حدیث نمبر: 7470
عَنْ عِكْرَمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ أَنْ يُتَنَفَّسَ فِي الْإِنَاءِ أَوْ يُنْفَخَ فِيهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے برتن میں سانس لینے اور اس میں پھونک مارنے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 7471
عَنِ ابْنِ الْمُثَنَّى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ مَرْوَانَ فَدَخَلَ أَبُو سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنِ النَّفْخِ فِي الشَّرَابِ قَالَ نَعَمْ فَقَالَ رَجُلٌ إِنِّي لَا أُرْوَى مِنْ نَفَسٍ وَاحِدٍ قَالَ أَبِنْهُ عَنْكَ ثُمَّ تَنَفَّسْ قَالَ أَرَى فِيهِ الْقَذَاةَ قَالَ فَأَهْرِقْهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابن مثنی کہتے ہیں: میں مروان کے پاس تھا، سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ وہاں تشریف لائے، مروان نے ان سے کہا: کیا تم نے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پینے (کے برتن) میں سانس لینے سے منع فرمایا ہو؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، اور ایک آدمی نے کہا تھا: اے اللہ کے رسول! میں تو ایک سانس کے دوران پیے جانے والے پانی سے سیراب نہیں ہوتا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: تو پھر پیالے کو منہ سے دور کر کے سانس لے لیا کرو (اور پھر پی لیا کرو)۔ اس نے کہا: اگر مجھے اس میں کوئی تنکا نظر آ جائے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اسے بہا دیا کرو۔
حدیث نمبر: 7472
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا شَرِبَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَتَنَفَّسْ فِي الْإِنَاءِ وَإِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ فَلَا يَتَمَسَّحْ بِيَمِينِهِ وَإِذَا بَالَ فَلَا يَمَسَّ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی پانی پیے تو برتن میں سانس نہ لے،جب بیت الخلاء میں داخل ہو تو دائیں ہاتھ سے استنجا نہ کرے اور جب پیشاب کرے تو آلۂ تناسل کودائیں ہاتھ سے نہ چھوئے۔
وضاحت:
فوائد: … کھانے پینے کے برتن میں یا کھانے پینے والی چیز پر پھونک مارنا منع ہے، دیکھیں حدیث نمبر (۷۴۰۸)