کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اس شخص کا بیان، جس کو کھانے کی دعوت دی گئی اور اس نے کھانے سے فراغت کے بعد اپنے ساتھیوں کے لیے دعا کی
حدیث نمبر: 7431
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ الْمَازِنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَنِي أَبِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَدْعُوهُ إِلَى الطَّعَامِ فَجَاءَ مَعِي فَلَمَّا دَنَوْتُ مِنَ الْمَنْزِلِ أَسْرَعْتُ فَأَعْلَمْتُ أَبَوَيَّ فَخَرَجَا فَتَلَقَّيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَحَّبَا بِهِ وَوَضَعْنَا لَهُ قَطِيفَةً كَانَتْ عِنْدَنَا زِئْبِرِيَّةً فَقَعَدَ عَلَيْهَا ثُمَّ قَالَ أَبِي لِأُمِّي هَاتِي طَعَامَكِ فَجَاءَتْ بِقَصْعَةٍ فِيهَا دَقِيقٌ قَدْ عَصَدَتْهُ بِمَاءٍ وَمِلْحٍ فَوَضَعْتُهُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ خُذُوا بِسْمِ اللَّهِ مِنْ حَوَالَيْهَا وَذَرُوا ذُرْوَتَهَا فَإِنَّ الْبَرَكَةَ فِيهَا فَأَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَكَلْنَا مَعَهُ وَفَضَلَ مِنْهَا فَضْلَةٌ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ وَبَارِكْ عَلَيْهِمْ وَوَسِّعْ عَلَيْهِمْ فِي أَرْزَاقِهِمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن بسر مازنی رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: مجھے میرے ماں باپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بھیجا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کھانے کی دعوت دوں، میں گیا تو آپ میرے ساتھ تشریف لے آئے، جب میں گھر کے قریب ہوا تو میں نے جلدی سے اپنے والدین کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آنے کی اطلاع دی، وہ دونوں باہر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا استقبال کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خوش آمدید کہا، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ایک رواں دار چادر بچھا دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر بیٹھ گئے، پھر میرے باپ نے میری ماں سے کہا: کھانا لاؤ، وہ ایک پیالہ لائیں، اس میں آٹا تھا، جسے انہوں نے پانی اور نمک میں گوند رکھا تھا، میری والدہ نے وہ آپ کے سامنے رکھ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بسم اللہ پڑھ کر کھاؤ اور اس کے ارگرد سے کھاؤ، اوپر کی جانب سے نہیں کھانا، کیونکہ اوپر سے برکت نازل ہوتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہم نے بھی کھایا، اس سے کچھ کھانا بچ گیا، کھانے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا کی: اللّٰھُمَّ اغْفِرْ لَہُمْ، وَارْحَمْہُمْ، وَبَارِکْ عَلَیْہِمْ، وَوَسِّعْ عَلَیْہِمْ فِیْ اَرْزَاقِہِمْ۔ (اے اللہ! انہیں معاف کردے، ان پررحم فرما، ان کے لیے برکت کر اور ان کے رزق میں وسعت پیدا کر)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7431
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2042، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17678 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17830»
حدیث نمبر: 7432
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي فَنَزَلَ عَلَيْهِ أَوْ قَالَ لَهُ أَبِي انْزِلْ عَلَيَّ قَالَ فَأَتَاهُ بِطَعَامٍ وَحَيْسَةٍ وَسَوِيقٍ فَأَكَلَهُ وَكَانَ يَأْكُلُ التَّمْرَ وَيُلْقِي النَّوَى وَصَفَ بِأُصْبُعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى بِظَهْرِهِمَا مِنْ فِيهِ (وَفِي رِوَايَةٍ فَكَانَ يَأْكُلُ التَّمْرَ وَيَضَعُ النَّوَى عَلَى ظَهْرِ إِصْبَعَيْهِ ثُمَّ يَرْمِي بِهِ) ثُمَّ أَتَاهُ بِشَرَابٍ فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَهُ مَنْ عَنْ يَمِينِهِ فَقَامَ فَأَخَذَ بِلِجَامِ دَابَّتِهِ (وَفِي لَفْظٍ فَرَكِبَ بَغْلَةً لَهُ بَيْضَاءَ) فَقَالَ ادْعُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لِي فَقَالَ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِيمَا رَزَقْتَهُمْ وَاغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)سیدنا عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے گھر تشریف لائے یا میرے باپ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آنے کا مطالبہ کیا تھا، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بطور مہمان اترے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے میرے باپ نے کھانا پیش کیا اور ساتھ کھجوروں سے بنا ہوا کھانا یا ستو بھی تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھایا اور آپ کھجوریں کھاتے تھے اور گٹھلیاں پھینک دیتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انگشت ِ شہادت اور درمیان والی انگلی کو ملاتے تھے اور کھجور کھا کر ان انگلیوں کی پشت پر گٹھلی رکھ کر پھینک دیتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پانی لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیا، پھر جو دائیں جانب تھا، اسے پکڑا دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور سفید خچر پر سوار ہو کر اپنی سواری کی لگام تھام لی، میرے باپ نے کہا: میرے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا فرما دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا کی: اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَہُمْ فِیمَا رَزَقْتَہُمْ وَاغْفِرْ لَہُمْ وَارْحَمْہُمْ۔ (اے اللہ! جو تونے انہیں دیا ہے، اس میں برکت فرما اور انہیں بخش دے اور ان پررحم فرما۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7432
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17835»
حدیث نمبر: 7433
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَفْطَرَ عِنْدَ أَهْلِ بَيْتٍ قَالَ أَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ وَأَكَلَ طَعَامَكُمُ الْأَبْرَارُ وَتَنَزَّلَتْ عَلَيْكُمُ الْمَلَائِكَةُ (وَفِي لَفْظٍ وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلَائِكَةُ)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی کے گھر روزہ افطار کرتے تو یہ دعا دیتے: اَفْطَرَ عِنْدَکُمُ الصَّائِمُوْنَ، وَاَکَلَ طَعَامَکُمُ الْاَبْرَارُ، وتَنَزَّلَتْ عَلَیْکُمُ الْمَلَائِکَۃُ یا وَصَلَّتْ عَلَیْکُمُ الْمَلَائِکَۃُ۔ (تمہارے پاس روزے دارافطار کریں، نیکوکار لوگ تمہارا کھانا کھائیں اور تم پر فرشتے نازل ہوں یا فرشتے تمہارے لیے رحمت کی دعا کریں۔)
وضاحت:
فوائد: … اس باب میں ان دعاؤں کا بیان ہے، جو مہمان، میزبان کے لیے کرے گا، ہمیں بھی ان دعاؤں کا اہتمام کرنا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7433
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه ابوداود: 3854، والترمذي: 2696، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12177 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12201»