کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: پانی پینے کے دوران برتن سے باہر تین سانس لینا مستحب ہے
حدیث نمبر: 7473
عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَنَفَّسُ فِي إِنَائِهِ ثَلَاثًا وَكَانَ أَنَسٌ يَتَنَفَّسُ ثَلَاثًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پانی والے برتن میں تین سانس لے کر پانی پیتے تھے اور سیدنا انس بھی تین سانس میں پانی پیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7473
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5631، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12133 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12157»
حدیث نمبر: 7474
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ أَبِي عِصَامٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَنَفَّسُ فِي الْإِنَاءِ ثَلَاثًا وَيَقُولُ هَذَا أَهْنَأُ وَأَمْرَأُ وَأَبْرَأُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پانی پیتے تو (پانی کے دوران) تین سانس لیتے اور فرماتے تھے: یہ انداز زیادہ مزیدار، خوشگوار اور صحت یاب ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7474
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول، وأخرجه البخاري دون المرفوع القولي، وھو حديث صحيح ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12953»
حدیث نمبر: 7475
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا شَرِبَ تَنَفَّسَ مَرَّتَيْنِ فِي الشَّرَابِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب پانی پیتے تو دو سانس لیتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … افضل اور مستحب یہی ہے کہ پانی پینے کے دوران تین سانس لیے جائیں، البتہ حدیث نمبر (۷۴۷۱) سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ہے کہ ایک سانس میں پانی پینا بھی جائز ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7475
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف سعيد بن محمد الوراق ورشدين بن كريم، وعندھما مناكير، أخرجه ابن ماجه: 3417، والترمذي: 1886، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2571 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2571»