کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پسندیدہ مشروب اور برتن کو ڈھانپنے کا بیان
حدیث نمبر: 7439
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ أَحَبَّ الشَّرَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْحُلْوَ الْبَارِدَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سب سے پسندیدہ مشروب وہ تھا جو میٹھا اور ٹھنڈا ہو۔
حدیث نمبر: 7440
(وَعَنْهَا أَيْضًا) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُسْتَقَى لَهُ الْمَاءُ الْعَذْبُ مِنْ بُيُوتِ السُّقْيَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہی روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے بیوت سقیا ء سے پینے کے لیے پانی لایاجاتا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … بیوت سقیاء مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک مقام ہے، یہ ایک میٹھا چشمہ تھا، مدینہ کے اکثر کنوئوں کا پانی کڑوا تھا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میٹھا پانی پسند فرماتے تھے، اس لیے وہاں سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے پانی لایا جاتا تھا۔
حدیث نمبر: 7441
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ أَيُّ الشَّرَابِ أَطْيَبُ قَالَ الْحُلْوُّ الْبَارِدُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ کون سا مشروب زیادہ پسندیدہ اور لذیذ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو میٹھا اور ٹھنڈاہو۔
وضاحت:
فوائد: … ہر انسان طبعی طور پر میٹھی اور ٹھنڈی چیز کو پسند کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 7442
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ غَطُّوا الْإِنَاءَ وَأَوْكِئُوا السِّقَاءَ فَإِنَّ فِي السَّنَةِ لَيْلَةً يَنْزِلُ فِيهَا وَبَاءٌ لَا يَمُرُّ بِإِنَاءٍ لَمْ يُغَطَّ وَلَا سِقَاءٍ لَمْ يُوكَ إِلَّا وَقَعَ فِيهِ مِنْ ذَلِكَ الْوَبَاءِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: برتنوں کو ڈھانپ کر اورمشکوں کے منہ باندھ کر رکھا کرو، کیونکہ سال میں ایک رات ایسی ہوتی ہے کہ اس میں ایک وبا اترتی ہے اور وہ ہر اس برتن میں داخل ہو جاتی ہے، جو ڈھانپا ہوا نہ ہو اور ہر اس مشک میں اتر جاتی ہے جس کامنہ نہ باندھا ہو۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں حکم کی ایک وجہ بھی بیان کر دی گئی ہے، برتن اور مشکیزے کو نہ ڈھانپنے کے مزید نقصانات بھی ہو سکتے ہیں، مثلا کسی زہریلے جانور سے متاثر ہو جانا، کوئی چیز گرنے سے پانی اور مشروب کا خراب ہو جانا، وغیرہ وغیرہ۔
حدیث نمبر: 7443
(وَعَنْهُ أَيْضًا) قَالَ جَاءَ أَبُو حُمَيْدٍ الْأَنْصَارِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِإِنَاءٍ مِنْ لَبَنٍ نَهَارًا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْبَقِيعِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلَا خَمَّرْتَهُ وَلَوْ أَنْ تَعْرُضَ عَلَيْهِ عُودًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے ایک دن سیدنا ابو حمید انصاری رضی اللہ عنہ دودھ کا ایک برتن لے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بقیع میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تونے اسے ڈھانپا کیوں نہیں، اسے ڈھانپ لینا تھا، اگرچہ اس پر کوئی لکڑی رکھ کر ہی ڈھانپ لیتا۔
حدیث نمبر: 7444
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) يَقُولُ أَخْبَرَنِي أَبُو حُمَيْدٍ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحِ لَبَنٍ مِنَ النَّقِيعِ لَيْسَ بِمُخَمَّرٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا خَمَّرْتَهُ وَلَوْ بِعُودٍ تَعْرُضُهُ قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ إِنَّمَا أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْأَسْقِيَةِ أَنْ تُوكَأَ وَبِالْأَبْوَابِ أَنْ تُغْلَقَ لَيْلًا وَلَمْ يَذْكُرْ زَكَرِيَّا قَوْلَ أَبِي حُمَيْدٍ بِاللَّيْلِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ وہ نقیع مقام سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک دودھ کا پیالہ لائے، جو ڈھانپا ہوا نہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تونے اسے ڈھانپا کیوں نہیں، اگرچہ اس پر ایک لکڑی رکھ لاتا۔ ابو حمید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ مشکوں کے منہ پر تسمہ باندھا جائے اور رات کے وقت دروازے بند رکھے جائیں، زکریا راوی نے رات کے الفاظ کا ذکر نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 7445
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَقَى مَاءً فَقَالَ رَجُلٌ أَلَا أَسْقِيكَ نَبِيذًا قَالَ بَلَى قَالَ فَخَرَجَ الرَّجُلُ يَسْعَى قَالَ فَجَاءَ بِإِنَاءٍ فِيهِ نَبِيذٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلَا خَمَّرْتَهُ وَلَوْ أَنْ تَعْرُضَ عَلَيْهِ عُودًا ثُمَّ شَرِبَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ نے پانی طلب کیا، ایک آدمی نے کہا: جی میں آپ کو نبیذ پلاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی کیوں نہیں۔ وہ دوڑتا ہوا گیا اور ایک برتن لے آیا، اس میں نبیذ تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تونے اسے ڈھانپا کیوں نہیں، اگرچہ اس پر ایک لکڑی رکھ لیتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ پی لیا۔
حدیث نمبر: 7446
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَشْرَبُوا إِلَّا فِيمَا أُوكِيَ عَلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم صرف ان مشکوں سے پیو، جن کے منہ باندھے گئے ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث میں برتن ڈھانپنے کی خصوصی تربیت کی گئی ہے اس کے بہت سے فوائد ہیں۔ ایک یہ کہ شیطان سے حفاظت رہتی ہے، کیونکہ شیطان ڈھانکا ہوا برتن نہیں کھولتا، دوسرا یہ ہے کہ اس طرح وباء سے حفاظت رہتی ہے، تیسرا فائدہ یہ ہے کہ نجاست اور گندگی سے حفاظت رہتی ہے، چوتھا فائدہ ہے کہ کیڑے مکوڑوں سے حفاظت رہتی ہے، بعض اوقات کوئی زہریلی چیز پانی میں گر جاتی ہے، جس سے پانی متاثر ہو جاتا ہے۔