کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: نبیذ کی جائز اور حرام اقسام کا بیان¤نبیذ کی جائز اقسام کا بیان، نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے نبیذ کیسے اور کس چیز سے نبیذ بنائی جاتی تھی
حدیث نمبر: 7482
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كُنَّا نَنْبِذُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سِقَاءٍ فَنَأْخُذُ قَبْضَةً مِنْ زَبِيبٍ أَوْ قَبْضَةً مِنْ تَمْرٍ فَنَطْرَحُهَا فِي السِّقَاءِ ثُمَّ نَصُبُّ عَلَيْهَا الْمَاءَ لَيْلًا فَيَشْرَبُهُ نَهَارًا أَوْ نَهَارًا فَيَشْرَبُهُ لَيْلًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے مشک میں نبیذ بنایا کرتے تھے، ہم ایک مٹھی بھر منقّی یا کھجور مشک میں ڈال کر اس میں پانی ڈالتے، رات کو بناتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح کو پی لیتے اور دن کو بناتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو پی لیتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … پانی میں کھجور بھگو کر رکھنا اور اس سے تیار ہونے والا مشروب پینا جائز ہے، اس کو نبیذ کہتے ہیں، لیکن جب ایسا مشروب جوش مارنے لگے یا اس سے خمیر اٹھنے لگے تو اس کا استعمال ناجائز ہو جاتا ہے، کیونکہ یہ شراب کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔
حدیث نمبر: 7483
عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ كُنَّا نَنْبِذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غُدْوَةً فِي سِقَاءٍ وَلَا نُخَمِّرُهُ وَلَا نَجْعَلُ لَهُ عَكَرًا فَإِذَا أَمْسَى تَعَشَّى فَشَرِبَ عَلَى عَشَائِهِ فَإِنْ بَقِيَ شَيْءٌ فَرَّغْتُهُ أَوْ صَبَبْتُهُ ثُمَّ نَغْسِلُ السِّقَاءَ فَنَنْبِذُ فِيهِ مِنَ الْعِشَاءِ فَإِذَا أَصْبَحَ تَغَدَّى فَشَرِبَ عَلَى غَدَائِهِ فَإِنْ فَضَلَ شَيْءٌ صَبَبْتُهُ أَوْ فَرَّغْتُهُ ثُمَّ غَسَلَ السِّقَاءَ فَقِيلَ لَهَا أَفِيهِ غَسَلَ السِّقَاءَ مَرَّتَيْنِ قَالَتْ مَرَّتَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے مشک میں صبح نبیذ بناتے تھے، ہم اسے ڈھانپتے نہ تھے اور نہ ہی ہم اس میں تلچھٹ باقی رہنے دیتے تھے، جب شام ہوتی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شام کا کھانا کھا لیتے تو پھر نبیذ پیتے تھے، اگر نبیذ بچ جاتی میں اسے بہا دیتی اور مشک کو دھو دیتی، پھر ہم عشاء کے وقت نبیذ بناتے تھے، جب صبح ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح کاکھانا کھا کر نبیذ پیتے تھے، اگر نبیذ میں سے کچھ بچ جاتا تو میں اسے بہا دیتی پھر برتن دھویا جاتا۔ مقاتل سے پوچھا گیا: کیا اس حدیث میں مشک دو مرتبہ دھونے کا ذکر ہے، انھوں نے کہا: جی ہاں، دو مرتبہ دھونے کا ذکر ہے۔
حدیث نمبر: 7484
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ يُنْقَعُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الزَّبِيبُ قَالَ فَيَشْرَبُهُ الْيَوْمَ وَالْغَدَ وَبَعْدَ الْغَدِ إِلَى مَسَاءِ الثَّالِثَةِ ثُمَّ يُؤْمَرُ بِهِ فَيُسْقَى أَوْ يُهْرَاقُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے منقّی ملا کر پانی بنایا جاتا تھا، آپ اسے اس دن، دوسرے دن اور تیسرے دن کی شام تک پیتے، اس کے بعد اس کے بارے میں حکم دیا جاتا کہ وہ کسی کو پلا دیا جائے یا پھر بہا دیا جائے۔
وضاحت:
فوائد: … اس روایت میں تین دن تک نبیذ کو استعمال کرنے کا ذکر ہے، جبکہ سابق روایات میں ایک دن بھی مکمل نہیں ہونے دیا گیا، اس کے تین جوابات ہیں:
حدیث نمبر: 7485
عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ نَبِيذِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ كَانَ يَشْرَبُ بِالنَّهَارِ مَا صُنِعَ بِاللَّيْلِ وَيَشْرَبُ بِاللَّيْلِ مَا صُنِعَ بِالنَّهَارِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہماسے ایک آدمی نے دریافت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نبیذ کے متعلق بتائیں، انہوں نے کہا: جو نبیذ رات کو بنایا جاتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے دن میں پی لیتے اور جو دن کو بنایا جاتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ رات کو پی لیتے تھے۔
حدیث نمبر: 7486
حَدَّثَنَا يَحْيَى قَالَ سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ سَعْدٍ يَقُولُ أَشْهَدُ عَلَى سُفْيَانَ أَنِّي سَأَلْتُهُ أَوْ سُئِلَ عَنِ النَّبِيذِ فَقَالَ كُلْ تَمْرًا وَاشْرَبْ مَاءً يَصِيرُ فِي بَطْنِكَ نَبِيذًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابراہیم بن سعد کہتے ہیں: میں سفیان کے پاس حاضر ہوا اور میں نے ان سے سوال کیا یا ان سے نبیذ کے متعلق پوچھا گیا، انہوں نے کہا: کھجور کھا لو اور بعد میں پانی پی لو، تمہارے پیٹ میں نبیذ بن جائے گا۔
حدیث نمبر: 7487
عَنْ صُهَيْرَةَ بِنْتِ جَيْفَرٍ سَمِعَهُ مِنْهَا قَالَتْ حَجَجْنَا ثُمَّ انْصَرَفْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ فَدَخَلْنَا عَلَى صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَوَافَقْنَا عِنْدَهَا نِسْوَةً مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ فَقُلْنَ لَهَا إِنْ شِئْتُنَّ سَأَلْتُنَّ وَسَمِعْنَا وَإِنْ شِئْتُنَّ سَأَلْنَا وَسَمِعْتُنَّ فَقُلْنَا سَلْنَ فَسَأَلْنَ عَنْ أَشْيَاءَ مِنْ أَمْرِ الْمَرْأَةِ وَزَوْجِهَا وَمِنْ أَمْرِ الْمَحِيضِ ثُمَّ سَأَلْنَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ فَقَالَتْ أَكْثَرْتُمْ عَلَيْنَا يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ فِي نَبِيذِ الْجَرِّ وَمَا عَلَى إِحْدَاكُنَّ أَنْ تَطْبُخَ تَمْرَهَا ثُمَّ تَدْلُكَهُ ثُمَّ تُصَفِّيَهُ فَتَجْعَلَهُ فِي سِقَائِهَا وَتُوكِئَ عَلَيْهِ فَإِذَا طَابَ شَرِبَتْ وَسَقَتْ زَوْجَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ صہیرہ بنت جیفر کہتی ہیں: ہم نے حج کیا، پھر ہم مدینہ واپس لوٹیں اورہم ام المؤمنین سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں، ہم نے ان کے پاس کوفہ کی رہنے والی عورتیں موجود پائیں، انہوں نے ہم سے کہا: اگر چاہو تو تم سوال کرو، ہم سنتی ہیں اور اگر چاہو تو ہم سوال کرتی ہیں اور تم سنو، ہم نے کہا: تم سوال کرو ، انہوں نے میاں بیوی اور حیض کے متعلقہ کچھ امور دریافت کئے اور پھر انہوں نے مٹکے (اور گھڑے وغیرہ) میں بنائے جانے والے نبیذ کے بارے میں دریافت کیا،سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے کہا: عراق والیو! تم نے مٹکے کے نبیذ کے بارے میں بہت زیادہ تکرار کیا ہے، اس میں تم پر کوئی حرج نہیں کہ کھجور پکا لو، پھر اسے ہاتھ سے مل دو اور صاف کرکے اسے مشک میں رکھ لو اور پھر اس کا تسمہ بند کر دو اور جب وہ خوشگوار ہو جائے تو اسے پی لو اور اپنے خاوند کو بھی پلاؤ۔
وضاحت:
فوائد: … اَلْجَرّ سے مراد وہ برتن ہے، جس کو مٹی اور پانی سے بنایا جائے۔
حدیث نمبر: 7488
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ فَيْرُوزَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا أَصْحَابُ أَعْنَابٍ وَكَرْمٍ وَقَدْ نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ فَمَا نَصْنَعُ بِهَا قَالَ تَتَّخِذُونَهُ زَبِيبًا قَالَ فَنَصْنَعُ بِالزَّبِيبِ مَاذَا قَالَ تَنْقَعُونَهُ عَلَى غَدَائِكُمْ وَتَشْرَبُونَهُ عَلَى عَشَائِكُمْ وَتَنْقَعُونَهُ عَلَى عَشَائِكُمْ وَتَشْرَبُونَهُ عَلَى غَدَائِكُمْ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَحْنُ مَنْ قَدْ عَلِمْتَ وَنَحْنُ نُزُولٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ مَنْ قَدْ عَلِمْتَ فَمَنْ وَلِيُّنَا قَالَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ قَالَ قُلْتُ حَسْبِي يَا رَسُولَ اللَّهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا فیروز دیلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم انگوروں کے مالک ہیں، اب شراب کی حرمت نازل ہوچکی ہے، اب ہم انگوروں کا کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کا منقّی تیار کر لیا کرو۔ اس نے کہا: پھر ہم منقی کا کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے صبح پانی میں ڈالو اورشام کے کھانے کے ساتھ پیو اور شام کو پانی میں ڈالو اور صبح کو پی لو۔ میں نے کہا: آپ کو معلوم ہے ہم جس قوم سے ہیں، ان میں سے ہم ہی ایمان لائے ہیں، ہماری قوم ایمان نہیں لائی، نیز آپ جانتے ہیں کہ ہم کافر قوم کے درمیان رہتے ہیں، اب ہمارا ولی کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے یہی کافی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … نبیذ جائز ہے، لیکن یہ توجہ کرنا ضروری ہے کہ اس کو اتنی دیر نہ رکھا جائے کہ اس میں نشہ پیدا ہو جائے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس شبہے سے بچنے کے لیے نبیذ کو ضائع کروا دیا کرتے تھے۔