حدیث نمبر: 7409
عَنْ أَبِي رَجْزَةَ السَّعْدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ زَادَ فِي رِوَايَةٍ رَبِيبُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ يَأْكُلُهُ فَقَالَ ادْنُ فَسَمِّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَكُلْ بِيَمِينِكَ وَكُلْ مِمَّا يَلِيكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پروردہ سیدنا عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اس کھانے کے لیے بلایا، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھا رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قریب ہو جاؤ ، اللہ تعالیٰ کا نام لو، دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے سامنے سے کھاؤ۔
حدیث نمبر: 7410
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِقَصْعَةٍ مِنْ ثَرِيدٍ فَقَالَ كُلُوا مِنْ حَوْلِهَا وَفِي لَفْظٍ مِنْ جَوَانِبِهَا وَلَا تَأْكُلُوا مِنْ وَسَطِهَا فَإِنَّ الْبَرَكَةَ تَنْزِلُ فِي وَسَطِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ثرید کا ایک پیالہ لایا گیا، آپ نے فرمایا: اس کے ارد گرد یا کناروں سے کھاؤاور اس کے درمیان سے نہ کھاؤ، کیونکہ درمیان میں برکت نازل ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 7411
عَنْ وَاثِلَةَ يَعْنِي ابْنَ الْأَسْقَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بِقُرْصٍ فَكَسَرَهُ فِي الْقَصْعَةِ وَصَنَعَ فِيهَا مَاءً سُخْنًا ثُمَّ صَنَعَ فِيهَا وَدَكًا ثُمَّ سَفْسَفَهَا ثُمَّ لَبَّقَهَا ثُمَّ صَعْنَبَهَا ثُمَّ قَالَ اذْهَبْ فَأْتِنِي بِعَشَرَةٍ أَنْتَ عَاشِرُهُمْ فَجِئْتُ بِهِمْ فَقَالَ كُلُوا وَكُلُوا مِنْ أَسْفَلِهَا وَلَا تَأْكُلُوا مِنْ أَعْلَاهَا فَإِنَّ الْبَرَكَةَ تَنْزِلُ مِنْ أَعْلَاهَا فَأَكَلُوا مِنْهَا حَتَّى شَبِعُوا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں صفہ والوں میں سے تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن روٹی منگوائی، اس کے ٹکڑے کئے، ان کو ایک پیالہ میں ڈالا، پھر اس میں پانی ،چربی اور چھنا ہوا آٹا ڈالا، پھر اسے خوب مکس کیا، پھر آپ نے اس کو کناروں سے ملا کر اونچا ڈھیر سا بنا دیا اور پھر مجھ سے فرمایا: جاؤ اور اپنے سمیت دس آدمیوں کو میرے پاس لاؤ۔ میں انہیں لے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کھاؤ اور اس پیالہ کی نچلی جانب سے کھاؤ، اس کی اوپر والی جانب سے نہیں کھانا، کیونکہ اوپر والی جانب سے برکت نازل ہوتی ہے، پھر انہوں نے کھایا، یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث ِ مبارکہ میں کھانے کے مختلف آداب کا بیان ہے، پلیٹ کی اس طرف سے کھانا کھانا شروع کیا جائے، جو آدمی کے سامنے ہو اور درمیان سے بھی کھانا شروع نہ کیا جائے، وگرنہ بے برکتی ہو جاتی ہے۔