کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: گوشت کو پکانے، اس کو نوچ کر کھانے، اس میں زیادہ شوربا بنانے اور اس کو گرم گرم نہ کھانے کا بیان
حدیث نمبر: 7412
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا طَبَخْتُمُ اللَّحْمَ فَأَكْثِرُوا الْمَرَقَ أَوْ الْمَاءَ فَإِنَّهُ أَوْسَعُ أَوْ أَبْلَغُ لِلْجِيرَانِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم گوشت پکاؤ تو اس میں پانی زیادہ ڈال کر شوربا وافر بنایا کرو، اس سے پڑوسیوں کو دینے کے لیے بھی کافی گنجائش نکل آتی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں کئی مقامات پر پڑوسیوں سے حسن سلوک کا حکم دیا ہے، اس کی حکم بجا آوری کا طریقہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں سکھایا ہے کہ گوشت وغیرہ یا جو ہنڈیا بھی شوربا والی ہو اس میں پانی ڈال کر زیادہ شوربا بنا لیا جائے اور اگر ہمسایہ مانگنے آئے یا نہ بھی مانگنے آئے تو اسے دیا جائے یہ حسن سلوک معاشرتی زندگی میں ایک سنہری اصول ہے۔
حدیث نمبر: 7413
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ زَوَّجَنِي أَبِي فِي إِمَارَةِ عُثْمَانَ فَدَعَا نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ انْهَسُوا اللَّحْمَ نَهْسًا فَإِنَّهُ أَهْنَأُ وَأَمْرَأُ أَوْ أَشْهَى وَأَمْرَأُ قَالَ سُفْيَانُ الشَّكُّ مِنِّي أَوْ مِنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبد اللہ بن حارث کہتے ہیں: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں میرے باپ نے میری شادی کی اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام میں سے کچھ افراد کو بھی مدعو کیا، سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ بھی تشریف لائے، جو بہت بوڑھے ہو چکے تھے، انھوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گوشت دانتوں سے نوچ کر کھاؤ اس طرح کھانا زیادہ لذیز اور زود ہضم اور طبیعت و تمنا کے زیادہ موافق ہے۔
حدیث نمبر: 7414
عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا آخِذُ اللَّحْمَ عَنِ الْعَظْمِ بِيَدِي فَقَالَ يَا صَفْوَانُ قُلْتُ لَبَّيْكَ قَالَ قَرِّبِ اللَّحْمَ مِنْ فِيكَ فَإِنَّهُ أَهْنَأُ وَأَمْرَأُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ میں ہڈی سے گوشت ہاتھ کے ساتھ اتار رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے صفوان! میں نے کہا: جی میں حاضر ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گوشت اپنے منہ کے قریب کر لو اور اسے دانتوں سے نوچ کرکھاؤ، یہ زیادہ لذیز بھی ہے اور زود ہضم بھی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … گوشت کی حقیقی لذت اسی میں ہے کہ اس کو نوچ کر کھایا جائے، اس طریقے سے کھانا زود ہضم بھی ہو جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 7415
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهَا كَانَتْ إِذَا ثَرَدَتْ غَطَّتْهُ شَيْئًا حَتَّى يَذْهَبَ فَوْرُهُ ثُمَّ تَقُولُ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّهُ أَعْظَمُ لِلْبَرَكَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب وہ ثرید بناتیں تو اسے کچھ دیر کے لیے ڈھانپ دیتیں تاکہ اس کی گرمی کا جوش کم ہو جائے اور فرماتیں، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس طرح سے کھانے میں بہت زیادہ برکت آ جاتی ہے۔