حدیث نمبر: 7392
عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الشُّرْبِ قَائِمًا قُلْتُ فَالْأَكْلُ قَالَ ذَاكَ أَشَدُّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہو کر پانی پینے سے منع فرمایا ہے۔ میں نے کہا: اور کھانا؟ انھوں نے کہا: اس کا معاملہ تو اور سخت ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … کھانے کو پینے پر قیاس نہیں کیا جا سکتا، کھڑے ہو کر کھانے کو جواز کی حد تک درست قرار دیا جا سکتا ہے، البتہ پینے کے بارے میں درج ذیل بحث ملاحظہ فرمائیں:
حدیث نمبر: 7393
عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا آكُلُ مُتَّكِئًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا۔
وضاحت:
فوائد: … ایک حدیث کے الفاظ یہ ہیں: ((لَاتَأْکُلْ مُتَّکِئاً۔)) تو ٹیک لگا کر نہ کھا۔
حدیث نمبر: 7394
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَمْرٌ فَجَعَلَ يُقْسِمُهُ بِمِكْتَلٍ وَاحِدٍ وَأَنَا رَسُولُهُ بِهِ حَتَّى فَرَغَ مِنْهُ فَجَعَلَ يَأْكُلُ وَهُوَ مُقْعٍ أَكْلًا ذَرِيعًا فَعَرَفْتُ فِي أَكْلِهِ الْجُوعَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کھجوروں کا ہدیہ دیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ٹوکرے کی مدد سے ان کو تقسیم کرنا شروع کر دیا اور میں درمیان میں نمائندہ تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تقسیم کرنے سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھجوریں کھائیں، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پنڈلیاں اٹھائے اور پشت زمین پر جمائے ہوئے بیٹھے تھے اور تیزی سے کھجوریں کھا رہے تھے، میں نے محسوس کیا کہ آپ کو بھوک لگی ہوئی ہے۔
حدیث نمبر: 7395
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ فَجِئْتُ وَهُوَ يَأْكُلُ تَمْرًا وَهُوَ مُقْعٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک کام کے لیے بھیجا، جب میں واپس آیا تو آپ پنڈلیاں کھڑے کئے ہوئے پشت زمین پر رکھے کھجوریں کھا رہے تھے۔