کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: کھانے کے بعد کی دعاؤں کا بیان
حدیث نمبر: 7425
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَطْعَمَهُ اللَّهُ طَعَامًا فَلْيَقُلْ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَأَطْعِمْنَا خَيْرًا مِنْهُ وَمَنْ سَقَاهُ اللَّهُ لَبَنًا فَلْيَقُلْ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَزِدْنَا مِنْهُ فَإِنَّهُ لَيْسَ شَيْءٌ يُجْزِئُ مَكَانَ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ غَيْرُ اللَّبَنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جسے اللہ تعالیٰ کھانا نصیب کرے، وہ کہے: اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْہِ وَاَطْعِمْنَا خَیْرًا مِنْہُ۔ ( اے میرے اللہ! اس میں ہمارے لیے برکت کر دے اور ہمیں اس سے بہتر کھلا) اور جسے اللہ تعالیٰ دودھ پینا نصیب کرے، وہ یہ دعا پڑھے: اَللّٰہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْہِ وَزِدْنَا مِنْہ۔ (اے اللہ! ہمارے لیے اس میں برکت کر دے اور اس میں اضافہ فرما۔)، دودھ ہی ہے جو کھانے اور پینے دونوں کی جگہ پر کفایت کرتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7425
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، أخرجه ابوداود: 3730، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1978 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1978»
حدیث نمبر: 7426
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا فَرِغَ مِنْ طَعَامِهِ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کھانے سے فارغ ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِیْنَ۔ (تمام تعریف اس اللہ کے لیے جس نے ہمیں کھلایا پلایا اور مسلمان بنایا۔)
وضاحت:
فوائد: … عام لوگوں میں یہی دعا مشہور ہے، لیکن اس کی سند ضعیف ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7426
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لابھام راويه عن ابي سعيد، ولاضطرابه، أخرجه ابوداود: 3850، والترمذي: 3457، وابن ماجه: 3283، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11934 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11956»
حدیث نمبر: 7427
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَرْضَى عَنِ الْعَبْدِ أَنْ يَأْكُلَ الْأُكْلَةَ أَوْ يَشْرَبَ الشُّرْبَةَ فَيَحْمَدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِمَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ بندے پر اس بات سے راضی ہو جاتا ہے کہ وہ کوئی چیز کھائے یا کوئی مشروب پئے اور اس پر اللہ تعالیٰ کی تعریف کر دے۔
وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ ہر ماکول اور مشروب کے بعد اللہ تعالی کا شکریہ ادا کرنا چاہیے، تقریباً کھانے کے بعد والی تمام دعاؤں میں اللہ تعالی کی تعریف کا ذکر ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7427
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2734، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12168 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12192»
حدیث نمبر: 7428
عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَكَلَ طَعَامًا ثُمَّ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي هَذَا وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّةٍ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کھانا کھایا اور پھر کہا: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَطْعَمَنِیْ ھٰذَا وَرَزَقَنِیْہِ مِنْ غَیْرِ حَوْلٍ مِنِّیْ وَلَا قُوَّۃٍ (ساری تعریف اس اللہ کے لیے جس نے مجھے یہ کھانا کھلایا اور مجھے میری طاقت اور قوت کے بغیر یہ رزق دیا) تو اس کے پہلے تمام گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7428
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه الترمذي: 3458، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15632 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15717»
حدیث نمبر: 7429
عَنْ نُعَيْمِ بْنِ سَلَامَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا فَرَغَ مِنْ طَعَامِهِ قَالَ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَطْعَمْتَ وَسَقَيْتَ وَأَشْبَعْتَ وَأَرْوَيْتَ فَلَكَ الْحَمْدُ غَيْرَ مَكْفُورٍ وَلَا مُوَدَّعٍ وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ نعیم بن سلامہ، بنی سلیم کے اس آدمی سے روایت بیان کرتے ہیں، جنہیں شرف ِ صحابیت حاصل تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کھانے سے فارغ ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: اَللّٰھُمَّ لَکَ الْحَمْدُ أَطْعَمْتَ وَسَقَیْتَ وَأَشْبَعْتَ وَأَرْوَیْتَ فَلَکَ الْحَمْدُ غَیْرَ مَکْفُورٍ وَلَا مُوَدَّعٍ وَلَا مُسْتَغْنًی عَنْکَ۔ (اے اللہ! تیرے لیے تعریف ہے، تونے کھلایا، تونے پلایا، تونے سیر کیا، تونے سیراب کیا، تیرے لیے تعریف ہے، جس کا انکار نہیں اور نہ ہی جس کو چھوڑا جا سکتا ہے اور نہ ہی تجھ سے لاپرواہی اختیار کی جا سکتی ہے۔ )
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7429
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف عبد الله بن عامر الاسلمي، أخرجه البيھقي في الشعب : 6039، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18071 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18239»
حدیث نمبر: 7430
عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ قَالَ حَضَرْنَا صَنِيعًا لِعَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ هِلَالٍ فَلَمَّا فَرَغْنَا مِنَ الطَّعَامِ قَامَ أَبُو أُمَامَةَ فَقَالَ لَقَدْ قُمْتُ مَقَامِي هَذَا وَمَا أَنَا بِخَطِيبٍ وَمَا أُرِيدُ الْخُطْبَةَ وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عِنْدَ انْقِضَاءِ الطَّعَامِ (وَفِي رِوَايَةٍ إِذَا فَرَغَ مِنْ طَعَامِهِ أَوْ رُفِعَتْ مَائِدَتُهُ) الْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ غَيْرَ مَكْفِيٍّ وَلَا مُوَدَّعٍ وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ رَبَّنَا عَزَّ وَجَلَّ) قَالَ فَلَمْ يَزَلْ يُرَدِّدُهُنَّ عَلَيْنَا حَتَّى حَفِظْنَاهُنَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ خالد بن معدان بیان کرتے ہیں کہ عبد الاعلیٰ بن ہلال نے ایک کھانا تیار کیا، ہم اس میں حاضر تھے، جب ہم کھانے سے فارغ ہوئے تو سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوے اور کہا: میں اس مقام پر کھڑا ہوا ہوں، میں نہ خطیب ہوں اور نہ میں خطاب کرنا چاہتا ہوں، البتہ ایک حدیث سنانا چاہتا ہوں، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ کھانا ختم ہونے یا اس سے فارغ ہونے یا دستر خوان اٹھائے جانے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا پڑھی: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیرًا طَیِّبًا مُبَارَکًا فِیہِ غَیْرَ مَکْفِیٍّ وَلَا مُوَدَّعٍ وَلَا مُسْتَغْنًی عَنْہُ (ساری تعریف اللہ کے لیے ہے، بہت زیادہ، پاکیزہ اور مبارک تعریف، اس کے بغیر کفایت نہیں اور نہ اسے چھوڑا جا سکتا ہے اور نہ اس سے مستغنی ہوا جا سکتا ہے)۔ سیدنا ابوامامہ اس دعا کو دہراتے رہے، یہاں تک کہ ہم نے حفظ کر لی۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث ِ مبارکہ میں کھانے کے بعد کی دعاؤں کا ذکر ہے، تمام دعاؤں میں اللہ تعالی کی حمد و ثنا بیان کی گئی ہے، ان مسنون دعاؤں کا اہتمام کرنا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7430
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5458 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22256 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22611»