کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: ایک سے زائد اکٹھی کھجوریں کھانے، لوٹنے اور کھانے اور مشروب میں پھونک مارنے سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 7405
عَنْ سَعْدٍ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَدَّمْتُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَمْرًا فَجَعَلُوا يَقْرُنُونَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَقْرُنُوا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ مولائے ابو بکر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کھجوریں پیش کیں، لوگوں نے دو تین تین کھجوریں اکٹھی منہ میں ڈالنا شروع کر دیں، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس طرح ملا کر نہ کھاؤ (یعنی ایک ایک کھجور منہ میں ڈال کر کھاؤ، نہ کہ دو تین تین)۔
حدیث نمبر: 7406
حَدَّثَنَا جَبَلَةُ قَالَ كُنَّا بِالْمَدِينَةِ فِي بَعْثِ أَهْلِ الْعِرَاقِ فَأَصَابَتْنَا سَنَةٌ فَجَعَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَرْزُقُنَا التَّمْرَ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَمُرُّ بِنَا فَيَقُولُ لَا تُقَارِنُوا فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْقِرَانِ إِلَّا أَنْ يَسْتَأْمِرَ الرَّجُلُ مِنْكُمْ أَخَاهُ وَفِي لَفْظٍ إِلَّا أَنْ يَسْتَأْذِنَ الرَّجُلُ أَخَاهُ قَالَ شُعْبَةُ لَا أَرَى فِي الِاسْتِئْذَانِ إِلَّا أَنَّ الْكَلِمَةَ مِنْ كَلَامِ ابْنِ عُمَرَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ جبلہ بن سحیم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم مدینہ میں تھے، یہ اہل عراق کی جانب ایک لشکر بھیجنے کے دور کی بات ہے، ہم قحط سالی سے دو چار ہو گئے۔ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے ہمیں کھجوریں دیں، سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہمارے قریب سے گزرے اور کہا: دو تین تین ملا کر نہ کھانا، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ملا کر کھانے سے منع فرمایا ہے الا کہ آدمی اپنے بھائی سے اجازت لے لے۔ امام شعبہ کہتے ہیں: یہ اجازت دینے والا جملہ میرے خیال میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہماکا اپنا کلام ہے، (حدیث کا حصہ نہیں ہے)۔
وضاحت:
فوائد: … امام نووی نے کہا: یہ امام شعبہ کا اپنا گمان ہے، اس سے حدیث کا مرفوع ہونا متاثر نہیں ہو گا، کیونکہ امام سفیان نے دوسری روایت کے مطابق یہ حدیث اس طرح بیان کی ہے: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اَنْ یَقْرِنَ الرَّجُلُ بَیْنَ التَّمْرَتَیْنِ حَتّٰی یَسْتَأْذِنَ اَصْحَابَہٗ۔ … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس چیز سے منع فرمایا ہے کہ آدمی دو دو کھجوریں ملا کر کھائے، الا یہ کہ اپنے ساتھیوں سے اجازت لے لے۔
حدیث نمبر: 7407
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ النُّهْبَةِ وَمَنِ انْتَهَبَ فَلَيْسَ مِنَّا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوٹ مار سے منع کیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے لوٹ مار کی وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
وضاحت:
فوائد: اس حدیث کو یہاں لانے کا مقصد یہ ہے کہ کھانے کی چیز بکھیر دینا اور پھر اس پر جھپٹ پڑنا، جیسا کہ بعض علاقوں میں شادیوں کے موقع پر ہوتا ہے، اس کا کیا حکم ہے؟ دیکھیں حدیث نمبر (۷۰۵۲)
حدیث نمبر: 7408
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّفْخِ فِي الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھانے اور پینے کی چیز میں پھونک مارنے سے منع کیا ہے۔