کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: پینے والے والوں کی ترتیب کا، قوم کے شرف والے آدمی سے پینے کا آغاز کا اور اس کے بعد دائیں طرف والے کو مقدم کرنے کا اور اس چیز کا بیان کہ پلانے والا آخر میں پانی پئے گا
حدیث نمبر: 7448
عَنِ الزُّهْرِيِّ سَمِعَهُ مِنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَأَنَا ابْنُ عَشْرٍ وَمَاتَ وَأَنَا ابْنُ عِشْرِينَ وَكُنَّ أُمَّهَاتِي تَحُثُّنِي عَلَى خِدْمَتِهِ فَدَخَلَ عَلَيْنَا فَحَلَبْنَا لَهُ مِنْ شَاةٍ دَاجِنٍ وَشِيبَ لَهُ مِنْ بِئْرٍ فِي الدَّارِ وَأَعْرَابِيٌّ عَنْ يَمِينِهِ وَأَبُو بَكْرٍ عَنْ يَسَارِهِ وَعُمَرُ نَاحِيَةً فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عُمَرُ أَعْطِ أَبَا بَكْرٍ فَنَاوَلَ الْأَعْرَابِيَّ وَقَالَ الْأَيْمَنُ فَالْأَيْمَنُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ میں آئے تو میری عمر دس برس تھی اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوئی تو میں بیس برس کا تھا، میری ماں اور خالائیں مجھے آپ کی خدمت پر ترغیب دلاتی رہتی تھیں، ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اندر داخل ہوئے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے اپنی پالتو بکری کا دودھ دوہا اور گھروالے کنوئیں سے اس میں پانی ملایا، ایک دیہاتی آپ کی دائیں جانب تھا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کی بائیں جانب تھے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایک کونے میں تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ دودھ پیا، سیدنا عمررضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! بقیہ دودھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دے دو، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیہاتی کو پکڑا دیا اور فرمایا: دائیں جانب والے مقدم ہوتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … دوسروں کو کوئی چیز دیتے وقت دائیں طرف والوں کو مقدم کیا جائے۔ ہاں اگر کوئی آدمی بائیں طرف والوں کو پہلے پلانا چاہے تو دائیں طرف والوں سے اجازت طلب کرے۔ جیسا کہ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک شربت لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیا، آپ کے دائیں طرف ایک لڑکا بیٹھا ہوا تھا اور بائیں طرف بوڑھے لوگ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بچے سے کہا: کیا تم مجھے اجازت دو گے کہ میں ان بزرگوں کو پہلے دے دوں؟ لڑکے نے کہا: اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! آپ کے جوٹھے میں سے ملنے والے اپنے حصہ کے معاملہ میں میں کسی پر ایثار نہیں کروں گا۔ راوی نے بیان کیا کہ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لڑکے کے ہاتھ میں پیالہ دے دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7448
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2352، ومسلم: 2029، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12077 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12101»
حدیث نمبر: 7449
عَنْ حَرْمَلَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا شَرِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ يَمِينِهِ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ عَنْ شِمَالِهِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الشَّرَبَةُ لَكَ وَإِنْ شِئْتَ آثَرْتُ بِهَا خَالِدًا قَالَ مَا أُوثِرُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحَدًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دائیں جانب تھا اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بائیں جانب تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی پیااور مجھ سے فرمایا: پانی پینے کی باری تو تمہاری ہے، لیکن اگر تمہاری مرضی ہو تو میں پہلے خالد کو دے دوں؟ میں کہا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کسی کو ترجیح نہیں دے سکتا، پس آپ نے برتن مجھے تھما دیا۔
وضاحت:
فوائد: … غور فرمائیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دائیں جانب سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اوربائیں سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا طبعی فیصلہ یہ تھا کہ پہلے خالد بن ولید کو مشروب پلایا جائے، لیکن وہ بائیں جانب بیٹھے تھے، اس لیے ابن عباس سے اجازت طلب کی، جب انھوں نے اجازت نہ دی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شرعی فیصلے کو ترجیح دی اور مشروب عبد اللہ بن عباس کو تھما دیا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نہ صرف تقسیم کرنے والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ دائیں جانب کو مقدم کرے، بلکہ یہ دائیں طرف بیٹھنے والوں کا حق ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7449
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، أخرجه ابوداود: 3730، والترمذي: 3455، وأخرج بنحوه ابن ماجه: 3426، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: )1904۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1904»
حدیث نمبر: 7450
عَنْ سَعْدِ بْنِ سَهْلٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِشَرَابٍ فَشَرِبَ مِنْهُ وَعَنْ يَمِينِهِ غُلَامٌ وَعَنْ يَسَارِهِ الْأَشْيَاخُ فَقَالَ لِلْغُلَامِ أَتَأْذَنُ أَنْ أُعْطِيَ هَؤُلَاءِ فَقَالَ لَا وَاللَّهِ لَا أُوثِرُ بِنَصِيبِي مِنْكَ أَحَدًا قَالَ فَتَلَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي يَدِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سعد بن سہل انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پانی لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بائیں جانب بزرگ تھے اور دائیں جانب ایک بچہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بچے سے فرمایا: کیا تو مجھے اجازت دے گا کہ میں ان بزرگوں کو یہ پانی دے دوں؟ لیکن اس بچے نے کہا: اللہ کی قسم! میں اپنے نصیب پر کسی کو ترجیح نہیں دوں گا، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ پانی والا برتن اس بچے کے ہاتھ میں دے دیا۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیت سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی کھانے پینے کی یا اس کے علاوہ بھی کوئی چیز ہو تو دائیں جانب سے دینے کا آغاز کیا جائے یا پھر دائیں جانب والے سے اجازت لے لی جائے اگر وہ اجازت دے تو پھر دوسری جانب والے میں سے اجازت شدہ کو دینی جائز ہے، اگر اجازت نہ دے تو پھرجائز نہیں اگرچہ دائیں جانب والا کم درجہ یاچھوٹا ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7450
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2451، 2602، ومسلم: 2030 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22824 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23212»
حدیث نمبر: 7451
عَنْ أَبِي الْمُخْتَارِ مِنْ بَنِي أَسَدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا فِي سَفَرٍ فَلَمْ نَجِدِ الْمَاءَ قَالَ ثُمَّ هَجَمْنَا عَلَى الْمَاءِ بَعْدُ قَالَ فَجَعَلُوا يَسْقُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَكُلَّمَا أَتَوْهُ بِالشَّرَابِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَاقِي الْقَوْمِ آخِرُهُمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ حَتَّى شَرِبُوا كُلُّهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں تھے، پانی موجود نہ تھا، پھر اچانک ہمیں پانی مل گیا، لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پانی پلانا شروع کر دیا، جب بھی وہ آپ کے پاس پانی لاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: قوم کو پلانے والا سب سے آخر میں پیتا ہے۔ آپ نے یہ بات تین بار دہرائی، یہاں تک کہ سب لوگوں نے پانی پیا تو تب آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ پانی پلانے والا پہلے سب کو پلا ئے گا، پھر آخر میں خود پئے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7451
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ابو المختار الاسدي مجھول الحال، أخرجه ابوداود: 3725 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19121 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19332»
حدیث نمبر: 7452
عَنِ ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَدَّمَتْ إِلَيْهِ جَدَّتِي تَمْرًا يُقَلِّلُهُ وَطَبَخَتْ لَهُ وَسَقَيْنَاهُمْ فَنَفِدَ الْقَدَحُ فَجِئْتُ بِقَدَحٍ آخَرَ وَكُنْتُ أَنَا الْخَادِمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَعْطِ الْقَدَحَ الَّذِي انْتَهَى إِلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے اورمیری دادی نے تھوڑی سی کھجوریں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیں اور کھانا تیار کیا، ہم نے ان کو پانی پلایا، یہاں تک کہ پانی ختم ہو گیا، میں ایک اور پیالہ لے آیا، میں پانی پلانے کی خدمت پر مامور تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پیالہ اس تک لے جاؤ جو آخری ہے، (پھر خود پینا)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاشربة / حدیث: 7452
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة ابن عبد الله بن بسر ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17676 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17828»