، ہم نے آپ کو مشک میں بنا ہوا نبیذ پلایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیا اور فرمایا: بہت اچھا ہے، نبیذ اس طرح بنایا کرو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7489
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه ابويعلي: 2543، والطبراني: 12934، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2655 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2655»
حدیث نمبر: 7490
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُنْتَبَذُ لَهُ فِي سِقَاءٍ فَإِذَا لَمْ يَكُنْ لَهُ سِقَاءٌ نُبِذَ لَهُ فِي تَوْرٍ مِنْ بِرَامٍ قَالَ وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ وَالْجَرِّ وَالْمُزَفَّتِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ایک مشک میں نبیذ بنایا جاتا تھا، جب مشک میسر نہ ہوتی تو پتھر کے ایک برتن میں نبیذ بنایا جاتا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کدو سے بنائے ہوئے برتن، تنا کرید کر بنائے ہوئے برتن، مٹکوں میں اور تارکول والے برتن میں نبیذ بنانے سے منع کیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان چار قسم کے برتنوں سے عارضی طور پر منع کیا تھا، پھر ان کو استعمال کرنے کی اجازت دے دی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7490
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه النسائي: 8/ 310، وأخرج الشطر الاول منه مسلم: 1999، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14267 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14317»
حدیث نمبر: 7491
حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ وَدَاوُدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ أَنَّ رَجُلًا نَادَى ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَالنَّاسُ حَوْلَهُ فَقَالَ أَسُنَّةً تَبْتَغُونَ بِهَذَا النَّبِيذِ أَمْ هُوَ أَهْوَنُ عَلَيْكُمْ مِنَ اللَّبَنِ وَالْعَسَلِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَبَّاسًا فَقَالَ اسْقُونَا فَقَالَ إِنَّ هَذَا النَّبِيذَ شَرَابٌ قَدْ مُغِثَ وَمُرِثَ أَفَلَا نَسْقِيكَ لَبَنًا أَوْ عَسَلًا قَالَ اسْقُونَا مِمَّا تَسْقُونَ مِنْهُ النَّاسَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ أَصْحَابُهُ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ بِسِقَاءَيْنِ فِيهِمَا النَّبِيذُ فَلَمَّا شَرِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَجِلَ قَبْلَ أَنْ يَرْوَى فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ أَحْسَنْتُمْ هَكَذَا فَاصْنَعُوا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَرِضَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ تَسِيلَ شِعَابُهَا لَبَنًا وَعَسَلًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ حسین بن عبد اللہ اور داؤد بن علی بن عبد اللہ بن عباس دونوں کمی بیشی سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو آواز دی اور ان کے ارد گرد لوگ بھی بیٹھے ہوئے تھے، اس نے کہا: یہ نبیذ استعمال کرکے تم سنت پر عمل کے آرزو مند ہو یا یہ دودھ اور شہد کی بہ نسبت اسے استعمال کرنے میں آسانی سمجھتے ہو؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمانے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا عباس کے ہاں آئے اور فرمایا: مجھے کچھ پلاؤ۔ انہوں نے کہا: نبیذ توبنایا گیا ہے، لیکن اسے انگلیوں سے ملا گیا ہے اور میل کچیل والا سا ہے، کیا ہم آپ کودودھ یا شہد نہ پلا دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہی کچھ پلا دو، جو تم لوگوں کو پلا رہے ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مہاجر ین و انصار میں سے بعض لوگ بھی موجود تھے، دو مشکیں نبیذ کی لائی گئیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پینے کے دوران جلدی سے اپنا سر اقدس اوپر اٹھایا اور فرمایا: تم نے بہت اچھا کیا، اس طرح بنایا کرو۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمانے کہا: اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رضا مندی کااظہار مجھے اس سے زیادہ اچھا لگتا ہے کہ دودھ اور شہد سے یہ گھاٹیاں بہنے لگیں۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ نبیذ جائز اور حلال ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7491
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2944 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2944»